ہندوستانی عدلیہ کا تاریخ ساز فیصلہ (آخری حصہ)

پاکستان اور ہندوستان دونوں ملکوں کی یہ بدبختی ہے کہ ہماری سیاسی
جماعتیں جب اقتدار میں ہوتی ہیں تو وہ اپنا ووٹ بینک ٹوٹنے سے
خوفزدہ رہتی ہیں۔ بہت سے متنازعہ مسائل و معاملات ایسے ہوتے ہیں
جن کے بارے میں ان کا حقیقی موقف کچھ اور ہوتا ہے لیکن اس خوف سے
کہ کہیں ان کے درست موقف سے ان کا ووٹر ان سے ناراض نہ ہوجائے، وہ
مظلوم کے ساتھ کھڑی نہیں ہوتیں۔ یوں انصاف کا خون ہوتا ہے اور جو
انصاف کے طلب گار ہوتے ہیں وہ خاک میں مل جاتے ہیں۔

3 دہائیوں پہلے یہی کچھ شاہ بانو کے ساتھ ہوا۔ وہ بوڑھی اور بے کس
عورت جسے ہندوستانی عدلیہ نے اپنے فیصلے سے انصاف دیا تھا، وہ
اپنی مسلم کمیونٹی کے دباؤ کے سامنے آخرکار سر تسلیم خم کرنے پر
مجبور ہوئی اور اس کا نام ہندوستان کی عدالتی تاریخ میں یادگار
ہوگیا۔ ہندوستان میں اس مسئلے پر بہت کچھ لکھا گیا۔

مشہور ہندوستانی کمیونسٹ رہنما اور انجمن ترقی پسند مصنفین کے
بنیاد گزاروں میں سے ایک سید سجاد ظہیر اور معروف افسانہ نگار
رضیہ سجاد ظہیر کی بیٹی نور ظہیر نے 2008 میں اس موضوع پر ایک
ناول ’’مائی گاڈ از اے وومن‘‘ لکھا۔ اس کی ہندوستان میں بہت
پذیرائی ہوئی۔ ہمارے یہاں لوگ اس ناول کے نام سے بھی نہیں واقف،
اس لیے پذیرائی ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ نور 2008 میں
کراچی آئیں تو میرے لیے  یہ ناول لے کر آئیں جو یقیناً
تحفہ خاص تھا۔ میں نے اسے چند دن میں ہی پڑھ کر ختم کیا لیکن نوٹس
نہ لینے کی بری عادت کے سبب میں نے اسے رکھ دیا کہ ’فرصت‘ سے اس
پر لکھوں گی۔ وہ ’فرصت‘ مجھے ابھی تک نہیں ملی اور اب جب تین طلاق
کا مسئلہ اٹھ کھڑا ہوا ہے تو مجھے ندامت کا گہرا احساس ہورہا ہے۔

شاہ بانو کا معاملہ ایک طرف رکھتے ہوئے میں جھاڑکھنڈ کی شاہ بانو
کے اس مقدمے کی طرف دیکھتی ہوں جو 2016 میں ہوا اور جس پر
ہندوستانی عدلیہ نے ایک بار پھر ایک تاریخ ساز فیصلہ دیا ہے۔ اس
سے پہلے راجیو گاندھی کی حکومت ’’شریعت خطرے میں ہے‘‘ اور ’’یہ
ہمارے دین میں مداخلت ہے‘‘ جیسے نعروں کے دباؤ میں آگئی تھی۔
لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا اس فیصلے کے ساتھ بھی شاہ بانو جیسا
کھیل کھیلا جائے گا۔

مسلمان عورت کو ابھی کسی خوش فہمی میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں
ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے اس فیصلے کی سختی سے مخالفت
کی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ’’تین طلاق‘‘ ناپسندیدہ ہے، اس کے باوجود
عدالتیں اور حکومت اس مسئلے میں مداخلت نہیں کرسکتی۔ مودی حکومت
اس فیصلے کے حق میں ہے لیکن سپریم کورٹ اور مودی حکومت جو چاہیں
کہہ لیں مسلمانوں کی اکثریت اس فیصلے کی مخالف میں ہے۔

