جدید سیاست اور نیکی

نئے زمانے کے نئے اندازاوراپنی ضروریاتاور ان ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے حکومت کے معاملات چلائے جاتے ، آج کل حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج پھلتے پھولتے میڈیا کے ساتھ نبرد آزما ہوناتا کہ اپنی کار کردگی کو مثبت انداز میں اور اپنی مرضی کے مطابق عوام تک پہنچایا جا سکے۔ اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے موجودہ حکومت نے بھی اپنے آزمودہ کار صحافیوں کے ایک ج کو اپنے اس مشن میں شامل کیا تا کہ عوام تک اپنی بات کو آسانی سے پہنچایا جا سکے۔ اس وقت حکومت کی پروپیگنڈہ مشینری میں بڑے بڑے لوگ بیٹھےجن میں تعلقات عامہ کے ریٹائرڈ سرکاری افسروں کے علاوہ ایک بھاری بھرکم تعداد میں اخبار نویس بھی شاملجن میں سے کچھ تو براہ راست حکومت کے ساتھاور کچھ بلا واسطہ شریک کار۔ ان سب کا تجربہ بھی نام بھیاور ہنر بھی۔ ہم اخبار نویسوں نے پہلی بار کسی حکومت کی بھر پور مدد کیاور اپنے کئی مشہور قلمکار اس کے حوالے کر دیےاور جو کمی بیشی رہ گئی تھی وہ ہمارے پرانے دوست مشاہد حسین سید کی نواز لیگ میں شمولیت کے ساتھ پوری ہو گئی ۔ یہ میاں صاحب کے لیے نادر تحفہجو ان کو ہمیشہ اچھے مشوروں سے ہی نوازے گا ۔ اسی طرح کئی دوسرے حضرات بھی حکومت کی مشہوری کرتے رہتےمگر اس کے باوجود وہ رونق ن لگی جو سیاسی حکومت میں لگا کرتی ، ممکنوقت کے بدلتے تقاضوں کا اثر ہو یا اس کی وجہ حکمرانو ں کا اپنا مختلف انداز ہو جس کا صحافت سے کچھ زیادہ تعلق ن ، وہ صحافیوںکو بھی اپنی کسی ایک مل یا فاؤنڈری کی پیداوار ہی سمجھتے ، اس لیے ان سے گلے ہی کرتے نظر آتےاور کسی نہ کسی طرح یہ گلے صحافیوں تک پہنچتے بھی رہتےلیکن کوئی حرکت اور تحریک پیدا ن ہوتی۔ ہم نے دیکھاکہ ہماری گزشتہ فوجی حکومتیں بھی اچھی خاصی رونق لگا لیتی تھیں ۔ ایوب خان کے دور میں محترم الطاف گوہر اور قدرت اللہ شہاب صاحب ایسے لوگ چپکے ن بیٹھتے۔ صدر ضیاء الحق تو اپنی ذات میں ایک انجمناور تو اور یحیٰ خان بھی اپنی غیر نصابی سرگرمیوں کی وجہ سے جان محفل۔ بھٹو صاحب ایک ہنگامہ۔ بینظیر صاحبہ بھی حمایت یا مخالفت میں صحافیوں کو الجھائے رکھتی تھیں ۔ یہ چند روزہ عبوری حکومتیں بھی خاموش ن رہتیں مگر میاں صاحبان کی حکومت تو مردم بیزار صحافت بیزار حکومتجو روکھے پھیکے بزعم خود ماہرین کے گرد گھومتی رہتی اور یہ ماہرین قدم قدم پر کوئی نہ کوئی آفت کھڑی کرتے رہتے اورپھر جب شور مچتاتو کہہ دیتےکہ غلطی ہو گئی اور بس حالانکہ بعض غلطیاں ایسی بھی ہوتیجو قابل معافی ن ہوتیں جن میں سے ایک غلطی میاں صاحب سے پاناما کیس میں ہو گئی اور وہ عدالت چلےاور عدالت سے سیدھے گھر بھیج دیے۔ مولانا ابوالکلام کا ایک مداح کسی محفل میں ان کے شخصی اور عملی اوصاف بیان کر رہا تھا مجلس میں مولانا کے مخالفین بھی موجود ،کسی نے کہا کہ حضرت آپ مولاناکی تعریف میں تو بہت کچھ ک چلے جا ر، ان میں کچھ خرابیاں اور کوتاہیاں بھی تھیں، آپ ان کا ذکر ن کر ر جواب میں مولانا کے مداح نے کہا کہ میں پہلے مولانا کی خوبیوں کے ذکر سے فارغ ہو جاؤں تو پھر ان کی خرابیوں کا بھی ذکر کروں گا ۔ اسی طرح میاں صاحب کے صحافتی مداحین ابھی تک ان کی خوبیوں سے فارغ ن ہو پار کہ ان کو ان خرابیوں کا بھی بتا سکیں جن کی وجہ سے ساری پریشانی کھڑی ہو گئی ۔ میاں صاحب نے اپنے اقتدار کے مختلف ادوار میں کام تو بہت کیے لیکن وہ ان سے پوری طرح فائدہ نہ اٹھا سکے۔ سب سے بڑا کام ایٹم بم کا دھماکا تھا ، بے زمین کسانوںمیں زمینیں تقسیم کیں ، احتساب کا ایک منظم سلسلہ شروع کیا جو کہ گو سیف الرحمن صاحب کی وجہ سے متنارعہ ہو گیا لیکن اس احتسابی عمل کا نتیجہ یہ نکلا کہ میاں صاحب اس عمل کو اب نیب کی صورت میں بھگت ر ۔ موجودہ دور میں انھوں نے سڑکوںکی تعمیر کے سلسلے کو آگے بڑھایا، مختلف شہر وں میں میٹرو بسوں اور لاہور میں ایک روٹ پرٹرین کا آغاز ہونے کولیکن افسوس کہ وہ ان سے کوئی قابل ذکر سیاسی فائدہ نہ اُٹھا سکے بلکہ مالی سیکنڈلوں کی زد میں ہی ر ۔ سیاست میں نیکی دریا میں ن ڈالی جاتی ۔نیکی خواہ کم کی جائے لیکن اس کا پروپیگنڈہ بہت زیادہ کیا جاتا۔عوام کا حافظہ بہت کمزور ہوتااس لیے عوام کو بار بار یاد دلانا پڑتاکہ ان کے لیے حکومت نے کیا کیالیکن نواز لیگ کی حکومت اس سے بھی قاصر رہی حالانکہ ان سے کئی کام ایسے سرزرد ہوجن میں سے ایک دو پر بھی کوئی ہوشیار حکومت اپنی مدت آرام سے پوری کر سکتی تھی بلکہ آیندہ الیکشن کے لیے بھی مواد بہت تھا لیکن شاید ان کی پروپیگنڈہ مشینری میں وہ زور ن جو کہ ان کے مخالفین کے پاسجو کہ ان کے ہر کام کو متنارعہ قرار دے کر عوام میں اس کے متعلق شکوک و شبہات پیدا کر دیتے۔سیاسی مخالفین سے زیادہ آج کل کے زمانے میں بڑا  میڈیا ۔ حکومت مخالف بات کو عوام کو پسند کرتےاس لیے ان میڈیا چینلز کو عوام میں زیادہ مقبولیت یا پذیرائی حاصل ۔ حکومت کے حامیوں کی بات نقارخانے میں طوطی والی ہی رہ گئیجس کو کچھ زیادہ پسند ن کیا جاتا بلکہ ہمارے کئی دوستوں نے تو اس کے لیے اپنی عمر بھر کی صحافتی کمائی کو داؤ پر لگا دیا۔ ایک خاصی بڑی تعداد میں نیوز چینلز کے ساتھ حکومت کرنا واقعی دل گردے کا کاماور ان کی تنقید کو خندہ پیشانی سے برداشت کرنا بھی مشکلاسی گومگو کی صورتحال میں حکومت کی مدت تمام ہو گئی جیسے اس سے پہلے اسی طرح کے میڈیا کے ساتھ پیپلز پارٹی اپنی پانچ سالہ حکومتی مدت پوری کر کے فارغ ہو گئی تھی۔

متعلقہ خبر یں

روزانہ خبریں اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