زندہ کتابیں

جاوید چوہدری
جاوید چوہدری

ہم انسانوں کے پاس تین قسم کی لائبریریاں ہونی چاہئیں‘ کتابوں کی لائبریری‘ سیاحت کی لائبریری اور زندہ انسانوں کی لائبریری۔ میں سب سے پہلے کتابوں کی لائبریری کی طرف آتا ہوں‘ کتابیں ہمارا سرمایہ ہوتی ‘ آپ کتابوں کو دوست بنا لیں آپ کو کسی دنیاوی دوست کی ضرورت ن ر گی‘ میراذاتی تجربہدنیا کی کوئی کتاب فضول ن ہوتی‘ بری سے بری کتاب بھی آپ کو کچھ نہ کچھ ضرور دے کر جائے گی‘ یہ آپ کو کم از کم یہ ضرور بتا جائے گی بری کتابیں لکھی کیسے جاتی ۔

میں سمجھتا ہوں انسان اگر خوش حال اور صحت مند ہو تو پھر اسے اللہ اور کتاب کے علاوہ کسی چیز کی ضرورت ن‘ میں اپنا زیادہ تر وقت کتابوں اور اللہ کے ذکر میں گزارتا ہوں‘ میں جہاں بیٹھتا ہوں میرے دائیں بائیں کتابیں ہوتیاور یہ کتابیں میرے دن کو رات اور رات کو دن میں بدلتی رہتی ‘ کتابیں انسان کی پہلی لائبریری ہوتی ‘ دوسری لائبریری سیاحت ‘سیاحت جاننے‘ سمجھنے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کا بہت بڑا ذریعہ ‘ آپ زندگی میں کچھ نہ کریں آپ صرف سفر کرنا شروع کر دیں‘ آپ چند دنوں میں سمجھ دار‘ سیانے اور پڑھے لکھے ہو جائیں گے۔

اللہ تعالیٰ نے مجھے قطب جنوبی سے قطب شمالی تک اپنی زمین دیکھنے کا موقع دیا‘ میں چار چار دنوں میں دنیا دیکھتا چلا جا رہا ہوں‘ یہ اللہ کا خصوصی کرم ۔ میرے اکثر دوست پڑھ کر سفر کرتے ‘ یہ جہاں جا ریہ پہلے اس کے بارے میں تمام معلومات جمع کرتے اور پھر وہاں جاتے ‘ میرا طریقہ واردات ذرا مختلف ‘ میں پہلے وہاں جاتا ہوں اور پھر واپس آ کر اس کے بارے میں پڑھتا ہوں یوں وہ جگہ اور اس سے متعلق تمام چیزیں میرے حافظے کا حصہ بن جاتی ۔

میں اگر کسی مجبوری کی وجہ سے ملک سے باہر نہ جا سکوں تو میں پاکستان کے اندر کسی تاریخی مقام پر نکل جاتا ہوں‘ میں صدیوں کا جاہل ہوں‘ نالائق بھی ہوں اور کم عقل بھی‘ میں اگر سفر نہ کرتا یا پھر میری کتابوں سے دوستی نہ ہوتی تو شاید میں اب تک بے عقلی اور جہالت کی کسی چٹان کے نیچے آ چکا ہوتا‘ میں قصہ پارینہ بن چکا ہوتا چنانچہ یہ کتابیں اور سیاحتجس نے مجھے زندہ رکھا‘ جس نے مجھے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت دی اور آخری لائبریری زندہ انسان ‘ بندے کو تجربے بندے کا پتر بناتےاور بندے کا ہر پتر انسان ہوتا ‘ میں دلچسپ‘ فنکار‘ ہنر مند اور کامیاب لوگوں کی تلاش کی لت میں بھی مبتلا ہوں‘ میں سمجھتا ہوں دنیا میں صرف دو قسم کے لوگ ‘ دلچسپ اور بور۔ میں دلچسپ لوگوں کی تلاش میں سرگرداں رہتا ہوں۔

یہ دلچسپ لوگ بھی لائبریریاور میں نے عملی زندگی کے تمام سبق زندہ انسانوں کی اس لائبریری سے سیکھےمثلاً میرے ایک بزرگ دوست ہوتےشیخ عبدالحفیظ‘ میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا‘ اللہ تعالیٰ انھیں کروٹ کروٹ جنت دے‘ وہ کہا کرتے ‘ ہم جس ملک میں رہ ر ‘ اس میں کسی کے ساتھ کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا چنانچہ آپ ہر وقت ہر قسم کی بری خبر کے لیے تیار ر‘ میں روز لوگوں کے ساتھ کچھ نہ کچھ ہوتا دیکھتا ہوں اور مجھے شیخ صاحب یاد آ جاتے ۔