یہ ذمے داری ہندوستانی مسلمان مردوں اور پڑھی لکھی مسلمان عورتوں
کی ہے کہ وہ یک آواز ہوکر اس فیصلے کی حمایت کریں اور حکومت پر
دباؤ ڈالیں کہ وہ عدالتی حکم کے مطابق 6 مہینے کے اندر اس بارے
میں نیا قانون لے کر آئے۔ یہ لمبی لڑائی ہے۔ ایک دن میں کچھ نہیں
ہوگا۔ ہندوستان کے مسلمان مردوں اور عورتوں کو بہت سنجیدگی سے اس
بارے میں سوچنا ہوگا۔

ایک خیال یہ بھی ہے کہ کہیں یہ فیصلہ کامن سول کوڈ کی راہ تو نہیں
کھولے گا۔ مسلمان عورت یہ کیوں نہ سوچے کہ وہ ہندوستان میں ہے،
ہندوستان کی ہے، اسے وہاں کے ہر قانون کا فائدہ ملنا چاہیے۔ اسے
اپنے قانونی حقوق کے بارے میں بھی معلوم ہونا چاہیے۔ اسے شریعت
اور قانون دونوں کے بارے میں معلوم ہوگا تب ہی وہ اس لڑائی کو لڑ
سکے گی۔ اپنی زندگی کھل کر گزار سکے گی۔ ہندوستان کی مسلمان عورت
بھی اب نہ صرف اپنے حق سے واقف ہے بلکہ اپنے ہی لوگوں کے فریب کو
بھی سمجھنے لگی ہے۔ ایسے میں باشعور مسلم مردوں کو بھی اپنی سوچ
بدلنی ہوگی۔

اس وقت ہندوستان کا سوشل میڈیا اس بحث سے بھرا ہوا ہے۔ مسلم
عورتیں جس طرح سے اپنی بات کہہ رہی ہیں، اس کو سمجھنا چاہیے۔ اس
فیصلے کے بعد مسلمان مردوں کو سمجھنا ہوگا کہ انھیں ایک نئی دنیا
بنانی ہے اور ایسا وہ اپنی عورتوں کو ساتھ لے کر ہی کرسکتے ہیں۔
نئی دنیا کا خواب عورت کو دباکر اس کے ارمانوں کو کچل کر پورا
نہیں ہوسکتا۔ اصل ذمے داری مسلم نوجوانوں کے شانے پر ہے۔ نئی نسل
کو سمجھنا ہوگا کہ عورت کیا ہے؟ اس کا حق کیا ہے اور یہ بھی کہ
عورت کو نہ سمجھ کر، اس کے حقوق پر ڈاکا ڈال کر وہ کبھی ترقی نہیں
کرسکتا۔

مسلم عورت نے غربت دیکھی ہے۔ تقسیم کے فوراً بعد کے زمانے کو یاد
کیجیے، اس نے اس غربت کے خلاف لڑائی لڑی ہے۔ سلائی کڑھائی کی ہے،
لفافے بنائے ہیں، مسالہ کوٹا ہے۔ اس نے خود پڑھا ہے، اپنے بچوں کو
پڑھایا ہے۔ یعنی جہالت سے تعلیم تک کا لمبا سفر اس نے طے کیا ہے۔
یہ اس کے جذبے اور جنون کا نتیجہ ہے کہ اس نے ترقی کی۔ عورت اپنی
لڑائی لڑ کر یہاں تک آئی ہے۔ وہ آگے بھی اپنی لڑائی خود لڑے گی۔
آج کے نوجوانوں کو بس اس کی لڑائی کو سمجھنا ہوگا۔ یہ ایک نئی
راہ کھلی ہے۔ اس راہ پر چلنا ہوگا۔

سیما مصطفیٰ ہندوستان کی ایک نامور صحافی ہیں۔ انھوں نے بھی اس
بارے میں بہت تفصیل سے لکھا ہے اور شاہ بانو کیس سے کورٹ کے تازہ
فیصلے تک تمام معاملات کا احاطہ کیا ہے اور بنیادی سوال اٹھایا ہے
کہ 1984 میں شاہ بانو کیس کا فیصلہ دیتے ہوئے ہندوستانی سپریم
کورٹ نے مسلمان عورت کو نان نفقے کا حق دیا تھا، جسے رجعت پرست
مسلمانوں کے شدید دباؤ پر خود شاہ بانو کو واپس لینا پڑا۔ دیکھنا
یہ ہے کہ شاہ بانو کیس 2016 کا جو فیصلہ آیا ہے اس کا کیا انجام
ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مسلم پرسنل لا بورڈ ایک نام نہاد تنظیم
ہے جو اپنی کمیونٹی میں اصلاحات اور ترقی کی راہ روکتی ہے۔

