قحط سامنے ہے

میرے جیسے بارانی علاقے کے رہنے والے ہی پانی کی صحیح قدر و منزلت سے واقف ہیں۔
وہ پانی کو زندگی کہتے ہیں‘ لیکن اس کا اگر صحیح تجربہ کرنا ہے‘ تو تھر کے ریگستانوں میں مقیم باشندے اور میرے علاقے وادیٔ سون کے رہنے والوں سے پانی کے متعلق پوچھ ہی لیں، ان کی پانی کے متعلق داستانیں آپ کو کسی اور ہی دنیا میں لے جائیں گی اور اگر آپ دستیاب اور وافر پانی والے علاقے میں رہتے ہیں‘ تو آپ ریگستانی اور پہاڑوں میں بسنے والوں کی پانی کے متعلق کہانیاں سن کر آیندہ سے پانی کے استعمال میں احتیاط بھی برتنا شروع کر دیں گے اور آپ کو پانی کی صحیح قدر و قیمت بھی معلوم ہو جائے گی۔ خشک سالی جس کے لفظی معنی بھی شہروں میں رہنے والوں کو شاید معلوم نہ ہوں اگر آپ خشک سالی کے بارے میں معلومات چاہتے ہیں‘ تو بارانی علاقے کا رہنے والا کوئی اَن پڑھ بھی اس کے بارے میں مدلل گفتگو کرے گا اس طرح وضاحت سے آپ کو پانی کی قدر و قیمت کے بارے میں بتائے گا کہ آپ دنگ رہ جائیں گے۔ قدرت کے اس عطیے کے بارے میں عمومی طور پر کبھی غور ہی نہیں‘ کیا گیا اور پانی کو ذخیرہ کرنے کے بارے میں تحقیق ہوئی بھی ہے‘ تو وہ ہمارے نسل کو صرف کالا باغ ڈیم کے بارے میں سنی سنائی کہانیاں ہی دوبارہ سننے کو ملی ہیں‘ اور وہ بھی صرف اس حد تک کہ اس ڈیم کے بننے سے ملک میں سستی بجلی اور بجلی کی کمی پوری ہو جائے گی۔ لیکن کبھی کسی نے یہ نہیں‘ بتایا کہ ڈیم بجلی کے علاوہ بھی پانی ذخیرہ کرنے کے لیے کس قدر ضروری ہیں۔
شہروں کے رہنے والے پانی کی کمی اور اس کی افادیت کے متعلق لیکچر دیتے سنائی دیتے ہیں۔
یہ ضرور ہے‘ کہ وہ علم میں اَن پڑھ دیہاتیوں سے زیادہ معلومات رکھتے ہیں‘ لیکن وہ ان زمینی حقائق سے لاعلم ہوتے ہیں‘ جن تلخ حقائق سے پانی کی کمی کی وجہ سے دور دراز دیہات میں رہنے والوں کا واسطہ پڑتا ہے۔
پانی کی کمیابی کے بارے میں ایک تازہ رپورٹ نظر سے گزری ہے‘ جس نے میری پریشانی میں اضافہ کیا ہے‘ اس رپورٹ میں یہ بتایا گیا ہے‘ کہ اگلے چند سال  میںپاکستان میں پانی کی قلت شدت اختیار کر جائے گی اور 2030ء تک پاکستان کا شمار دنیا کے ان 33 ممالک میں ہو گا جو کہ پانی کی شدید قلت کا شکار ہوں گے۔ پانی کی قلت کی بڑی وجہ حکومتی سطح پر مناسب منصوبہ بندی کا نہ ہونا ہے۔
دنیا کے تبدیل ہوتے موسمی حالات اس بات کی طرف اشارہ کر رہے‘ ہیں‘ کہ اگلے کچھ سال  میں موسم وہ نہیں‘ رہیں‘ گے جن سے ہم کئی دہائیوں سے آشناء ہیں‘ اور ان کے مزے لیتے ہیں۔
سائنس کی ترقی نے موسموں سے لطف اٹھانے کی لذت بھی خراب کر دی ہے‘ کہ اب ترقی یافتہ ملکوں میں تو پہلے سے اس بات کا علم ہو جاتا ہے‘ کہ دن کے کس حصے میں کیا موسم ہوگا۔ سائنس کی ترقی بھی انسانی ذہن کا کمال ہے‘ لیکن ابھی تک کوئی ایسا طریقہ ایجاد نہیں‘ ہو سکا کہ بارانی اور صحرائی میدانوں میں زیر زمین پانی اور اس کی مقدار کا پتہ چلایا جا سکے۔ زیر زمین پانی کی صورتحال اس حد تک تشویشناک ہو چکی ہے‘ کہ ہر سال اس کی سطح گرتی جا رہی ہے‘ چونکہ موسم کے تغیر کے باعث بارشوں میں کمی ہو رہی ہے‘ اس لیے زیر زمین پانی اپنی سطح برقرار نہیں‘ رکھ پا رہا ہے‘ اور مزید گہرا ہوتا چلا جا رہا ہے۔
