وہ ناواقفِ آدابِ شہنشاہی تھی

شہزادی ڈایانا کے قتل کو بیس برس گزرگئے۔ ایسا قتل کہ جس کے بارے
میں کہا جاتا ہے کہ ’’تم قتل کرو ہوکہ کرامات کرو ہو‘‘ ہمارے یہاں
بھی ایسے قتل ہوتے ہیں جن کے ذمے دار خون میں رنگے ہوئے اپنے
ہاتھوں کے ساتھ یوں غائب ہوجاتے ہیں جیسے وہ کبھی موجود ہی نہ
تھے۔ اب سے 20 برس پہلے ایک معتوب برطانوی شہزادی، فرانس کی
سرزمین پر ایک سرنگ میں ماری گئی تھی۔ اسی کے لیے لکھی جانے والی
بیس برس پرانی ایک تحریر یاد آئی، وہ آپ کی نذر ہے:

اس روز دنیا کے ڈھائی تین ارب انسانوں میں ایک میں بھی تھی جو
ٹیلی وژن کے سامنے بیٹھی تھی اور کروڑوں انسانوں کے آنسوؤں کے
دریا میں میرے آنسو بھی شامل ہو رہے تھے۔ غم منانے والوں نے
گلدستوں اور پھولوں کے انبار لگادیے تھے، قطار اندر قطار شمعیں
جلادی تھیں، تعزیتی کتابوں کے ہزاروں صفحے سیاہ کردیے تھے اور اب
وہ اس کے آخری سفرکی دید کے لیے آنکھیں فرش راہ کیے ہوئے تھے۔

شاہی اصطبل کے شاندار مشکی گھوڑے پھولوں سے ڈھکے ہوئے اس کے تابوت
کو لے کر محل کے دروازے سے باہر آئے، چند لمحوں کے لیے کرئہ ارض
کے طول و عرض میں، مشرق و مغرب اور شمال و جنوب میں، اس کے ماتم
داروں کی آہ و زاری گونجی اور پھر ضبط گر یہ سے نڈھال سوگوار
سناٹا ہر طرف پھیل گیا۔

میں نے دھند لائی آنکھوں سے اس منظر کو دیکھا اور بے اختیار
انیسویں صدی کے اردو ادب میں بیان ہونے والا ایک جلوس جنازہ یاد
آگیا:

شامیانہ نیا زری کا تھا
نیچے تابوت اس پری کا تھا

سہرا اس پر بندھا تھا اک زرتار
جیسے گلشن کی آخری ہو بہار

تھی پڑی اس پہ ایک چادر ِگُل
جس سے خوشبو نکلتی تھی بالکل

عود سوز آگے آگے روشن تھے
مرگئے پر بھی لاکھ جو بن تھے

بھیڑ تابوت کے تھی ایسی ساتھ
جیسے آئے کسی دلہن کی برات

نواب مرزا شوق ’’مثنوی زہرِ عشق‘‘ میں انیسویں صدی کے برصغیر کی
رسم و روایات سے بغاوت کرنے والی کا تابوت اٹھا رہے تھے اور یہ
بیسویں صدی کی آخری دہائی میں تاج و تخت کو حقیر جاننے والی کی
سوگوار برات تھی۔

وہ جو کان کنوں، کلرکوں، کسانوں، معذوروں، مجبوروں، بیماروں،
لاچاروں اور ناداروں کی شہزادی تھی، جسے شاہی اعزاز کے ساتھ
دفنائے جانے سے انکار کردیا گیا تھا، وہ عوامی اعزاز کے ساتھ
دفنائی جارہی تھی۔ وہ جو محلاتی رسم و رواج سے بغاوت کی علامت
تھی، اس کے بعد انحراف و انکار  کا پرچم عوام کے شانوں پر
لہرا رہا تھا اور ان کا غیظ و غضب اور نوحہ و ماتم شاہی و شہنشاہی
کو مجبور کررہا تھا کہ اس کے جنازے کے سامنے سر جھکائیں۔