یہ تنظیم 1973 سے مسلم عورتوں کی مخالفت کا کردار ادا کررہی ہے۔
یہ وہ کردار ہے جس کے بارے میں مسلمان عورتیں اب کھل کر سوال اٹھا
رہی ہیں۔ سیما مصطفی اور ان جیسی پڑھی لکھی اور روشن خیال عورتوں
کے لیے وقت آگیا ہے کہ وہ اپنی نسبتاً پچھڑی ہوئی مسلمان عورتوں
کے حق کے لیے جم کر آواز بلند کریں۔ اسی طرح مسلمان ہندوستانی
عورت مضبوط اور مستحکم قدموں پر کھڑی ہوسکے گی۔

یہ ایک خوش آیند بات ہے کہ پاکستان کے بعض اخبارات نے اس مسئلے
کے بارے میں اپنی رائے کھل کر دی ہے۔ ہمارے ایک انگریزی معاصر نے
3 طلاق کو یونان کے مشہور کردار ’’ڈیماکلینر‘‘ کے سر پر لٹکتی
ہوئی تلوار سے تشبیہ دی ہے اور کہا ہے کہ مسلمان عورت ہر وقت اس
خوف میں مبتلا رہتی ہے کہ کچے سوت کے دھاگے سے اس کے سر پر لٹکتی
ہوئی تین طلاق کی تلوار کب اس پر گر پڑے گی اور وہ اپنے بچوں، گھر
کی چھت اور روزمرہ کے خرچ سے محروم ہوجائے گی۔ معاصر نے ان علماء
کا بھی حوالہ دیا ہے جو 3 طلاق کو قرآنی احکامات کے منافی قرار
دیتے ہیں اور جو یہ بھی کہتے ہیں کہ پاکستان اور بنگلہ دیش سمیت
کئی ملکوں میں یہ عمل غیر اسلامی اور غیر قانونی قرار دیا جا چکا
ہے۔

اخبار کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسٹیٹس کو کی فضا کو برقرار رکھنے کے
حق میں جو عناصر ہیں، وہ دراصل مسلمان عورت کی زندگی کو اپنے چنگل
میں رکھنا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ 3 دہائیوں پہلے کی طرح انھوں
نے ایک بار پھر مذہب کی آڑ لے شور و ہنگامہ مچانا شروع کردیا ہے۔
انھیں شاید یہ اندازہ نہیں کہ زمانہ بہت بدل چکا ہے، وہ ذاتی
زندگی میں تمام جدید اور مغربی ایجادات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں
لیکن مسلمان عورت کو وہ اس حق کو دینے کے لیے بھی تیار نہیں جو
اسے ڈیڑھ ہزار برس پہلے دیے گئے تھے۔

سیما مصطفی نے بجا لکھا ہے کہ اس مرتبہ ہندو یا مسلم انتہا پسندوں
کو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ
بھارتیہ مسلم مہیلا اندولن نے اس بارے میں کھل کر یہ موقف اختیار
کیا ہے کہ تین طلاق کا معاملہ غیر شرعی ہے۔ مسلم مہیلا اندولن کئی
معاملات پر فیصلہ لینے کے لیے عدالت میں گئی ہے۔

ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس نے ممبئی کی درگاہ حاجی علی میں
عورتوں کے قدم رکھنے کی ممانعت کے بارے میں عدالت سے رجوع کیا تھا
اور کہا تھا کہ مسلمان مردوں کی طرح انھیں بھی درگاہ کی زیارت کی
اجازت ہونی چاہیے۔ متعلقہ عدالت نے فیصلہ ان کے حق میں دیا۔ یہ وہ
باتیں ہیں جو پڑھی لکھی اور اپنے حقوق سے آگاہ مسلمان عورت کو
حوصلہ دیتی ہیں کہ وہ اپنے حق کے لیے لڑیں۔ آخری جیت ان ہی کی
ہوگی۔ یہاں ہمیں یہ بات بھی جاننی چاہیے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ
دینے والے ججوں میں سے ایک ہندو، ایک پارسی، ایک سکھ، ایک مسلمان
اور ایک کرسچین ہے۔ یہ ہندوستانی سماج کی تکثیریت کی اعلیٰ تصویر
ہے۔

Leave a Reply