حکومت جو ہماری اپنی ہے

یہ بات درست ہے کہ ملک میں اس وقت پریشان حالی اور ہنگامی صورتحال
ہے، سیاسی میدان میں حکومت اپنی معینہ مدت پوری کرنے جا رہی ہے،
نواز شریف کو نااہل قرار دیا جا چکا ہے ان کی سیاسی قسمت کا فیصلہ
عنقریب ہونے کی توقع ہے۔


میاں شہباز شریف نواز لیگ کے صدر بن چکے ہیں اور وفاق کا بیانیہ
پیش کرنے میں مسلسل مصروف ہیں ۔ فوج اپنے محاذ پر مصروف ہے اور
سعودی عرب فوج بھجوانے کا فیصلہ کیا جا چکا ہے جس کی باضابطہ
اطلاع فوجی ترجمان قوم کو دے چکے ہیں۔ ملک میں عام انتخابات کے
لیے صف بندیاں کی جارہی ہیں۔


احتساب عدالتوں میں افسر شاہی اور سیاستدانوں کی پیشیاں جاری
ہیں،اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان اپنے کام میں مصروف ہیں اور چیف
جسٹس پاکستان جناب جسٹس ثاقب نثار عوامی نوعیت کے مختلف مسائل کے
بارے میں از خود نوٹس لے چکے ہیں اور ان کا موڈ یہ بتا رہا ہے کہ
وہ عوامی مسائل کے حل کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں، وہ
جنون کی حد تک عوامی مسائل کے حل کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں
صرف کرنے کو تیار ہیں اور کر بھی رہے ہیں۔


عوام کے مسائل کے بارے میں ہمارے سیاستدانوں اور حکمرانوں کا یہ
خیال ہے کہ یہ ان کی ذمے داری ہے اور اس میں کسی دوسرے کی مداخلت
ان کو ناپسندیدہ اور ناخوشگوار گزرتی ہے اور آج کل بھی یہی کچھ
ہو رہا ہے، جب چیف جسٹس صاحب ملک کے مختلف علاقوں میں جا کر عوامی
نوعیت کے بنیادی مسائل جن میں صاف پانی کی فراہمی  کے علاوہ
صحت اور تعلیم کی بنیادی سہولتیں شامل ہے، چیف جسٹس صاحب کے ان
عوامی سہولتوں کے دورے ہمارے حکمرانوں کو بری طرح کھٹک رہے ہیں وہ
اس کو اپنی حکمرانی میں مداخلت سمجھ رہے ہیں۔ اگر ایمانداری سے
تجزیہ کیا جائے تو یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ اس صورتحال کی
نوبت کیوں پیش آئی۔


اس کی ایک ہی وجہ ہے کہ حکومت عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی
میں ناکام ہو چکی ہے کوئی ادارہ عوام کی بات سننے کو تیار نہیں اس
صورت میں ایک ہی ادارہ بچتا ہے جو عوام کی داد رسی کرتا ہے جس سے
کسی بھی زیادتی کی صورت میں عوام رجوع کرتے ہیں یعنی عدلیہ۔ اسی
صورتحال کے باعث ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے معزز جج صاحب نے یہ
اپنی ذمے داری سمجھی کہ عوام کی داد رسی کی جائے۔


حکومت کی جانب سے جج صاحب کے مختلف عوامی اداروں کے دوروں کو
حکومت کے کام میں مداخلت قرار دیا جا رہا ہے اور ایک ہیجانی اور
بحرانی کیفیت حکومت کے ایوانوں میں پیدا ہو گئی ہے ۔ جب حکومت
عوام کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہو جائے تو پھر کوئی تو ایسا ہو
جو عوام کی بات سنے ۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ جب ایوب خان نے آئین
توڑا تو سرکاری دفتروں میں بھی ضابطے ٹوٹنے لگے۔


ان دنوں ایک افسر سے ملاقات کے دوران میں نے ان سے پوچھا کہ
سرکاری قانون قاعدوں کو تو کسی حال میں بھی توڑنے کا تصور نہ تھا
یہ کیا ہوا کہ اب کوئی بھی افسر اپنی پسند کا فیصلہ کر دیتا ہے
اور اس سے متعلقہ قاعدوں کی پروا نہیں کرتا۔ انگریز تو ان ہی
ضابطوں اور قاعدوںکے زور پر ڈیڑھ سو برس حکومت کرتا رہا تو اس
افسر کا جواب مجھے آج تک یاد ہے کہ جب کسی ملک کے سب سے بڑے
ضابطے کا احترام نہ کیا جائے اسے ہدف تنقید بنایا جائے تو چھوٹے
موٹے دفتری ضابطوں کی پروا کون کرتا ہے۔