میرے ایک بزرگ دوست ہمیشہ دو کرسیاں چھوڑ کر بیٹھتے ‘ میں نے ان سے وجہ پوچھی‘ انھوں نے جواب دیا‘ آپ اگر کسی کے گھریا کسی کے دفتربیٹھےتو آپ شروع کی کرسیاں صاحب خانہ اور صاحب خانہ کے ذاتی مہمانوں کے لیے چھوڑ کر بیٹھیں‘ آپ اور میزبان دونوں خفت سے بچ جائیں گے اور آپ اگر کسی عوامی جگہ پر بیٹھےتو آپ کبھی پہلی قطار میں نہ بیٹھیں کیونکہ میں نے ہمیشہ پہلی قطار میں بیٹھے لوگوں کو اپنے سے زیادہ بااختیار لوگوں کے لیے جگہ خالی کرتے دیکھا اورپہلی قطار میں بیٹھا شخص جب اٹھتاتو پھر اسے آخری قطار یا پھر سیڑھیوں میں جگہ ملتی ۔

آپ اگر اس سلوک سے بچنا چاہتےتو آپ کوشش کریں آپ پہلی یا دوسری قطار میں نہ بیٹھیں‘ آپ تیسری چوتھی قطار میں بیٹھیں‘آپ اپنی کرسی پر قائم ر گے‘ میرے ایک بزرگ دوست زندگی میں ہمیشہ دوسرے نمبر پر ر‘ وہ انتہائی باصلاحیت شخصلیکن وہ پوری زندگی کسی محکمے کے سربراہ ن بنے‘ حکومت نے کئی بار کوشش کی لیکن وہ صاف انکار کر دیتے ‘ میں نے وجہ پوچھی‘ ان کا جواب تھا دنیا کے زیادہ تر لوگ پہلی پوزیشن کے لیے کوشش کرتے ۔

آپ اگر پہلی پوزیشن پر تو آپ کے لیے یہ پوزیشن زیادہ دیر تک سنبھالنا مشکل ہو جائے گا چنانچہ آپ ہمیشہ باس کی کرسی خالی چھوڑ دیں‘ آپ کی عزت اور انا دونوں بچ جائیں گی‘وہ کہا کرتےہمیشہ نمبر ٹو رہو‘ کارکردگی بری ہو گی تو زیادہ سے زیادہ تیسرے نمبر پر چلے جاؤ گے‘ کوشش کر کے دوبارہ نمبر ٹو ہو جاؤ گے لیکن اگر آپ پہلے نمبر پر چلےتو ذرا سی ہوا چلے گی اور آپ اڑ کر زیرو پر چلے جاؤ گے۔

وہ کہا کرتے ’’ میں نے پوری زندگی نمبر ون کو ذلیل ہوتے دیکھا‘ میری زندگی میں ایک بھی ایسی مثال ن جس میں نمبر ون عزت کے ساتھ گھر گیا ہو جب کہ میں نے اپنی زندگی کے تمام نمبر ٹو کو فیئرویل کے ساتھ رخصت ہوتے دیکھا‘ یہ ہمیشہ تالیوں کی گونج میں ریٹائر ہوئے‘‘ میرے ایک بزرگ دوست کہتے ‘ اللہ کے علاوہ کوئی کسی کو کچھ ن دے سکتا چنانچہ صرف اس اللہ کے سامنے ہاتھ پھیلاؤ جس کے سامنے بادشاہوں کی جھولیاں بھی پھیلی رہتی ‘ انسان تو گدا ‘ گدا گداؤں کو کیا دیں گے‘ وہ کہا کرتے ۔

آپ کے پاس آخر میں نیکی اور خاندان کے سوا کچھ ن بچتا چنانچہ نیکی کرنے اور خاندان کو ساتھ لے کر چلنے کا کوئی موقع ضائع نہ کریں‘ وہ کہا کرتے ‘ مشکل وقت دشمن پر بھی ہو تو اس کا ساتھ دو‘ تم کبھی خسارے میں ن رہو گے‘ وہ کہتےاللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم عاجز انسان کے گارنٹر ‘ عاجزی اختیار کرو تمہاری عزت محفوظ ر گی‘ وہ کہتے ‘ نہ لو‘ نہ دو پوری زندگی خوش حال رہو گے‘ میں نے وضاحت چاہی‘ فرمایا‘ میں نے آج تک کسی شخص کو قرض لے کر خوش حال اور کسی کوقرض دے کر خوش ن دیکھا چنانچہ کسی سے ادھار لو اور نہ کسی کو ادھار دو زندگی اچھی گزرے گی۔

