اور ہم پاکستانی

وقت بدل رہا ہے یا گزر رہا ہے اس کا کچھ پتہ نہیں چل رہا، وقت کی
رفتار اتنی تیز ہو گئی ہے کہ صبح سے شام، شام سے فوراً رات اور
اگلا دن آجاتا ہے لیکن لگتا ایسے ہی ہے کہ جیسے وقت رکا ہوا ہے
کہ حالات ہر دن ویسے ہی ہوتے ہیں جو کہ پچھلے دن تھے اور جب اگلا
دن آجاتا ہے تو یہ حالات پھر بھی جوں کے توں ہی رہتے ہیں ،اس لیے
وقت کی رفتار ہی معین نہیں ہو پا رہی کہ ہم آگے جا رہے ہیں یا
پیچھے مگر سفر جاری ہے اور لگتا ہے کہ ایسے ہی جاری رہے گا اور
اسی وقت کے ہیر پھیر میں ہی زندگی گزر جائے گی۔

وقت کا یہ چکر ہر وقت ہماری روز مرہ کی زندگی میں تو چلتا ہی رہتا
ہے۔ موجودہ زمانے میں اگر خلل نہیں ہے تو ہمارے سیاستدان لیڈروں
کی مصروفیات میں نہیں ہے، ہمارے یہ لیڈر حضرات وقت کو اپنی
ضروریات کے مطابق ڈھالنے کی کوششوں میں ہمہ وقت مصروف رہتے ہیں تا
کہ ان کے سیاسی شب و روز یونہی چلتے رہیں اور وہ سیاسی میدان میں
زندہ رہیں ۔ابھی چند روز ہی گزرے ہیں کہ ہمارے سابق وزیر اعظم نے
سیاست کے نئے مرکز اسلام آباد سے لاہور تک سیاسی ریلی نکال کر
اُلٹ کام کیا کیونکہ عموماً تو ہمارے سیاستدانوں کی یلغار اسلام
آباد کی جانب ہی رہتی ہے اور بابوؤں کا یہ شہر اب ان کو خوش
آمدید بھی کہتا ہے۔

ابھی تک عوام سابق وزیر اعظم کی اس ریلی کے نامعلوم دوررس اثرات
سے فارغ بھی نہیں ہوئے ہیں کہ ہمارے ایک مولانا سیاسی لیڈر نے
لاہور پر ہی یلغار کر دی اس سے پہلے بھی وہ دو دفعہ اسلام آباد
میں فروکش ہو کر اپنی طاقت کا مظاہرہ کر چکے ہیں۔

کینیڈا اور پاکستان کے نصف شہری جناب طاہر القادری ایک بار پھر
اپنے مطالبات کے حق میں سڑک پر نکل آئے ہیں لیکن اگر وہ اپنی اس
موجودہ یلغار کو اپنی پاکستانی اور کینیڈائی شہریت کی طرح نصف ہی
کر لیں تو ہمارا گزارا تو اس پر بھی ہو جائے گا۔ وہ طویل خطبے کے
ماہر ہیں اور پہلے بھی اپنے ناکام دھرنوں میں وہ اس کا مظاہرہ کر
چکے ہیں ان کے مقتدین شہر اقتدار کی یخ بستہ شاموں میں کھلے
آسمان تلے ان کے گرم کنٹینر سے ان کی لا حاصل گفتگو سے فیض حاصل
کر چکے ہیں جس سے ان کو حاصل وصول کچھ نہیں ہوا تھا اور اب دوبارہ
انھوں نے لاہور میں خواتین کے دھرنے میں اپنی خطابت کے جوش دکھائے
ہیں، اس دفعہ ان کا کیس خاصہ مضبوط لگتا ہے کیونکہ وہ حکومت وقت
کی جانب سے اپنے کارکنوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کا حساب مانگ
رہے ہیں جس کے لیے وہ پہلے بھی ایک بار کوشش کر کے اپنے نصف وطن
کینیڈا چلے گئے تھے مجھے پتہ نہیں کیوں یہ لگتا ہے کہ موصوف وہی
کام کرنا چاہ رہے ہیں جو مغربی دنیا چاہتی ہے یعنی پاکستان
اندرونی طور پراس قدرکمزور ہو جائے کہ وہ اپنے ایٹم بم والے نخرے
سے باز آجائے تا کہ وہ اپنے ازلی دشمن بھارت کے لیے خطرہ نہ بنے
جو اس وقت ان مغربی طاقتوں کو محبوب ہے اس پر غور کرنے کی خاص
ضرورت ہے۔