ہماری قومی تاریخ المیوں سے بھری پڑی ہے جو کسی نہ کسی صورت میں
اپنے آپ کو دہراتے رہتے ہیں جیسا کہ آج کل عدلیہ کو کھل کر ہدف
تنقید بنایا جا رہا ہے اور معزز ججوں کا فیصلہ ماننے سے انکار کیا
جا رہا ہے جذبات اور ذاتی مفادات میں مغلوب چھوٹے ذہن اور نہایت
ہی محدودسمجھ والے لوگ کوئی ایسی بڑی حرکت کر جاتے ہیں کہ قوم عمر
بھر اس کا خمیازہ بھگتتی رہتی ہے۔


لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی اسی کو کہتے ہیں ۔ مشرقی
پاکستان میں ہم نے یہی کیا ملکی سرحدوں کے احترام کی توہین کی
سزاہم صدیوں تک پاتے رہیں گے، جس طرح ایک جھوٹ سے کئی جھوٹ نکلتے
ہیں اسی طرح کسی ایک خطا سے کئی خطاؤں کا راستہ بھی نکلتا ہے۔


دانشمندی کی بات یہی ہے کہ ملکی اداروں کے احترام کو ذاتی مفادات
سے بالاتر رکھا جائے اور ان کا احترام ہم سب پر واجب ہے۔ جب آپ
ذاتی مفادات کو مقدم رکھتے ہیں توملکی مفادات کہیں پیچھے چلا جاتا
ہے اور اس کا نقصان ملک کے ساتھ پوری قوم کو برداشت کرنا پڑتا ہے
لیکن بدقسمتی سے آج کل قوم کے لیڈر دانشمندی اور ہوش مندی سے
زیادہ جذبات سے کام لے رہے ہیں جس میں وہ اس حد تک آگے چلے گئے
ہیں کہ خدا نخواستہ ملک کا استحکام بھی خطرے میں ڈال رہے ہیں۔


اس ساری صورتحال میں اگر کوئی پس رہا ہے تو وہ اس ملک کے بے بس
عوام ہیں جو ان لیڈروں کے رحم و کرم پر ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو
میرے آپ کے جیسے ایک عام آدمی کا سہارا سوائے عدالت کے اور کون
سا ہے۔حکومت یعنی انتظامیہ کی کسی زیادتی یاکسی غیر سرکاری طاقت
ور کے خلاف ہم عدالت سے ہی رجوع کرتے ہیں اور اس امید اور یقین کے
ساتھ کہ کسی مدعی اور سائل کو وہاں سے انصاف ملے گا لیکن جب
صورتحال یہ ہو کہ عدالت سے تو انصاف مل جائے مگر انتظامیہ عدالت
کے احکامات پر عمل کرنے میں متامل ہو تو کوئی کہاں جائے ۔


عدالت کے پاس اپنا حکم اور فیصلہ نافذ کرنے کا کوئی طریقہ نہیں
ہوتا عدل و انصاف انتظامیہ کے رحم و کرم پر ہے، خدارا اسے بے
توقیر نہ کریں ملک پر رحم کریں ورنہ ان لمحوں کی خطاؤں کو برسوں
بھگتنے کے لیے تیار رہیں مگر ہم ایسی کئی خطائیں کر چکے ہیں جن کی
سزا قوم بھگت رہی ہے۔


سوال یہ ہے کہ قوم کو ہم اپنی خطاؤں سے محفوظ کیوں نہیں کرتے ۔یہ
کوئی بیرونی راج ہے کہ سب کچھ ہمارے اختیار سے باہر ہو ۔ اب تو
حاکم بھی خود ہیں اور رعایا بھی خود۔ سب کچھ ہمارے اپنے اختیار
میں ہے اس لیے کسی پر عذر نہیں ڈال سکتے۔ ہم اپنے لیے ایک اچھی
حکومت کیوں نہیں بنا سکتے۔

متعلقہ خبر یں

روزانہ خبریں اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