نئی زندگی کی تلاش

ملک میں پانی کی قلت کے متعلق منعقد ہونے والے سیمیناروں میں آبی ماہرین ہمیں وقتاً فوقتاً اس بات کی یاد دہانی کراتے رہتےکہ ملک میں پانی کی شدید قلت ہونے والیبلکہ اگر حقیقت میں دیکھا جائے تو یہ قلت ہو چکیجس کی وجہ سے ہماری زمینیں بنجر ہوتی جا رہی ۔ پاکستان کو دنیا کے ان ممالک میں شامل کیا جا رہاجو کہ پانی کی شدید قلت کا شکاراور آنے والوں چند سالوں میں یہ قلت ایک بدترین قحط میں بھی تبدیل ہونے جا رہی ۔ پاکستان کے آبی ذخائر اپنی میعاد پوری کر چکےاور ان کی مرمت اور ان میں سے مٹی نکال کر ان کو کچھ عرصے تک فعال رکھنے کی کوشش کی جا رہیلیکن حقیقت یہیکہ ہم نے پانی پر سیاست تو کی لیکن یہ ن سوچا کہ ہماری یہ سیاست ملکی مفاد کے لیے کتنی مفید یا زہر قاتل ثابت ہو رہیلیکن ہم نے اپنی ہٹ دھرمی کے باعث ملکی مفاد کو پس پشت ڈال دیا اور اپنی سیاست کو ترجیح دی جس کا خمیازہ قوم بھگتنے جا رہیاور اس وقت پانی کی سیاست کرنے والے ہمارے لیڈر حضرات کسی ٹھنڈے ملک میں آرام سے زندگی بسر کرر ہوں گے اور ان کے ووٹر پانی کی بوند بوند کو ترس ر ہوں گے۔ آبی ذخائر کی قلت کی وجہ سے صورتحال یہ بن گئیکہ ہمارے پاس جو بچا کھچا پانی رہ گیااس کو بھی محفوظ کرنے سے قاصر۔ یہ صورتحال کوئی راتوں رات پیدا ن ہوئی بلکہ اس کے لیے برسوں پہلے سے اس بات کے اشارے دیے جا رکہ وہ وقت قریبجب پاکستان پانی کی قلت والے ملکوں میں شامل ہو جائے گا لیکن ہم نے اس قدرتی وارننگ کو درخور اتنا نہ سمجھا اور ڈنگ ٹپاؤ پالیسی ہی جاری رکھی ۔ اگر کسی کو کبھی کبھار خیال آہی گیا تو اس نے اس سلسلے میں کوئی کمیٹی بنا دی لیکن اب جب کہ حقیقت میں پانی سر سے گزر چکاتو پھر بھی ہم آبی ذخائر کے بارے میں کوئی خاطر خواہ اقدامات کرنے سے گریزاں۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے پاکستان نے پانی ذخیرہ کرنے کے لیے کوئی ڈیم تعمیر ن کیا وہ تو بھلا ہو ایوب خان جو ہمیں ڈیم بنا کر دے گیا ورنہ اب تک ہم ایک بنجر ملک میں تبدیل ہو چکے ہوتے ۔ پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی ملکاور اس کے عوام کا انحصار مختلف قسم کی اجناس کی پیداوار پرہم نے دنیا کا سب سے بڑا نہری نظام تو بنا لیا لیکن ان نہروں میں پانی فراہم کرنے کے لیے مستقل بنیادوں پر کوئی کام ن کیا جس کے نتائج آنا شروع ہو چکے ، کسان اپنی فصلوں کو اپنے سامنے خشک ہوتا دیکھ ر۔ دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلیوںکے باعث پاکستان میں بھی بارشیں کم ہو رہیجس کی وجہ سے زیر زمین پانی بھی کم ہو چکااور بعض بارانی علاقوں کی صورتحال تو کچھ ایسی ہو گئیکہ زیر زمین پانی کی گہرائی کی کمی کے باعث پانی نکالنا ناممکن ہو چکااور عوام کو پینے کے پانی میں بھی مشکلات کا سامنا ۔ ہماری حکومت نے بارانی علاقوں میں منی ڈیم کا ایک سلسلہ شروع کیا تھا جو کہ بارشوں کی کمی کے باعث اپنی افادیت کھو چکااور بیشتر بارانی علاقوں میں ڈیم خشک ہو جس کی وجہ سے زمینیں دوبارہ سے بنجر ہو گئی ۔ آبی ماہرین کی ایک تازہ ترین رپورٹ کے مطابق پاکستان کو خطرناک حد تک پانی کی کمی کا سامنااور ہمارے دونوں بڑے ڈیموں منگلا اور تربیلا میں پانی کی سطح ڈیڈ لیول تک پہنچ گئیپاکستان دنیا کے ان پندرہ ممالک میں شامل ہو چکاجہاں آبی قلت شدت اختیار کرتی جارہیجب کہ پانی کے استعمال کرنے کے حوالے سے اس کا چوتھا نمبر ۔ بین الاقوامی معیار کے مطابق کسی ملک کو اپنی پانی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کم از کم ایک سو بیس دنوں کا پانی ذخیرہ رکھنا چاہیے جب کہ پاکستان کے پاس صرف تیس دنوں کا ذخیرہ رکھنے کی صلاحیت موجود ۔ پاکستان میں دستیاب آبی وسائل کا صرف سات فیصد پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش موجودجب کہ دنیا میں یہ معیار چالیس فیصد۔ ذخیرے کی کم گنجائش کے باعث پاکستان کو سالانہ تیس سے پینتیس ارب ڈالر کا نقصان ہو رہا ۔ اس بڑھتے ہوئے خطرے کا ادراک کسی کو ن ۔ جب بھی یہ مسئلہ سر اٹھاتاتو ہنگامی بنیادوں پر کام شروع کر دیا جاتالیکن پھر نامعلوم اس کو کیوں سرد خانے کی نذر کر دیا جاتاحالانکہ یہ بات سب جانتےکہ زندگی کا دوسرا نام پانی مگر اس کے بارے میں کوئی سنجیدہ کوشش ہی ن کی جا رہی۔ کیا ہم اس وقت کا انتظار کر رجب سب کچھ ختم ہو جائے گا اورہم اپنے سر کو پیٹیں گے، اپنی آنے والی نسلوں کوکس طرح کا پاکستان دے کر جا ر ۔ درحقیقت ہم نے نئے ڈیموں کے بارے میں بات چیت تو بہت کی لیکن ان کی بنیاد کی ایک اینٹ بھی نہ رکھی جاسکی ۔ میں پھر عرض کروں گا کہ پاکستان کے مستقبل کا انحصار صرف اور صرف کالا باغ ڈیم میںجس سے نہ صرف پاکستان سیراب ہوگا بلکہ سستی بجلی کی فراہمی بھی ممکن ہو جائے گی اور بجلی کا دیرینہ مسئلہ کسی حد تک حل ہو جائے گا لیکن ہم نے ابھی تک کالا باغ پر صرف سیاست ہی کیاس کی حمایت اور مخالفت میں بیان ہی داغےتاکہ ہمارے ووٹر مطمئن ر۔ ہمارے سیاستدانوں کا یہ محبوب مشغلہکہ وہ پہلے کسی منصوبے کو متنارعہ بنا کر پھر اس سے سیاسی فائدہ اٹھاتے ، کالا باغ اس کی بہترین مثالجسے ہمارے سیاستدانوں نے ایک ایسا تنارعہ بنا دیا جو کہ حل ہونے میں ہی ن آرہا حالانکہ سب جانتےکہ کالاباغ ڈیم میں ہی زندگی ، یہ ایک ایسا قدرتی ڈیمجس کی تعمیر کم سے کم وقت میں کی جا سکتیاور پاکستان کو بچایاجا سکتالیکن یہاں کسی کا ایجنڈا پاکستان بچانے کا ن بلکہ پاکستان کھانے کااور ابھی تک ہمارے ملک کے کرتا دھرتا اس میں کامیاب ۔ میں ایک بات بڑے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ جس حکمران نے بھی کالاباغ بنا دیا تو پاکستانی عوام اسے تا عمر بادشاہی کا تاج پہنا دیں گے۔

متعلقہ خبر یں

روزانہ خبریں اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