کالموں کے عنوان بھی

حکومت کی جناب سے ملک بھر میں شایع ہونے والے اخبارات اور جرائد کے بارے میں مجوزہ ضابطہ اخلاق عمل میں آنے سے پہلے ہی دم توڑ گیا اور حکومت کے نادان مشیروں کی ہدایات پر  قانون وضع کرنے کے بارے میں رپورٹیں جیسے ہی شایع ہوئیں ہمارے صحافتی دوستوں نے بجا طور پر اسے آزادی ِ اظہار پر شب خون قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف اپنا شدید ردِ عمل ظاہر کیا۔ حکومت کی جانب سے بھی اس معاملے پر فوراً جواب آیا اور اطلاعات کی وزیر صاحبہ نے اس کی تردید کی۔ موجودہ حکومت کی میڈیا کے متعلق پالیسی کسی حد تک جانبدارانہ رہی ہے۔
اس کا اظہار اخبارات اور ٹی وی چینلز پر ہو تا رہا ہے۔
اور ہمارا میڈیا واضح طور پر دو دھڑوں میں تقسیم کا شکار نظر آیا حالانکہ ہمارا کام عوام تک درست بات کو پہنچانا اور حکومت کو عوامی مشکلات سے باخبر رکھنا ہے۔
لیکن حکومت نے ایک دھڑے کی جانب جھکاؤ سے صحافت کے بنیادی مقصد کو اُلٹ پُلٹ کر دیا جس کا فائدہ تو کسی کو  ہو ا یا نہیں‘ لیکن اہل صحافت نقصان میں ہی رہے۔
مجھے ذاتی طور پر ایک فوجی آمر کی جانب سے اخبارات پر قدغن لگانے کے متعلق ایک قصہ یاد آگیا جو میرے کالم سے ہی متعلق ہے۔
اس کالم سے پہلے میں سیاسی باتیں کے عنوان سے کالم لکھا کرتا تھا لیکن اسی دوران ایک آمر کا راج آ گیا چنانچہ اس نے اعتراض کیا کہ اس کالم میں بیان تو عموماً سیاست کا ہوتا ہے‘ لیکن اس کا عنوان اس کے بر عکس ہوتا ہے۔
جیسا کہ عرض کیا کہ یہ زمانہ ایک آمر کا تھا اور وہ آمر تھا جنرل یحیٰ خان۔ جنرل صاحب کو بھی اس تحریر کے مندرجہ جات اور ان کا عنوان غیر موزوں نظر آئے چنانچہ انھوں نے اپنے اسٹاف کو اس کی طرف اشارہ کیا اور اس دو عملی کو ختم کرنے کی کوشش کی بلکہ حکم صادر کیا۔ یاد نہیں‘ رہا کہ وہ کون حالات کا مارا ہوا یحیٰ خان کے دربار میں شامل تھا۔ محفل میں جب اس پر گفتگو چلی تو انھوں نے تجویز کیا کہ اس میں بڑی آسانی کے ساتھ ایک ترمیم کی جا سکتی ہے‘ اور سیاسی کو غیر سیاسی کیا جا سکتا ہے۔
مجلس میں اس ترمیم کو قبول کر لیا گیا اور غیر سیاسی باتیں کا عنوان قبول کر لیا گیا۔ یہ عنوان سیاسی باتیں کے ساتھ غیر سیاسی باتیں بن گیا اور جنرل یحیٰ خان کے ساتھیوں نے اسے قبول بھی کر لیا۔ بس ایک احتیاط یہ کرنی پڑی کہ اس میں سیاست کا عنصر بھی بڑھا دیا گیا اور مارشل لاء کے اس دور میں یہ ایک غیر مارشل لائی عنوان ٹھہرا جو جوں توں کر کے قبول کر لیا گیا۔ یحیٰ خان کے زمانے میں چند اہل ذوق جمع ہو گئے‘ تھے‘ جنہوں نے یہ عنوان قبول کر کے اور اسے آراستہ کر کے یحیٰ خان کے دربار میں پہنچا دیا جہاں اسے شرفِ قبولیت مل گیا۔  