’مجھے پنجابی ہونے پر فخر ہے لیکن اردو میرا عشق ہے: ہر کرشن لال

ہر کرشن لال
ہر کرشن لال

پیر سے جمعے تک شام کے پانچ بجتےہیں 80 سالہ ہر کرشن لال چندی گڑھ میں اپنے گھر سے ایک ایسی زبان سکھانے نکل پڑتے ہیں جو کبھی پنجاب کی مخلوط زبان ہوا کرتی تھی۔

ایسے میں جب پنجابی زبان کو نمایاں اہمیت دینے کے لیے احتجاج کیے جا رہے ہیں کرشن لال پچھلی چار دہائیوں سے اردو زبان کی ترویج کے لیے دل و جان لگا رہے ہیں۔

’پنجاب میری مادری زبان ہے اور مجھے اس پر فخر ہے۔ لیکن مجھے اردو سے اس قدر محبت ہے کہ میں اس کے لیے خون کا آخری قطرہ تک دے سکتا ہوں۔‘

ہر روز ان کے شاگردوں میں سے ایک اپنے ’استاد جی‘ کو ان کے گھر سے لیتا ہے اور مقامی کالج تک لے کر جاتا ہے کیونکہ لال خود گاڑی نہیں چلا سکتے۔ راستے میں وہ کرشن لال کے سکھائے گئے الفاظ اور جملوں کی مشق بھی کر لیتے ہیں۔
کرشن لال کہتے ہیں ’پہلے یہ میرا مشن تھا لیکن اب یہ میرا جنون بن گیا ہے۔‘

لیکن انھوں نے اپنا کریئر بطور استاد شروع نہیں کیا تھا۔

کرشن لال محکمۂ آبپاشی میں کلرک کی حیثیت سے کام کرتے تھے۔ اس کے ساتھ ہی انہیں اردو پڑھانے کی جز وقتی ملازمت مل گئی کیونکہ وہ اس علاقے میں واحد شخص تھے جنہوں نے اس مضمون میں ایم اے کر رکھا تھا۔ وہ پنجاب یونیورسٹی سے اردو میں ڈاکٹریٹ کرنے والے پہلے شخص تھے۔

کرشن لال بتاتے ہیں ’شعبہ مجھے اعزازی طور پر 100 روپے دیا کرتا تھا جو میں اگلے 12 سال تک لیتا رہا۔‘

’اس کے بعد انھوں نے اسے بڑھا کر 500 روپے کردیا اور حال ہی میں یہ رقم 5000 کر دی گئی۔ اس کے لیے بھی وزیرِ خزانہ منپریت بادل کا شکریہ جو خود بھی اس زبان کے دلدادہ ہیں۔

کرشن لال کلرک کی نوکری سے 22 سال پہلے ریٹائر ہو گئے تھے اور اب وہ زیادہ تر وقت آرام کرنے اور پرابنے دوستوں سے ملنے میں گزارتے ہیں۔ اور انہیں اپنی شام کی اس کلاس کا بے چینی سے انتظار ہوتا ہے جنہیں وہ کبھی نہیں چھوڑتے۔

’کرشن لال نے بی بی سی نیوز پنجابی کو بتایا کہ ’ میرے والد وفات سے پہلے ہسپتال میں داخل رہے۔ میں انہیں دیکھنے گیا تو انھوں نے گھڑی کی طرف اشارہ کر کے بتایا کہ اردو کی کلاس کا وقت ہو گیا ہے۔ میرے خاندان میں سبھی جانتے تھے کہ میری اس زبان کے ساتھ کتنی اُنسیت ہے۔‘
ان کا کہنا تھا ’ایسے لوگ غلط سوچتے ہیں کہ پنجابی زبان کا تعلق سکھوں سے ہے اور اردو کا مسلمانوں سے اور ہندی ہندوؤں کی زبان ہے۔ میں ایک مرتبہ لاہور گیا اور یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ زیادہ تر لوگ پنجابی بولتے ہیں۔‘

آزادی سے قبل انڈیا کی عدالتی اور مقامی دفتری زبان اردو تھی۔ سنہ 2001 کی مردم شماری کے مطابق ملک میں بولی جانے والی 22 زبانوں میں اب بھی اردو پانچویں بڑی زبان ہے۔

کرشن لال کا کہنا ہے ’اردو محض ایک زبان نہیں بلکہ ایک تہذیب ہے۔ اگر سب اردو بولنا شروع کر دیں تو دنیا سدھرنے لگے گی۔ اگرچہ مجھے پنجابی ہونے پر فخر ہے لیکن اردو پنجابی جیسے کرخت زبان کی نسبت ایک نرم گفتار زبان ہے۔ ‘

Leave a Reply