پاکستان کے نام سے عزت پانے والے

میری پیدائش پاکستان کے قیام سے پہلے کییوں میری عمر پاکستان کی مجموعی عمر سے زیادہمجھے وہ تمام مناظر یادجب پاکستان بننے کے بعد میرے علاقے سے غیر مسلم ہجرت کر کے بھارت روانہ ہوئے ۔ خوش قسمتی سے میں ان لوگوں میں شامل ہوں جن کو ہجرت ن کرنی پڑی اور نہ ہی میں ان دکھوں اور مصیبتوں سے آشنا ہوں جو ہجرت کرنے والوں پر بیت گئیں۔ اس خبرکوبھی پڑھیں: چیف جسٹس کے لیے مجھے اگر کچھ معلومتو وہ داستانیںجو میں نے اپنے ملنے جلنے والوں سے لاہور میں رہائش پذیر ہونے کے بعد سنیں یا پھر اخبارات اور کتابوں میں پڑھیں، یہ دلدوز داستانیں اپنے اندر ایک منفرد طرز کا کرب لیے ہوئےان کے تذکرے سے آج بھی زخم تازہ ہو جاتے ، ایک ہجرت کا دکھ اور دوسرا ہجرت کا سفر دونوں کچھ ایسے معاملےجو مسلمانوں پر ایسے بیتے کہ ان کی نسلیں یا تو ختم کر دی گئیں یا پھر وہ لٹے پٹے اپنے نئے وطن پاکستان پہنچے اور ایک نئی زندگی کا آغاز کیا جو کہ ان کی اپنی پسند اور اپنے اختیار میں تھی ۔ اس خبرکوبھی پڑھیں: وومین پاور اور جماعتِ اسلامی آزادی کے یہی مزےجن کو محسوس کرنے اور لوٹنے کے لیے تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت وقوع پذیر ہوئی اور اپنے ساتھ کئی المناک داستانیں بھی لے کر چلتی رہی اور آج بھی سرحد کے دونوں اطراف لوگ بٹے ہوئے ، رشتہ داریاں موجود ۔ اس خبرکوبھی پڑھیں: ایک نئی جنگ کا خطرہ ہجرت کرنے والوں نے اپنی مرضی سے اپنے نئے وطن کا انتخاب کیا اور پاکستان کی سر زمین جو کہ خالصتاً اسلام کے نام پر حاصل کی گئی یہاں پر مذہبی اور معاشرتی قیدو بند سے آزاد زندگی گزارنے کو ترجیح دی اور جنہوں نے بھارت میں رہنے کو پسند کیا ان کی زندگی کیسے گزر رہیاس سے ہم سب اچھی طرح واقفاور مسلمانوں پر بھارتی مظالم کی داستانیں کوئی ڈھکی چھپی بات ن رہی۔ اس خبرکوبھی پڑھیں: سینٹ اینڈریوز چرچ کی چینی آنٹی میں نے بات اپنی عمر سے شروع کی تھی جو کہ پاکستان کی ستر سالہ عمر سے زائد ، پاکستان بننے سے پہلے بھی اپنی جوانی کے دنوں میں ایک غریب علاقے سے تعلق کے باوجود میری زندگی آسودہ زندگی بن کر گزر رہی تھی اور وجہ یہ تھی کہ میرے بزرگوں کی آبائی زمینیں ہماری زندگی گزارنے کی مناسب ضروریات پوری کرنے کے لیے بہت تھیں اور پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد بھی جب میں نے اخبار نویسی شروع کی تو لاہور جیسے بڑے اور جدید شہر میں زندگی بڑے آرام اورمزے سے گزرتی رہی اور جب تک اللہ تبارک و تعالیٰ نے زندگی عطا کر رکھیزندگی کی جائز ضروریات بدستورجائز طریقے سے پوری ہو رہیاور اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے کبھی ان میں کمی ن آئی۔ اس خبرکوبھی پڑھیں: بلوچستان کیا پولیس کے شہداء کا خون ارزاں ؟ صحافت کی ابتدا میں اگر تنخواہ کم تھی تو بھی ضروریات کے سلسلے میں کبھی کوئی پریشانی ن ہوئی اور اب جب کہ ضروریات بڑھ چکی اور مہنگائی میں اضافہ ہو چکاتو اُس ذات پاک کا جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کمکہ پہلے سے بہتر زندگی گزر رہی ، یہ سب اللہ تعالیٰ کی مہربانی اور پاکستان کی نعمتیںجن سے ہم سب سرفراز ہو ر ، اس آزاد وطن نے ہمیں اتنا کچھ عطا کیاجس کا جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کمورنہ ایک محکوم زندگی کا تصور بھی محال ۔ اس خبرکوبھی پڑھیں: کلبھوشن کو پھانسی ن ہو گی مجھے اپنے پاکستان سے کوئی گلہ ن مجھے میرے وطن نے اتنی عزت دی جس کا شائد میں حق دار بھی ن لیکن یہ سب ایک آزاد ملک کی برکتیں اور نعمتیںجن کی برکت سے ہم آزادی سے اپنی زندگی گزار راور آخر میں اسی وطن کی مٹی میں آسودہ خاک ہو جانا ۔ اس خبرکوبھی پڑھیں: امر جلیل کو وکیل کرلیں میرا ضمیر مطمئنکہ میں نے اپنے ملک کے حق میں ڈٹ کر بات کی اور اس کے لیے کسی کو خاطر میں نہ لایا لیکن مجھے حیرت ہوتیان لوگوں پر جنھیں اس ملک نے میرے جیسوں سے بہت زیادہ نوازا لیکن وہ پھر بھی اس ملک سے شاکی نظر آتےان کو اس ملک نے اتنی عزت اور دولت دی کہ وہ نہ صرف ملک میں امیر ترین کہلائے بلکہ ان پاکستانیوں نے بیرون ملک بھی اپنی بے پناہ دولت سے کاروبار شروع کیے اور اگر حقیقت میں بات کی جائے تو اس اشرافیہ کا ہر فرد پاکستان کے ساتھ کسی غیر ملک کی شہریت بھی رکھتایعنی دوہری شہریت جس کی اسے کوئی ضرورت ن کہ وہ اس طبقے سے تعلق رکھتے جن کے دنیا کے کسی بھی ملک کے ویزے کا حصول ان کی بے پناہ دولت کی وجہ سے ناممکن ن البتہ یہ دوہری شہریت وہ کسی مشکل وقت کے لیے رکھتےتا کہ اگر کبھی ان کو پاکستان میں مشکلات کا سامنا ہو تو وہ اپنے دوسرے وطن روانہ ہو جائیں۔ اس خبرکوبھی پڑھیں: یہ وہ لوگ ایک درمیان کا زمانہ جنہوں نے اس ملک کے وسائل کا پہلے تو اپنے مفادات کے لیے بے دردی سے استعمال کیا اور پھر ان وسائل سے لوٹ مار کر کے بیرون ملک اپنی جائیدادیں بنا ڈالیں اور اب وہ اس ملک سے باغی ہونے کا اعلان کرتے ۔ اس خبرکوبھی پڑھیں: قائداعظم کا پاکستان! کتنی شرم کی باتکہ میاں نواز شریف جن کو اس ملک کے عوام نے اتنی عزت دی جس کا وہ تصور بھی ن کرسکتےاگر وہ جاتی عمرہ بھارت میں ہی رہ جاتے تو شائد ان کی زندگی بھی ایک بھارتی مسلمان سے زیادہ بہتر نہ ہوتی، اس میں کوئی شک ن کہ ان کے بزرگوں نے پاکستان آکر بہت محنت و مشقت کے بعد اپنا ایک نمایاں مقام بنایا ۔ اس پاکستان نے ان کو ایک علیحدہ شناخت دی وہ ایک بڑے کاروباری خاندان کے طور پرسامنے آئے ۔ کاروبار میں اتار چڑھاؤ کے باوجود وہ کامیاب ر اور اللہ تعالیٰ نے ان کوکامیابی عطا کی، وہ پاکستان میں بھی جاتی عمرہ کے نام سے ایک بستی بسانے میں کامیاب ہو۔ اس ملک کے عوام نے ان کو اقتدار کے اعلیٰ ایوانوں تک پہنچایا وہ اس ملک کے مالک و مختار بنا دئے ، ان کے ایک اشارے سے اس ملک کی تقدیر کے فیصلے ہوتے ر انھوں نے اس ملک میں اقتدار اعلیٰ کے خوب مزے لیے اوراب میاں نواز شریف جب یہ کہتےکہ وہ پاکستان کے ستر سالہ نظام سے باغی ہونے کا اعلان کرتےتو دراصل وہ نظام سے ن اس پاکستان سے باغی ہونے کا اعلان کر ر حالانکہ وہ ایک طویل مدت تک وقفے وقفے سے اس ملک کے مختار کل ر جس میں ان کی دوتہائی اکثریت والی حکومتیں بھی شاملاس وقت ان کو یہ خیال کیوں نہ آیا کہ اس نظام کو بدل ڈالیں۔ اب جب کہ وہ ایک بار پھر الیکشن میں جا رتو ان کو ملک کے مسائل اور ظلم کا نظام یاد آگیااور وہ بھی تب آیاجب وہ اقتدار سے باہر کر دیے مجھے تعجب اس بات پرکہ جس ملک نے ان کو اتنا نوازا جس کے شائد وہ حق دار بھی ن ۔ وہ اس ملک کا اپنے ذمے حق ادا کرنے کے بجائے اس سے باغی ہونے کا اس خبرکوبھی پڑھیں: آٹھ سو سالہ سوگ کا عالمی ریکارڈ ہی اعلان کر ران کے اس بیان پر افسوس ہی کیا جا سکتا ورنہ میں جس میاں نواز شریف کو جانتا ہوں وہ اس ملک کا وفادار شخص تھا لیکن معلوم ن اب ان کے مشیر کونجو ان کو ان کے اپنے وطن سے ہی باغی ہونے کے مشورے دے ر ۔ اس خبرکوبھی پڑھیں: ’’حضرت مولانا ‘‘کے مزار پر یہ بات درست کہ ان کو وزیر اعظم کی کرسی سے الگ کر دیا گیا لیکن یہ بات بھی ان کو ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ اس ملک نے ان کو دنیا بھر میں ایک پہچان دیاور اس پہچان کی حفاظت کی ذمے داری ان کی اپنیان کو اپنے نادان مشیروں اور لکھی ہوئی تقریروں سے جان چھڑا کر اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے باغی کے بجائے پاکستان زندہ باد کانعرہ بلند کرنا ہوگا اسی میں ان کی عزتجو انھیں اس ملک نے دییعنی ایک مہاجر کو مقامی سے زیادہ رتبہ دے دیا ۔ اس خبرکوبھی پڑھیں: عاشقوں کے اس ہجوم میں

متعلقہ خبر یں

روزانہ خبریں اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