راج سے آزادی، مگر کاپی رائٹ سے نہیں!










































بھگت سنگھ کو میری پیدائش سے بہت پہلے پھانسی دی جا چکی تھی، لیکن میری نسل ہی نہیں‘ بلکہ انڈیا میں اس سے پہلے اور بعد میں آنے والی نسلوں کو بھگت سنگھ میں ہمیشہ کشش محسوس ہوتی رہی ہے۔
23 مارچ 1931 ہی کو بھگت سنگھ کو ان کے ساتھی انقلابیوں راج گرو اور سُکھ دیو کے ساتھ لاہور میں پھانسی دی گئی تھی۔ قسمت کے ایک دلچسپ پھیر کے تحت میں، جو انڈیا میں ایک سکھ گھرانے میں پیدا ہوئی، بعد میں لندن جا بسی اور اب میں برٹش لائبریری میں بھگت سنگھ کی برسی کی مناسبت سے ہندوستان کی آزادی کی تحریک پر تحقیق کر رہی ہوں۔ لائبریری میں مجھے ایک کیٹلاگ ملا جس پر لکھا تھا: ‘ممنوعہ اشاعتی مواد’ اور اس میں پمفلٹ، پوسٹر، پرچیاں، پینٹنگز اور دستی اشتہار شامل ہیں۔
یہ وہ مواد ہے‘ جس پر آزادی سے قبل چار عشروں تک ہندوستان میں برطانوی حکومت نے پابندی عائد کر رکھی تھی۔ میرے لیے اس میں خاص دلچسپی کے حامل وہ پوسٹر ہیں‘ جن پر بھگت سنگھ، سُکھ دیو اور راج گرو کی تصاویر چھاپی گئی ہیں۔
عجیب بات یہ ہے‘ کہ بھگت سنگھ اپنی موت کے 86 برس بعد بھی آزاد نہیں‘ ہو سکے۔ وہ بھگت سنگھ جنھیں انڈیا میں اکثر لوگ شہید بھگت سنگھ کہتے ہیں۔
وہ زبردست مقرر تھے‘ اور لکھے اور بولے گئے‘ دونوں قسم کے الفاظ کی طاقت سے واقف تھے۔
بھگت سنگھ آزادی کے لیے لڑے لیکن ان کی پھانسی سے متعلق پوسٹروں کو آج تک آزادی نہیں‘ مل سکی۔ برٹش لائبریری نے مجھے مطلع کیا کہ برطانوی کاپی رائٹ کے قانون کے تحت یہ پوسٹر دوبارہ شائع نہیں‘ کیے جا سکتے۔ میں نے کانپور میں شیام سندر لال پکچر ہاؤس کا کھوج لگایا جنھوں نے یہ پوسٹر شائع کیے تھے۔
شیام سندر لال کے پوتے ہریش نے فون اٹھایا۔ جب میں نے ان سے پوسٹروں کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے مکمل لاعلمی کا اظہار کیا۔ وہ بار بار ہندی میں کہتے تھے‘: ‘مادام، آپ سمجھ کیوں نہیں‘ رہیں‘، ہم ان کے پوتے ہیں‘ جنھوں نے یہ بنائے تھے‘، ہمیں کچھ نہیں‘ پتہ۔’ چنانچہ ہم نے ایک رفیقِ کار سے کہا کہ وہ پوسٹروں کے سکیچ بنا دے، جو اصل کی ہوبہو نقل تو نہ ہوں مگر پھر بھی اصل پوسٹروں کے مواد کے بارے میں ہمارے قارئین کو معلومات فراہم کر سکیں۔ پہلی تصویر ایک رائٹنگ پیڈ کی ہے‘ جس پر بھگت سنگھ کی ہیٹ والی مشہور تصویر ہے۔
یہ ایک نوجوان انقلابی کی تصویر ہے‘ جس سے ہم سب واقف ہیں۔
برٹش لائبریری کے ایشیا پیسیفک اور افریکن کلیکشن کے سابق سربراہ نے بتایا کہ ایک چھاپہ خانے نے رائٹنگ پیڈ کے اوپر بھگت سنگھ کی تصویر چھاپ کر نوجوانوں کو متاثر کرنے کی کوشش کی تھی جو آزادی کی تحریک کا ہراول دستہ تھا۔ اس پوسٹر کے بارے میں خاص بات یہ ہے‘ کہ اس میں شامل کردہ بھگت سنگھ کی تصویر کا اکثر اوقات چی گویرا کی اس مشہور تصویر سے تقابل کیا جاتا ہے‘ جو البرٹو کورڈا نے کھینچی تھی۔ یہ تصویر بھگت سنگھ کی مثالیت پسندی اور قربانی کے لیے مشہور ہے۔
ایک اور پوسٹر پر ہندی اور انگریزی زبانوں میں تحریر کیا گیا ہے‘، ‘بھارت کے تین سینا۔’اس میں بھگت سنگھ، سکھ دیو اور راج گرو کو کال کوٹھڑی کے اندر زنجیروں سے جکڑا ہوا دکھایا گیا ہے‘، لیکن ان کے چہروں پر عزم اور جرات نمایاں ہے‘، اور کہیں‘ بھی خوف کے کوئی آثار نہیں۔
تیسرے پوسٹر پر لکھا ہے‘، ‘لاہور سازش کیس کا فیصلہ،’ اور اس میں تینوں انقلابیوں کے کٹے ہوئے سر مادرِ وطن کی نذر کرتے ہوئے پیش کیا گیا ہے۔
چوتھے‘ اور آخری پوسٹر میں فرشتوں کو پھانسی کے بعد تینوں انقلابیوں کو جنت کے اندر لے جاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
ان پوسٹروں سے ظاہر ہوتا ہے‘ کہ بھگت سنگھ کے بارے میں برطانوی حکومت کے خیالات اور عوام کے احساسات میں کتنی بڑی خلیج تھی۔ حکومت انھیں باغی اور مجرم گردانتی تھی جب کہ عوام کے نزدیک وہ مجاہدینِ آزادی تھے‘ جن کا مقام جنت کے سوا کوئی اور نہیں‘ تھا۔ بھگت سنگھ کے بھتیجے ابھے سنگھ سندھو نے ہمیں بتایا کہ ان کے خاندان کے افراد نے اس قسم کے پوسٹر دیکھ رکھے ہیں‘ اور یہ ان لوگوں نے تخلیق کیے تھے‘ جو بھگت سنگھ کے ورثے کے قدردان تھے‘ اور ان کے نزدیک وہ آزادی کے ہیرو تھے۔
ابھے سنگھ کو اس بات پر مایوسی ہوئی کہ یہ پوسٹر ابھی تک کاپی رائٹ کے قانون کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں۔
وہ کہتے ہیں‘ کہ بھگت سنگھ کی تصاویر اب عوامی ڈومین میں آ چکی ہیں‘ اور ان کا خاندان انھیں تقسیم کرتا رہتا ہے‘ تاکہ آنے والی نسلیں بھگت سنگھ کی جدوجہد اور ملک کے لیے ان کی قربانیوں سے آگاہ ہو سکیں۔
روزانہ خبریں اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