بھوک اور خوف کا لباس

جاوید چوہدری
جاوید چوہدری
ہم ان کے پاس بیٹھ گئے‘‘ وہ میٹھی نظروں سے ہماری طرف دیکھنے لگے‘ میں اپنے دوستوں کا ترجمان تھا‘ میرے دوست مختلف شعبوں سے تعلق رکھتے تھے‘‘ یہ بزنس مین بھی تھے‘‘ تاجر بھی‘ سیاستدان بھی‘ کھلاڑی بھی اور لکھاری بھی۔ ان سب کے ذہنوں میں سیکڑوں ہزاروں سوال ابھرتے‘ اٹھتے اور مچلتے تھے‘‘ یہ ان سوالوں کو بآواز بلند دہراتے بھی تھے‘ لیکن یہ لوگ جب ان کے سامنے پہنچتے تھے‘ تو ان کے سارے لفظ گونگے ہو جاتے تھے‘ اور یہ پریشانی کے عالم میں میری طرف دیکھنے لگتے تھے‘ چنانچہ مجھے ان کے جذبات اور خیالات کو لفظ دینا پڑتے تھے۔
اس بار بھی یہی ہوا‘ ہم دو دن تک معاشی تنگدستی‘ خوف اور بد اطمینانی پر گفتگو کرتے رہے‘‘ہم ایک دوسرے سے پوچھتے تھے‘ ہمیں اللہ تعالیٰ نے رزق کی فراوانی سے نواز رکھا ہے‘‘ ہم میں کروڑ پتی لوگ بھی شامل ہیں‘‘ ہم سب کے پاس اپنے گھر‘ گاڑیاں اور بینک بیلنس بھی ہیں‘‘ ہم لوگ تجارت کرتے ہیں‘ تو سیکڑوں کی چیز ہزاروں بلکہ لاکھوں روپے میں فروخت کرتے ہیں‘ لیکن دولت کی فراوانی کے باوجود ہمیں دولت مندی کا احساس نہیں‘ ہوتا‘ ہم ہفتے میں چار پانچ دن بڑے بڑے ریستورانوں میں کھانا کھاتے ہیں‘‘ ہم فرنچ‘ اٹالین‘ جاپانی‘ چینی اور عربی کھانے کھاتے ہیں‘ لیکن ہمیں ان کھانوں کا ذائقہ محسوس نہیں‘ ہوتا‘ ہم پہلے نوالے کے بعد اس کا ذائقہ بھول جاتے ہیں۔
ہم نے بڑی مدت سے سیر ہو کر کھانا نہیں‘ کھایا‘ ہم نے کوئی ایسی ڈش نہیں‘ چکھی جس کا ہم ذکر کر سکیں‘ ہم لوگ بڑے بڑے آباد اور خوبصورت شہروں میں بھی رہتے ہیں‘‘ ہمارے سیکٹر اور محلے بھی ’’سیکور‘‘ اور محفوظ ہیں‘ لیکن اس کے باوجود ہمیں اطمینان سے بھر پور نیند نہیں‘ آتی‘ ہم ساری ساری رات کروٹیں بدلتے رہتے ہیں۔
۔ کیوں؟ ہم دو دن تک مسلسل بحث کرتے رہے‘ لیکن ہمیں اس کا کوئی سر پیر نہیں‘ ملالہٰذا ہم نے سوچا ہم اپنے مسئلے ان کے سامنے رکھیں گے اور ان سے جواب پوچھیں گے‘ ہم ان کے سامنے پہنچ گئے‘ لیکن میرے دوست خاموش ہو کر بیٹھ گئے‘ چنانچہ مجبوراً مجھے پہل کرنا پڑی‘ میں نے سوال پوچھا اور خاموشی سے انھیں دیکھنے لگا۔ وہ چند لمحے خاموش رہے‘ اور پھرانھوں نے فرمایا ’’مسلمان کی حیثیت سے ہمارا ایمان ہے‘ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب ہے‘ اور دنیا کی ہر چیز‘ ہر بات اور ہر حقیقت جھٹلائی جا سکتی ہے‘ لیکن قرآن مجید کے کسی نکتے‘ کسی حرف اور کسی لفظ پر شک نہیں‘ کیا جا سکتا‘‘ انھوں نے میری طرف دیکھا‘ میں نے فوراً تصدیق میں سر ہلایا اور عرض کیا ’’آپ درست فرما رہے‘ ہیں‘‘ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا ایک ایسا ڈاکومنٹ ہے‘ جس میں انسان کا ماضی‘ حال اور مستقبل درج ہے‘ اور اگر ہم صرف قرآن مجید کا مطالعہ کر لیں تو ہمیں اس میںنہ صرف اپنے مسائل کی بنیاد نظرآ جائے گی بلکہ ہمیں اپنے مسائل کا آسان اور سیدھا حل بھی مل جائے گا‘‘ وہ مسکرائے اور نرم آواز میں بولے ’’آپ اگر پاکستان کے موجودہ حالات کی وجہ معلوم کرنا چاہتے ہیں‘ تو پھر سورۃ النحل کی آیت نمبرایک سو بارہ کا مطالعہ کریں۔ آپ کو یوں محسوس ہو گاجیسے یہ آیت اللہ تعالیٰ نے پاکستان کے لیے اتاری تھی‘‘ میں بات آگے بڑھانے سے قبل آپ کو اس آیت کا ترجمہ سناتا ہوں‘ آیت کا ترجمہ کچھ یوں ہے‘ ’’اور اللہ ایک ایسی بستی کی مثال دیتا ہے‘ جس میں امن بھی تھا اور اطمینان بھی اور بستی کے لوگوں کو ہر طرف سے فراوانی سے رزق ملتا تھا لیکن پھر ان لوگوں نے اللہ کی نعمتوںکی نا شکری کی اور اللہ نے جواب میں انھیں بھوک اور خوف کا لباس پہنا دیا‘‘ وہ رکے‘ انھوںنے طویل سانس لیا اور سنجیدگی سے بولے ’’اس آیت کا پس منظر‘ پیش منظر اور حتمی وضاحت تو کوئی عالم دین ہی کر سکتا ہے‘ لیکن ہم اگر اپنے حالات کا جائزہ لیں تو ہمیں محسوس ہو گا پاکستان اور اس آیت میں بیان کی گئی بستی میں بہت مماثلت ہے۔
یہ ملک اللہ کی ایک بہت بڑی نعمت تھا چنانچہ اس میں امن بھی تھا‘ اطمینان بھی تھا اورا س ملک کے لوگوں کو فراوانی سے رزق بھی دستیاب تھا‘ ہمارا پنجاب تقسیم سے قبل پورے ہندوستان کو گندم فراہم کرتا تھا‘ قیام پاکستان کے بعد بھی پنجاب مشرقی اور مغربی پاکستان کے دونوں حصوں کے لیے اناج اگاتا تھا لیکن پھر ہم نے اللہ کی نا فرمانی کی‘ ہم نا شکری کے مرتکب ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے بطور سزا ہمیں بھوک اور خوف کا لباس پہنا دیا لہٰذا آج ہماری بھوک کا یہ عالم ہے‘ کہ ہمارے دیہات میں بھی گندم نہیں‘ ملتی۔ ہمارے کسان بھی شہروں سے سبزیاں خرید کر گاؤں لاتے ہیں‘ اور پورے ملک میں آٹے کے لیے قطاریں لگ جاتی ہیں‘ جب کہ شادی بیاہ اور افطار پارٹیوں میں کروڑ اور ارب پتی لوگ بھی بھوکوں کی طرح کھانے پر ٹوٹ پڑتے ہیں‘‘‘ وہ رکے‘ انھوں نے لمبا سانس بھرا اور بولے ’’ہماری بھوک صرف روٹی تک محدود نہیں‘ بلکہ ہم میں سے ہر شخص دولت‘ عہدے‘ اسٹیٹس‘ بڑی گاڑی‘ بڑے مکان‘ بڑے بینک بیلنس‘ بڑے دفتراور لمبے اقتدار کی بھوک میں بھی مبتلا ہو چکا ہے‘ اور ہم اپنی یہ بھوک مٹانے کے لیے کسی بھی سطح تک جا سکتے ہیں۔
