’ امن عالم زندہ رہے‘

یہ سطریں 21 ستمبر کو لکھی جارہی ہیں۔ وہ تاریخ جب اقوام متحدہ کی
طرف سے امن کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔ اقوامِ عالم کا حال یہ ہے
کہ امن کے نام پر دنیا کا جغرافیہ بارود کی بُو اور خون کی بساندھ
سے محفوظ نہیں۔ شرقِ اوسط ہو، افریقا یا مشرقی ایشیا ہو، ہر جگہ
انسان بے امان ہے، اس کی بستیاں اُجڑ رہی ہیں اور اس کے لوگ خزاں
رسیدہ پتوں کی طرح دنیا کے مختلف علاقوں میں بکھر گئے ہیں۔ ماؤں
سے بچے بچھڑ گئے ہیں اور باپ روزگار کے لیے مارے مارے پھرتے ہیں۔
مغرب میں کہیں نسلی فساد ہورہے ہیں اورکہیں قیامت خیز طوفان اور
زلزلے بھری پُری بستیوں کو ملیا میٹ کر رہے ہیں۔

ایک ایسے زمانے میں امن کا عالمی دن منانا کچھ لوگوں کے نزدیک محض
خانہ پُری ہے۔ اس رجحان کے ساتھ ہی ایسے ان گنت افراد ہیں جن کے
خیال میں امن کی بات کرنا اور قدم بہ قدم اس کی طرف بڑھنا،
آخرکار دنیا کو مسلح تصادم، تنازعات اور مناقشات سے نجات دلائے
گا۔ یہ دن عالمی سطح پر 1982ء سے منایا جارہا ہے۔ اس کا نشان
آسمانی رنگ میں ڈوبی ہوئی امن کی وہ فاختہ ہے جس کی چونچ میں
زیتون کی شاخ ہے اور جس کے ایک پنکھ پر دنیا کا نقشہ ہے۔ امن کی
یہ فاختہ دیکھنے میں بہت دلکش نظر آتی ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ
دنیا ابھی تک امن کے حصول میں ناکام رہی ہے۔ کسی ہدف کو حاصل نہ
کرسکنا ایک بات ہے لیکن اس کے لیے سعئی مسلسل کرتے رہنا زیادہ اہم
ہے۔ اسی لیے ان ملکوں، تنظیموں اور گروہوں کی بہت ستایش ہونی
چاہیے جو اس کار فِرہاد میں جُٹے ہوئے ہیں۔ 21 ستمبر کو اس دن کا
آغاز طلوعِ سحر کے ساتھ امن کے اُس گھنٹے کو بجا کر کیا جاتا ہے
جو اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں نصب ہے۔ یہ گھنٹہ دنیا کے اُن
سکّوں کو پگھلا کر بنایا گیا ہے جو براعظم افریقا کو چھوڑ کر تمام
براعظموں سے بچوں نے جمع کیے تھے۔ دوسری جنگِ عظیم میں انسانی
جانوں کی سب سے بھاری قیمت جاپان نے امریکی ایٹمی حملے کے نتیجے
میں ادا کی تھی اور پھر دنیا میں پائیدار امن کے قیام کے لیے وہی
سب سے زیادہ سرگرم رہا۔

اس وقت ہمارے وزیراعظم اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت اور
وہاں تقریر کرچکے۔ دنیا کے بچوں کی کاوش کے نتیجے میں جو ’امن
گھنٹہ‘ وجود میں آیا ہے اس پر کندہ ہے کہ ’دنیا بھر میں امنِ
عالم زندہ رہے‘ 1982ء میں عالمی یومِ امن کے آغاز سے لے کر آج
تک امن کی تحریکوں سے وابستہ مختلف ادارے اور افراد ناگفتہ بہ
حالات کے باوجود امن قائم کرنے کی اپنی سی کوششوں میں لگے ہوئے
ہیں۔ دراصل دوسری جنگ عظیم نے ’امن پسندی‘ کے بجائے ’جنگ دوستی‘
کو بہت بڑھاوا دیا۔ ہم نے دیکھا کہ دوسری جنگ عظیم سے پہلے ہٹلر
اور جاپان کے رہنماؤں نے کس شدت سے جنگ پسندی کی ترویج کی۔ اسی
کا نتیجہ تھا کہ دنیا کے دوسرے ملک تو برباد ہوئے لیکن سب سے
زیادہ گزند خود جرمنی اور جاپان کو پہنچا۔

