لالہ رخ؛ اب اسے ڈھونڈ

دل دار اور دل گیر دوست بادلوں سے برستی ہوئی پھوار اور پھولوں سے
پھوٹتی ہوئی خوشبو کی طرح ہوتے ہیں۔ درد کا درماں ان سے ہوتا ہے
اور تنہائی کا عذاب ان سے کم ہوتا ہے۔ لاہور کی لالہ رخ ایک ایسی
ہی دل دار دوست تھی۔ ایک نادر مصور، پاکستان ایسے حبس زدہ اور
آمریت کی دیمک سے کھوکھلے ہوجانے والے سماج میں ایک سرگرم سیاسی
اور سماجی کار گزار۔ میری اس سے پہلی ملاقات 90 کی دہائی میں
ہوئی۔ ’سیمرغ‘ کی نیلم حسین نے ادب اور سیاست کی صورتحال کے بارے
میں ایک ورکشاپ رکھی تھی۔

اس میں لاہور، اسلام آباد اور ہندوستان کے کئی شہروں سے آئی
ہوئی ایکٹیوسٹ، ادیب اور شاعر شامل تھیں۔ مجھے کراچی سے بلایا گیا
تھا، لاہور والیوں سے میں پہلی مرتبہ روبرو ہوئی تھی۔ یہ ایک ایسی
محفل تھی جس نے مجھے روبینہ سہگل، نیلم حسین، ثمینہ رحمان اور
لالہ رخ سے دوستی کی دولت دی۔ ہندوستان سے آئی ہوئی پروفیسر اوما
چکرورتی، کم کم سنگاری اور دوسری کئی دانشور اور ادیب خواتین سے
مکالمہ ایک پُرمعنی تعلق کا سبب بنا۔ ایک ایسا تعلق جو پچیس،
ستائیس برس کی مدت پر پھیلا ہوا ہے۔

لالہ رخ ان سب میں ایک منفرد حیثیت رکھتی تھی۔ اس سے پہلی ملاقات
کے بعد ایسا بہت کم ہوا کہ میں لاہور جاؤں اور لالہ رخ یا روبینہ
سہگل کے سوا کسی اور کے گھر ٹھہروں۔ لالہ کا گھر اپنی ایک تاریخی
حیثیت رکھتا تھا۔ وہ حیات احمد خان کی بیٹی تھی جنہوں نے تقسیم کے
بعد 1960 میں آل پاکستان میوزک کانفرنس کی بنیاد رکھی۔ کم عمری
سے ہی لالہ نے اپنے والد کے ساتھ میوزک کانفرنس کی تقریبات کا
اہتمام کیا۔ ہندوستان اور پاکستان کی یہ میوزک کانفرنسیں لاہور کے
لارنس گارڈن میں ہوئیں۔ ان میں بڑے غلام علی خان، روشن آرا بیگم
سے لے کر مہدی حسن اور جانے دوسرے کتنے موسیقاروں اور فنکاروں نے
اپنی آواز اور اپنے ساز کا جادو جگایا۔

لاہور ایک تہذیبی اور سیاسی شہر ہے۔ اس کے خمیر میں بغاوت اور
تابعداری کی متضاد کیفیات گندھی ہوئی ہیں۔ لالہ نے بغاوت کو اپنا
شعار بنایا اور ابتدا سے شاعری اور موسیقی کی عظیم روایات سے اپنے
وجود کو جوڑ کر رکھا۔ لالہ میں برصغیر کی صوفی اور بھگتی روایات
کی آمیزش تھی۔ ہم اس کے گھر جائیں تو جوتے دہلیز پر اتار کر ہی
اندر داخل ہوسکتے تھے۔یہ وہی قدیم روایت ہے جو بدھ مت کی خانقاہوں
سے ہوتی ہوئی شانتی نکیتن تک آئی اور آج بھی فن و ادب کے دربار
میں ہم اپنی جوتیاں اتار کر ہی قدم رکھتے ہیں۔ لالہ اپنے گھر کو
کلا مندر سمجھتی تھی، اسی لیے وہی روایتیں اس نے اختیار کر رکھی
تھیں۔