اس روز جب آخری رسومات ادا ہوچکیں، جب تھکے ہارے سوگوار اپنے
اپنے گھروں کو جا چکے، جب کرئہ ارض کے کروڑوں ٹی وی سیٹ بند کیے
جاچکے تو مجھے ایسے کئی سوالوں کا جواب مل چکا تھا، جنہوں نے بہت
دنوں سے ذہن کو خلش میں مبتلا کررکھا تھا۔

تاریخ و ادب کی ایک ادنیٰ طالب علم اور فنون لطیفہ کی پرستار کے
طور پر کئی برس سے عالمی سطح پر چلنے والی اس بحث نے دوسروں کی
طرف مجھے بھی بہت مضطرب رکھا ہے کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کا انقلاب
کیا واقعی ہمیں روبوٹ بناکر چھوڑے گا؟ کیا تمام نازک اور حسین
جذبے ہم سے چھن جائیں گے اور کیا ہزاروں برس کی مشترک انسانی
کاوشوں نے جس جمالیات کو جنم دیا تھا، ٹیکنالوجی اس جمالیات کو
گہرا دفن کردے گی؟

اس روز مجھ پر یہ منکشف ہوا کہ ٹیکنالوجی نے یقیناً دنیا کو ایک
عالمی سماج میں بدل دیا ہے۔ کرئہ ارض ایک ایسا عالمی شہر بن چکا
جس میں بسنے والے اربوں انسانوں کو سیٹلائٹ سیاروں کی لہریں ایک
ہی وقت میں غم و اندوہ کی ایک سی حالت سے دوچار کرسکتی ہیں۔
ٹیکنالوجی ایک نئی حسیت، ایک نئی جمالیات کو تشکیل دے رہی ہے اور
اکیسویں صدی اسی جمالیات کی صدی ہوگی۔ ہم بارودی سرنگوں کو اپنے
گھروں سے ہزاروں میل کی دوری پر پھٹتے ہوئے دیکھیں گے اور اس سے
معذور ہونے والوں کی اذیت ہمارے بدن میں سرایت کرے گی۔ ہم بھوک سے
مرتے ہوؤں کو دیکھیں گے اور خوراک طلب کرتے ہوئے ہمارے معدے
سیکڑوں ہزاروں میل دور کی اس بھوک کے سامنے شرمسار ہوجائیں گے، ہم
کسی ایک سماج کے باغی کا تابوت دیکھیں گے تو اس پر اس لیے آنسو
بنائیں گے کہ ہمارا دل اپنے سماج کے باغیوں کے درد سے بے حال
ہوگا، ہم ہزاروں میل پرے کسی بچے کی ہنسی سنیں گے اور دیکھیں گے
تو وہ ہنسی ہماری آنکھوں میں بجھے ہوئے امید کے دیے روشن کردے
گی۔

اس رات ٹیکنالوجی کے ہاتھوں جنم لینے والی اکیسویں صدی کی جمالیات
پہلی مرتبہ میری سمجھ میں آئی اور اس روز میں نے اس بات کو رد
اور مسترد کردیا کہ سائنس اور ٹیکنالوجی نے انسانوں کے دلوں سے
درد کی دولت چھین لی ہے۔ انھیں ’’بے حس اور کٹھور ناظرین‘‘ میں
بدل دیا ہے۔ اسی روز مجھ پر یہ نکتہ بھی منکشف ہوا کہ پرومی تھیسس
سے لے کر آج تک اور اکیسویں صدی اور بائیسویں صدی اور تئیسویں
صدی کے خاتمے تک دنیا کا یہ سماج اپنے باغیوں کے سر پر کانٹوں کا
تاج رکھے گا اور وہ ہیروں کے تاج سے زیادہ بیش قیمت ٹھہرے گا۔
ہیروں کے تاج کسی ایک شہنشاہ کے حصے میں آتے ہیں اور پھر کسی
اگلے شہنشاہ کو منتقل ہوجاتے ہیں لیکن کانٹوں کا تاج جس کا ہوتا
ہے اسی کا ہوتا ہے۔ اس کے سر سے اتار کر کسی اور کے حوالے نہیں
کیا جا سکتا۔

