ایران: حکومت مخالف احتجاج: عدم استحکام جاری رہنے پر ’سختی‘ سے نمٹنے کی تنبیہ

ایران میں حکام نے ان سوشل میڈیا نیٹ ورکس پر عارضی طور پر پابندی عائد کر دیجنھیں تین روز سے جاری حکومت مخالف احتجاج کو کرنے میں مظاہرین کی جانب سے استعمال کیا جارہا تھا۔ حکام کی جانب سے سرکاری نیوز ایجنسی ارِب کو بتایا گیا پیغام رسائی کی ایپ ٹیلی گرام اور فوٹو شیئرنگ ایپ انسٹاگرام کی عارضی بندش کا یہ فیصلہ ’امن کے قیام اور معاشرے میں سکیورٹی کے لیے‘ لیا گیا ۔ دوسری جانب ایران کے طاقتور فوجی دستے پاسدارانِ انقلاب نے حکومت مخالف مظاہروں میں شریک افراد کو خبردار کیاکہ ملک میں سیاسی عدم استحکام جاری رہنے پر مظاہرین سے ’سختی سے نمٹا‘ جائے گا۔ مظاہروں کے نتیجے میں اب تک حکام نے دو افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کیتاہم حکام کا کہناکہ سکیورٹی فورسز کسی پر بھی گولی ن چلائی۔ انھوں نے اس کا الزام اقلیتی مسلم انتہاپسند سنیوں پر لگایااور یہ بھی کہاکہ اس میں بیرونی طاقتیں ملوث ۔ نامہ نگار کا کہناکہ بیرونی خفیہ ایجنسیوں کی جانب اشارے کا مقصد سعودی عرب کا حوالہ دینا ۔ ٹیلی گرام کے سی ای او پاول ڈیورو نے اپنی ٹوئٹ میں لکھاکہ یہ اقدام اس وقت لیا گیا جب ان کی کمپنی کی جانب سے میسیجنگ ایپ کو بند کرنے سے انکار کیا گیا جسے پرامن خیال ر کہ ایران میں تین روز قبل پست معیارِ زندگی کے خلاف مظاہرے شروع ہوئےلیکن پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ کا کہناکہ اب ان مظاہروں میں سیاسی نعرے لگائے جا راور سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا جا رہا ۔ ایران میں عوام کے گرتے ہوئے معیارِ زندگی اور کرپشن کے خلاف ہونے والے یہ احتجاج سنہ 2009 میں اصلاحات کے حق میں ہونے والی ریلی کے بعد سب سے بڑا عوامی احتجاج ۔

متعلقہ خبر یں

روزانہ خبریں اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Leave a Reply