مرحوم دادا صاحب

میرے ایک قاری جن کا تعلق کراچی سےوہ اکثر مجھے برقی ذریعے سے اپنی خوبصورت تحریریں بھیجتے رہتےاب چونکہ خط کا زمانہ گزر گیا اور اس کی جگہ ایک چھوٹے سے موبائل فون نے لے لیجس سے آپ لمحوں میں اپنی بات دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے میں پہنچا سکتےاور وہ بھی بغیر کسی خرچ کے۔ میرے جیسے کم علم رکھنے والے اس نئی ایجاد سے استفادہ کرنے کے لیے کسی نوجوان کا سہارا لینے پر مجبور ہوتے ۔ آج کل اسکول کی چھٹیوں کی وجہ سے میرا پوتا نوشیروان میری یہ مدد کرتا ۔ اب آپ میرے قاری سہیل یعقوب کے خیالات سے محظوظ ہوں۔ اپنے طالبِ علمی کے دور میں مجھے کامیاب لوگوں کی سوانحِ حیات پڑھنے کا بہت شوق تھا۔ میں جاننا چاہتا تھا کہ کامیاب کیسے ہوا جاتا ۔ کبھی کبھار اخبارات میں اُن لوگوں کا تعارف اور اُن سے گفتگو بھی چھپتی تھی۔ گفتگو کا آغاز کچھ اس طرح ہوتا تھا کہ ہم بہت غریب ہوتےاور تعلیم کے لیے وسائل ناور میں نے اپنی تعلیم رات کو لیمپ کی روشنی میں مکمل کی(حالانکہ اب تو یہ بھی پوچھا جانے لگاکہ اگر رات کو لیمپ کی روشنی میں پڑھتے تو دن میں کیا کرتے ، چلو کچھ ایسا ویسا کرتے ہونگے جو یہ ہمیں ن بتا سکتے)۔ تعلیم مکمل کر کے کسی ادارے میں کلرک کے طور پر نوکری کا آغاز کیا اور چند سال میں (جو کہ عام طور پر چھ یا آٹھ سال کے عرصے پر محیط ہوتا ) ترقی کرکے سی ای او یا ڈائریکٹر بن گیا، مجھے کبھی بھی یہ سمجھ ن آیا کہ اتنی جلدی اتنی زیادہ ترقی کیسے ہوسکتی اور جب وجہ سمجھ میں آئی تو دیر ہو چکی تھی اور میں اس پر عملدرآمد سے آگے جا چکا تھا۔ اس بات کو سمجھانے کے لیے میں ایک انگریزی کہاوت کا اردو ترجمہ پیش کرتا ہوں جو کچھ یوںکہ ”اگر آپ کے والد غریبتو یہ آپ کی قسمت لیکن آگر آپ کا سُسر غریبتو یہ آپ کی بیوقوفی ”۔ آپ یقیناً سمجھہونگے اور ویسے بھی اپنے آپ کو بیوقوف کہنا کوئی آسان کام ن، اس کے بعد میں نے ایسے تمام انٹرویوز پڑھنا چھوڑ دیے۔ دُنیا آپ کو اُس وقت کامیاب مانتیآگر آپ کے پاس کم از کم ایک اچھی نوکری ہو اور اگر نوکری سرکاری ہو تو کیا ہی بات ۔ سرکاری نوکری میں ایسی کیا خاص بات ہوتی ؟ وجہ یہکہ سرکاری نوکری میں تنخواہ کے علاوہ بھی آمدنی کے وسیع ذرائع ہوتے ۔ ہم یہ مانیں یا نہ مانیں یہ ایک اٹل حقیقتکہ ہمارے مُلک میں ہر طرف رشوت کا بازار گرمجائز کام کروانے کے لیے بھی رشوت دینی پڑتیاور یہاں ہر ناجائز کام ہوسکتابس اس کی قیمت دینے والا ہونا چاہیے۔ ایک وقت تھا اس ملک میں رشوت چھپ کر لی جاتی تھی اور عمومی طور پر اُسے بُرا سمجھا جاتا تھا اور اگر کسی شخص کے بارے پتہ ہوتا تھا کہ وہ راشیتو اُس کے محلے دار اور رشتے دار اُس سے بات کرنا پسند ن کرتےاور وہ خاندان کی تقاریب میں بھی دیگر لوگوں سے الگ تھلگ رہتا تھا، شائد آج اپ کو یہ باتیں قصے کہانیاں لگیں لیکن اگر آپ ایک لمحے کے لیے اپنے ذہن کے دریچوں کو ٹٹولیے تو شائد آپ کو یہ سب باتیں یاد آجائینگی۔ دیکھئے کیسے دھیرے دھیرے پورا معاشرہ اور اس کی اقدار سب کچھ بدل گیا اور ہمیں خبر بھی نہ ہوئی یا شائد ہم خبر رکھنا ہی ن چاہتے ۔ اس کی سب سے دلچسپ مثال یہکہ اکثر آپ نے اس قسم کی خبریں پڑھی ہونگی جس میں ایک ادارہ ایک سہانی صبح اچانک (حالانکہ یہ اچانک بھی طے شدہ ہوتا ) ناجائز تجاوزات یا ناجائز تعمیرات کو منہدم کرنے آجاتااور ایک تماشہ لگتا ، ادارہ ہمیں یہ باور کراتاکہ وہ یہ سب کچھ ہمارے مفاد میں کررہااور اس کے نتیجے میں وہ اپنے ادارے اور عوام سے ستائش کا بھی طالب ہوتا لیکن اس ساری کہانی میں سب سے اہم نکتے کی طرف نہ کوئی دھیان دیتا اور نہ اس کا ک ذکر ہوتاکہ یہ بنی کیسی تھی، اس کی اجازت کس نے دی تھی اور وہ آج کہاں ؟ اجازت ایسے ہی ن ملتی اس کا بھی اپنا ایک طریقہ کار ہوتا ، باقاعدہ (اسے آپ بے قاعدہ بھی پڑھ سکتے ) فائل بنتیاور وہ نیچے سے اوپر کا سفر طے کرتیکبھی اس کو دھکا بھی لگانا پڑتا اور دھکا کبھی خود بخود ن لگتا اور ہر درجے کے الگ نگران ہوتے اور وہ اپنا مختانہ وصول کرکے ہی دستخط کرتےاور ہمیشہ نامعلوم افراد میں شمار ہوتےاور مزے کی بات یہکہ یہ اجازت دینے والے کبھی پکڑے ن جاتے۔ ہمارے سیاسی اسٹیج پر جو کچھ ہورہاوہ ایک پتلی تماشے سے زیادہ کچھ ن، ہم آج کچھ کٹھ پتلیوں کے گرنے پر خوش ہو رلیکن پسِ پردہ ان پتلیوں کی ڈوریاں ہلانے والے دونوں معلوم اور نامعلوم ہاتھوں تک شاہد ہم کبھی نہ پہنچ سکیں۔ ہم آخر کب تک اپنی سماجی بیماریوں کا علامتی علاج کرواتے ر گے، ہم ایک دفعہ ہمت کرکے اس (کرپشن) بیماری کو جڑ سے اُٹھا کر کیوں ن پھینک دیتے، ایسا کرنے کے لیے قوم کے اپنے کردار میں پختگی چاہیے اور ہمارے کردار کا یہ حالکہ اس پر صرف کاروکاری ہوسکتی ۔ ایک امریکن نے ایک دفعہ کہا تھا کہ پاکستانی پیسے کے لیے کچھ بھی بیچ سکتے ۔ جن لوگوں کو یہ بات یاد ہوں وہ کچھ کی جگہ پر صحیح لفظ لگا سکتے ۔ ایک اور کہاوت میں مطلب کے وقت ولدیت کی تبدیلی کا ذکرلیکن اب تو ہم اس سے بھی بہت آگے جا چکے ، کتنا آگے یہ آپ کو اس لطیفہ نما کہانی سے پتہ چل جائے گا۔ ایک شخص نے اپنے دوستوں کی بہت بڑی دعوت کی اور دعوت کے اختتام پر سب کو اپنے جدِ امجد کی تصویر دکھائی اور اُن کی شان، اُن کی بہادُری اوراُن کی سخاوت کے بیشمار قصے سُنائے۔ آخر ایک دوست سے نہ رہا گیا اور اُس نے کہا کہ بس یار پانچ ہزار کی وجہ سے میرا سودا نہ ہوا ورنہ آج یہ میرے جدِ امجد ہوتے۔ آپ لوگوں کو دیکھ کر فیصلہ کر سکتےکس کس کا سودا ہوگیا اور کس کا جدِ امجد تھوڑے پیسوں کی وجہ سے آج کسی اور کا جدِ امجد اور جب جدِ امجد بدل گیا تو گویا سب کچھ بدل گیا۔

متعلقہ خبر یں

روزانہ خبریں اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