اشرافیہ کو سات خون معاف

سیاستدانوں نے جاتے جاتے ایک بار پھر عوام پر حملہ کر دیا اوراپنے لیے سرکاری خزانے کی لوٹ مار کو جائز قرار دے دیا ۔ پاکستان جس مقصد کے لیے حاصل کیا گیا تھا وہ مقصد تو کب کا دفن کیا جا چکااور اس کو دفن کرنے میں ملک کے قیام کے ساتھ ہی وجود میں آنے والی اشرافیہ نے اپناکردار ادا کیاکیونکہ اس عظیم مقصد کو دفن کیے بغیر ان کے مذموم مقاصد پایہ تکمیل تک ن پہنچ سکتے ، جن میں اس ملک کی لوٹ مار کا پروگر ام سر فہرست اور یہ لوٹ بدستور جاری ، ہمارا ملک بھی خداداد نعمتوں سے مالا مالورنہ جس بے دردی سے لوٹ مار کی گئی اس کو اب تک خدانخواستہ ختم ہی ہو جانا چاہیے تھا۔ اس ملک کے قیام میں جس طرح ایمانداری سے کام کیا گیا، اس کی ہی برکتیں ہم ابھی تک سمیٹ رورنہ ہم نے کوئی کسر ن چھوڑی کہ ملک کو لوٹ مار کر کے دیوالیہ کر دیا جائے۔ بات شروع کی تھی کہ حکومت نے جاتے جاتے بھی اپنے جیسوں کے لیے ملک میں ایک ایسی اسکیم متعارف کرا دیکہ جس سے وہ سیاہ کو سفید کر سکتےیعنی پہلے ملک میں لوٹ مار کرو، اس کے وسائل کو کھاؤ عوام کو ان کے حق سے محروم رکھو اور پھر ان کا حق کھا جاؤ اور بعد میں اس کھائے پیئے کو ہضم کر نے کے لیے ایسی اسکیم لے آؤ جس سے لوٹ مار کر کے کمایا گیا کالا دھن سفید ہو جائے۔ بدقسمتی یہکہ لوٹ مار کا یہ عمل کوئی آج شروع ن ہوا اور نہ ہی اشرافیہ کے لیے کسی نئی اسکیم کا اجراء کیا گیابلکہ لوٹ مار مسلسل جاری اور اس لوٹ مار کو قانونی بنانے کے لیے سیاستدان بوقت ضرورت ایسی اسکیمیں جاری کر تے رہتےجس سے ملک سے لوٹا گیا مال و دولت قانونی ہو جاتااور وہ دوبارہ سے نئی لوٹ مار کے لیے تیار ہو جاتےکیونکہ ان کو معلوم ہوتاکہ ان کو کوئی پکڑ ن سکے گا اور وہ اربوں کے بدلے لاکھوں دے کر بری الزمہ ہو جائیں گے۔ ایمنسٹی اسکیم کا اعلان ہمارے جز وقتی وزیر اعظم نے خود کیا جس کی بعد میں صدر مملکت نے بھی آرڈیننس کی صورت میں اس کی منظوری دے دی۔ ہمارے صدر حکومت کی جانب سے بھجوائی گئی فائلوں پر دستخط کرنے کے لیے ہی رہ۔ شریف النفس صدر صاحب کبھی کبھار ایسی باتیں بھی کہہ جاتےجو اشرافیہ طبقے کے لیے بڑی شرمندگی کا باعث ہوتی مگر شرمندگی اس طبقے کے لیے چھوٹا لفظ ، ان کی لوٹ مار کو کوئی بڑا نام دینا چاہیے لیکن کیا کیا جائے کہ سب نے اپنی اپنی باریاں لگائی ہوئی ، اپنی باری پر آتےاورمزید لوٹ کر چلے جاتےاور پھر قانون کا سہارا لے لیتے ۔ محدود مدت کے لیے جاری کیا گیا، یہ قانون اشرافیہ کے ان لوگوں کی معاونت کرے گا جنہوں نے اس ملک کے وسائل کی لوٹ مار کر کے خاص طور پر بیرون ملک جائیدادیں اور کاروبار شروع کر رکھےاب اس نئے قانون کے بعد وہ کوڑیاں دے کر اپنے اربوں ڈالر قانونی بنا سکیں گے یعنی اس ملک کے عوام کے منہ پر ایک اور طمانچہ رسید کیا گیاکہ ہمارا جو بگاڑنابگاڑ لو ہم اپنی سہولت کے لیے نئی سے نئی قانون سازی کر لیتے ۔ اسے بھی پڑھیں:  ٹیکس بولے تو اٹیچ باتھ روم ؟ ہمارے اشرافی طبقے نے اس ملک کے لوگوں کا پہلے ا ستحصال کیا اور بعد میں اس معاشی استحصال کو قانونی بنا کر عوام کا جس طرح مذاق اڑایااس طرح کی مثال پاکستان جیسے ملک میں ہی مل سکتیجہاں پر مک مکا کر کے جان چھڑا لی جاتی ۔ اس نئی اسکیم سے صرف اور صرف امیر طبقہ ہی استفادہ کرے گا کیونکہ عوام کی تو کوئی جائیداد بیرون ملک ہو ن سکتی ان کو اپنے ملک میں روزی روزگار اور دو وقت کی روٹی کے لالے پڑے ہوئےالبتہ امراء طبقہ نہایت قلیل شرح سے ڈالر وں میں ادائیگی کر کے کئی لاکھ ڈالر قانونی بنا لے گا۔ یہ قانون گزشتہ دور حکومت میں بھی دو دفعہ لاگو کیا گیا یعنی ایک دفعہ لاگو کر کے پہلے سے کمائےکالے دھن کو سفید کیا گیا اور بعد میں دوبارہ کالا دھن جمع کر کے اور جو کچھ ک کونوں کھدروں میں پڑا رہ گیا تھا، اس کو بھی سفید کر نے کے لیے ایک بار پھر اسکیم متعارف کرا دی گئی اور یوں سب کچھ قانونی قرار پایا۔ غریب طبقے کی دلجوئی کے لیے اس اسکیم میں وزیر اعظم پاکستان نے اس بات کا بھی اعلان کیا کہ تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس میں کمی کر دی گئیاور ایک لاکھ روپے ماہانہ کمانے والے کو ٹیکس ن دینا پڑے گا ۔ اسے بھی پڑھیں:  خدا کے لیے ملک میں ٹیکس اکٹھا کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ تنخواہ دار طبقہ جس کو ہر ماہ ٹیکس کٹوتی کر کے تنخواہ کی اداکی جاتی۔ ملک میں روزگار کمانے والا ایک بڑا طبقہ وزیر اعظم کے اس اعلان سے مستفید ہو گا ۔ یہ معلوم ن ہو سکا کہ حکمران کویہ خوف خدا کس طرح آگیا کہ وہ عوام کی آسانی کے لیے بھی اعلان کر بیٹھا ۔ دیکھا تو یہ گیاکہ حکمران اپنے لیے ہی آسانیاں پیدا کرتےاور عوام ان کی ترجیح میں ک شامل ن ہوتے اب یہ شاید متوقع جنرل الیکشن کا اثرکہ عوام کے ایک طبقے کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے ان کو تنخواہوں میں ٹیکس کی مد میں ریلیف فراہم کیا گیا ۔ بہر حال جو کچھ بھیایک بات بڑے وثوق سے کہی جا سکتیکہ اشرافیہ کو سات خون بھی معافجب کہ عوام کو پانی چوری میں بھی دھر لیا جاتا۔

متعلقہ خبر یں

روزانہ خبریں اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