امن کو ناقابلِ تلافی نقصان ان لوگوں نے پہنچایا جو امن قائم کرنے
کے دعویدار ہیں لیکن جن کے تمام اقدامات قوموں اور ملکوں کو جنگ
کی طرف دھکیلتے ہیں۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جب مغربی اور مشرقی
جرمنی ایک نہیں ہوئے تھے اور دونوں طرف جنگ کے سائے منڈلاتے تھے۔
وہ زمین جس پر گیہوں کی فصل لہلہاتی تھی اس پر بم گراکر کھڑی
فصلوں اور کھیتوں کو تباہ کردیا گیا۔ یوں کہیں کہ ہزاروں لوگوں
میں گیہوں کی سنہری بالیوں کے بجائے، موت کے تابوت تقسیم کردیے
گئے۔ اس موقعے پر مغربی جرمنی کے چانسلر ولی برانٹ نے کہا تھا کہ
یہ الم ناک بات ہے کہ وہ ترقی پذیر قومیں جنھیں افلاس سے نجات
پانے کے لیے اس کی ضرورت ہے کہ وہ امن کے راستے پر چلیں، وہی جنگ
میں الجھی ہوئی ہیں۔

اب ایسے لوگوں کی تعداد پہلے کی نسبت کم ہے جو اقوام متحدہ کے
وجود کی اہمیت اور افادیت کے بارے میں سوال اٹھاتے ہیں۔ اس کے
باوجود اب بھی متعدد ملکوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جو اس عالمی
تنظیم پر اعتراضات کرتے ہیں۔ ان سوالات اور اعتراضات کے باوجود
ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ اس عالمی ادارے کی موجودگی نے مفلس ملکوں
اور دربہ در انسانوں کے لیے کچھ بہتری کا اہتمام کیا ہے یا نہیں۔

یہ ایک اہم بات ہے کہ ماسوا چند ملکوں کے اب جنگ زدہ علاقوں میں
امن کی بات کرنا ’غداری‘ خیال نہیں کی جاتی۔ اس کے باوجود سائنسی
ترقی اور نت نئے ہتھیاروں کے پھیلاؤ نے انسانوں کو دہشت زدہ
کردیا ہے۔ اس کیفیت میں مشرق و مغرب دونوں کے ہی مدبرین مبتلا
ہیں۔ اسی بات کا اظہار اب سے بہت پہلے 1890ء میں کیا گیا تھا کہ
’’جس دن دو فوجیں ایک سیکنڈ میں ایک دوسرے کو ختم کرسکیں گی، اس
دن یہ امید ہوگی کہ تمام مہذب قومیں اپنی فوجوں کو جنگ کرنے سے
باز رکھنے پر مجبور ہوجائیں۔‘‘

1890ء سے 2017ء تک کا طویل عرصہ ملکوں اور قوموں کو اس بات کا
قائل نہیں کر سکا ہے۔ ہم ٹیلی وژن اسکرین پر ان خیالی جنگوں کے
دہشتناک مناظر دیکھتے ہیں جن میں مشینیں انسانوں کو ملیا میٹ کرنے
پر تُلی ہوئی ہیں۔ ایسے ہی منظر نامے کے بارے میں شاں مک برائیڈ
نے کہا کہ:

’’بین الاقوامی قوانین کا ایک طے شدہ اصول ہے کہ وہ ہتھیار اور
جنگ کے وہ طریقے جو فوجیوں یا غیر فوجیوں کے درمیان امتیاز نہ
کرسکیں، ان کو استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ غباروں سے برسائے
جانے والے بم غیر قانونی قرار دے دیے گئے تھے: ’’dum-dum‘‘ نامی
گولیوں کو بھی غیر قانونی قرار دے دیا گیا تھا اور ان کا استعمال
اس بنیاد پر جرم تھا کہ وہ غیر ضروری دکھ کا باعث ہوتی تھیں۔
اسپتالوں اور شہری اہداف پر بمباری غیر قانونی تھی۔ یہ سارے اصول
اچانک نابود ہوگئے ہیں۔ ان کے بارے میں وہ بھی بات نہیں کرتے جن
پر عمل کرانا، ان کی ذمے داری میں شامل ہے۔ تاریخ کے سب سے زیادہ
بہیمانہ، ظالمانہ اور خوف ناک ہتھیار جوہری بم کو غیر قانونی تک
قرار نہیں دیا گیا ہے۔