میں نے پوچھا ’’لیکن اگر آپ کا کوئی دوست عزیز مالی مشکل کا شکار ہو تو پھر؟‘‘ فرمایا ’’آپ اپنی استطاعت کے مطابق فوراً اس کی مدد کردیں لیکن یہ مدد ادھار یا قرض ن ہونی چاہیے‘‘ میرے ایک بزرگ دوست کہا کرتے ‘ آپ کا جو دوست لوگوں میں بیٹھ کر آپ کی خامیاں بیان کرے یا آپ کو مشورے دے وہ شخص ہرگز ہرگز آپ کا دوست ن‘ وہ آپ کا حاسد ‘ آپ اس سے فوراً کنارہ کش ہو جائیں‘وہ کہا کرتے جو شخص وعدے اور وقت کا پابند نہ ہو آپ اس پر کبھی اعتبار نہ کریں‘ وہ شخص آپ کو کسی بڑی مصیبت میں پھنسا دے گا۔

وہ کہا کرتےوہ شخص جو اپنا اور اپنے اہل خانہ کا خیال ن رکھتا وہ کبھی کسی کا خیال ن رکھ سکتا‘ کیوں؟ کیونکہ جو شخص اپنا اور اپنوں کا ن ہو سکا وہ کسی کا کیا ہو گا؟ وہ کہا کرتے ‘ دنیا میں بے ایمان سے بڑا بے وقوف کوئی ن ہو تا‘ کیوں؟ کیونکہ وہ شخص یہ حقیقت ن جانتا عزت‘ رزق اور اقتدار اللہ کی امانت ‘ یہ جسے چا اور جب چا دے دے اور جس سے جب چا واپس لے لے چنانچہ اللہ کی امانت میں بے ایمانی‘ توبہ توبہ اس سے بڑی بے وقوفی کیا ہوگی؟

میرے ایک بزرگ دوست کہتےکھانا وہ جو آپ نے کھا لیا‘ کپڑا وہ جو آپ نے پہن لیا‘ خوشی وہ جو آپ نے محسوس کر لی اور بستر وہ جس پر آپ نے سو لیا باقی سب ہندسے اور بیلنس شیٹساور یہ ہندسے اور یہ بیلنس شیٹس آپ کے کسی کام ن آئیں گی‘ وہ کہا کرتے ‘ گھر خواہ چھوٹا ہو لیکن بستر نرم‘ کھانا گرم اور بیڈروم روشن‘ ہوادار اور موسم کے مطابق ہونا چاہیے‘ یہ گرمیوں میں ٹھنڈا اور سردیوں میں گرم ہونا چاہیے‘ وہ کہا کرتے ۔

کاروبار اور بچوں پر جتنی سرمایہ کاری کر سکتےکریں آپ کو کبھی گھاٹا ن پڑے گا‘ وہ کہا کرتے ‘ ہمسائے اچھےتو کٹیا میں بھی سکھ ملے گا اور اگر ہمسائے اچھے نتو پھر محل بھی بیچ کر چل پڑو‘ آپ کو اس میں خوشی اور سکھ ن مل سکتا اور وہ کہا کرتے ‘ وہ ملازمت کبھی نہ کرو جو دل‘ دماغ اور ضمیر پر بوجھ محسوس ہو‘ کیوں؟ کیونکہ وہ ملازمت کبھی نہ کبھی چلی جائے گی لیکن آپ زندگی بھر بیمار ر گے۔

یہ زندہ کتابیں میرا اصل اثاثہ ‘ یہ ہمیشہ میرے ساتھ رہتی ‘ میں نے ان سے سیکھا‘ عاجز رہو‘ معاون رہو‘ دوسروں کے کام آؤ‘ فیملی کے ساتھ رہو‘ وعدہ نہ توڑو‘ قانون نہ توڑو‘ وقت کی پابندی کرو‘ فطرت سے محبت کرو اور اللہ سے ڈرو‘ میں نے سیکھا اگر آسمان والا آپ کے ساتھتو پھر زمین والے آپ کا کچھ ن بگا ڑ سکتے‘ میں نے سیکھا‘ دنیا میں محنت سے بڑا کوئی استاد اور ہنر سے بڑی کوئی سفارش ن‘ میں نے سیکھا دنیا میں عاجزی سے بڑی کوئی طاقت اور برداشت سے بڑا کوئی ہتھیار ن‘ میں نے سیکھا دنیا میں وقت سے بڑی کوئی دوا ن اور میں نے سیکھا۔

انسان کے پاس پیسہ کم ن ہونا چاہیے لیکن زیادہ بالکل ن ہونا چاہیے‘کیوں؟ کیونکہ کم ہو گا تو عذاب ہو گا اور زیادہ ہو گا تو حساب ہو گا اور انسان عذاب سے تو بچ جاتالیکن حساب سے ن بچتا۔ میں روزانہ ایسی زندہ کتابوں میں رہتا ہوں‘ آپ بھی زندہ کتابیں تلاش کریں‘ آپ بھی اچھی اور سکھی زندگی گزاریں گے۔