تاریخ کا سفر

عبدالقادر حسن
عبدالقادر حسن

وقت کی ایک رفتا ر ہوتیجو کسی کے اشارے اور کسی کی مرضی کی پابند ن ہوتی۔ ہر لمحہ اس کا اپنا اور زر خرید ہوتاجو چیزیں بکا کرتیان میں ایک وقت بھیجو کسی بھی مارکیٹ میں بکتااور جس کے خریدو و فروخت سر بازار ہوتیاور کسی بھی و قت وہ بازار کی عام جنس بن جاتا اور کسی وقت وہ کسی قیمت پر بھی دستیاب ن ہوتا لیکن یہ وقت ہیجس کی قیمت ہر وقت برقرار رہتیاور جس مارکیٹ میں وہ بکتا وہ دن رات کھلی رہتیاور ضرورت مند اس کی اور اس میں سودا گری کرتے رہتے۔

آپ اس وقت جس کالم کی یہ سطریں پڑھ روہ بھی بکا ہوا اور اس کا ایک ایک لفظ خریدا گیا۔زندگی میں کتنے ہی ایسے سوداگر مل جاتےجن کا کاروبار ہی وقت کی سودا گری ، وہ وقت اور اس کے موزوں خریدار کی تلاش میں رہتےاور جب یہ دونوں مل جاتےتو ایک تحریر وجود میں آتیجس کا خام مال یہی وقت اور اس کا کوئی قدر دان ہوتا ۔

وقت کی خریدو فروخت اس مارکیٹ کا مال ومتاع اور کاروبار کا سامان اپنے وقت پر یہ مارکیٹ چلتیاور یہاں تحریریں تخلیق ہوتی جو نوع انسانی کے قدم آگے بڑھاتیاور انسانی زندگی کو نئے نئے منظر دکھاتی اور مد ہوش کرتی رہتی۔

انسانی فکر کا قافلہ ایسے ہی راستوں سے گزرتااور یہ قافلہ سالاروں پر منحصرکہ وہ ان راتوں پر اپنی کیا نشانی چھوڑ جاتے جو دوسرے قافلہ سالاروں کے لیے رہنما بن جاتیاور انسانی سفر کے کتنے ہی قافلے ان منزلوں سے گزر کر انسانی زندگی کا کوئی مرحلہ طے کرتے ۔ یہ وہ قافلےجو انسانی تاریخ میں انسانی قافلوں کے رہنما بن جاتےاور یوں انسانی تاریخ کا سفر چلتا رہتارکتا ن ۔

حساس انسانوں نے اپنی نسلوں کی اس تاریخ کو اپنی تحریروں میں جمع کر لیااوریوں آنے والی نسلوں کی رہنمائی کا ایک ایسا سلسلہ ترتیب دے دیاجو انسانوں کی تاریخ بناتا ، تاریخ کے اوراق کو مرتب کرتااور آنے والی نسلوں کے لیے تحفہ اور امانت بناکر چھوڑ جاتاجس کی رہنمائی میں انسانی تاریخ کے قافلے رواں رہتے اور ساتھی ہی نئی تاریخ بھی بناتے جاتے ۔ اس انسانی کوشش کا نام تاریخجس سے انسانی علوم و فنون کے کتب خانے اور لائبریریاں بھری ہوئیاور ان میں مسلسل اضافہ بھی ہوتا رہتا ۔ یہی اضافہ انسانی تاریخ کا وہ سفرجو آج کے انسانوں کو ان کے کل کا پتہ دیتا۔

آج اور گزشتہ کل کے سفر کی یہ کہانی ہی ہماری کہا نی۔ میرا بچہ جو نئی یونیفارم میں آراستہ ہو کر اپنی تعلیمی درسگاہ میں جا رہا تھا جب مجھے ملنے آیا تو میں اس کو نظر بھر کر دیکھ نہ سکا اور وہ میرے اس رویے سے قدرے پریشان ہو کر مدرسے جانے کے لیے اپنی گاڑی میں بیٹھ ،اس میں اپنی گاڑی میں بیٹھتے ہوئے مجھے مڑ کر دیکھنے کی ہمت نہ ہوئی کہ نہ جانے میں اسے کس حال میں دکھائی دوں چنانچہ وہ اپنے روز مرہ کے تعلیمی سفر پر روانہ ہو گیا البتہ جاتے ہوئے گاڑی کے دروازے پر مجھے یہ کہہ گیا کہ میرا آج امتحان ، دعا کیجیئے گا ۔ مسلمان کا بیٹا دعائوں پر یقین رکھتا ، شایداس لیے کہ وہ نہ جانے کتنی دعائوں کے بعد پیدا ہوا تھا۔

دعا اور دوا ہم مسلمانوں کے وہ دو ہتھیارجو ہر وقت تنے رہتے اور ہماری زندگی کے بہترین لمحے ان ہتھیاروں کے تحفظ میں گزرتے۔ یہ ہتھیار ایک خدائی تحفہجو ہماری زندگی کے اسلحہ کو تابناک رکھتےاور اسے کند ن ہونے دیتے۔

یہ بھی ہم مسلمانوں کے لیے ایک خدائی تحفہجن پر ہم بھروسہ کرتےاور ہمارا یہ بھروسہ ہمیںکبھی دھوکا ن دیتا کیونکہ اس میں ایک ایسی طاقت چھپی ہوتیجو قدرت کا ایک عطیہ ہوتیاور یہ طاقت اس بھروسے کو زندہ رکھتی۔یہ بھروسہ اﷲ پر ایمان کی طاقتجو اگر کسی مسلمان کو عطا ہو جائے تو پھر وہ اس دنیا کی فرمانروائی کرتایعنی دنیا کے خوف و ہراس سے محفوظ ہو جاتا ۔ اس دنیا کے پاس کسی انسان کو ڈرانے کے لیے خوف کا جو ہتھیار ہوتاوہ کند ہو جاتااور انسان بے خوف ہو کر زندگی کے میدان میں سرگرم رہتا ۔

اﷲ تعالیٰ نے ہاتھ پیر ہر انسان کو ایک جیسے دیے ، انسان کے اندر اس کی قوت ارادی اور ایمانجو کسی انسان کو دوسروں سے ممتاز کرتااور اسے ایک امتیازی قوت عطا کرتا ۔ اس قوت کا تحفظ انسان کے اندر موجود اس کی نیکی کرتیاور شکست ایسے انسان سے کنارہ کش ہی رہتی۔مسلمان جسے قوت ارادی اور ایمان کہتے اس میں شکست ناور ہر پسپائی اس سے دور رہتیاور اس قوت ارادی سے خوفزدہ بھی جو یہ انسان کے اندر پیدا کر دیتیجس کی طاقت خود بخود بڑھتی رہتی۔

یہ ایک مسلمان کے ایمان کا حصہ ہوتیاور ایمان کی طرح بڑھتی رہتی ، اس میں اضافہ ایک مسلمان کے ایمان کی نشانی اور علامت بن کر زندہ رہتا ۔ مسلمان اسی علامت کا نامجب تک یہ علامت باقی ر گی ایک مسلمان زندہ ر گا اور ایمان کی طاقت سے لطف اندوز ر گا۔ اس کے ساتھ ہی اس کے اندر ایک ایسی طاقت پیدا ہو تی رہتی جو اس کے ولولوں اور ایمانی قوتوں کو نہ صرف پیدا کرتیبلکہ ان کی نشو نما بھی کرتی رہتیتا کہ وہ زندہ و پایندہ ر۔