لہٰذا آپ اگر غور کریں تو آپ کو محسوس ہوگا ہم نے سر سے پاؤں تک بھوک کا لباس پہن رکھا ہے‘‘‘ وہ رک کر چند لمحے میری طرف دیکھتے رہے‘ اور پھر بولے ’’ یہی صورتحال خوف کی ہے۔
ہم آج سے تیس‘ چالیس برس قبل بے خوف ہوا کرتے تھے‘‘ گلیوں میں‘ چھتوں پر سوتے تھے‘ اور کالی سیاہ راتوں میں اکیلے پیدل سفر کرتے تھے‘ اور ہمارے دل میں کسی قسم کا کوئی خوف نہیں‘ ہوتا تھا لیکن ہم آج اس قدر خوف کا شکار ہیں‘ کہ ہمارا بچہ اسکول سے دس منٹ لیٹ ہو جاتا ہے‘ تو ہم بے ہوش ہو جاتے ہیں‘‘ ہم پانی کی کمی کے خوف کا شکار ہیں‘‘ ہم بجلی اور پٹرول کے خوف کا شکار ہیں‘‘ بم دھماکوں اور خود کش حملوں کے خوف کا شکار ہیں۔
ہم روپے کی قدر میں کمی کے خوف کا شکار ہیں‘‘ ہم امریکی میزائلوں کے خوف کا شکار ہیں‘‘ ہم طالبان کے خوف کا شکارہیں‘‘ ہم کاروبار کے مندے‘ بینکوں کے دیوالیہ پن اور اسٹاک ایکس چینج کے گرتے بڑھتے انڈیکس کے خوف کا شکار ہیں‘‘ ہمارے خوف کا یہ عالم ہے‘ کہ ہم گھروں کو دس دس تالے لگاتے ہیں‘ لیکن ہمیں پھر بھی نیند نہیں‘ آتی چنانچہ آپ غور کیجیے آپ کو بھی محسوس ہو گا ہم سب نے خوف کا لباس پہن رکھا ہے‘‘۔
وہ رکے‘ میری طرف دیکھا اور دوبارہ گویا ہوئے ’’ہمارے ملک میں امن کی یہ صورتحال ہے‘ کہ تمام دکانوں اور گھروں کے سامنے مسلح گارڈز کھڑے ہیں‘‘ پورے ملک کی فوج‘ پولیس اور سیکیورٹی ایجنسیاں اعلیٰ عہدیداروں کی حفاظت کے لیے وقف ہیں‘ لیکن وزیراعظم اور صدر اپنے ایوانوں سے باہر نہیں‘ نکل سکتے۔ اطمینان کی یہ حالت ہے‘ کہ اس ملک میں دنیا میں سب سے زیادہ خود کشیاں ہوتی ہیں‘ اور ارب پتی لوگ بھی گولیاں کھائے بغیر سو نہیں‘ سکتے چنانچہ یوں محسوس ہوتا ہے‘ ہم سب اللہ کے عذاب کا شکار ہیں‘‘‘ وہ خاموش ہوئے تو میںنے پوچھا ’’حضرت ہمیں بھوک اور خوف کے اس لباس سے نجات کون دلا سکتا ہے‘‘‘ وہ فوراً بولے ’’اجتماعی توبہ اور ہماری حکمران کلاس کا اخلاص لیکن بدقسمتی سے یہ دونوں طبقے خواب غفلت کا شکار ہیں‘‘ عوام اپنی بداعمالیوں میں مصروف ہیں‘ جب کہ حکمران کلاس زبانی کلامی دعوؤں سے مسائل کو ٹالنے کی کوشش کر رہی ہے۔
