مرہٹہ حکمرانوں کے شاہی کھانے

Shahi khanay
جنوبی ہند آج اپنے ڈوسے کے لیے معروف ہے‘ اور اب یہ ساری دنیا میں دستیاب ہے‘ انڈیا کے جنوبی شہر چنئی سے 200 کلو میٹر کے فاصلے پر تنجور قدیم زمانے میں چولا، مرہٹوں اور نایکوں کا دارالحکومت تھا۔ دریائے کاویری کے کنارے آباد جنوبی ہند کا یہ شہر قدیم زمانے میں اپنی ثقافتی قدروں کے لیے جانا جاتا تھا پھر مرہٹوں نے اس شہر کو علم و ادب کا گہوارہ بنایا اور ساتھ ہی فنون لطیفہ کو ترقی دی۔ تنجور کا ایک شاندار ماضی ہے‘ جہاں سے ہمیں ایسے نادر موتی ملتے ہیں‘ جن کی چمک ابھی تک ماند نہیں‘ ہوئی ہے۔
سرفوجی دوئم مرہٹہ حکومت کے وہ راجہ ہیں‘ جو اچھے حکمراں ہونے کے ساتھ ساتھ علم و ادب کے بھی دلدادہ تھے۔
مہاراج کے شوق مزاج نے بہت سے فنون لطیفہ کو فروغ دیا جن میں سے ایک کھانا ہے۔
سرفوجی کھانے کے نہ صرف شوقین تھے‘ بلکہ اچھے اور برے کھانے کی تمیز بھی رکھتے تھے۔
شاہی باورچی خانے کا انتظام انھی کا مرہون منت تھا۔ تنجور کا شاہی کتب خانہ ‘سرسوتی بھنڈار’ تنجور کے شاہی مطبخ میں تیار کیے جانے والے کھانوں کے پرانے قلمی نسخوں کا ذخیرہ بھی چھپائے ہوئے ہے۔
مرہٹہ حکومت گوشت اور مرغ و ماہی کے معاملے میں مغل کھانوں کے زیر اثر تھی کیونکہ ان کا کھانے مغل کھانوں سے بہت ملتے ہیں‘ اس کتب خانے میں تقریباً 30 ہزار قلمی نسخے موجود ہیں‘ جن میں شاہی باورچی خانے کی داستانیں بھی پوشیدہ ہیں۔
مہاراج سرفوجی نے بذات خود کئی انگریزی کھانوں کی تراکیب کو قلمبند کیا ہے‘ جو کتب خانے میں محفوظ ہیں۔
یہ نسخے ‘مودی’ خط میں لکھے اور اب چونکہ کے اس کے جاننے والے ناپید ہیں‘ اس لیے ان کا اب تک عام فہم زبان میں ترجمہ نہیں‘ ہو سکا ہے۔
تنجور کے شاہی محل میں تین بڑے باورچی خانے تھے‘ جن میں الگ الگ نوعیت کے کھانے تیار ہوتے تھے۔
گوشت، مرغ، مچھلی کے پکوان ایک باورچی خانے میں تو دوسرے میں صرف سبزی ترکاری والے کھانے جبکہ تیسرا انگریزی کھانوں کے لیے وقف تھا۔ ان کے علاوہ تین چھوٹے باورچی خانے بھی تھے‘ جن میں شربت خانہ، آبدار خانہ اور شیر خانہ تھے‘ (جہاں دودھ کی بنی مٹھا‏ئیاں تیار ہوتی تھیں)۔ باورچی خانے کے انتظام کی دیکھ بھال کے لیے نگہدار مقرر تھے‘ اور کھانے کے معیاری ہونے کی ذمہ داری ایک اعلی افسر کے سپرد تھی۔ تنجور کے ایک شاہی باورچی خانے میں ایک قسم کے کھانوں کے لیے ہی مختص تھے‘ باورچی خانے کا یہ انداز بادشاہ اکبر کی یاد دلاتا ہے۔
اسی طرح کا بیان ہمیں ابوالفضل کی ‘آئین اکبری’ میں ملتا ہے۔
شاید مرہٹہ حکمراں مغلیہ فن طباخی سے متاثر تھے۔
اس کی تصدیق ان کے گوشت، مرغ اور مچھلی کے پکوان سے ہوتی ہے‘ جو کہ لذت اور ذائقے میں مغلیہ کھانوں سے مشابہ تھے۔
مرہٹہ حکمرانوں نے جنوبی ہند کے لذت و ذائقے کو یکجا کیا اور ایک نئے انداز میں کھانے تیار کروائے لیکن ان کو نام مرہٹی ہی دیے گئے‘۔ تمل طباخ اور مرہٹہ حکمراں کے میل نے شاہی باورچی خانے کے پکوان کو نئی لذت بخشی۔ ایک دلچسپ نکتہ یہ ہے‘ کہ جنوبی ہند کی معروف غذا ‘سانبھر’ پہلی مرتبہ تنجور میں ہی بنائی گئي تھی اور سانبھا جی کے نام کی مناسبت سے ان کا نام سانبھر رکھا گیا تھا۔ تنجور کا سانبھر دوسرے علاقوں کے سانبھروں سے مختلف ہے‘ کیونکہ اس میں ترشی کے لیے کوکم کی جگہ املی استعمال کی جاتی ہے۔
جنوبی ہند میں لوگ زیادہ تر سبزی خور ہیں‘ مہاراج نے انگریزی کھانے پکانے میں تربیت حاصل کرنے کے لیے شاہی باورچیوں کو سینٹ جارج ملٹری کینٹین روانہ کیا تھا۔ اور دو ماہر باورچیوں کو روایتی کھانا بنانے کے لیے گورنر ہاؤس بھیجا تھا۔ سنہ 1825 میں وینکٹ سوامی کو بٹلر کی حیثیت سے انگریزی باورچی خانے میں مقرر کیا گیا تھا۔ وینکٹ انگریزی کھانوں کے ماہر تھے‘ اور انھوں نے تنجور کی ضیافتوں میں اپنی مہارت سے چار چاند لگا دیے۔ جیلی، پف، سوپ، مچھلی کے مختلف پکوان اور بے شمار مٹھائیاں میز پر سجی ہوئی ہوتی تھیں۔ سلمیٰ حسین کھانا پکانے کی شوقین، ماہر طباخ اورکھانوں کی تاریخ نویس ہیں۔
ان کی فارسی زباندانی نے عہد وسطی کے مغل کھانوں کی تاریخ کے اسرار و رموز ان پر کھولے۔ انھوں نے کئی کتابیں بھی لکھی ہیں‘ اور بڑے ہوٹلوں کے ساتھ فوڈ کنسلٹنٹ کے طور پر بھی کام کرتی ہیں۔
سلمیٰ حسین ہمارے لیے مضامین کی ایک سیریز لکھ رہی ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here