70 برس میں ہمارے وزرائے اعظم کا مقدر(آخری حصہ)

آمریت کی قربان گاہ پر نثارکیے جانے والے وزرائے اعظم کی فہرست
پیش کی جا چکی۔ تازہ ترین قربانی 27 ویں وزیراعظم کی ہوئی جس کے
چار دن بعد 28 ویں پاکستانی وزیراعظم نے حلف اٹھا لیا۔ ابتدائی
طور پر یہی کہا اور سمجھا جا رہا تھا کہ شاہد خاقان عباسی چند
ہفتوں کے لیے وزارت عظمیٰ کی ذمے داریاں سنبھالیں گے، لیکن اب یہ
بات واضح ہوگئی ہے کہ وہ 2018ء تک اس عہدے پر رہیں گے۔

میاں نواز شریف کی فوری طور پر وزارت عظمیٰ سے بر طرفی ان کے لیے
اور ان کی جماعت کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا تھی لیکن یہ سیاسی
پختگی کی علامت ہے کہ مسلم لیگ ن نے یکجہتی کا ثبوت دیا اور
وزارتوں پر کسی نوعیت کی بدمزگی نہیں ہوئی۔ یہ بات ان حلقوں اور
اداروں کو بہت ناگوار گزری ہے جو قطعاً نہیں چاہتے کہ ملک میں
جمہوریت اور جمہوری ادارے پروان چڑھیں۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں طرح
طرح کے فتنے سر اٹھا رہے ہیں۔

اتنے ’دلچسپ‘ بیانیے سامنے آ رہے ہیں جنھیں پڑھ کر جی چاہتا ہے
کہ قیام پاکستان کی وجوہ پر پھر سے غور کیا جائے۔ سب سے شاہکار
بیان جنرل (ر) پرویز مشرف کا ہے جنھوں نے نواز شریف حکومت کی رخصت
کے بعد پاکستان واپسی پر کمر باندھی ہے۔ انھوں نے جمہوریت اور
آمریت کا جس طور پر موازنہ کیا ہے وہ ہماری تاریخ میں آبِ زر سے
لکھنے کے قابل ہے۔

ان کا فرمانا ہے کہ ’’ملک میں جب بھی مارشل لا لگائے گئے یہ اس
وقت کے حالات کا تقاضا تھا، پاکستان میں ڈکٹیٹر ملک کو پٹڑی پر
لاتا ہے اور سویلین آ کر پھر اسے پٹڑی سے اتار دیتے ہیں، عوام
اور ملک کو جاننا چاہیے کہ ڈیموکریسی ہو یا ڈکٹیٹر شپ ہو، کمیونزم
ہو یا سوشلزم ہو یا بادشاہت ہو، زیادہ فرق نہیں پڑتا، عوام کو
ترقی اور خوشحالی چاہیے، روزگار اور تحفظ چاہیے، ایشیا کے سارے
ممالک میں دیکھیں جہاں بھی ترقی ہوئی ہے صرف ڈکٹیٹروں کی وجہ سے
ہوئی ہے۔‘‘

اسی تناظر میں جے یو آئی ( ایف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کا
کہنا ہے ’’ملک پاناما کی نذر ہوگیا اور اب ایک نئی فضا بنائی
جارہی ہے کہ ڈکٹیٹر شپ جمہوریت سے بہتر ہے لیکن پاکستان کے پاس
غلطی کی کوئی گنجائش نہیں۔ کوئی ادارہ یہ نہ سوچے کہ طاقت کے
ذریعے دوسروں سے بات منوالے گا، اسلام آباد میں ایک تقریب سے
خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ آج ملک میں جو کچھ نظر آ رہا
ہے، وہ بظاہر اندرونی لگتا ہے لیکن بیرونی سازش کے تحت ہو رہا ہے،
پاکستان پاناما کی نذر ہوگیا جو امریکا کے زیر اثر ملک ہے جب کہ
ہم ایک دوسرے کو عریاں کرنے کے چکر میں ہیں اور ایک نئی فضا بنائی
جارہی ہے کہ ڈکٹیٹر شپ جمہوریت سے بہتر ہے۔