یحیٰ خان کو یہ سب پسند آگیا اور میری روزی لگی رہی بلکہ یحیٰ خان کے بعض حواریوں کو پسند بھی آگئی اور میری نوکری مستقل کر دی گئی۔ اس میں خاص بات یہ ہے‘ کہ نوکری دینے والے کو نوکری کی کچھ سمجھ نہ تھی ۔ انھیں کوئی بات ایسے پسند آگئی کہ وہ کسی ملازمانہ ٹکڑے کو پسند کر گئے‘ اور یہ ملازمانہ تحریر انھیں پسند آگئی۔ جنرل ییحیٰ خان جیسے بے نقط جرنیل کے زمانے میں فوج کا ایک خاص پہلو بھی دیکھنا پڑا یعنی پاکستانی زندگی کے ایک منفرد پہلو کو بھی بھگتنا پڑا اور جاننا پڑا اور اب تک سمجھ میں نہیں‘ آیا کہ فوج کو اس کی کیا ضرورت ہو گی اور فوج اس کو کیوں برداشت کرتی ہو گی۔ بہرحال فوج کے ایسے کئی پہلو آشکار ہوئے اور فوج کے ساتھ کام کرنے میں سامنے آتے رہے‘ جن کی ضرورت فوج کو ہی ہوتی ہو گی ہم سویلین کو نہیں‘ تھی۔ بہر کیف ہم سو یلین بھی نیم فوجی بن ’کر نہ کام کرتے رہے‘ لیکن خدا ملا نہ ہی وصال صنم۔
فوج اور سول کی زندگی میں فرق ظاہر ہے‘ اور جس کسی نے یہ فرق سمجھ لیا وہ کسی حد تک فوج کا حصہ بن گیا اور فوج کا تمغہ اس کے گلے میں بھی لٹک گیا۔ فوج سے وابستگی کوئی عیب کی بات نہیں‘ ہے۔
فوج کی ضروریات بھی ہم سویلین جیسی ہی ہوتی ہیں‘ لیکن ان کو ایک خاص پس منظر میں پورا کیا جاتا ہے‘ اور فوج کی زبانی منطق اور ضرورت پوری کرنی ہوتی ہے۔
میں آبائی تو طور پر جس علاقے کا رہنے والا ہوں وہ ایک فوجی علاقہ ہے‘ جہاں کے بیشتر لوگوں کا روزگار فوج سے ہی وابستہ ہے‘ اور میرے علاقے کے چوڑے  شانوں اور سروقد اعوان جوان اپنے فوجی ہونے پر فخر کرتے ہیں‘ اور جب بھی سالانہ چھُٹی پر گھر لوٹتے ہیں‘ تو اپنی فوجی زندگی کے الف لیلوی قصے گاؤں کے بڑے بوڑھوں کو سنا کر ان کے دلوں میں فوج کے لیے محبت کے جذبے کو جوان رکھتے ہیں۔
کسی فوجی کے لیے سول کی زبان میں بات کرنا بہت مشکل ہوتا ہے‘ اس کا انداز گفتگو ایک اندازمیں سمجھانا پڑتا ہے۔
ہم نے چند فوجی لکھنے والے بھی پڑھے اور ان کی زبان و بیان تک رسائی کی کوشش کی لیکن ان میں اجنبیت واضح دکھائی دی جس سے اندازہ ہوا کہ فوج کی منطق اور زبان میں نمایاں فرق ہے‘ اور ایک سویلین کے لیے فوجی بن کر لکھنا ایک مشکل کام ہے‘ جس طرح فوجی زندگی ایک الگ انداز کی زندگی ہے‘ اسی طرح فوجی زبان بھی علیحدہ ہے‘ اور آسان نہیں‘ ہے۔
بہرکیف ہم کارکن صحافیوں کی صحافتی آزادی برقرار رہنی چاہیے کہ اسی سے ہمارا بھی دال دلیہ چلتا ہے‘ اور حکومت کا کاروبار بھی کہ صحافت ہی عوام اور حکومت کے درمیان پل کا کردار ادا کرتی ہے‘ لیکن پل کے دونوں سروں پر موجود اداروں کے باہمی تعلقات خوشگوار ہوں گے تو وہ ایک دوسرے کے پاس آجاسکیں گے اور اپنی بات عوام تک پہنچا سکیں گے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here