امر جلیل کو وکیل کرلیں

1974 میں جب میں گڈوانی اسٹریٹ سے رخصت ہوئی تو مجھے معلوم ن تھا کہ امر جلیل اور میں ہم محلہ ۔ وہ سندھی، انگریزی اور اردو کے ایک نادرکہانی کار اور کالم لکھنے والے دانشور، ایک روادار اور کشادہ دل ادیب ۔ اسے محض اتفاق جانیے کہ اکادمی ادیبات کی طرف سے 2017 کے کمال فن ایوارڈ کے منصفین کی بیٹھک اسلام آباد میں ہوئی تو ڈاکٹر قاسم بگھیو کی دعوت پر میں اس کی صدارت کررہی تھی۔ ہم کمال فن 2017 کو امر جلیل کے نام کرکے اٹھے تو ہم سب کو خوشی اس بات کی تھی کہ ہم نے ایک باکمال دانشور اور ادیب کے نام کا انتخاب کیا ۔ امر جلیل کو اس سے پہلے پاکستان کا صدارتی ایوارڈ اور ہندوستان سے اکھل بھارت سندھی ساہت سبھا نیشنل ایوارڈ مل چکااور اب اس میں پاکستان کا سب سے بڑا ادبی ایوارڈ کمال فن بھی شامل ہوگیا ۔ امر جلیل روہڑی، سکھر میں پیدا ہوئے۔ دریائے سندھ کی لہروں سے کھیلے، لطیف اور سچل کی شاعری اور لوک کہانیوں کے جھولے میں جھولے۔ 10 برس کی عمر میں پہلی کہانی لکھی اور اس کے بعد کبھی قلم ن رکھا۔ وہ اب تک سیکڑوں کہانیاں لکھ چکے ۔ 1947 میں ہندوستان کی تقسیم امر جلیل کی زندگی پر گہرے اثرات چھوڑتی ہوئی گزری۔ سندھ وہ صوبہ تھا جہاں ہندوؤں کی ایک بڑی تعداد آباد تھی۔ امر جلیل کے ہم جماعت اور ہم محلہ لوگوں میں بہت سے ہندو بھی ۔ تقسیم ہوئی تو ان کے چہیتے دوست اور ساتھی سندھ چھوڑ ۔ یوں بٹوارے نے ان کی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کیے اور انھوں نے بہت سے ایسے واقعات کا مشاہدہ کیا جن کے زخم کبھی مندمل ن ہوئے۔ ان کی کہانیاں 70 کی دہائی میں اردو سندھی تنازعے کے معاملات بیان کرتی ۔ اس زمانے میں جو کچھ ہوا، سندھ کی فضا جس طرح بدلی، اس کے بارے میں انھوں نے بے قرار ہوکر لکھا کہ یہ میرا سندھ تو ن جو اپنی مذہبی رواداری، دوستیوں او رمحبتوں کے لیے پہچانا جاتا تھا۔ مغربی پاکستان کے فوجی حکمرانوں، سیاستدانوں اور سرمایہ کاروں نے جو کچھ مشرقی پاکستان کے ساتھ کیا، اس کے بارے میں امر جلیل نے کسی لگی لپٹی کے بغیر لکھا۔ اسی طرح جنرل ضیاء الحق کے دور حکومت کی عکاسی انھوں نے اپنی کہانیوں اور اخباری کالموں میں کی۔ ان کی تحریریں پاکستانی سماج کا وہ آئینہجس میں ہمیں اپنے غریب اور سادہ لوح عامیوں کو، گدھ کی طرح نو چنے والے حریص سیاستدانوں، اعلیٰ سرکاری عہدیداروں، فوجی افسروں، زمینداروں، وڈیروں، پیروں غرض تمام طبقات کے کریہہ چہرے نظر آتےلیکن امر جلیل یہ خاکہ نگاری کرتے ہوئے اپنے قلم کو تلخ ن ہونے دیتے، وہ مزاح اور استہزا کے پردے میں سب کچھ کہہ جاتے ۔ وہ سندھی کے ایک جید لکھنے والے ، انھوں نے انگریزی میں لکھا اور ان کی تحریریں اردو میں بھی شایع ہوتی رہی ۔ 1972 کے لسانی فسادات کے بعد سندھ میں اردو کے نام پر جو سیاست ہوئی اس نے سندھ والوں کو جس طرح تقسیم کیا، وہ ایک نہایت الم ناک داستان ۔ وہ لوگ جنھیں سندھ نے پناہ دی تھی، انھوں نے سندھ کے بنیادی مفادات کا پاس ن رکھا۔ اس چپقلش کے دوران انھوں نے یہ نہ سوچا کہ اصل نقصان وہ خود کو اور اپنی آیندہ نسلوں کو پہنچا ر ۔ ہجرت کرکے سندھ آنے والوں کا عمومی طور پر یہ عالمکہ ’لشکر کی حدیں چار ، چاروں سے لڑائی، اس لیے ان سے یہ توقع ذرا مشکلکہ وہ سندھی، پنجابی، سرائیکی، پشتو اور پاکستان کی دوسری زبانیں بولنے والوں کو مشتعل کرنے کے بجائے ان سے شیر و شکر ہونے کا رویہ اختیار کریں گے۔ اس نازک مرحلے پر اور اتنے پُرخطر اور سیاسی اعتبار سے اشتعال پذیر حالات میں امر جلیل نے اپنے سندھی قارئین اور چاہنے والوں کے سامنے اردو کا مقدمہ لڑا۔ میں ان کے کالموں کو بہت شوق سے پڑھتی ہوں، اس لیے کہ اس میں سوچنے سمجھنے کے بہت سے نکتے ہوتے ۔ انھوں نے 2017 کے وسط میں اردو کے بارے میں تسلسل سے کئی کالم لکھے جنھیں اردو مادری زبان والوں کو ضرور پڑھنا چاہیے اور اس سے اپنی تہذیبی اور ادبی، دانش میں اضافہ بھی کرنا چاہیے۔ اپنے ایک کالم ’’اردو متنازعہ ن ‘‘ میں انھوں نے لکھا: ’’ہندوستان کا بٹوارا اردو نے ن کیا تھا، مسلمان سیاستدانوں نے تحریک پاکستان کے دوران اردو کا بے دریغ استعمال کیا تھا، اس لیے اردو پر ہندوستان توڑنے کا الزام لگا تھا، پاکستان بننے کے چوبیس برس بعد 1971 میں جب پاکستان دو لخت ہوا تھا اور مشرقی پاکستان، بنگلہ دیش بنا تھا تب بھی اردو پر پاکستان توڑنے کا الزام لگا تھا، برصغیر کے دو ممالک ہندوستان اور پاکستان دنیا کے دو نرالے ملک ، جہاں ناقص سیاسی حکمت عملی اور متعصب اور مطلبی سیاستدانوں کے بجائے بہت بڑے سیاسی المیوں کے اسباب ک اور تلاش کیے جاتے ‘ وہ اردو کو قومی زبان بنانے کا شور مچانے والوں کے بارے میں کہتے : ’’کون لوگجو کچھ عرصے کے بعد اردو کو متنازع بنانے کی کوشش کرتے ؟ میں ن جانتا کہ وہ لوگ کوناور کیا چاہتے ، مجھے لگتایہ وہ لوگجنہوں نے اردو کو ڈھال کے طور پر استعمال کیا ، اردو کے پیچھے چھپے ہوئے ، انھوں نے اردو کو بیساکھیوں کی طرح استعمال کیا ، اردو کو متنازع بنایا ۔ میں ایک مرتبہ پھر دہرا دوں کہ اردو ایک کرشماتی زبان ۔ کوئی ادارہ یا لوگ اردو کو قومی زبان بنانے کا سہرا اپنے سر ن لے سکتے، یہ کارنامہ اردو نے خود بہ خود سر انجام دے دیا ، قدرت نے اردو کو اپنے بل بوتے پر پھلنے پھولنے، دلوں میں اتر جانے کی صلاحیت دی ، پاکستان کے چپے چپے پر اردو بولی اور سمجھی جاتی ، ہر ادارے میں اردو بولی اور سمجھی جاتی ، عدالتوں میں اردو بولنے کی ممانعت ن ، اردو کو وکالت کی ضرورت ن ، اردو نے خود بہ خود ثابت کردیاکہ وہ پورے پاکستان کی زبان ، پاکستان کی قومی زبان ۔ اس میں کسی شک شبہ کی گنجائش نکہ اردو کے بغیر پاکستان کا کام ن چل سکتا‘ وہ اردو کا مقدمہ لڑتے ہوئے لکھتے : ’’اردو کے حوالے سے مجھے جس بات نے زیادہ حیران کیا ، وہاردو کا روح میں اترجانا، روح میں اترجانے سے میری مرادکہ اردو خود بخود اپنے آپ، آپ کو آنے لگتی ۔ آپ محسوس کرتےکہ اردو آپ کو آتی ۔ آپ اردو جانتے ۔ میں سب لوگوں کی ترجمانی کا دعویٰ ن کرتا۔ یہ میں محسوس کرتا ہوں، یہ میرا اپنا احساس ۔ میں نے اردو کسی سے ن سیکھی۔ میں محسوس کرتا ہوں کہ اردو مجھے بچپن سے آتی تھی۔ آپ جس زبان میں سوچتے ، وہ زبان آپ کو اپنی زبان لگتی ۔ اردو سب کو اپنی زبان لگتی ۔ اب میں آپ کو سوچنے کی دعوت دیتا ہوں، آپ فقیر کی بات غور سے سنیے۔ توجہ دیجیے۔ اردو، ادیبوں اور شاعروں میں بڑی تعداد ان لکھنے والوں کیجن کی مادری زبان اردو ن تھی۔ پاکستان کا قومی ترانہ لکھنے والے حفیظ جالندھری کی مادری زبان اردو ن تھی۔ احمد ندیم قاسمی کی مادری زبان اردو ن تھی۔ احمد فراز کی مادری زبان اردو ن تھی۔ منیر نیازی کی مادری زبان اردو ن تھی۔ میں سمجھتا ہوں کہ ابن انشا کی مادری زبان اردو ن تھی۔ کس کس کے نام گنواؤں؟ کرشن چندر، منٹو، راجندر سنگھ بیدی کی مادری زبان اردو ن تھی موجودہ دور میں عطاالحق قاسمی، اصغر ندیم سید، مظہر الاسلام، اور امجد اسلام امجد کی مادری زبان اردو ن ۔ آپ جس زبان میں سوچتےاسی میں لکھتے ۔ ہم سوچتے اس زبان میںجو زبان ہماری روح میں پنہاں ہوتی ۔ یہی وجہکہ میں نے اردو کے لیے دو الفاظ استعمال کیے ، کرشمہ اور معجزہ‘ امر جلیل ہمارے ایک بڑے لکھاری اور دانشور ۔ وہ اردو کو معجزہ اور کرشمہ کہتے ۔ لیکن ہم اردو والے اپنی زبان کو ہمیشہ خطرے میں محسوس کرتے ۔ پہلے ہم نے ہندوستان کے طول و عرض میں بولی، سمجھی اور لکھی جانے والی زبان کے خطرے میں ہونے کا نعرہ لگایا اور اسے اسلام اور پاکستان سے نتھی کردیا، پھر ہم نے اسے بنگلہ سے دست و گریباں کردیا۔ وہ بنگالی جو اردو کا صفحہ زمین پر گرا دیکھ کر اسے اٹھاتا تھا اور چوم کر احترام سے ایک طرف رکھ دیتا تھا، وہ اردو اور اردو بولنے والوں کے خون کا پیاسا ہوا۔ وہ اردو جس کے مشاعرے تقسیم سے بہت پہلے سندھ میں ہوتے ۔ الطاف حسین حالی جن مشاعروں میں شرکت کرتے ، وہاں ہم نے اردو کو سندھی سے لڑا دیا۔ دلوں میں وہ گرپڑیں جو انگلیوں سے ن دانتوں سے کھولنے کی کوشش ہوتی ۔ بعد میں اردو کے نام پر جو خونیں سیاست سندھ میں ہوئی اس میں قتل ہونے اور قتل کرنے والے دونوں ہی اردو بولتے ۔ کاش ہم اردو بولنے والوں میں بھی امر جلیل جیسا جلیل القدر دانشور ہوتا جو گہری کالی رات میں ان کے لیے دانش کا دیا جلاتا اور وہ اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارنے کے بجائے کسی سیدھے راستے کا انتخاب کرتے۔ اگر وہ سیاسی غلطیاں کرتےلیکن اگر وہ یہ غلطیاں بار بار کرتے ہی چلے جائیں تو یقین کرلیجیے کہ انھوں نے اپنے لیے خودکشی کا راستہ منتخب کرلیا ۔ ہم اردو والے اگر امر جلیل کو اپنا وکیل مقرر کرلیں تو کیا ہی اچھا ہو۔

متعلقہ خبر یں

روزانہ خبریں اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Leave a Reply