اشرافیہ کو سات خون معاف

عبدالقادر حسن
عبدالقادر حسن

سیاستدانوں نے جاتے جاتے ایک بار پھر عوام پر حملہ کر دیا ہے
اوراپنے لیے سرکاری خزانے کی لوٹ مار کو جائز قرار دے دیا ہے۔
پاکستان جس مقصد کے لیے حاصل کیا گیا تھا وہ مقصد تو کب کا دفن
کیا جا چکا ہے اور اس کو دفن کرنے میں ملک کے قیام کے ساتھ ہی
وجود میں آنے والی اشرافیہ نے اپناکردار ادا کیا ہے کیونکہ اس
عظیم مقصد کو دفن کیے بغیر ان کے مذموم مقاصد پایہ تکمیل تک نہیں
پہنچ سکتے تھے، جن میں اس ملک کی لوٹ مار کا پروگر ام سر فہرست ہے
اور یہ لوٹ بدستور جاری ہے، ہمارا ملک بھی خداداد نعمتوں سے مالا
مال ہے ورنہ جس بے دردی سے لوٹ مار کی گئی اس کو اب تک خدانخواستہ
ختم ہی ہو جانا چاہیے تھا۔ اس ملک کے قیام میں جس طرح ایمانداری
سے کام کیا گیا، اس کی ہی برکتیں ہم ابھی تک سمیٹ رہے ہیں ورنہ ہم
نے کوئی کسر نہیں چھوڑی کہ ملک کو لوٹ مار کر کے دیوالیہ کر دیا
جائے۔

بات شروع کی تھی کہ حکومت نے جاتے جاتے بھی اپنے جیسوں کے لیے ملک
میں ایک ایسی اسکیم متعارف کرا دی ہے کہ جس سے وہ سیاہ کو سفید کر
سکتے ہیں یعنی پہلے ملک میں لوٹ مار کرو، اس کے وسائل کو کھاؤ
عوام کو ان کے حق سے محروم رکھو اور پھر ان کا حق کھا جاؤ اور بعد
میں اس کھائے پیئے کو ہضم کر نے کے لیے ایسی اسکیم لے آؤ جس سے
لوٹ مار کر کے کمایا گیا کالا دھن سفید ہو جائے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ
لوٹ مار کا یہ عمل کوئی آج شروع نہیں ہوا اور نہ ہی اشرافیہ کے
لیے کسی نئی اسکیم کا اجراء کیا گیا ہے بلکہ لوٹ مار مسلسل جاری
ہے اور اس لوٹ مار کو قانونی بنانے کے لیے سیاستدان بوقت ضرورت
ایسی اسکیمیں جاری کر تے رہتے ہیں جس سے ملک سے لوٹا گیا مال و
دولت قانونی ہو جاتا ہے اور وہ دوبارہ سے نئی لوٹ مار کے لیے تیار
ہو جاتے ہیں کیونکہ ان کو معلوم ہوتا ہے کہ ان کو کوئی پکڑ نہیں
سکے گا اور وہ اربوں کے بدلے لاکھوں دے کر بری الزمہ ہو جائیں گے۔

ایمنسٹی اسکیم کا اعلان ہمارے جز وقتی وزیر اعظم نے خود کیا جس کی
بعد میں صدر مملکت نے بھی آرڈیننس کی صورت میں اس کی منظوری دے
دی۔ ہمارے صدر حکومت کی جانب سے بھجوائی گئی فائلوں پر دستخط کرنے
کے لیے ہی رہ گئے ہیں۔ شریف النفس صدر صاحب کبھی کبھار ایسی باتیں
بھی کہہ جاتے ہیں جو اشرافیہ طبقے کے لیے بڑی شرمندگی کا باعث
ہوتی ہیںمگر شرمندگی اس طبقے کے لیے چھوٹا لفظ ہے، ان کی لوٹ مار
کو کوئی بڑا نام دینا چاہیے لیکن کیا کیا جائے کہ سب نے اپنی اپنی
باریاں لگائی ہوئی ہیں، اپنی باری پر آتے ہیں اورمزید لوٹ کر چلے
جاتے ہیں اور پھر قانون کا سہارا لے لیتے ہیں۔

