حکومتی بد انتظامی اور عوام

آج کل ہر طرف مایوسی اور اندھیرا ہے‘ کیونکہ کوئی دن نہیں‘ جاتا جب صبح کے اخبارات کوئی اچھی خبر لے کر آئیں بلکہ اخبارات کا بنڈل آنے سے پہلے ہی ٹی وی یہ کسر پوری کر دیتا ہے‘ ۔ رات سوتے اور صبح جاگتے وقت اس دوران رات بھر کی خبریں ٹی وی چلاتے ہی طبیعت کو مکد ر کر دیتی ہیں‘ کہ رات بھر کوئی مثبت کام تو ہونے سے رہا اور صرف حادثات کی خبریں ہی صبح سویرے دیکھنے اور سننے کو ملتی ہیں۔
بحثیت قوم ہم اس قدر بگڑ چکے ہیں‘ کہ جان جس کی حفاظت کا اللہ نے بھی حکم دیا ہے‘، ہم نے اس کی بھی پرواہ کرنی چھوڑ دی ہے‘ اور اپنے آپ کو خودساختہ پیدا کردہ حالات کے حوالے کر دیا ہے۔
ہماری بد انتظامی نے ان تمام سہولتوں کو بھی رفتہ رفتہ ختم یا قریب المرگ کر دیا ہے‘ جو ایک آسان زندگی گزارنے کے لیے ضروری تصور کی جاتی ہیں۔
بدقسمتی اس انتہا کو پہنچ چکی ہے‘ کہ حکومت وقت کوئی بھی قانون بناتے وقت اتنی بھی زحمت نہیں‘ کرتی کہ صرف یہ ہی دیکھ لے کہ اس کے مندرجات درست بھی ہیں‘ یا نہیں‘ اور بعد میں یہی سب غلط سلط قانون جب گلے پڑتا نظر آتا ہے‘ تو اس کو واپس بھی اتنی ہی تیزی سے لیا جاتا ہے‘ جتنی عجلت میں اس کو منظور کر ایا گیا تھا ۔ ختم نبوت جیسے نازک اور اہم ترین معاملے پر قانون کے سلسلے میں بھی حکومت کی جانب سے اسی کوتاہی کا مظاہرہ کیا گیا اور بعد میں اس کو ٹائپنگ کی غلطی قرار دے کر جان چھڑانے کی کو شش کی گئی جب کہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس حساس ترین معاملے کو چھیڑنے کی ضرورت ہی کیا تھی لیکن جب برے دن آجائیں تو اس طرح کے کام کیے نہیں‘ جاتے بلکہ خود بخود ہونے لگ جاتے ہیں۔
مغربی دنیا میں یہ بات بڑے وثوق سے کہی جاتی ہے‘ کہ آپ مسلمانوں پر جتنا مرضی ظلم کر لیں ان کو دینی طور پر کمزور کرنے کے طریقے کریں اس سب کو مسلمان برداشت کر جائیں گے لیکن اگر ان کے نبی ؑ کے بارے میں کوئی بات ہو جائے تو یہ اس کو بالکل برداشت نہیں‘ کرتے بلکہ اگر اس کے لیے اگر ان کو اپنی جان بھی دینی پڑے تو اس پر بھی یہ تیا ر ہوتے ہیں۔
مغربی دنیا کے مسلمان دشمن اس بات پر متفق ہیں‘ کہ اسلام اس وقت تک ختم نہیں‘ ہو سکتا جب تک مسلمانوں کے دل و دماغ سے ان کے نبی ؑ کی محبت ختم نہیں‘ ہو جاتی۔ مغربی دنیا کے عیسائی اسکالرز یہ سمجھتے ہیں‘ کہ مسلمان اپنے نبی ؑ سے وقتی یا جذباتی محبت رکھتے ہیں‘ اور یہ ختم بھی ہوسکتی ہے‘ لیکن ان کو شاید یہ نہیں‘ معلوم کہ مسلمانوں کی توزندگیاںہی اپنے نبی ؑ کی سنت کی امانت ہیں‘ اور جہاں پر اللہ تعالیٰ کا ذکر ہو وہاں نبی ؑ کا ذکر بھی ضرور ہوتا ہے‘ ۔ میرے نبی ؑ فرماتے ہیں‘ کہ مدینہ میں ان کی زیارت کو جو بھی مسلمان آتا ہے‘ وہ اس کو جانتے اور پہچانتے ہیں‘ ۔ ہمارا تو مذہب اور مسلمانی اس وقت تک مکمل نہیں‘ ہوتی جب تک اس میں نبی آخر الزمان ؑ کا ذکر اور ان کی سنت کے مطابق زندگی گزارنے کا طریقہ موجود نہ ہو۔ کالم شروع کیا تھا کہ حکومتی بد انتظامی جو روز بروز بڑھتی جار ہی ہے‘ اس پرتفصیل سے لکھوں گا لیکن اگر یہ تفصیل لکھنی شروع کر دی تو پھر شاید کئی کالم لکھنے پڑیں اور ہو سکتا ہے‘ کہ میرا قلم بھی کسی حکومتی ضابطے کی خلاف ورزی کی زد میں آجائے اور مجھے اور میرے ادارے کو ہر جانے کا نوٹس مل جائے کیونکہ آج کل تنقیدی باتوں کو بالکل پسند نہیں‘ کیا جاتا اور حکومت کی جانب سے اخبار نویسوں کو کنٹرول کرنے کے لیے بنایا گیا ایک نیا ادارہ بھی اپنا کام خوش اسلوبی سے کر رہا ہے۔