وہ این سی اے کے فائن آرٹس ڈپارٹمنٹ کی روح رواں تھی۔ اس کی دعوت
پر نیشنل کالج آف آرٹس کے فائنل ایئر کے طالب علموں کو لگاتار
تین برس میں نے فنون لطیفہ اور شعر و ادب کے تال میل پر دو دو
گھنٹے کے لیکچر دیے۔ یہ تحریری تھے اس لیے محفوظ رہے اور میں
سمجھتی ہوں کہ لکھے ہوئے لیکچر پر یہ لالہ رخ کا اصرار تھا کہ لفظ
ہوا میں تحلیل نہیں ہوئے اور کاغذ پر محفوظ رہے۔

لالہ نے اپنی زندگی کا ایک بڑا وقت سیاسی تحریک کو دیا جس کے لیے
وہ بہت دنوں یاد رکھی جائے گی۔ اس نے مصور کی حیثیت سے پاکستان،
ہندوستان، بنگلہ دیش اور سری لنکا میں نام کمایا۔ اس کی تصویروں
کی نمائش رفعت علوی کے زیر اہتمام کراچی کے رنگون والا ہال میں
ہوئی، جہاں شہر کے اہم مصور اور سیاسی اعتبار سے فعال خواتین
موجود تھیں۔ مجھے اس وقت ان میں سے نجمہ صادق یاد آرہی ہیں۔

وہ بھی اب ہمارے درمیان موجود نہیں لیکن عورتوں کے اور بہ طور خاص
کھیت مزدور اور فیکٹریوں میں کام کرنے والی عورتوں کے حقوق کے لیے
نجمہ بہت متحرک اور مضطرب رہتی تھیں، اس شام لالہ رخ کی نمائش کی
عکس بندی کے لیے ٹیلی وژن کے جو چینل آئے ہوئے تھے، نجمہ صادق
بڑھ چڑھ کر لالہ کی نقاشی اور اس کے پوسٹرز کے بارے میں بتارہی
تھیں۔ لالہ کے کام کی نمائش شکاگو اور جنوبی امریکا کے کئی شہروں
میں ہوئی۔ اس وقت جب کہ وہ ہمارے درمیان موجود نہیں، اس وقت بھی
ایتھنز اور جرمنی میں اس کے فن پارے دیکھنے والوں سے داد لے رہے
ہیں۔

میں اگر یہ کہوں کہ لالہ رخ کی شخصیت دو حصوں میں بٹی ہوئی تھی تو
یہ کچھ ایسا غلط نہ ہوگا۔ ایک حصہ مصوری، خطاطی اور فوٹو گرافی کے
لیے تھا اور شخصیت کی دوسری جہت سیاسی جدوجہد کے لیے مخصوص تھی۔
1977 میں جنرل ضیا الحق نے جب بھٹو صاحب کی آئینی اور منتخب
حکومت کا تختہ الٹا تو سارے ملک میں ہی اس آمرانہ رویے کے خلاف
آواز بلند ہوئی، بہ طور خاص لاہور آمریت کے سامنے صف آرا
ہوگیا۔ جنرل ضیا الحق کا خیال تھا کہ وہ عورتوں کے خلاف جو کچھ
بھی کریں گے، عورتیں اسے خاموشی سے برداشت کرلیں گی۔

یہ جنرل ضیا کی کم فہمی تھی، انھیں اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ
اپنے سیاسی اور سماجی حقوق سے عورتیں کسی طور دستبردار نہیں ہوں
گی اور جم کر فوجی حکومت کے خلاف لڑائی لڑیں گی۔ اس کا آغاز ان
قوانین کے اطلاق سے ہوا جو اسلام اور شریعت کے نام پر سامنے آئے۔
ستم یہ ہوا کہ اس زمانے میں عورتوں کے خلاف چند مقدموں نے ملک کی
آبادی کو مشتعل کیا لیکن عورتیں ان میں پیش پیش تھیں، اس لیے کہ
اصل زد ان کے حقوق پر پڑ رہی تھی۔ یہ ان ہی دنوں کی بات ہے جب
نابینا صفیہ بی بی کے ساتھ باپ اور بیٹے نے زیادتی کی جس کے نتیجے
میں وہ امید سے ہوگئی۔

اس الم ناک ظلم کے خلاف، انصاف، اس طور کیا گیا کہ صفیہ بی بی کو
سنگسار کرنے کی سزا سنادی گئی۔ اس فیصلے پر پاکستان اور دنیا بھر
میں شدید احتجاج ہوا۔ یہی دن تھے جب ایک نوبیاہتا جوڑے فہمیدہ اور
اللہ بخش کے خلاف ان کے والدین نے پرچا کٹوایا کہ ان کی شادی نہیں
ہوئی ہے اور فہمیدہ کے بطن میں پرورش پانے والا بچہ ناجائز ہے۔
نئے قوانین کے تحت اللہ بخش کو سنگساری کے ذریعے سزائے موت اور
فہمیدہ کو 100 کوڑوں کی سزا سنائی گئی۔