معلوم نہیں ہمارے سیاسی لیڈروں کو غیر ممالک کیوں اتنے محبوب ہیں
کہ وہ سیاسی طور پر تو پاکستان میں زندہ رہنا چاہتے ہیں لیکن اپنے
آرام اور آسودگی کے حصول کے لیے جب بھی موقع ملتا ہے بیرون ملک
سدھار جاتے ہیں اور اب تو ہمارے ان لیڈروں نے بیرونی ممالک میں
اپنے آرام اور آسائش کی خاطر بڑے بڑے محل نما گھر بھی خرید کر
رکھے ہیں اور اپنی روٹی کا معقول بندوبست بھی ان ممالک میں
کاروبار کر کے کیا ہوا ہے اور جب بھی وہ پاکستانی عوام سے تنگ
آجاتے ہیں یا دوسرے لفظوں میں اقتدار سے دور ہو جاتے ہیں تو وہ
دور انھی ممالک میں ہی رہنے کو ترجیح دیتے ہیں اور وہیں سے اپنی
سیاست کو زندہ رکھنے کی کوشش میں رہتے ہیں ۔

ہمارے کئی لیڈر حضرات پر غیر ملکی ایجنٹوں کے الزامات بھی لگتے
رہتے ہیں اور عوام یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے ان لیڈروں کی ڈوریاں ان
کے نصف وطن کے حکمرانوں کے ہاتھ میں ہوتی ہیں اور وہ جب چاہیں ان
ڈوریوں کو کھینچ لیں اور اپنے مطلب کے نتائج حاصل کر لیں۔

یہ ہماری بدقسمتی ہی ہے کہ ہمارے اوپر ایسے حکمران مسلط کر دیے
گئے جن کا اس ملک میں کچھ نہیں ہے ان کی اولادیں غیر ممالک میں
پڑھ اور پل رہی ہیں ان کے کاروبار وہاں پر پھل پھول رہے ہیں اور
ان کی آرام دہ رہائشیں بھی وہیں پر ہیں لیکن یہ حکمرانی پاکستان
پر کرنا چاہتے ہیں اور کر رہے ہیں۔

میری نظر سے ایک انگریز کی بات گزری ہے کہ اس کا یعنی انگریز کا
گزر لندن میں پاکستانیوں کی کثیر تعداد والے علاقے سے ہوا تو اس
نے وہاں ان پاکستانیوں سے پوچھا کہ اگر آپ کو ہم اتنے ہی محبوب
اور پسند تھے اور پھر آپ نے یہیں آکر رہنا تھا تو ہم سے آزادی
کیوں حاصل کی تھی۔

اس انگریز نے تو شاید رواروی میں یہ بات کہہ دی ہو گی لیکن یہ بات
بہت ہی گہری ہے کہ ہم ان انگریزوں سے آزادی حاصل کرنے کے باوجود
لندن پلٹ کہلانا پسند کرتے ہیں اور جب بھی موقع ملتا ہے تو
پاکستان میں کمائی گئی دولت کو ان کے ملک میں جا کر خرچ کرنے کو
ترجیح دیتے ہیں ۔دراصل ہمارے کھوٹے سکوں نے ہمیں اس آزادی کا مزہ
چکھنے ہی نہیں دیا اور پہلے اگر ہم انگریزوں کی غلامی میں تھے تو
اب ان موروثی لیڈروں کی غلامی میں زندگی بسر کرنے کو ترجیح دیتے
ہیں ۔

یہ ایک تلخ حقیقت اور ایسا سچ ہے جو ہم سب کے سامنے ہے اور اس سے
مفر ممکن نہیں۔ہم اس خواب کو ٹوٹنے ہی نہیں دیتے ۔ جب بھی یہ
ٹوٹنے لگتا ہے تو زیادہ نہیں تو اسے برقرار رکھنے کے لیے کسی لیڈر
کا مقدمہ سامنے آجاتا ہے جو کسی دوسرے ملک میں مقیم ہے یا مقیم
رہنا چاہتا ہے اور وہاں اپنی جائیداد کو بھی محفوظ کرنا چاہتا ہے
تا کہ وہ اس پہ وہیں سے بھی لطف اندوز ہوتا رہے اور پاکستان سے
تعلق کی عیاشی سے بھی جس میں کوئی قانون قاعدہ کبھی رکاوٹ نہیں
بنا کرتا ،ایک آزاد زندگی کسی بھی غیر ملک کے مقابلے میں آزاد
اور ہر قسم کی قانونی پابندی سے آزاد۔ آزادی کے صحیح مزے۔

Leave a Reply