حسینؓ تجھ کو سلام میرا

میرا چھوٹا داماد ناصر قریشی اپنے دوست جواد اکرم کے ساتھ آج کل زیارات کے لیے عراق گیا ہوا ہے۔
اس نے فون پر بتایا کہ نجف اشرف میں حاضری کے موقع پر اس نے میرے سلام عقیدت کے ساتھ ساتھ میرا لکھا ہوا ایک شعری سلام بھی وہاں پیش کیا ہے‘ اور یہ کہ اس فضا میں وہ ایک عجیب قسم کا روحانی سکون محسوس کر رہا ہے۔
علامہ اقبال نے رب کریم کی راہ میں دی جانے والی قربانیوں کی معراج کو ایک شعر میں کچھ اس طرح سے سمویا ہے‘ کہ غریب و سادہ و رنگیں ہے‘ داستانِ حرم نہایت اس کا حسینؓ ابتدا ہے‘ اسماعیل (علیہ السلام) اتفاق سے ابھی کچھ دیر پہلے ہی میرے دوست احمد جلال حج سے واپسی پر ملاقات کے لیے تشریف لائے تو انھوں نے بھی حج کے تجربے اور فلسفے کا ماحصل صبر اور قربانی ہی کو قرار دیا۔ گویا اولاد ابراہیم علیہ السلام سے نواسہ رسولؐ تک ایک ہی سنت کا تسلسل ہے‘ جو اس کائنات اور اس کے مقصد کو اپنے محیط میں سمیٹے ہوئے ہے‘ اور بلاشبہ یہی دو عظیم قربانیاں اہل ایمان کے لیے رضائے الٰہی کے سب سے روشن اور منور ترین استعارے ہیں۔
جہاں تک واقعہ کربلا اور شہادت امام عالی مقام کا تعلق ہے‘ یہ تمام اہل اسلام کا وہ مشترکہ سرمایہ ہے‘ جو ہر طرح کے مسلکی فرق سے آزاد اور بالاتر ہے‘ کہ حق و انصاف کی سربلندی کے لیے دی گئی یہ عظیم قربانی ایسی ہمہ گیر ہے‘ کہ اس کی معرفت غم حسینؓ میں کی جانے والی سینہ کوبی اور ان کے کردار کی استقامت کے حوالے سے محسوس کیا جانے والا افتخار دونوں ہی اپنا اپنا جواز رکھتے ہیں‘، کہ ہماری سب سے پہلی اور اصل پہچان ہمارا مسلمان ہونا ہے۔
شیعہ‘ سنی‘ اہل حدیث‘ وہابی‘ بریلوی‘ دیوبندی‘ کچھ اور ہونا نہیں‘ کہ ایک خدا‘ ایک رسولؐ اور ایک کتاب پر اشتراک ایمان ہی اصل بات ہے۔
کچھ نہ کچھ متشدد اور انتہا پسند لوگ ہر گروہ میں ہوتے ہیں‘ اور انھی کی وجہ سے بگاڑ اور افتراق پیدا ہوتا ہے‘ کہ یہ محدود اقلیت اپنے مسلکی اعتقادات کی آڑ لے کر فروعات اور مسلمات کو اس طرح سے گڈمڈ کر دیتی ہے‘ کہ 95% اشتراک پر5% اور وہ بھی خود ساختہ اختلافی معاملات اور مسائل حاوی ہو جاتے ہیں‘ اور یوں بقول ابن انشا ایک ایسی صورت حال پیدا ہو جاتی ہے‘ کہ ’’ایک دائرہ اسلام کا بھی ہوتا ہے‘ پہلے اس میں لوگوں کو داخل کیا جاتا تھا آج کل خارج کیا جاتا ہے‘‘‘ اس خطرناک اور تکلیف دہ بات کو انور مسعود نے کچھ اس طرح سے بیان کیا ہے‘ کہ کوئی ہو جائے مسلمان تو ڈر لگتا ہے‘ مولوی پھر نہ بنا دے اسے کافر بابا یہاں ’’مولوی‘‘ سے مراد عالم دین نہیں‘ بلکہ وہی انتہا پسند اور فرقہ واریت کے علمبردار لوگ ہیں‘ جنہوں نے اہل بیت سے محبت اور یاران بنی کی یکساں عزت و حرمت کے مشترکہ ورثے کو بھی ٹکڑوں میں بانٹ دیا ہے۔
رب کریم ہم سب کو اپنے درمیان موجود ان فسادیوں کے شر سے محفوظ رکھے جو بھائی کو بھائی سے جدا کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔
خدائے برتر و پاک نے اپنے پیارے نبی آخر الزماں کی ساری امت کو اہل خیر کا رتبہ عطا کیا ہے‘ اور اس حوالے سے جناب امامؑ اور ان کی عظیم شہادت ہم سب کا اجتماعی اور قابل فخر ورثہ ہیں‘ عدمؔؔ صاحب کا کیا باکمال شعر ہے‘ جب خیر و شر میں دقتِ تفرق ہو گئی بے ساختہ حسینؓ کی تخلیق ہو گئی تو آئیے ہم سب مواخات مدینہ کی تقلید میں یک دل اور یک جان ہو کر کفر اور باطل کی ان قوتوں کے سامنے صف آرا ہو جائیں جو ہمیں تقسیم در تقسیم کرنے کے در پے ہیں۔
میں نے پہلا سلام آج سے 46 برس قبل ان دنوں میں لکھا تھا جب مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بننے کی تیاریاں کر رہا تھا اور پچاس کے قریب مسلم اکثریتی آبادی والے ملک آزادی ملنے کے باوجود طرح طرح کی غلامی میں مبتلا تھے۔
بدقسمتی سے اب بھی صورت حال کچھ زیادہ مختلف نہیں‘ مگر اتنا ضرور ہوا ہے‘ کہ شعور کی سطح آہستہ آہستہ بہتر ہو رہی ہے‘ اور حق اور انصاف کے ساتھ کھڑے ہونے اور ظلم اور بے انصافی کا مقابلہ کرنے کا رویہ طاقت پکڑ رہا ہے۔
فلسطین‘ اردن‘ عراق‘ مصر‘ لیبیا‘ پاکستان اور شام اپنی غلطیوں اور عالمی استعمار کی منصوبہ بندیوں کے تحت کُل یا جزوی طور پر شکست و ریخت کا شکار ہوئے ہیں‘ لیکن ترکی اور ملائیشیا معاشی طور پر اور ایران اور پاکستان اپنی اندرونی مزاحمتی صلاحیت کی بنیاد پر ایسے ملکوں کی شکل اختیار کر رہے‘ ہیں‘ جنھیں تباہ یا نظرانداز کرنا اب آسان نہیں‘ رہا۔ اسلامی ممالک کی تنظیم بھلے ہی بے عملی کا شکار ہو مگر ترکی ایران اور پاکستان اپنے تمام تر اندرونی اور بیرونی مسائل کے باوجود عالمی سیاست میں اہم حیثیت اختیار کرتے جا رہے‘ ہیں‘ اور یوں بالواسطہ طور پر جناب امام عالی مقام کے بنائے اور دکھائے ہوئے اس راستے کی طرف بڑھ رہے‘ ہیں‘ جو دنیا بھر کے حریت اور انصاف پسندوں کے لیے ایک مشعل راہ ہے‘ اور جسے یوں خراج تحسین پیش کیا گیا ہے‘ کہ سرداد‘ نداد دست در دست یزید حقا کہ بنائے لا الہ ہست حسینؓ میرے اس سلام میں بھی بظاہر نوحہ گری کی فضا ہی غالب ہے‘ لیکن اس کا رخ اور اختتام جناب امام کے اسی زندگی آمیز اور زندگی آموز پیغام سے رشتہ آرا ہے‘ جہاں موت کا مطلب ہی تبدیل ہو جاتا ہے‘ اور وہ ہلاکت کے بجائے ایک جاودانی زندگی کا روپ اختیار کر لیتی ہے‘ سو اس امید کے ساتھ 46 برس بعد اس سلام کو دوبارہ جناب امام کی خدمت میں پیش کرتے ہیں‘ کہ آپ کے روحانی تصرف سے رحمت حق ہمارے آنے والے کل کو ہمارے آج سے بہتر اور بابرکت کر دے اور ہمیں ان کے بنائے ہوئے رستے پر چلتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ سلام میں نوحہ گر ہوں میں اپنے چاروں طرف بکھرتے ہوئے زمانوں کا نوحہ گر ہوں میں آنے والی رتوں کے دامن میں عورتوں کی اداس بانہوں کو دیکھتا ہوں اور ان کے بچوں کی تیز چیخوں کو سن رہا ہوں اور ان کے مردوں کی سرد لاشوں کو گن رہا ہوں میں اپنے ہاتھوں کے فاصلے پر فصیل دہشت کو چھو رہا ہوں میں ہوش والوں کی بدحواسی کا نوحہ گر ہوں حسینؓ میں اپنے ساتھیوں کی سیہ لباسی کا نوحہ گر ہوں ہمارے آگے بھی کربلا ہے‘ ہمارے پیچھے بھی کربلا ہے‘ حسینؓ میں اپنے کارواں کی جہت شناسی کا نوحہ گر ہوں نئے یزیدوں کو فاش کرنا ہے‘ کام میرا ترے سفر کی جراحتوں سے ملا ہے‘ مجھ کو مقام میرا حسینؓ تجھ کو سلام میرا حسینؓ تجھ کو سلام میرا

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here