ہمیں سوچنا ہے کہ ملک کو کیسے بحران سے نکالیں کیونکہ غیر ملکی
طاقتوں کی نظر سی پیک پر بھی ہے اور چین ایک نئے اقتصادی وژن کے
ساتھ ہمارے یہاں متعارف ہو رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایک ہی
وزیراعظم کو پہلے صدر، پھر آرمی چیف اور اب عدلیہ نے گرایا ہے،
دو چار روز سے ماحول اخلاقی گراوٹ کا شکار ہوچکا ہے، عوام کے
منتخب نمائندے ایک دوسرے کو چور چور کہہ رہے ہیں، کوئی مالیاتی
کرپشن کی بات کررہا ہے اور کوئی اخلاقی کرپشن کی۔ یورپ اور امریکا
میں ایک ملک دوسرے ملک کو فتح کرنے کی جنگ نہیں لڑ رہا لیکن افسوس
اسلامی دنیا میں ہم ایک دوسرے کو فتح کرنے میں توانائی صرف کررہے
ہیں۔‘‘

دوسرے کئی ملکی اور غیر ملکی حلقوں میں یہ بات واضح الفاظ میں کہی
جا رہی ہے کہ پہلے کی طرح اب بھی پاکستان غیر ملکی سازشوں کے
شکنجے سے باہر نہیں آیا ہے۔ اس حوالے سے انٹرنیٹ پر موجود ایک
رپورٹ میں جو کچھ کہا گیا ہے، وہ ناقابلِ یقین لگتا ہے۔ یہ رپورٹ
سوشل میڈیا پر گردش کررہی ہے لیکن ہمارے یہاں کتنے لوگ ہیں جو
انٹرنیٹ، فیس بک یا دوسرے جدید ذرائع سے استفادہ کرسکتے ہیں۔ اسی
لیے اس رپورٹ کے کچھ حصے پڑھنے والوں کی اکثریت کے لیے پیش کیے
جارہے ہیں۔

اس رپورٹ کے مطابق ’’وکی لیکس نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا نے
پاکستان میں سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے اور اپنے مفادات کی راہ
میں حائل نواز حکومت کو ختم کرنے کے لیے ’’پاناما پیپرز‘‘ تیار
کروائے اور انھیں دنیا بھر میں پھیلانے کے لیے فنڈز مہیا کیے۔
امریکا دنیا بھر میں اپنا لبرل کردار تیزی کے ساتھ کھو رہا ہے، اب
اس کی حکمت عملی یہ ہے کہ وہ دنیا میں سیاسی عدم استحکام اور
معاشی بحران پیدا کرنے کے لیے ڈالر کی طاقت کو استعمال کرے۔

پاناما پیپرز تیار کرنے والی ریاست (پاناما) امریکا کی ایک
نوآبادی ہے جہاں سی آئی اے کا ایک بڑا آپریشن سینٹر اور امریکی
اڈے موجود ہیں، پاناما میں امریکی سی آئی اے کی مرضی کے بغیر
چڑیا پر نہیں مارسکتی۔پاناما امریکا کے لیے ڈرگ کے کاروبار کو
وسعت دینے کے لیے ایک اہم گزر گاہ ہے، امریکا ڈرگ کی آمدنی
لاطینی امریکا میں اپنی مخالف انقلابی حکومتوں کا تختہ الٹنے کے
لیے استعمال کرتا ہے۔

وکی لیکس کے مطابق امریکا کے ایک سرکاری ادارے اور ایک نجی تنظیم
نے فنڈ مہیا کیے ہیں۔ یہ تنظیم دنیا میں امریکی مفادات کے لیے کام
کرتی ہے۔ اس نے 1990ء کی دہائی میں جب مشرق بعید کے ممالک
ملائیشیا وغیرہ ایشین ٹائیگرز کہلاتے تھے، عالمی مالیاتی ادارے
آئی ایم ایف سے مل کر ملائیشیا میں کرنسی کا بحران پیدا کرکے
وہاں کی معیشت کو عملاً تباہ کردیا تھا، ملائیشیا کے صدر مہاتیر
محمد نے اس بحران کی تمام تر ذمے داری آئی ایم ایف اور اسی تنظیم
پر عائد کی تھی۔

