ایک تہوار: کتنی رسمیں کتنے نام

جنوری نہ صرف نئے سال کی آمد کا بگل بجاتابلکہ کسانوں کی خوشیوں کا بھی ضامن ۔ ہندوستان ایک زرعی ملکملکاور اچھی فصل کی خوشیاں ہر جگہ منائی جاتیخواہ وہ ہندوستان کا مشرقی حصہ ہو یا مغربی، جنوب ہو یا کہ شمال۔ ہر جگہ اس کا ایک نیا نام ۔ ک اسے لوہری کہتےتو ک پونگل، ک کھچڑی تو ک اگاڈی تو ک ماگھ بیہو۔ ہر سال دوسرے ہفتے کے اخیر میں جب زمین اپنا رخ سورج کی طرف کرتیموسم بدل جاتااور یہ دن مکر سنکرانتی کہلاتا ۔ ہندو مذہب کی روایت کے مطابق 14 جنوری کو سورج دیوتا اپنے بیٹے شنی کے گھر جاتےاور اختلافات کے باوجود وہ ایک مہینہ و رہتے ۔ اس لیے کہا جاتاکہ مکر سنکرانتی باپ بیٹے کے رشتے کو مضبوط اور استوار کرتا ۔ مغربی ہند کے صوبے گجرات اور مہاراشٹر میں مکر سنکرانتی مذہبی رنگ کے ساتھ تفریح کا سامان بھی مہیا کرتی ۔ رنگ برنگی پتنگوں سے آسمان بھر جاتا ۔ گھر کی چھتوں پر بچے بوڑھے پتنگ بازی میں مصروف نظر آتےکیونکہ اس دن سورج دیوتا مہربان ہوتے ۔ اس تہوار میں آگ کو نئی فصل سے بنی چیزیں پیش کرتے مہاراشٹر میں صبح صبح لوگ پانی میں تل کے دانے ڈال کر غسل کرتے ۔ خواتین چندر کلا ساڑھی پہنتی ۔ شکر سے لپٹے تل کے زیور نئی دلہن کو دیے جاتے ۔ ہندوستان کے شمالی حصے میں یہ کھچڑی کہلاتا ۔ کسان گنے کی فصل کاٹتےاور خوشی سے گنگنا اٹھتے ۔ گنے کا رس ٹن بھر چینی کی بوری پھر بنی اس سے میٹھی میٹھی ریوڑی مل جل کر سارے کھائیں تل کے ساتھ اور منائيں خوشیوں بھری لوہری چاڑوں طرف گنے کی فصل لہلہاتی ۔ پھر گنے کٹ کر بیل گاڑیوں پر نظر آتےگاؤں گاؤں گڑ بنانے کے الاؤ روشن ہو جاتےاور فضا میں گڑ کی بھینی بھینی مہک پھیل جاتی ۔ دن بھر فصل کاٹ کر شام کو لوگ الاؤ کے پاس بیٹھ جاتےاور سورج دیوتا کا شکریہ ادا کرتے ۔ لوہری کی آگ کسانوں کے دکھوں کے جلا کر اسی روشنی سے ان کی زندگی میں روشنی بھر دیتی ۔ گزرے سال کی تمام برائیاں اس آگ میں بس جل جاتیاور زندگی کانیا سال خوشیوں کے ساتھ وارد ہوتا ۔ لوہری اور مکر سنکرانتی کے موقعے پر بعض علاقوں میں زور و شور سے پتنگ بازی ہوتی لوہری سے جڑی کئی کہانیاں ۔ مختلف ریاستوں میں مختلف نام۔ بہار میں دھان کی فصل کا ڈھیر کسان کا سرمایہ۔ جہاں دھان کا نذرانہ سورج دیوتا کے لیے ۔ اچھی فصل ان کی زندگی میں خوشیوں کا پیغام لائی ۔ اصلا یہ اناج کی پوجا کا تہوار ۔ نئے دھان سر لائی اور گڑ کا چڑوا بنایا اور کھایا جاتا ۔ ربیع کی فصل کاٹتے ہی پنجاب کا کسان ناچنے گانے لگتا ۔لوہری کا لفظ لو سے نکلاجس کے معنی روشنی ۔ پنجاب کے دیہی علاقوں میں اسے لوہی کہتے ۔ بچوں کی ٹولی گھر گھر جاکر لوہری کی سوغات مانگتیاور لوہری کے گیت گاتی ۔ لوہری کے گیتوں میں دال بھٹی کا گیت بہت اہمیت رکھتا ۔ دلابھٹی کا اصل نام عبداللہ بھٹی تھا جو اکبر بادشاہ کے دور حکومت میں ایک راہزن تھا جو کہ غریبوں کا ہمدرد اور امیروں کا دشمن تھا۔

متعلقہ خبر یں

روزانہ خبریں اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Leave a Reply