انڈیا: پراسرار واقعات میں خواتین کو بیہوش کر کے ان کے بال کاٹ دیے گئے

India

بھارت شمالی ریاستوں ہریانہ اور راجستھان کی 50 سے زیادہ خواتین نے شکایت کیکہ کسی نے ان بیہوش کر پراسرار طریقے سے ان کے بال کاٹے. اس معمے کو حل کرنے میں پولیس اب تک ناکام رہیجبکہ یہاں کی خواتین اس سے ڈری ہوئی اور فکر مند ۔

ہریانہ میں گڑگاؤں کے بھيمگڑھ علاقے کی 53 سالہ سنیتا دیوی نے کہا، ’ایک تیز روشنی سے میں بیہوش ہو گئی۔ ایک گھنٹے بعد مجھے پتہ چلا کہ میرے بال کاٹ دیے۔‘

جمعے کو ان پر ہونے والے حملے کے بعد سے وہ ڈری ہوئی ۔ انھوں نے کہا، ’نہ میں سو پا رہی ہوں اور نہ کسی کام میں میرا دل لگ رہا ۔ میں نے سنا تھا کہ اس طرح کے واقعات راجستھان میں ہو ر ، لیکن کبھی سوچا ن تھا کہ یہاں بھی ایسا ہوگا۔‘

اس ’ان دیکھے حجام‘ کی پہلی خبر جولائی میں راجستھان سے آئی تھی، لیکن اب اس طرح کی خبریں ہریانہ اور یہاں تک کہ دارالحکومت دہلی سے بھی آنے لگی ۔

سنیتا دیوی کسانوں اور تاجروں کے ایک چھوٹی سی کمیونٹی میں رہتی ۔ جب تک وہ صدمے سے نکل ن جاتیں، ان کے کچھ پڑوسی باری باری ان کے ساتھ رہ ر ۔

انھوں نے کہا کہ ان پر حملہ کرنے والا ایک ادھیڑ عمر کا شخص تھا جس نے چکمدار کپڑے پہن رکھے ۔

انھوں نے کہا، ’جب رات کے 9.30 بجے مجھ پر حملہ ہوا تو میں پہلی منزل پر اکیلی تھی اور میری بہو اور پوتا اوپر ۔ انھوں نے نہ کچھ دیکھا اور نہ ہی کچھ سنا۔‘

معاملہ تب اور گمبھیر نظر آیا جب ان سے پوچھا جاتاکہ کسی نے حملہ آور کو دیکھاکیا؟

سنیتا دیوی کی پڑوسی منیش دیوی نے کہا کہ عام طور پر رات نو سے دس بجے کے درمیان اس تنگ گلی میں لوگوں کی چہل پہل رہتی .

لوگ کھانا کھانے کے بعد ایک ساتھ بیٹھ کر، آرام کرتے ۔ جمعے کو کچھ مختلف ن تھا، لیکن ہم میں کسی نے بھی کسی نامعلوم شخص کو سنیتا کے گھر میں آتے جاتے ن دیکھا۔‘

اور یہ ی ختم ن ہوا۔

کچھ گز ہی فاصلے پر ایک اور خاتون خانہ امید دیوی نے بھی اسی دن اسی طرح کے ایک حملے میں اپنے بال کھو دیے۔

لیکن اس بار حملہ آور مبینہ طور پر ایک خاتون تھی۔

امید دیوی کے سسر سورج پال کہتےکہ اس واقعے کے بعد انھوں نے امید اور گھر کی دوسری عورتوں کو اتر پردیش میں ایک رشتہ دار کے گھر پر بھیج دیا ۔

انھوں نے کہا، ’اس حملے کے بعد وہ خوفزدہ تھیں، میں نے ان کچھ ہفتوں کے لیے گھر سے دور رہنے کو کہا۔ پوری کمیونٹی میں خوف بنا ہوا ۔‘

سورج پال نے کہا کہ اس دن وہ گھر میںجبکہ امید دیوی رات 10 بجے کے ارد گرد گھر کے کسی کام سے باہر تھیں۔

انھوں نے بتایا، ’جب وہ آدھے گھنٹے تک ن لوٹی تب میں ان ڈھونڈنے نکلا۔ وہ ہمیں باتھ روم میں بے ہوش ملیں. ان کے سر کے کٹے بال زمین پر بکھرے پڑے ۔‘

انھوں نے کہا کہ تقریباً ایک گھنٹے کے بعد ہوش میں آنے پر امید نے بتایا کہ ان پر کسی خاتون کی طرف سے حملہ کیا گیا تھا۔

سورج پال نے مزید کہا، ’انھوں نے مجھ سے کہا کہ سب کچھ صرف 10 سیکنڈ میں ہی ہو گیا۔‘

اسی طرح کے کچھ کیس میں نے گڑگاؤں سے 70 کلومیٹر دور ریواڑی ضلع کے دیہی علاقوں میں بھی دیکھے۔

گڑگاؤں پولیس کے ترجمان روندر کمار کا کہناکہ شکایات کی تحقیقات کی جاری رہی ۔

انھوں نے کہا، ’یہ عجیب واقعات ۔ ہمیں واردات کا کوئی سراغ ن مل رہا، متاثرین کے میڈیکل ٹیسٹ میں بھی کوئی غیر معمولی علامات ن نظر آئیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ کسی نے مبینہ حملہ آوروں کو ن دیکھا۔

کمار کا کہناکہ مختلف اضلاع کی پولیس آپس میں مل کر ان واقعات کا معلومات کا تبادلہ کر کے معمے کو سلجھانے کی کوشش کر رہی ۔

روندر کمار کا کہنا تھا کہ، ’صرف متاثرین کا کہناکہ انھوں نے حملہ آوروں کی موجودگی کو دیکھا یا محسوس کیا۔ ہم ان معاملات کی تہہ تک جائیں گے، لیکن اس وقت تک، میں نے لوگوں سے افواہوں پر یقین نہ کرنے کی اپیل کرتا ہوں۔‘

جیسے ہی میں ایک دوسرے گاؤں میں پہنچا، مجھے اس طرح کے حملے کی ایک اور تھیوری دی گئی۔

ایک گاؤں میں ایک بزرگ نے مجھ سے کہا کہ اس جرم میں ایک منظم گروہ شامل ۔ ایک اور شخص نے کہا کہ ان کا خیالکہ تانترک نام نہاد پیر فقیر ان حملوں کے پیچھےکیونکہ اس طرح کے معاملات میں لوگ ان کے پاس علاج کے لیے پہنچتے ۔

ایک خاتون نے زور دے کر کہا کہ اس کے پیچھے ’غیر مرئی طاقتوں‘ کا ہاتھ ۔ کچھ نے تو متاثرین پر ہی لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے ایسا کرنے کا الزام دیا ۔

علم استدال کے ماہرسنال ایڈامروكو نے بی بی سی سے کہا کہ وہ سمجھتےکہ یہ ’ماس ہسٹیريا‘ کی بہترین مثالیں ۔

انھوں نے کہا،’اس کے پیچھے کوئی معجزہ یا غیر مرئی طاقت ن ۔ ان واقعات کا شکار ہونے والی خواتین یقینی طور پر کسی اندرونی نفسیاتی مسئلے کا شکار رہی ہوں۔ جب وہ اس طرح کے واقعات کے بارے میں سنتیتو اپنے ساتھ بھی ایسا ہوتے ہوئے محسوس کرتی ۔‘