بعض سیاسی مبصرین کا موقف ہے کہ پاکستان میں سیاسی عدم استحکام
پیدا کرنے کا بنیادی مقصد یہاں شام اور عراق کی طرح کے حالات پیدا
کرنا او ر دہشتگردی کی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے تاکہ دنیا کو یہ
باور کروایا جاسکے کہ کسی بھی وقت دہشتگرد پاکستان کے ایٹمی
ہتھیاروں پر قبضہ کر کے پوری دنیا کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں،
چنانچہ ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان کے جوہری ہتھیار عالمی
کنٹرول (امریکی کنٹرول) میں لے لیے جائیں۔

ان مبصرین کا خیال ہے کہ 2014ء میں بھی دھرنے کے دوران ملک پر
قبضے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی مگر بڑی اپوزیشن جماعتوں نے اس
سازش کو ناکام بنانے میں حکومت کا بھرپور ساتھ دیا تھا، جس کے بعد
یہ فیصلہ ہوا کہ پہلے حکمران خاندان کو سیاسی طور پر کمزور کرنے
کے لیے اس قدر بدنام کیا جائے تاکہ جب انھیں نکالا جائے تو انھیں
اپوزیشن جماعتوں سمیت عوام کی حمایت نہ مل سکے، اس مقصد کے لیے
پاناما پیپرز تیار کرکے ملک میں ایک ایسا بحران پیدا کردیا گیا ہے
کہ جس سے ملک عملاً انتشار کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ‘‘

نواز حکومت کے خلاف مبینہ سازش کے حوالے سے ایک عالمی نشریاتی
اشاعتی ادارے گارڈین لائیو نے اپنی 6 نومبر 2016ء کی رپورٹ میں
انکشاف کیا تھا کہ 2017ء کے وسط میں مسلم لیگ کی حکومت کو ختم
کردیا جائے گا۔ ان رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ ایک بڑا اسلامی ملک
بھی پڑوسی اسلامی ممالک کے خلاف فوج مہیا نہ کرنے پر نواز شریف سے
سخت نالاں ہے اور اس نے بھی امریکا سے مل کر نواز شریف کو سبق
سکھانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ ان مبصرین کا خیال ہے کہ نواز شریف کے
’جرائم‘ اس قدر بڑے ہیں کہ اسے کوئی بھی درگزرکرنے کے لیے تیار
نہیں ہے۔

مبصرین کے مطابق نواز شریف کا پہلا بڑا جرم یہ ہے کہ انھوں نے
پاکستان کو امریکی غلامی سے نکالنے کی راہ ہموار کی اور خطہ کے
ممالک کے ساتھ مل کر انھیں ایک دوسرے سے منسلک کرنے کے منصوبوں پر
کام کیا ہے۔ نواز شریف کا دوسرا بڑا جرم یہ ہے کہ انھوں نے بھارت
کے ساتھ مل کر چین کا گھیراؤ کرنے کے لیے امریکی مطالبے کو قبول
کرنے سے انکار کردیا ہے۔ اس رپورٹ کے مختلف حصوں کی تصدیق وزیر
ریلوے سعد رفیق اپنی کئی کانفرنسوں میں کر چکے ہیں۔

وزیر اعظم نواز شریف کی تقدیر کے فیصلے نے چند دنوں کے اندر ملک
میں ایک ہنگامہ برپا کردیا ہے۔ اسی تناظر میں سپریم کورٹ بار کی
سابق صدر اور انسانی حقوق کی رہنما عاصمہ جہانگیر کے کئی بیانات
سامنے آئے ہیں۔ ان میں سے تازہ بیان یہ ہے کہ ’’ہمیں کوئی ایسا
فیصلہ دکھایا جائے جس کو پڑھ کر یہ کہا جائے کہ ہمارے محترم افراد
نے کیا اعلیٰ فیصلہ کیا ہے، انھوں نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد
میں میٹ دی پریس میں کہا کہ ہم نے سوچا تھا کہ پاناما تحقیقات میں
ہیروں کی بوریاں نکلیں گی لیکن تحقیقات میں اقامہ نکلا‘‘ ۔

اس وقت سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا محترم ترین افراد نے اپنے فیصلے
کے نتائج کے بارے میں کچھ غور کیا جو مستقبل میں ملک پر مرتب ہوں
گے؟ جسٹس منیر نے کیا کچھ سوچا تھا جب انھوں نے نظر یہ ضرورت
ایجاد کیا تھا؟

Leave a Reply