میاں صاحب صاف فیصلے کریں

میاں نواز شریف کی عدالتی فیصلے سے نااہلی کے بعد جمہوری عمل مکمل کرتے ہوئے پارلیمان نے نیا وزیر اعظم منتخب کر لیا۔ شاہد خاقان عباسی نے وزیر اعظم منتخب ہوتے ہی حلف اٹھا کر کرسی سنبھال لی۔ نئے وزیر اعظم نے قومی اسمبلی میں بطور وزیر اعظم کم اور بطور مسلم لیگ نواز کے کارکن کے اپنی تقریر کی جس میں انھوں نے سابقہ وزیر اعظم نواز شریف کو ہی اصل وزیر اعظم قرار دیا۔ انھوں نے بین السطور عدلیہ کے فیصلے کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ہم نے تو فیصلہ قبول کر لیالیکن پاکستان کے عوام کے حقیقی وزیر اعظم اب بھی نواز شریفاور ایک عدالت اور بھی لگے گی۔

انھوں نے اپنی پارٹی اور پارٹی کے قائد سے وفاداری کا دم بھرا۔ انھوں نے واضح پیغام دیاکہ وہ حکومتی امور چلانے کے لیے سابق وزیر اعظم سے ہی رجوع کریں گے جس کا اظہار انھوں نے حلف اٹھانے کے اگلے ہی روز کر دیا جب وہ نواز شریف سے مشاورت کے لیے مری روانہ ہواور اس کے بعد بھی کابینہ کی تشکیل کی مشاورت کے لیے مری میں ہی موجود رجہاں پر نواز شریف اقتدار سے علیحدگی کے بعد قیام کر ر ۔

شاہد خاقان عباسی پہاڑی علاقہ کے رہنے والےچونکہ میں خود بھی ایک پہاڑی علاقے کا رہنے والا ہوں اور ہم پہاڑی علاقوں کے رہنے والے بڑے سخت جان اور جفا کش ہوتےیہ ایک قدر مجھ میں اور ہمارے موجودہ وزیر اعظم میں مشترکاسی نسبت سے میں یہ سمجھتا ہوں کہ وہ اپنے آبائی علاقے کی روایات کی پاسداری کرتے ہوئے اپنی سوچ اور سمجھ بوجھ سے ملک کے اس اعلیٰ ترین منصب کی ذمے داریاں نبھائیں گے لیکن انھوں نے تو اپنے پہلے ہی اظہار خیال میں میرے اندازوں کی نفی کر دی جو کہ میں ان کے بارے میں لگائے بیٹھا تھا۔

وزیر اعظم کا منصب اس ملک کا اعلیٰ ترین منصباور اس کے اپنے تقاضے اور ضابطےاور اس منصب کی ذمے داریاںجو کہ اس پر بیٹھنے والے کے ذمےلیکن ایک منتخب وزیر اعظم یہ کہہ رہا کہ اصل میں وزیر اعظم کوئی اور ۔ یہ بات درستکہ بطور ایک پارٹی کارکن شاہد خاقان عباسی صاحب کو یہ بھاری ذمے داری سونپی گئیاور ان کی پارٹی نے ان پر اعتماد کا اظہار کیالیکن وہ خود ابھی تک اپنے آپ کو وزیر اعظم ن سمجھ ر۔

تقریر کے دوران وہ اپوزیشن ارکان پر جملے بھی کستے ر‘ ہاں البتہ انھوں نے ایک خوشخبری قوم کو سنائیکہ نومبر تک بجلی کی لوڈ شیڈنگ ختم ہو جائے گی۔ اس سے پہلے ان کے پیشرو بھی اسی طرح کی خوشخبریوں کی نوید دے چکےلیکن ابھی تک معاملات جوں کے توں ہی ۔ بہرحال امید پر دنیا قائماور عوام اس امید میںکہ ان کے نئے وزیر اعظم کی بات سچ ثابت ہو گی اور ان کو اس مسلسل عذاب سے نجات مل جائے گی۔

نواز شریف کی تصویروں والے پوسٹر نواز لیگ کے ممبران رائے شماری کے بعد اپنے ہاتھوں میں لہراتے ہوئے جس طرح اسمبلی میں لائے یہ اس بات کی طرف واضح اشارہ تھا کہ وہ اب بھی نواز شریف کو ہی وزیر اعظم سمجھتےاور ان کو نااہل کیا جانا غلط ۔

یہ شرارت جان بوجھ کر کی گئی تا کہ اس تاثر کو تقویت دی جا سکے کہ عدلیہ کے فیصلے کو قبول ن کیا گیا‘ یہ ایک خطرناک رجحان ۔اس وقت نواز لیگ کی پارلیمانی پارٹی بھی اپنی جگہ موجوداور جو قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ نواز شریف کی نااہلی کے بعد ان کی پارٹی میں دراڑیں پڑنا شروع ہو جائیں گی ایسا معاملہ ابھی تک نظر ن آ رہا اور ان کے تمام اراکین اسمبلی یکجان ہو کر ان کا ساتھ دے ر ۔ اگرچہ چوہدری نثار نے بھی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ کا اعلان کیا تھا لیکن ابھی ان کی جانب سے بھی خاموشی ۔

شاید شہباز شریف نے ان کو راضی کر لیاان کی شکایات کا ازالہ کرنے کا یقین دلایااور یہ تو سب کو معلوم ہیکی سیاست میں کوئی بات حرف آخر ن ہوتی۔ یہی وہ طاقتجس کے بل بوتے پر نواز لیگ ٹکڑاؤ کی جانب جا رہیحالانکہ ان کو سیاسی انداز میں اپنے لیے موجودہ حالات میں سے ہی گنجائش نکالنی چاہیے اور یہ صورت باآسانی نکل سکتیبات صرف صبر اور انتظار کی ۔

ہمارے حکمران بے صبرے اور جذباتیاور دن نکلنے سے پہلے ہی وہ سب کچھ دوبارہ حاصل کر لینا چاہتے ۔ وہ یہ سمجھ ن پا ر کہ ان کو ابھی احتساب عدالت کا سامنا بھی کرناجس کی نگرانی سپریم کورٹ کے ایک معزز جج کر ر ، ایک طویل قانونی جنگ ان کی منتظر وہ اس قانونی جنگ کو پس پشت ڈال کر اداروں کو ملعون کرنا چاہتے جس سے ان کو حاصل وصول کچھ ن ہونا بلکہ معاملات مزید خرابی کی طرف ہی جائیں گے جس کے نتیجہ میں وہ اپنا اگلا انتخاب بھی مشکوک کر بیٹھیں گے۔

وزیر اعظم کے منصب کے اصل مالک نواز شریف ہی ر گے شاہد خاقان تو ان کی جگہ کام کرنے کو آئےیہ اظہار خیال گورنر سندھ محمد زبیر نے کیاجو کہ سندھ میں وفاق کی نمایندگی کر ریعنی کہ ہر لیگی رکن اس بات پر تُل گیاکہ وہ عدلیہ کے فیصلے کو ن مانیں گے۔ اس طرح کے بیانات سے فائدہ کے بجائے نقصان ہوتا اور نواز لیگ ابھی اس پوزیشن میں نکہ وہ مزید سیاسی نقصان برداشت کر سکیں۔ اس کا پہلا امتحان لاہور سے قومی اسمبلی کے حلقے کا انتخابنواز لیگ کو اس کی بھر پور تیاری کرنی چاہیے اور ان کے اپنے بقول جواب سیاسی میدان میں دینا چاہیے۔