نسل اور قوم پرستی کے جدید علمبردار

تعصب اور خصوصاً قوم پرستی کا تعصب ایک ایسا گھوڑاجو نفرت کے میدان میں سرپٹ بھاگتا ۔ اس پر بیٹھا ہوا سوار عموماً یہ سمجھ رہا ہوتاکہ یہ اس کے قابو میں ، لیکن یہ بدمست گھوڑاجو اپنے سوار کو ہی پاؤں تلے روندتا ہوا آگے بڑھ جاتا ۔ اس کی آنکھوں پر ان رہنماؤں نے ’’کھوپے‘‘ چڑھائے ہوتے ۔ آنکھوں پر کھوپے چڑھائے نسل پرستی کی دوڑ میں جتے ہوئے اس گھوڑے کو تعصب کی لوریاں دے کر پالا جاتااور اس کے کانوں میں نفرت کے آوازے مسلسل دیے جاتےتاکہ یہ کسی اور طرف نہ دیکھ سکے اور نہ کوئی اور بات سن پائے۔ پاکستان کی پہلی بدقسمتی یہکہ اس کا وجود دنیا بھر میں رنگ، نسل اور زبان کی نفی سے پیدا ہوا تھا۔ ہمارے ’’عظیم‘‘ دانشور یہ کہتےکہ یہ ملک پنجابی، بلوچ، سندھی، پختون اور بنگالیوں نے مل کر بنایا تھا۔ اس سے بڑا جھوٹ اور کیا ہوسکتا ۔ پنجابی نے اپنے پنجابی ہونے سے انکار کیا تھا، ورنہ اس کی نسل کے کروڑوں لوگ تو بھارت میں ہی رہ ، بلوچوں کی پاکستان جتنی آبادی ایران میں موجود تھی اور ، پختونوں کا تو پورا ملک افغانستان کی صورت موجود تھا۔ راجھستان کے علاقے میں سندھی آج بھی دریائے سندھ کی یاد میں نظمیں لکھتے ، بنگالیوں نے کلکتہ اور مغربی بنگال کے بنگالی بھائیوں کی جانب دیکھنا بھی گوارا نہ کیا۔ سچ تو یہکہ نسلی تعصب سے انکار ہی تھا کہ جب مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بنا تو مغربی بنگال کے ہندو بنگالیوں نے ’’ملیچھ‘‘ مسلمان بنگالیوں کو اپنے ساتھ شامل کرنا تک گوارا نہ کیا۔ تعصب اور خصوصاً قوم پرستی کا تعصب ایک ایسا گھوڑاجو نفرت کے میدان میں سرپٹ بھاگتا ۔ اس پر بیٹھا ہوا سوار عموماً یہ سمجھ رہا ہوتاکہ یہ اس کے قابو میں ، لیکن یہ بدمست گھوڑاجو اپنے سوار کو ہی پاؤں تلے روندتا ہوا آگے بڑھ جاتا ۔ اس کی آنکھوں پر ان رہنماؤں نے ’’کھوپے‘‘ چڑھائے ہوتے ۔ آنکھوں پر کھوپے چڑھائے نسل پرستی کی دوڑ میں جتے ہوئے اس گھوڑے کو تعصب کی لوریاں دے کر پالا جاتااور اس کے کانوں میں نفرت کے آوازے مسلسل دیے جاتےتاکہ یہ کسی اور طرف نہ دیکھ سکے اور نہ کوئی اور بات سن پائے۔ پاکستان کی پہلی بدقسمتی یہکہ اس کا وجود دنیا بھر میں رنگ، نسل اور زبان کی نفی سے پیدا ہوا تھا۔ ہمارے ’’عظیم‘‘ دانشور یہ کہتےکہ یہ ملک پنجابی، بلوچ، سندھی، پختون اور بنگالیوں نے مل کر بنایا تھا۔ اس سے بڑا جھوٹ اور کیا ہوسکتا ۔ پنجابی نے اپنے پنجابی ہونے سے انکار کیا تھا، ورنہ اس کی نسل کے کروڑوں لوگ تو بھارت میں ہی رہ ، بلوچوں کی پاکستان جتنی آبادی ایران میں موجود تھی اور ، پختونوں کا تو پورا ملک افغانستان کی صورت موجود تھا۔ راجھستان کے علاقے میں سندھی آج بھی دریائے سندھ کی یاد میں نظمیں لکھتے ، بنگالیوں نے کلکتہ اور مغربی بنگال کے بنگالی بھائیوں کی جانب دیکھنا بھی گوارا نہ کیا۔ سچ تو یہکہ نسلی تعصب سے انکار ہی تھا کہ جب مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بنا تو مغربی بنگال کے ہندو بنگالیوں نے ’’ملیچھ‘‘ مسلمان بنگالیوں کو اپنے ساتھ شامل کرنا تک گوارا نہ کیا۔ اس برصغیر میں اس وقت سب سے بڑی تفریق اور سب سے شدید نفرت مسلم بنگال اور ہندو بنگال کے درمیان ۔ کسی کو یقین ن تو بنگلہ دیش کی سرحد پر لگی خاردار تار پر لٹکی ہوئی ان بنگلہ دیشیوں کی لاشیں گن لے جو سرحد عبور کرکے اپنے ہم نسل اور ہم زبان بنگالیوں کے دیش جا کر رزق کمانا چاہتے ۔ ایک کروڑ بنگلہ دیشی مسلمان سرحد عبور کرکے بھارتاور کلکتہ کے بنگالیوں نے ہی انھیں ڈنڈے مار کر بھگادیا۔ آج یہ بیچارے بنگلہ بھاشا، بنگلہ میگھا اور بنگلہ تہذیب کے ڈسے ہوئے مسلمان بنگالی کیرالہ جیسی دور دراز ریاستوں میں چند ہزار کی نوکریاں کرتے ۔ البتہ بکنے والی بنگلہ دیشی مسلمان عورتوں کو کلکتہ میں رہنے دیا گیا‘ جن سے کلکتہ کا بازار حسن آباد ۔ ستر فیصد طوائفیں اس مشرقی پاکستان سے لاکر یہاں بیچی گئیں۔ اغوا کرنے والے بھی بنگالی اور خریدنے والے بھی بنگالی۔ اگر پنجابی، سندھی، پختون اور بلوچ قومیت اتنا جاندار نعرہ ہوتی تو 1947ء میں دس لاکھ پنجابی ایک دوسرے کا گلہ نہ کاٹتے، ایک دوسرے کی بیٹیوں کو اغوا نہ کرتے، انھیں ہوس کا نشانہ نہ بناتے۔ بلوچ ایران میں اپنے خطے بلوچستان میں اجنبی نہ ہوتے، روز سرحد عبور کرتے ہوئے گرفتار نہ ہوتے۔ اگر بلوچ قومیت اس قدر طاقتور نعرہ ہوتی تو ایران کے بلوچ اس قدر ذلت و رسوائی میں زندگی نہ گزارتے کہ نہ حکومت میں نہ پارلیمنٹ میں اور نہ ہی سرکاری نوکری میں، کوئی تو ان کو ایک مشترک قوم کے نام پر اکٹھا کرتا۔ پاکستان کے پختونوں کا جو حال افغانستان میں ہوتا ، اس کے قصے طورخم سے رباط تک زبان زد عام ۔ آپس کے تعصبات اور لڑائیوں کی ایسی خوفناک کہانیاںکہ الامان الاحفیظ۔ قبیلوں کے قبیلے اس کی نذر ہوچکے ، کوئی سلمان خیل اور مندوخیل کو ن سمجھاتا کہ تم پختون ہو، کیا ہوا کہ ایک افغانستان میں زیادہ تر آباداور دوسرا پاکستان میں۔ یہی حال ان سندھیوں کاجو اگرچہ ہندولیکن بھارت پناہ لینے ، اندور کے شہر میں ان کی کسمپرسی کی داستانیں سن لیں۔ ارجن داس بگٹی سے لے کر گردھاری لال بھاٹیہ کے خاندان تک سب سندھی بولنے والوں کے ہاتھ زخم خوردہ ۔ یہ تو ہندو ، مسلمان سندھیوں کے ساتھ کیا ہوتا ہوگا۔ پاکستان کی دوسری بدقسمتی یہکہ یہاں جس کسی نے اسلام کے علاوہ کسی دوسرے نظریے کی جدوجہد کی، جنگ لڑی وہ اسی تعصب، نسل پرستی اور قوم پرستی کے گھوڑے پر سوار ہوکر آیا۔ 1917ء میں روس میں کمیونسٹ بالشویک انقلاب آیا تو 17 ستمبر 1920ء میں سوویت یونین کی ریاست آذربائیجان کے شہر باکو میں ’’مشرقی قومیتوں کی کانگریس‘‘ Congress of the People of the East بلائی گئی۔ جس میں برصغیر پاک و ہند کی نسلی قومیتوں کے نمایندے شریک ہوئے۔ یہاں تک کہ بلوچ اور ہزاروں کا وفد بھی گیا جو بہت مختصر آبادی رکھتے ۔ کانگریس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ کمیونسٹ نظام کی جنگ قومی عصبیت کے گھوڑے پر سوار ہوکر لڑی جائے گی۔ اس کانگریس کے بعد 17 اکتوبر 1920ء کو سوویت یونین کے شہر تاشقند میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کی بنیاد رکھی گئی۔ پہلے برٹش انڈیا اور پھر پاکستان میں ایک تصور دیا گیا کہ کچھ قومیتیں ظالم اور کچھ مظلوم ۔ 1971ء تک مغربی پاکستانی ایک قومیت بناکر پیش کی گئی اور بنگالی مظلوم۔ جب بنگلہ دیش بن گیا تو پھر پنجابیوں کو ظالم اور باقی تین قومیتوں کو مظلوم بناکر پیش کیا گیا۔ اس زمانے کے تمام تعلیمی اداروں میں نسل پرست، قوم پرست اور کمیونسٹ انقلابی ایک پرچم تلے جمع ہوتے ۔ ان کا تعلیمی اداروں پر غلبہ تھا۔ چونکہ کمیونسٹ جمہوریت پر یقین ن رکھتےاور انقلاب کے قائل ۔ اس لیے سب سے پہلے انھوں نے اسلام اور مذہب کے نام پر آوازوں کو دبانے کے لیے تشدد کا آغاز کیا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب پاکستان کے تعلیمی اداروں میں داڑھی اور حجاب ایک ناپید چیز تھی۔ جدیدیت کی علامت کمیونسٹ لٹریچر تھا جو اس ملک میں کلاسک اوردیگر اداروں کے علاوہ چین اور روس کے سفارت خانے فراہم کرتے ۔ اس تحریک کے دو اہم ستون ۔ ایک الحاد، اسلامی شعائر کی توہین اور قوم پرستی۔ ایسے میں منبر و محراب اور مسجد و مدرسہ کو اس خطرے کا ادراک تک نہ تھا۔ یہ تمام علماء انھیں عمومی سیاسی پارٹی سمجھتے ہوئے اپنے کام میں مگن ۔ ایسے میں اس خطے کو سید ابو الاعلیٰ مودودی کی علمی رہنمائی نصیب ہوئی۔ اگر ان کا علمی کام نہ ہوتا تو کالجوں اور یونیورسٹیوں کے دروازوں پر الحاد، قوم پرستی اور کمیونزم کو روکنے والا کوئی نہ تھا۔ اس دور میں اسلامی جمعیت طلبہ کا وجود ایک ایسی نعمت تھی کہ ایک ن بلکہ تین نسلیں ان نعروں کی گونج کے سامنے کھڑی ہوگئیں۔ کمیونزم کا قبرستان۔ پاکستان پاکستان کا نعرہ اس قدر سچ ثابت ہوا کہ سوویت یونین کی موت اسی پاکستان کے ہاتھوں ہوئی۔ کمیونزم تو لینن کا مجسمہ گرتے ہی اپنی موت مرگیا۔ لیکن نسلی اور علاقائی منافرت کے سرپٹ گھوڑے کو سوار کی ضرورت تھی۔ ساٹھ اور ستر کی دہائی میں جس طرح اس گھوڑے پر کمیونسٹ نسل پرست سواروں نے این ایس ایف، ڈی ایس ایف اور پی ایس ایف کے نام پر جو غنڈہ گردی کی اس پر موجودہ دور کا الحاد زدہ میڈیا کچھ ن لکھتا، اس لیے کہ اس نسل پرستی کے گھوڑے پر اب سیکولرازم اور لبرل ازم کا سوار آکر بیٹھ جن کا مقصد بلوچ، پختون اور سندھی قوم پرستی بلکہ مہاجر اور سرائیکی قوم پرستی کے طوفان سے نکلتا ۔ جس قدر یہ طوفان برپا ہوگا اسی قدر اس مملکت خداداد پاکستان کا وجود خطرے میں پڑے گا۔ پاکستان سے نفرت ساٹھ سال کمیونسٹ اس لیے کرتے ر کہ یہ ان کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ تھا۔ اس کی اساس انھیں بہت زچ کرتی تھی۔ کیسے کیسے نعرے بلند کرتےکہ دیکھو مذہب کے نام پر مزدوروں اور کسانوں کو تقسیم کردیا گیاتاکہ یہ لوگ سرمایہ دار کے خلاف متحد نہ ہوسکیں اور اگر کوئی ان سے یہ سوال کرتا کہ بلوچ، پشتون، سندھی اور پنجابی کے نام پر تم لوگ جو تقسیم کرتے ہو، اس میں بلوچ سردار، پختون خان اور سندھی وڈیرہ بھی مظلوموں کی فہرست میں شامل ہو جاتے ‘ جب کہ کھیتوں، کارخانوں، بھٹوں، حجاموں، دھوبیوں، ترکھانوں کے ہاں کام کرنے والا مزدور اور کسان بھی ظالمکیونکہ وہ پنجابی ۔ اس کا ان کے پاس کوئی جواب نہ ہوتا، بس اتنا کہتے‘ جب انقلاب آجائے گا تو سب ٹھیک کردیں گے۔ ساٹھ اور ستر کی دہائی میں بھی اگر آپ میڈیا کے لوگوں کو گنیں تو ان میں کمیونسٹ، نسل پرست، انقلابی زیادہ نظر آئیں گے اور آج بھی سیکولر، لبرل، نسل پرست الحادی زیادہ نظر آئیں گے۔ اسی لیے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ساٹھ اور ستر کی دہائی میں ہونے والی بدمعاشی، غنڈہ گردی کی تاریخ کوئی بیان ن کرتا اور 1986ء کے بعد کراچی میں مہاجر اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن، 1977ء کے بعد سندھ میں پی ایس ایف اور سندھی اسٹوڈنٹس فیڈریشن، 1973ء کے بعد بلوچستان اور خیبرپختونخواہ میں قوم پرست طلبہ تنظیموں کے تشدد کی داستانیں کوئی رقم ن کرتا۔ اسلامی جمعیت طلبہ کے ہاتھ میں ڈنڈا کتنے ڈنڈے کھانے کے بعد آیا، اس کی تاریخ جاننا بہت ضروری ۔ (جاری )

متعلقہ خبر یں

روزانہ خبریں اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Leave a Reply