اس کی ایک بڑی وجہ پانی کے بہت زیادہ اخراج کو بھی قرار دیا جاتا ہے۔
ہماری آبادی میں جس تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے‘ اس کی غذائی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے زیادہ رقبے پر اجناس کی کاشت ہو رہی ہے‘ جس سے ظاہر ہے‘ کہ پانی کے استعمال میں بھی اضافہ ہو رہا ہے‘ اور آب پاشی کے لیے زیادہ اخراج کے باعث پانی کی سطح گہری ہوتی جا رہی ہے۔
اس سطح کو برقرا ر رکھنے کے لیے ضروری ہے‘ کہ بڑے آبی ذخائر بنانے کے علاوہ چھوٹے ڈیموں کی بھی فوری تعمیر کی جائے۔ حکومت کو اس سلسلے میں قومی سطح پر ہنگامی بنیادوں پر پانی کی تشویشناک صورتحال کے متعلق ایک موثر حکمت عملی بنانی ہو گی تا کہ آنے والے خشک حالات کا مقابلہ کیا جا سکے۔ اس ضمن میںحکومت نے پہلے سے ہی بارانی علاقوں میں منی ڈیم کی ایک اسکیم شروع کی تھی۔ خدا جانے وہ اب بھی چل رہی ہے‘ یا نہیں‘ اس طرح کی اسکیمیں حکومتی سرپرستی میں شروع کرنے کی اشد ضرورت ہے‘ تا کہ بارش کے پانی کو جمع کر کے اسے استعمال میں لانے کے علاوہ ان منی ڈیموں سے پانی کی سطح بلند کرنے میں بھی خاطر خواہ مدد ملتی ہے۔
آنے والے خشک حالات کی سنگینی کا اندازہ مجھے اس لیے زیادہ ہے‘ کہ میں نے خشک سالی دیکھی ہوئی ہے‘ اور خدا نہ کرے میرے ملک میں خشک سالی کی وجہ سے قحط کے حالات پیدا ہو جائیںاور وہ حالات ہم سب کی برداشت سے باہر ہوں گے۔ مجھے جو اطلاعات اپنے گاؤں سے موصول ہو رہی ہیں‘ ان کے مطابق ابھی تک بارشوں کا دور دور تک کوئی امکان نہیں‘، آلو کی فصل زیر زمین پانی کی کمی کی وجہ سے خراب ہو رہی ہے‘ بہت سارے ٹیوب ویل خشک ہو چکے ہیں‘ اور جو باقی ماندہ بچ گئے‘ ہیں‘ وہ بھی نہ جانے کب تک فصلوں کو سیراب کر سکیں گے کیونکہ ہمارے علاقے میں زیر زمین پانی کی سطح چار سو فٹ تک گہری ہو چکی ہے‘ اور اگر یہ مزید نیچے چلی گئی تو اس پانی سے زمینوں کو سیراب کرنا ناممکن ہو جائے گا کہ اتنی گہرائی سے پانی نکالنے پر اخراجات بہت زیادہ آتے ہیں۔
میں دعا ہی کر سکتا ہوں کہ حکومت کو سیاسی جھگڑوں سے فرصت ملے تو وہ ان بنیادی مسائل کی طرف بھی توجہ دے اور پانی تو ایسی نعمت ہے‘ جس کی وجہ سے زندگی رواں دواں ہے‘ اور زندگی کی تمام تر خوبصورتی پانی کی ہی مرہون منت ہے۔
اسی کے طفیل کھلے خوبصورت پھول آنکھوں کو ٹھنڈک اور سبزہ دل کو سکون پہنچاتا ہے۔
بات صرف یہ ہے‘ کہ آنکھوں کی ٹھنڈک کو قائم رکھنے کے لیے اقدامات حکومت کے ہی مرہون منت ہیں‘ اور ہماری کاروباری حکومت کو اس طرف توجہ کی ضرورت ہے۔
روزانہ خبریں اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