انڈیا میں ’دلتوں اور کمزور طبقے کی موت پر درد نہیں ہوتا‘

India
گذشتہ ہفتے جب ہریانہ کی ایک عدالت نے ڈیرا سچا سودا کے سربراہ بابا گرمیت رام رحیم کو ریپ کے دو معاملات میں مجرم قرار دیا تو بابا کے ہزاروں حامی احتجاج میں تشدد پر اتر آئے۔ دلچسپ پہلو یہ ہے‘ کہ ریاستی حکومت نے گرمیت رام رحیم کے ایک لاکھ سے زیادہ حامیوں کو پنچ کولا کی عدالت اور اس کے اطراف میں ان اطلاعات کے باوجود ایک روز پہلے سے جمع ہونے دیا تھا کہ فیصلہ ناموافق ہونے کی صورت میں بابا کے حامی تشدد پر اتر سکتے ہیں۔
ان کے حامیوں نے فیصلہ آتے ہی شہر میں درجنوں گاڑیوں کو آگ لگا دی۔سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچایا۔صحافیوں پر حملے کیے اور ہزاروں سکیورٹی اہلکاروں کی موجودگی کے باوجود پورا شہر یرغمال بن کر رہ گیا۔ میڈیا میں ہر چینل پر ریاست کی بی جے پی حکومت پر تنقید ہونے لگی اور تجزیہ کار اس لاقانونیت اور تخریب کاری کو روکنے میں مکمل ناکامی کے لیے وزیراعلیٰ کو فوراً برطرف کرنے کا مطالبہ کرنے لگے۔ تنقید کے بعد ریاستی پولیس حرکت میں آگئی اور دو گھنٹے کے اندر بابا کے 38 حامیوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے مطابق ہلاک شدگان کو یہ گولیاں سینے اور اس کے اوپر لگی تھیں ان میں سے بہت سے ایسے تھے‘ جنہیں‘ پیٹھ کی طرف سے گولی ماری گئی تھی یعنی انہیں‘ اس وقت مارا گیا جب وہ بھاگنے کی کوشش کر رہے‘ تھے۔
مرنے والوں میں کئی بزرگ اور خواتین بھی تھیں۔ دنیا کے کسی اور ملک میں غیر مسلح احتجاجیوں کو اتنی بڑی تعداد میں مارے جانے پر ہنگامہ برپا ہو گیا ہوتا لیکن یہاں انڈیا میں ان کے مارے جانے پر کوئی سوال نہیں‘ اٹھا اور نہ ہی کسی نے یہ پوچھا کہ آخر پولیس نے انہیں‘ موت کے گھاٹ اتارنے کے لیے ہی کیوں گولی ماری۔ ان کے پیر یا نچلے حصے میں بھی گولی ماری جا سکتی تھی ۔ ہوائی فائر سے بھی لوگوں کو منتشر کیا جا سکتا تھا ۔ اس سوال کا جواب اس حقیقت میں پنہاں ہے‘ کہ بابا گرمیت کے حامی ہیں‘ کون؟ بابا گرمیت رام رحیم کو ریپ جیسے بھیانک جرم میں 20 برس قید کی سزا دی چکی ہے‘ لیکن اس سے پہلے بابا نے اپنے معمول کے دنوں میں سینکڑوں فلاحی سکیمیں اور پروگرام چلا رکھے تھے۔
ان کے مریدوں کی تعداد کروڑوں میں بتائی جاتی ہے۔
ان کے حامیوں کا تعلق پنجاب ،ہریانہ ، راجستھان اور اتر پردیش کے دلت اور دبے کچلے غریب لوگوں سے ہے۔
یہ وہ لوگ ہیں‘ جنہیں‘ روایتی مذاہب اور معاشرے میں میں برابری کی نظر سے نہیں‘ دیکھا جاتا اور جنہیں‘ روز مرہ کی زندگی میں تفریق اور تحقیر کا سامنا ہوتا ہے۔
باباؤں کے ڈیرے اور آشرم ان دبے کچلے لوگوں کو بھائی چارے ، محبت اور فلاحی کاموں سے اپنی طرف کھینچتے ہیں۔
بابا کی حمیات میں جو لوگ مارے گئے‘ وہ ریپ کے بھیانک جرم کی حمایت نہیں‘ کرتے۔ وہ یہ سمجھتے ہیں‘ کہ بابا بے قصور ہیں۔
انہیں‘ گرمیت رام رحیم کے ساتھ مجرم سمجھنا غلط ہوگا۔ لیکن ملک کا میڈیا انیں اسی طرح پیش کر رہا تھا جیسے یہ ہزاروں حامی بھی مجرم ہوں۔ جو 38 لوگ مارے گئے‘ وہ دلت ، غریب اور ، کمزور طبقے کے تھے۔
ان کی ہلاکت پر پر انڈیا میں کسی کو دکھ نہیں‘ ہوا۔ ان کی موت پر کسی چینل پر بحث نہین ہوئی۔ وہ کون تھے‘ کہاں سے آئے تھے۔
کوئی نہیں‘ جانتا اور نہ ہی کوئی جاننا چاہتا ہے۔
انڈین معاشرے پر اعلی ذاتوں اور طبقے کی مکمل اجارہ داری ہے۔
درد اور اخلاقیات کا تعین بھی یہی طبقہ کرتا ہے۔
کبھی قوم پرستی کے نام پرتو کبھی مذہب کی شکل میں ہر جگہ یہی طبقہ انڈین معاشرے کا فیصلہ کر رہا ہے۔
ملک اس وقت دو خانوں میں تقسیم ہے۔
ایک طرف وہ لوگ ہیں‘ جو کمزور ہیں۔
جن کے پاس سیاسی طاقت نہیں‘ ہے۔
جو بے بس ہیں‘ اور جو معاشرے میں برابری کا مقام حاصل کرنے کی کوشش کر کر رہے‘ ہیں۔
دوسری جانب وہ طبقہ ہے‘ جسے سب کچھ حاصل ہے‘ اور جو اپنے مفادات کے تحقظ کے لیے ایسے نظام کا حامی ہے‘ جس میں دلتوں ، قبائلیوں ، غریب اور کمزور طبقے کی ضرورت تو ہے‘ لیکن ان کے لیے کوئی درد نہیں‘ ہے۔
سماجی ماہرین کا کہنا ہے‘ کہ انڈیا کا معاشرہ روایتی طور پر دلتوں، اور کمزور طبقے پر جبر اور تشدد پر نہ صرف خاموش رہا ہے‘ بلکہ اسے سماج کی قبولیت بھی حاصل ہے۔
ان کا خیال ہے‘ کہ یہ معاشرے میں طبقاتی کمشمکش اور ذات پات کے ٹکڑاؤ کے بحران کی علامت ہے۔
یہ اس بات کی بھی علامت ہے‘ ملک کا دبا ہوا طبقہ اب زیادہ شدت سے مزاحمت کر رہا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here