اس فیصلے نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ کراچی، لاہور اور اسلام
آباد میں ہم خیال قانون داں، ادیب، صحافی اور مختلف پیشوں سے
وابستہ خواتین سر جوڑ کر بیٹھیں اور 1983 میں خواتین محاذ عمل
وجود میں آیا۔ 15 بنیادی اراکین میں سے ایک لالہ رخ بھی تھی۔ وہ
مصور تھی اور پرنٹنگ کے رموز و نکات سے بھی واقف تھی۔ اس نے
احتجاجی پوسٹرز تیار کرنے اور پھر انھیں چھاپنے کا بھی اہتمام
کیا۔ وجہ اس کی یہ تھی کہ خوف و ہراس کے اس زمانے میں پرنٹنگ پریس
سے وابستہ لوگوں نے ’ویف‘ کے احتجاجی پوسٹر چھاپنے سے انکار کردیا
تھا۔ اس زمانے میں لالہ رخ کے بنائے ہوئے 2 پوسٹر بہت مشہور ہوئے
جن میں سے ایک کے پس منظر میں جناح صاحب اور محترمہ فاطمہ جناح کا
سیاہ قلم عکس تھا جس پر ’ویف‘ کے مطالبات درج تھے۔

اسی زمانے میں لالہ رخ کے بارے میں ش فرخ نے لکھا:

’’سیمرغ‘‘ کی جانب سے ’’عورتوں کی عدالت‘‘ کے عنوان سے سیمینار
منعقد ہو رہا ہے۔ لالہ اپنے ویڈیو کیمرے سے افغان جنگ کے دوران
’’مجاہدین‘‘ کے ہاتھوں لٹنے والی عورتوں، سری لنکا کی خانہ جنگی
سے بے گھر ہونے والیوں، ملتان کے قریب گھریلو تشدد کا شکار ہونے
والی عورتوں، اپنی دکھ بھری داستان بتانے والی خواتین کی زخمی
روح، ان کے چہروں کی مظلومیت، ان کی جرأتِ اظہار، دوسری عورتوں
کے ساتھ اپنا دکھ باٹنے کا اقدام، انسانی حقوق کی دعوے دار عالمی
تنظیموں تک اپنی آواز پہنچانے کی کاوش، سب کچھ لالہ کے کیمرے میں
سمٹ آیا ہے۔

اس دور کے بارے میں لالہ نے کہا: ’’یہ میرا ذاتی معاملہ ہے۔ وہ
وقت ہی ایسا تھا، ہم پر حکم صادر کیے جارہے تھے۔ میرے نزدیک
’’اتھارٹی‘‘ ناقابل برداشت ہے۔ مارشل لا کی اتھارٹی ہم پر مسلط کی
جارہی تھی۔ انھی حالات نے ہماری تحریک کو جنم دیا۔ ہم سب لوگ
ناتجربہ کار تھے۔ لیکن جذبہ تھا۔ ہماری تحریک میں ہر ایسا شخص ،
جو ذی حس تھا، ذی شعور تھا، غیر جمہوری نظام کے خلاف تھا۔ وہ ٹریڈ
یونین کے لوگ تھے۔ طلبا، وکیل، صحافی، ادیب، مصور، مرد اور عورتیں
ہم سب کی جدوجہد ایک تھی۔ ہماری ایک سمت تھی۔‘‘

لالہ رخ کی یہ باتیں میرے اس بیان کی توثیق کرتی ہیں کہ وہ دو
حصوں میں بٹی ہوئی لیکن ایک ساتھ جڑی ہوئی ایسی فنکار تھی جس نے
آمریت کے دورِ سیاہ میں اپنے فن اور اپنی متحرک شخصیت کے وسیلے
سے پاکستانی عورت اور پاکستانی سماج میں انصاف رائج کرنے کے لیے
بھرپور جدوجہد کی۔ مسکراتی ہوئی وہ موہنی صورت تہ خاک آرام کرتی
ہے۔ اس جیسے دوست اور سر بہ کف لوگ کہاں سے آئیں گے۔ اب انھیں
ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے کر۔

Leave a Reply