شہنشاہی ، تاریخ میں ہمیشہ عوامی بغاوتوں کو کچلتی آئی ہے، وہ
سپارٹکس ہو یا صاحب زنج یا ان کے بعد آنے والے غلام اور آزاد
انسانوں کی لاتعداد بغاوتیں بے رحمی سے کچلی گئی ہیں۔ لیکن سیاسی
مفکروں اور دانشوروں نے جب سے شہنشاہیت کی فصیلوں کے اندر جمہوریت
کی فصل بوئی ہے، اس وقت سے عوامی ریلا آگے بڑھ رہا ہے، عام
انسانوں سے خود کو افضل سمجھنے والی ’’اشرافیہ ‘‘ مسلسل پسپا
ہورہی ہے۔ بیسویں صدی کے آخری برسوں میں اشرافیہ کی یہ آخری
پسپائی تھی جو اربوں انسانوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھی، اپنے
کانوں سے سنی۔

اس روز کرئہ ارض کے لوگ ایک خوش ادا، ایک دلربا کو نہیں رو رہے
تھے، اس روز وہ اس عورت کا ماتم کررہے تھے جو ناواقف آداب
شہنشاہی تھی، جسے بر سر عام کھل کر ہنستے ہوئے، پھوٹ پھوٹ کر روتے
ہوئے حجاب نہیں آتا تھا، جسے چھوت کے مریض کا ہاتھ چھوتے ہوئے
خوف محسوس نہیں ہوتا تھا، جذامیوں سے ہاتھ ملاتے ہوئے جسے دستانے
پہننے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی تھی، بارودی سرنگوں کے درمیان سے
جو ہنستے ہوئے گزرتی تھی اور جس نے پاکستان، ہندوستان، انگولا،
کمبوڈیا،بوسنیا اور جنوبی افریقہ میں بھوک اور ناداری کے ان گنت
رنگ دیکھے تھے۔

وہ اٹھارویں صدی کی فرانسیسی ملکہ نہیں تھی کہ بھوک سے بلبلاتے
ہوئے لوگوں کو دیکھ کر کہتی کہ انھیں اگر روٹی نہیں ملتی تو کیک
کیوں نہیں کھاتے؟ وہ بیسویں صدی کی باشعور عورت تھی جس نے غربت کی
دلدل میں دھنسے ہوؤں کو دیکھا تھا اور بے اختیار پکار اٹھی تھی
کہ ’’بھوک اور غربت، جنگ سے زیادہ تباہ کن ہیں۔‘‘

اس روز اسی عورت کا سوگ منایا جارہا تھا، اس کا تابوت دیکھ کر

سب فقیر و امیر روتے تھے
دیکھ کر راہ گیر روتے تھے

اس کی رخصت پر 20 برس گزر گئے، دنیا میں ایک ایسی نسل جوان ہوگئی
جو اس سے ہم جیسی وابستگی نہیں رکھتی، لیکن یہ بھی ہے کہ اس کے
چہرے کی تابانی اور اس کے مزاج کی بغاوت آج بھی ملکہ برطانیہ کو
تلملا دیتی ہے۔ عوام سے اس کا کیا بے مثال گہرا رشتہ تھا جس نے
ملکۂ برطانیہ کو مجبور کردیا تھا کہ جب اس روایت شکن کا تابوت
قصرِ شاہی کے سامنے سے گزرے تو وہ اس کی تعظیم کے لیے اپنے محل سے
نکل آنے پر مجبور ہو جائیں۔ یہ جمہور اور جمہوریت کی جیت تھی۔

Leave a Reply