تقسیم ہند میں علی گڑھ یونیورسٹی کیونکر بچی؟

Ali garh university

پروفیسر عرفان حبیب نے تقسیم ہند اور علی گڑھ کے حالات پر تفصیلی بات کی

جب ملک آزاد ہوا میں 16 سال کا تھا اور میری تمام تر سکولی تعلیم برٹش راج میں ہوئی تھی۔

پروفیسر عرفان حبیب نے بی بی سی کو بتایا کہ ‘جب کانگریس سنہ 1937 سے 1939 کے درمیان آئی تو ہمارا نصاب بدل گیا لیکن علی گڑھ میں سنہ 1941 کے بعد سے مسلم ليگ کا زور بڑھ گیا لیکن ہمارے نصاب میں کوئی تبدیلی ن آئی۔ اور ہماری تعلیم قومی نظریات پر مبنی رہی۔

اس پر مسلم لیگ نے کوئی خاص دھیان ن دیا۔ وہ فرقہ پرست ضرور لیکن ان کا کوئی آئیڈیالوجیکل رویہ ن تھا کہ ہر چیز اسلامی اصولوں کی پابند ہو۔ ایسا کچھ ن تھا۔

یہ درستکہ مسلمانوں کی اکثریت نے 1946 میں ہونے والے انتخابات میں ‘پاکستان’ کے نعرے پر مسلم ليگ کو ووٹ دیا تھا لیکن کسی کو علی گڑھ یونیورسٹی میں کم از کم یہ خیال ن تھا کہ پاکستان بن جائے گا اور ایک دوسرا ملک وجود میں آ جائے گا۔ سب یہ سمجھتے کہ یہ ایک بارگیننگ کاؤنٹرجس کے تحت مسلمانوں کو خاص رعایتیں ملیں گي، شاید یوپی (اترپردیش) میں زمینداری کا خاتمہ نہ ہو، سول سروسز میں ریزرویشن میں توسیع ہو یا مسلمان یہ شرط لگائیں کہ آدھے وزیر ان کے ہوں۔یہ سب خواب ۔

اس لیے جب ماؤنٹ بیٹن ایوارڈ آیا تو علی گڑھ میں اس وقت چھٹیاں چل رہی تھیں اور استاد اور ملازمین جن میں ليگ کے حامیان میں بہت پریشانی تھی بعض لوگ تو رو بھی رکیونکہ کسی کو یہ خیال ن تھا کہ پاکستان بن جائے گا اور ایک الگ ملک وجود میں آ جائے گا۔

یہاں کے وائس چانسلر ظاہر حسین خود پاکستان چلےاور بہت سے دوسرے لوگ بھی بعد میں چلے ۔ لیکن یونیورسٹی قائم رہی اور داخلے بالکل وقت پر ہوئے، کلاسز برابر جاری ر۔ اگر کوئی استاد چلا جاتا تھا تو دوسرا موجود رہتا تھا۔ حاضری پر وہی پابندی تھی جو پہلے تھی لیکن اب یہ بات ختم ہو گئی ۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا قیام مدرسۃ العلوم کے نام سے 1875 میں عمل میں آیا تھا اور سٹریچی ہال ابتدائی زمانے کی تعمیرات میں شامل

علی گڑھ کے قائم رہنے کی بڑی وجہ سرکار کی جانب سے یہ یقین دہانی تھی کہ یونیورسٹی جیسے چلتی تھی ویسی ہی چلتی ر گی اور اس کی امداد کی جائے گی۔

یہ کہنا پڑے گا کہ اسی یقین دہانی کی وجہ سے یونیورسٹی قائم رہی۔

آپ کو معلومکہ اس کی حفاظت کے لیے خاص فوجی دستہ بھیجا گیا تھا کیونکہ جمنا تک تو فساد آ چکا تھا اور مسلمانوں کا قتل عام ہو رہا تھا اور ادھر پاکستان کی جانب ہندو، سکھوں کا ہو رہا تھا۔

فوج کی کمایوں ریجیمنٹ بھیجی گئی تھی ان کا کردار بہت اچھا رہا اور انھوں نے ضلعے میں کم از کم کوئی فساد ن ہونے دیا۔

آزادی کے بعد پہلی گورنر سروجنی نائیڈو بھی یونیورسٹی میں تشریف لائیں تھیں۔ انھوں نے وہاں تقریر کی تھی جس میں میں بھی موجود تھا کیونکہ میں اس وقت فرسٹ ایئر (بی اے) کا طالب علم تھا۔ انھوں نے بھی بہت یقین دہانی کرائی تھی لیکن افسوس کہ ان کا جلد ہی انتقال ہو گيا۔

تقسیم کے بعد یہاں بہت سے شرنارتھی (پناہ گزین) طالب علم بھی آئے۔ سنہ 50-1949 کا ایک زمانہ تھا جب یہاں ایک تہائی طلبہ شرنارتھی (یعنی پاکستان سے آنے والے پناہ گزین) ۔ سب ہوسٹلوں میں رہتے ۔ پہلے ان کے علیحدہ ہوسٹلپھر سب کو شامل کر لیا گیا۔

سنہ 1952 میں ایک ایکٹ آیا جس کے تحت حکومت نے یونیورسٹی کو اپنے کنٹرول میں لے لیا۔ پہلے تو یہ پرائیوٹ یونیورسٹی تھی اور دیوالیہ ہو رہی تھی۔ یہی حال بنارس ہندو یونیورسٹی کا تھا۔ جو لوگ اس ایکٹ کی برائی کرتےانھیں جاننا چاہیے کہ اسی کی وجہ سے یونیورسٹی بچ گئی کیونکہ حکومت نے تمام اخراجات اپنے ذمے لے لیے ۔

آزادی سے پہلے یہاں طلبہ کی تعداد پانچ ہزار تھی جو کہ ایک وقت کم ہو کر ایک ہزار رہ گئی تھی پھر سنہ 1953 تک طلبہ کی تعداد دوبارہ پانچ ہزار تک پہنچ گئی اور اب اس کی تعداد 25 ہزار سے زیادہ ۔