نیوزی لینڈ میں سالِ نو کا جشن: شراب نوشی کے لیے مصنوعی جزیرہ تعمیر کر لیا

نیوزی لینڈ میں شہریوں کے ایک گروہ نے بظاہر عوامی مقامات پر شراب نوشی پر پابندی سے بچنے کے لیے ساحل سمندر پر ریت کا ایک جزیرہ بنا لیا۔

اطلاعات کے مطابق اتوار کی سہ پہر ان افراد نے جزیرہ نما کورومنڈیل میں ٹائروا کے علاقے میں کم شدت والی لہروں والی جگہ ریت کا ٹیلہ نما مصنوعی جزیرہ بنایا۔

انھوں نے وہاں ایک پکنک ٹیبل اور مشروبات کے لیے برف کا ڈبہ بھی رکھا۔

مقامی افراد نے مذاقاً کہا کہ وہ ’بین الاقوامی پانیوں‘ میں ہیں اور یہاں شراب نوشی کی پابندی سے مبرا ہیں۔

نیوزی لینڈ کی ویب سائٹ سٹف ڈاٹ کو این زیڈ کے مطابق ان افراد نے رات کے وقت نئے سال کے آغاز تک وہاں وقت گزارا اور آتش بازی بھی دیکھتے رہے۔ پیر کی صبح تک یہ مصنوعی جزیرہ موجود تھا۔

‘دنیا کی قدیم ترین شراب کی دریافت’

‘ہزاروں لیٹر شراب چوہوں نے پی لی’

خیال رہے کہ نیوزی لینڈ کے علاقے کورومنڈیل میں نئے سال کے جشن کے موقع پر عوامی مقامات پر شراب نوشی پر پابندی عائد ہے اور اس کی خلاف ورزی پر 180 امریکی ڈالر جرمانہ یا گرفتاری ہوسکتی ہے۔

تاہم حکام کی جانب سے اس عمل کو بظاہر زندہ دلی کے طور پر دیکھا گیا۔

پولیس کمانڈر انسپیکٹر جان کیلی کو جب اس ریتلے جزیرے کے بارے میں بتایا گیا تو انھوں نے کہا کہ ’یہ ایک تخلیقی سوچ ہے۔ اگر مجھے پہلے پتا چلتا تو میں بھی ان کے ساتھ شریک ہوسکتا تھا۔‘

Leave a Reply