ان قیامت خیز ہتھیاروں کی تیاری اور ان کی ترقی کا عمل نہ صرف
’’عام‘‘ سی بات ہوگئی ہے بلکہ انھیں ’’قابلِ احترام‘‘ سمجھا جاتا
ہے اور عوامی اخلاقی معیاروں کے انہدام کا سب سے خوفناک پہلو وہ
خاموشی ہے جو انسانی قوانین کے پاسداروں نے اختیار کر رکھی ہے۔
حکومتیں براہِ راست یا نیابت میں جنگ شروع کردیتی ہیں جن کا اعلان
تک نہیں کیا جاتا۔ دوسرے ممالک پر حاوی ہونے کے لیے مسلسل طاقت کا
استعمال یا طاقت کے استعمال کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ غیر اعلانیہ
جنگوں میں شہری، مردوں، عورتوں اور بچوں پر بم برسائے جاتے ہیں
اور بلا امتیاز ان کا قتلِ عام کیا جاتا ہے۔ انسانوں، مویشیوں اور
فصلوں کو تباہ کرنے کے لیے کیمیائی بم استعمال کیے جاتے ہیں۔
قیدیوں سے نہ صرف برا سلوک کیا جاتا ہے بلکہ ان کو باقاعدہ ایسی
اذیتیں دی جاتی ہیں جو تاریخ کے وحشیانہ دور سے بھی بری نوعیت کی
ہوتی ہیں۔

بعض حالات میں تو یہ سب کچھ ان حکومتوں کی، براہِ راست یا خاموش
منظوری سے کیا جاتا ہے جو مہذب ہونے کی دعویدار ہوتی ہیں۔ کبھی
کبھی تو خود فوج اور پولیس اذیت رسانی کی مخصوص تربیت کا اہتمام
کرتی ہے اور اذیت کی نئی تراکیب ایک ملک سے دوسرے ملک کو برآمد
کی جاتی ہیں۔ اندرونی خلفشار پیدا کرنے، ممالک میں اختلاف
پھیلانے، جمہوری طریقوں سے منتخب کردہ حکومتوں کر گرانے اور
مخالفین کے سیاسی قتل میں خفیہ طاقتوں کو استعمال کیا جاتا ہے۔
کہیں تو حکومت کے رہنما اقتدار میں رہ کر ناجائز دولت اکٹھا کرنے
کے لیے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ اکثر، حکومت گرانے
کے بعد اس کے ارکان اور ان کے مدد گاروں کا قتلِ عام کیا جاتا ہے۔
یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ کسی زمین سے ایک نسلی گروہ کو اکھاڑ کر
دوسرے گروہ کو بسایا جاتا ہے تاکہ ان کے ذریعے اقتدار پر قبضہ
جاری رہے اور اس کے لیے یکسر قتلِ عام سے بھی دریغ نہیں کیا جاتا
ہے‘‘۔

یہ وہ صورت حال ہے جو ہم اپنے ارد گرد دیکھ رہے ہیں اور ہم میں سے
کچھ لوگ کوشش کررہے ہیں کہ وہ سب کچھ نہ ہو جو دنیا میں بعض مادر
پدر آزاد قوتیں کررہی ہیں۔ اسی امید میں ہم 21 ستمبر کو امن کا
عالمی دن مناتے ہیں اور ان بچوں کی آرزوؤں کو تکمیل تک پہنچانے
کی خواہش کرتے ہیں جن کے جمع کیے ہوئے سکّوں سے بنے ہوئے امن
گھنٹے کی آواز ابھی ہمارے وزیراعظم سن کر آئے ہیں۔

Leave a Reply