محدود مدت کے لیے جاری کیا گیا، یہ قانون اشرافیہ کے ان لوگوں کی
معاونت کرے گا جنہوں نے اس ملک کے وسائل کی لوٹ مار کر کے خاص طور
پر بیرون ملک جائیدادیں اور کاروبار شروع کر رکھے ہیں اب اس نئے
قانون کے بعد وہ کوڑیاں دے کر اپنے اربوں ڈالر قانونی بنا سکیں گے
یعنی اس ملک کے عوام کے منہ پر ایک اور طمانچہ رسید کیا گیا ہے کہ
ہمارا جو بگاڑنا ہے بگاڑ لو ہم اپنی سہولت کے لیے نئی سے نئی
قانون سازی کر لیتے ہیں۔
اسے بھی پڑھیں: 
ٹیکس بولے تو اٹیچ باتھ روم ؟

ہمارے اشرافی طبقے نے اس ملک کے لوگوں کا پہلے ا ستحصال کیا اور
بعد میں اس معاشی استحصال کو قانونی بنا کر عوام کا جس طرح مذاق
اڑایا ہے اس طرح کی مثال پاکستان جیسے ملک میں ہی مل سکتی ہے جہاں
پر مک مکا کر کے جان چھڑا لی جاتی ہے۔ اس نئی اسکیم سے صرف اور
صرف امیر طبقہ ہی استفادہ کرے گا کیونکہ عوام کی تو کوئی جائیداد
بیرون ملک ہو نہیں سکتی ان کو اپنے ملک میں روزی روزگار اور دو
وقت کی روٹی کے لالے پڑے ہوئے ہیں البتہ امراء طبقہ نہایت قلیل
شرح سے ڈالر وں میں ادائیگی کر کے کئی لاکھ ڈالر قانونی بنا لے
گا۔ یہ قانون گزشتہ دور حکومت میں بھی دو دفعہ لاگو کیا گیا یعنی
ایک دفعہ لاگو کر کے پہلے سے کمائے گئے کالے دھن کو سفید کیا گیا
اور بعد میں دوبارہ کالا دھن جمع کر کے اور جو کچھ کہیں کونوں
کھدروں میں پڑا رہ گیا تھا، اس کو بھی سفید کر نے کے لیے ایک بار
پھر اسکیم متعارف کرا دی گئی اور یوں سب کچھ قانونی قرار پایا۔

غریب طبقے کی دلجوئی کے لیے اس اسکیم میں وزیر اعظم پاکستان نے اس
بات کا بھی اعلان کیا کہ تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس میں کمی کر
دی گئی ہے اور ایک لاکھ روپے ماہانہ کمانے والے کو ٹیکس نہیں دینا
پڑے گا ۔
اسے بھی پڑھیں: 
خدا کے لیے

ملک میں ٹیکس اکٹھا کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ تنخواہ دار طبقہ ہے
جس کو ہر ماہ ٹیکس کٹوتی کر کے تنخواہ کی اداکی جاتی ہے ۔ ملک میں
روزگار کمانے والا ایک بڑا طبقہ وزیر اعظم کے اس اعلان سے مستفید
ہو گا ۔ یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ حکمران کویہ خوف خدا کس طرح
آگیا کہ وہ عوام کی آسانی کے لیے بھی اعلان کر بیٹھا ۔ دیکھا تو
یہ گیا ہے کہ حکمران اپنے لیے ہی آسانیاں پیدا کرتے ہیں اور عوام
ان کی ترجیح میں کہیں شامل نہیں ہوتے اب یہ شاید متوقع جنرل
الیکشن کا اثر ہے کہ عوام کے ایک طبقے کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے
لیے ان کو تنخواہوں میں ٹیکس کی مد میں ریلیف فراہم کیا گیا ہے۔
بہر حال جو کچھ بھی ہے ایک بات بڑے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ
اشرافیہ کو سات خون بھی معاف ہیں جب کہ عوام کو پانی چوری میں بھی
دھر لیا جاتا ہے ۔