بلوچستان کیا پولیس کے شہداء کا خون ارزاں ہے؟

راقم جس روز کوئٹہ پہنچا اس سے ایک روز پہلے ایس پی محمد الیاس اپنی اہلیہ اور بیٹے پوتے سمیت شہید کردیا گیا اور اس سے چند روز پہلے ڈی آئی جی حامد شکیل نے جامِ شہادت نوش کیا، پولیس نے اس پاک دھرتی کو اپنے خون سے بہت سیراب کیا ۔ اس عالمِ آب و خاک میں زندگی، حرارت اور توانائی خونِ شہیداں کی مرہونِ منّت ۔ شہداء بھی عجب مخلوق خالق کو اس قدر پیارے اس قدر لاڈلے کہ ان کے لیے اپنے اٹل قوانین تک بدل دیے۔ روزِ حساب سب کڑے احتساب کے پلِ صراط سے گزریں گے مگر شہداء کومستثنیٰ قرار دے دیا۔ ساری مخلوق موت کا ذائقہ چکھے گی۔ مگر شہیدوں کو موت بھی ن مارسکے گی، وہ ہمیشہ زندہ ر گے ۔بلاشبہ شہادت وہ اعزازجس پر پوری مخلوق رشک کرے۔ شہداءبھی علیحدہ قسم کی مخلوق جنھیں نہ ستائش کی تمنّانہ صلے کی پرواہ، اُن کا ہدف نہ مالِ غنیمتنہ کشور کشائی۔ صرف اور صرف اﷲکی خوشنودی کے لیے اور دوسرے شہریوں کی جانیں بچانے کے لیے اپنی سب سے قیمتی متاع قربان کردیتے ۔ شہادت آقائے ؐدوجہاں ؐکے قریب ترین صحابہ کی سب سے بڑی خواہش رہیجس کے لیے وہ دعائیں مانگتے ر۔ یہی وجہکہ شہادت کے مرتبے پر فائز ہونے والوں کے گھر آہ وزاری ن ہوتی، لوگ شہیدوں کی ماؤں کے پاس مبارکباد دینے آتے ۔ ایڈیشنل آئی جی اشرف نور کے چہرے کا نور اور کردار کی پاکیزگی کا حسن ملنے والے کو اپنے سحر میں لے لیتا، اعلیٰ صلاحیت اور سیرت کے حسنِ کمال کا پیکر تھا جو بھی اسے ملتا پوچھتا ہی رہ جاتا کہ ایسے فرشتے بھی پولیس میں ہوتے ؟حامد شکیل ایک اعلیٰ درجے کا کمانڈر تھا۔ بلوچستان کا ہر افسر گواہی دے رہا تھا کہ ہم نے اس جیسا دلیر افسر ن دیکھا، خطرناک آپریشنز میں فورس کو فرنٹ سے لیڈ کرتا، اس لیے سپاہ بھی اس کے لیے جانیں دینے کے لیے تیار رہتی۔ ایس پی محمد الیاس نے دہشت گردوں کے بہت سے کیسوں کی تفتیش کی تھی جسکے نتیجے میں بہت سے دہشت گرد گرفتار ہوئے اور بہت سے سزایاب ہوئے۔ اُس روز وہ پرائیوٹ کار میںجب دہشت گردوں نے حملہ کیا، اُس کے ساتھ اس کی اہلیہ ، بیٹا اور پوتا بھی شہید ہو۔ بلوچستان میں دہشت گردی کی اکّا دکّاکارروائیاں ہوتی رہتی ، اس کی بھی وجوہاتلیکن ماضی سے حالات بہت بہتر ۔ سابق وزیرِ اعظم میاں نواز شریف کے دو فیصلوں کو ہمیشہ سراہا جائیگا، ایک خیبرپختونخواہ میں اپنے اتحادیوں کے اصرار کے باوجود انھوں نے پی ٹی آئی کو حکومت بنانے کا موقع دیا اور دوسرا اپنی پارٹی کی اکثریت ہوتے ہوئے بھی بلوچستان کی وزارتِ اعلیٰ دوسری پارٹی کے ڈاکٹر مالک کو دے دی۔ ڈاکٹر صاحب ایک سنجیدہ، پڑھے لکھے، درویش منش اور دیانتدار سیاسی کارکن ، اس دور میں بلوچستان کے حالات میں بیمثال بہتری آئی۔ سیاسی قیادت ڈاکٹر مالک کے پاس تھی، عسکری قیادت جنرل ناصر جنجوعہ کے پاس اور چیف سیکریٹری بابریعقوباس مثلّث نے فوج اور پولیس کی مدد سے بلوچستان کو بدل کررکھ دیا۔ ڈاکٹر صاحب عوامی آدمیاور ہر شخص کی ان تک رسائی تھی۔ جنرل جنجوعہ نے ایک جوش اور ولولے سے حالات بہترکرنے کی جدوجہد کی اور چیف سیکریٹری ادارہ جاتی تعصّب اور complexesسے آزاد اور ایک صاف دل انسان تھا، بابر یعقوب، جی سی لاہور میں ہم سے ایک سال جونیئر ، ان سے جب بھی بات ہوئی انھوںنے کُھلے دل سے پولیس کی قربانیوں کا تذکرہ کیا اور ہمیشہ اعتراف کیا کہ کوئٹہ کو پرامن بنانے میں رحیم یار خان سے تعلّق رکھنے والے ، ہر حال میں رزقِ حلال کھانے والے صاحبِ دانش ڈی آئی جی عبدالرزاق کا کلیدی کردار ۔ بلوچستان کو اس کے بعد نہ اُس جیسا وزیرِاعلیٰ ملا نہ اُس جیسا چیف سیکریٹری۔ موجوہ وزیرِاعلیٰ نواب بھیاور دشمنیوں کی وجہ سے ان کے سیکیورٹی کے بہت مسائلاس لیے بطور وزیرِاعلی وہ اپنے فرائض بھی موثر طور پر انجام ن دے پا ر ، انتہائی ضروری میٹنگوں میں شریک ن ہوتے،accessible ناس لیے حکومت اور گورننس کا ہر شعبہ متاثّر ہورہا ۔ بلوچستان پولیس کے حوصلے بلندمگر یہ بھی حقیقتکہ کچھ پی ایس پی افسر کوئٹہ کی تعیناتی سے گھبراتے ، ایسا رویّہ اعلیٰ پولیس افسروں کے شایانِ شان ن ، مشکل محاذ پر بھی لڑنا پڑے تو بھی اچھے کمانڈر اس سے گریز نکرتے مگر اس کے لیے ضروریکہ ان کی مکمل سرپرستی کی جائے۔ اُنکا ایسے خیال رکھا جائے جیسے فوج اپنے بریگیڈیرز کا رکھتی ۔ ہر سطح کے افسر شکوہ کرتےکہ ہمارا میڈیا جس طرح فوجی افسروں اور جوانوں کی شہادتوں کا نمایاں طور پر ذکر کرتا(جو ہونا چاہیے) اُس طرح پولیس کے شہداء کی قربانیوں کا ذکر ن کیا جاتا۔ کسی اخبار کا حوالہ دیا گیا جس میں صفحۂ اوّل پر لکھا تھا “دہشت گردوں کے حملے میں دو فوجی افسر شہید اور تین پولیس والے ہلاک ہو”۔ پولیس کی قربانیوں کو کمتر اور پولیس کا خون ارزاں کیوں سمجھا جاتا ؟ ایسا امتیاز ہرگز مناسب ن۔ پولیس، فوج کی طرح معاشرے سے کٹ کر اور دور رہ کر فرائض سرانجام ن دیتی بلکہ اسے کمیونٹی کے اندر رہ کر پولیسنگ کا کام کرنا ہوتااس لیے معاشرے کی اچھائیوں، برائیوں اور اس کے مثبت اور منفی اثرات سے محفوظ ن رہ سکتی، اکثر پولیس افسر پولیس میں در آنے والی برائیوں کا یہ کہہ کر دفاع کرتےکہ پولیس معاشرے کا آئینہ ہوتی(Police is the reflection of society)۔ مگر راقم کا نظرّیہکہ جس نوعیّت کی ذمّے داریاں پولیس کی سپرد کی گئیانھیںاحسن طریقے سے نبھانے کے لیے اعلیٰ ترین اوصاف ضروری ۔ ان ذمّے داریوں سے انصاف کرنا عام آدمیوں کے بس کی بات ن اس لیے “Police should be the reflection of the best part of society”یعنی پولیس معاشرے کے پست حصّے کا ن بلکہ بہترین حصّے کا آئینہ ہونی چاہیے۔ پولیس کی قربانیوںکی قدر ن کی جاتی اور اسے وہ مقام ن دیا جاتا جو اس کا حق ، یہ بات کسی حد تک درستمگر اس کا ذمّہ دار کون ؟ پولیس لیڈر شپ کو یہ سوچنا چاہیے کہ اس کی ذمّہ دار خود پولیس ۔ پولیس کے اندر موجود وہ کالی بھیڑیںجو اپنے سیاہ کرتوتوں سے خونِ شہداء کا تقدّس پامال کرتی ، اُن سے نجات حاصل کرنے اور محکمے کو ایسے بدنام عناصر سے پاک کرنے کی ضرورت ۔ محکمۂ پولیس کے دامن میں سب سے قیمتی سرمایہ شہیدوں کا خون ۔ شہداء اپنے خون سے پولیس کے داغ دھوتے ، اُس کا سر اُونچا کرتےاور اسے عزّت و تکریم بخشتے ۔ کرپٹ، حرام خور اور بدتمیز اہلکار پولیس کا دامن داغدار کرتے ، اپنے کرتوتوں سے پورے محکمے کا سر جھکا دیتےاور اسے عزّت و احترام سے محروم کردیتے ۔ ایسے عناصر جو پورے محکمے کے چہروں پر بدنامی کی کالک مَل دیں، وہ محکمے کے دشمن ، اُن سے دشمنوں والا سلوک ہونا چاہیے، اُن کا سخت ترین محاسبہ ہونا چاہیے اور جس طرح پودے کی نشوونما اور افزائش کے لیے مردہ شاخ کاٹ دی جاتی ، اسی طرح ادارے کی بقاء اور امیج کے لیے بدنام عناصر کو محکمے سے علیحدہ کردینا چاہیے کیونکہ یہ وہ بدبخت عناصرجنکی وجہ سے پولیس کی بے مثال قربانیوں کا بھی کھل کر اعتراف ن کیا جاتا اوراخبار نویس ملک اور قوم کے لیے جان تک قربان کردینے والوں کو شہید لکھنے سے بھی گریز کیا جاتا ۔ میں وزیرِاعظم صاحب سے گزارش کرونگا کہ وہ کم از کم ایک ارب روپے کا ایک خصوصی پیکیج بلوچستان پولیس کو فوری طور پر دیں تاکہ پولیس افسران کو بلٹ پروف گاڑیاں مہیّا کی جاسکیں۔ جنگ میں کمانڈر کا محفوظ رہنا ازحد ضروری ہوتا ، اگر وہ محفوظ نہ ر تو سپاہ بے حوصلہ ہوجاتی ۔ سیکیوریٹی فورسز نے بلوچستان میں ریاست کے باغیوں اور بھارتی ایجنٹوں کا کافی حد تک صفایا کیا ۔ اب باغیوں کو بلوچستان میں نئی ریکروٹمنٹ کے لیے بلوچ نوجوان ن مل ر مگر دہشت گردی کے حالیہ واقعات کون کرارہااور اس کا ہیڈکواٹر کہاں ۔ اس دہشت گردی کا مرکز اور منبع افغانستان ، اس میں ملوّث افراد کا تعلّق انھی فرقہ وارانہ تنظیموں سےجنکے ہیڈکواٹرز اب افغانستان منتقل ہوچکے ، جب کابل میں کوئی دھماکا ہوتاتو وہ اس کے جواب میں بلوچستان میں دہشت گردی کی کوئی واردات کرنے کی کوشش کرتے ۔ اس کے علاوہ پاکستان کے تمام عالمی دشمن سی پیک کو ناکام بنانے یا اس کی راہ میں روڑے اٹکانے کے لیے ایٹری چوٹی کا زور لگار ۔ امریکا کی موجودہ انتظامیہ کے عزائم خطرناکاس کے لیے سب سے اہم بات یہکہ تمام سیاسی اور عسکری اداروں کے درمیان مکمل ہم آہنگی ہو، وہ اپنی اپنی اناؤں کو چھوڑدیں، ان کے سامنے ایک ہی ترجیح ہو ملک کی بقاء اور استحکام۔۔۔ نوٹ:ہمارا “آزاد” میڈیا جو ایکٹرسوں کے سکینڈلوں اور ان کی منگنیاں ٹوٹنے پر کئی کئی دن پروگرام کرتا ، اپنی اہم مصروفیات مین سے وقت ن نکال سکا اس لیے بانیٔ پاکستان کی شخصیّت اور نظریات پر کوئی بھی سنجیدہ اور معیاری پروگرام ن کرسکا، یہ بات تشویشناک بھیاور شرمناک بھی،  یہ ذہنی افلاس بھیاور احساسِ کمتری بھی، کیا قوم اس بات کی اجازت دیگی کہ گھٹیا قسم کے پروگراموں کی دوڑ میں بابائے قوم کو بھی نظرانداز کردیا جائے؟

متعلقہ خبر یں

روزانہ خبریں اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Leave a Reply