امریکا نے ہمارے اوپر ایک ان ڈکلیئر جنگ مسلط کر رکھی ہے‘‘ امریکی حکمران بار بار اعلان کر رہے‘ ہیں‘ امریکا اپنے دفاع کے لیے کچھ بھی کر سکتا ہے‘‘ پاکستان کو اپنی پالیسی بدلنا ہو گی‘ امریکا اور بھارت کے جاسوس سر عام گھوم رہے‘ ہیں‘ لیکن ہمارے حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں‘ رینگتی اور یوں محسوس ہوتا ہے‘ ہمیں صورتحال کی سنگینی کا علم نہیں‘‘‘ میں نے عرض کیا ’’کیا خرابی صرف یہیں‘تک محدود ہے‘‘‘ وہ بولے ’’نہیں‘ ‘بات صرف یہیں‘ تک محدود نہیں‘ بلکہ ہمارے پیار اور استعمال کی ترتیب بھی خراب ہے‘‘‘ میں نے پوچھا ’’ وہ کیسے‘‘ وہ بولے ’’پیار اور استعمال کی ترتیب کے بارے میں ابہام پایا جاتا ہے۔
کچھ مورخین کا خیال ہے‘ یہ الفاظ حضرت علیؓ کے ہیں‘ جب کہ بعض حضرات اسے حدیث بھی قرار دیتے ہیں‘‘ یہ الفاظ کس کے ہیں‘‘ یہ میں محققین اور آپ کی صوابدید پر چھوڑتا ہوں تاہم کسی نے آپ سے پوچھا‘دنیا کی ترتیب کب بگڑتی ہے‘‘ آپ نے فرمایا‘انسان پیار کے لیے ہوتے ہیں‘ اور چیزیں استعمال کے لیے لیکن جب لوگ انسانوں کو استعمال کرنا شروع کر دیتے ہیں‘ اور چیزوں سے پیار کرنے لگتے ہیں‘ تو دنیا کی ترتیب میں بگاڑ آ جاتا ہے۔
ہم مانیں یا نہ مانیں لیکن ہماری ترتیب بھی بگڑ چکی ہے‘ ہم نے بھی انسانوں کو استعمال کرنا اور چیزوں سے پیار کرنا شروع کر دیا ہے‘‘ حکمران عوام کے جذبات کو اپنے اقتدار کے لیے استعمال کر رہے‘ ہیں‘ اور کرسیوں اور عہدوں سے محبت کررہے‘ ہیں‘ اور جب اتنی بڑی اور بنیادی چیزوں کی ترتیب بگڑ جائے۔ استعمال کی جگہ محبت لے لے اور محبت کی جگہ استعمال آ جائے تو ملک اور قوم کی ترتیب کیسے درست رہ سکتی ہے‘ چنانچہ ہم مسائل میں پھنستے چلے جا رہے‘ ہیں‘‘۔
میں نے عرض کیا جناب میں واپس آپ کو اپنے مسئلے کی طرف لے جانا چاہتا ہوں۔ میں نے پوچھا ’’میں اپنے اکثر ساتھیوں کو مالی تنگی اور خوف کا شکار دیکھتا ہوں‘ میںاپنے ارد گرد بے سکونی اور بد اطمینانی بھی پاتا ہوں‘‘ وہ بولے ’’میں نے آپ کو قرآن اور حدیث کی روشنی میں اس کی وجوہات بتا دی ہیں‘ چنانچہ آپ لوگ جب تک یہ وجوہات دور نہیں‘ کرتے‘ آپ جب تک شکرادا نہیں‘ کرتے‘ آپ جب تک توبہ نہیں‘ کرتے اور آپ جب تک اپنی ترتیب درست نہیں‘ کرتے‘ اس وقت تک آپ کے مسائل حل نہیں‘ ہوں گے‘ آپ قوم ہوں یا فرد آپ اس وقت تک اسی طرح خوار ہوتے رہیں‘ گے‘۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here