آئے روز کی بدانتظامی کی خبریں کوئی نئی بات نہیں‘ اور نہ ہی یہ کہا جاسکتا ہے‘ کہ یہ بدانتظامی صرف موجودہ حکومت کے دور میں ہی شروع ہوئی ہے‘ بلکہ یہ بات زیادہ مناسب ہے‘ کہ بدانتظامی کا شکار تو ہم پاکستان کے قیام سے ہی چلے آرہے‘ ہیں‘ اور اپنے بابائے قوم کو اسپتال لے جانے والی ایمبولینس بھی راستے میں خراب کر بیٹھنے پر اس کا آغاز کرچکے تھے‘، بدانتظامی کا معاملہ حکومتی سطح پر تو کنٹرول کرنے کی کوشش بھی جاتی ہے‘ اور اس کے بارے میں ہر حکومت کے دعوے بھی بڑے زور و شور سے سنتے ہیں‘ لیکن اس بد انتظامی میں حکومت کے ساتھ ساتھ عوام بھی اتنے ہی ذمے دار ہیں‘، عوام نے کبھی ملک کی املاک کو اپنا سمجھا ہی نہیں‘ بلکہ ہمیشہ ان املاک کے ساتھ ایسا سلوک کیا کہ شاید وہ کسی دشمن ملک کی سرزمین پر رہ رہے‘ ہیں‘ جس سے یہ رفتہ رفتہ یہ فضاء بن گئی یا معاشرہ ایک ایسا ڈگر پر چل پڑا کہ سرکار کی جانب سے فراہم کی جانے والی سہولیات کا اس بے دردی سے استعمال کیا گیا کہ وہ وقت سے پہلے ہی ختم ہو گئیں اور ہم بعد میں ان کی افادیت کا رونا روتے نظر آئے۔ عوام اگر انتظامیہ کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور ملک کی املاک اپنا سمجھ کر ان کی قدر کریں تو یہ بات نہایت وثوق سے کہی جا سکتی ہے‘ کہ حکومت بھی چارو نا چار عوام کے لیے پالیسیاں بناتے وقت عوام دوست پالیسیوں کو ہی ترجیح دے گی کیونکہ عوامی طاقت کا مقابلہ کرنا کسی بھی حکومت کے بس کی بات نہیں‘ ہوتی لیکن اس کے لیے عوام کو اس ملک کو اپنانا ہو گا،جب عوام ملک کو اپنا لیں گے تو رفتہ رفتہ بد انتظامی کا خاتمہ ہونا شروع ہو جائے گا۔ بات صرف ارادے اور سمت متعین کرنے کی ہے۔
میں اپنی زندگی میں نے ذاتی طور پر اور حکومتی مہمان کے طور پر بھی دنیا کے کئی ممالک کی سیر کی جہاں بھی گیا وہاں کے عوام کو اپنے ملک اور ملک کی املاک کی حفاظت کرتے ہی دیکھا ۔ خاص طور پر مغربی ممالک میں عوام سرکاری املاک کی اس طرح ہی حفاظت کرتے ہیں‘ جیسے وہ ان کی اپنی ذاتی ملکیت ہوں جب کہ ہمارے ہاں اس کے برعکس ہوتا ہے‘ اور سرکاری چیزوں کا انتہائی بے دردی سے استعمال کیا جاتا ہے‘ اور اگر حکومت عوام کو آسانیاں فراہم کرنے کے لیے کوئی اچھا کام کر ہی دے تو ہم اپنے رویوں سے اس کو بھی برے کام میں تبدیل کر دیتے ہیں‘ اور اچھے کاموں کی افادیت سے فائدہ اٹھانے کے بجائے ان کو نقصان پہنچا کر ان کو ختم کر دیتے ہیں۔
بد انتظامی تیسری دنیا کے ممالک کا ایک بڑا مسئلہ ہے‘، عوام اور حکومت مل کر اس کے خاتمے کی کوشش کریں تو اس مسئلے کو کسی حد تک حل کیا جاسکتا ہے‘ کیونکہ عوام کی مدد سے ہی حکومت کی کامیابی ممکن ہو پاتی ہے‘ اور جب حکومت اور عوام مل جائیں تو ملک اور معاشرہ ترقی کر جاتا ہے‘ اور یہی ترقی انسانی فلاح کی ضمانت ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here