ہماری زندگی کا ایک پہلو

صحرائے عرب کی ریتلی سر زمین باہر کے موسم کے مطابق گرم سرد ہوتی رہتی ہے‘، ان دنوں جب ہمارے ہاں پاکستان میں موسم قدرے سرد ہے‘ لیکن صحرائے عرب کے ذرات سردی سے کانپ رہے‘ ہیں‘ اور تیز ہواؤں سے جگہ بدلتی ہوئی ریت اپنے محور میں گھومتی پھرتی رہتی ہے۔
اس کے ساتھ ہی صحرائے عرب بھی گرم سرد ہوتا رہتا ہے‘ اور وہاں بسنے والے جانور بھی اس بدلتے موسم کے عادی ہو چکے ہیں‘ کہ سورج کو دیکھ کر صبح شام کرتے اور موسم کے ساتھ ہی اپنی موسمی عادت بدلتے رہتے ہیں۔
یہ منظر کئی بار میں نے گاؤں میں دیکھا جب وہاں چرند پرند موسم کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی دن رات کی عادات بدلتے رہتے تھے‘ ۔ سردی ہو تو وہ کسی گرم جگہ کی تلاش شروع کردیتے تھے‘، اسی طرح گرمی میں بھی وہ آسودگی کی تلاش کرتے ہیں‘ اور اللہ کی مہربانی سے کامیاب رہتے ہیں۔
قدرت ان کی رہنمائی کرتی ہے‘ اور قدرت جو اللہ تبارک تعالیٰ کے اختیار میں ہے‘ بے زبان جانوروں کا بہت ہی دھیان رکھتی ہے۔
یہ جانور میں نے دیکھا کہ موسم کے اشاروں کو خوب سمجھتے ہیں‘ اور ان کے مطابق اپنی صبح وشام کرتے ہیں‘ ۔قدرت اپنی مہربانی سے ان بے زبان جانوروں کی پرورش کرتی ہے‘ ۔ میں نے اپنے گاؤں کے جنگل میں اکثر دیکھا کھلے جانور جو کسی زنجیر وغیرہ سے آزاد تھے‘ موسم کے مطابق اپنے دن رات کے ٹھکانے بدلتے رہتے تھے۔
سردی اور گرمی کو خوب محسوس کرتے تھے‘ اور اس کے مطابق اِدھراُدھر گھوم پھر لیتے تھے‘ اور پھر یہ بھی دیکھا کہ مالک اپنی فصلوں کو ان جانوروں سے بچانے کے لیے ان جانوروں کو اِ دھر اُدھر بند کر دیتا تو وہ صبر شکر کر کے بیٹھ توجاتے لیکن ان کی برہمی اس وقت سامنے آتی جب ان کو آزاد کیا جاتا تھا اور وہ منہ اُٹھائے کسی طرف بھاگ جاتے تھے‘ ۔ یہ ان کی آزادی کا جشن ہوتا تھا جو زیادہ دیر نہیں‘ کھیت کے مالک کی مرضی سے ہی جاری رہتا تھا کیونکہ یہ جانور اپنی آزادی کا جشن ان ہرے بھرے کھیتوں میں اُچھل کود کر مناتے تھے‘ ۔ جس سے کھیت تباہ ہوجاتے تھے‘ اور ان کھیتوں میں اُچھلتے کودتے جانوروں کو قابو کرناآسان نہیں‘ ہوتا تھا ۔یہ جانور اپنی اس آزادی سے تھکنا تو کجا اس کھیل کود کی آزادی کوایک غنیمت سمجھتے اور جب تک کھیت کا رکھوالا ان کو قابو نہیں‘ کر دیتا تھا تب تک وہ اپنے اس جشن میں مصروف رہتے اور اس دوران ان کے مضبوط پاؤں کھیت کی جو حالت کر دیتے وہ کھیت کے مالک کو غمزدہ اور پریشان کرنے کے لیے کافی ہوتی تھی۔ کھلے جانور کسی کاشتکار کے لیے تباہ کن ہوتے تھے‘، ان آزاد جانوروں نے بعض اوقات اس قدر تباہی مچائی کہ کھیت مالک جنگ و جدل پر اتر آتے اور نہ جانے کتنی محنت و مشقت سے تیار کیا ہوا ایک کھیت کسی کاشتکار کی روزی ہوتی تھی جس کی حفاظت میں کسی کے ساتھ خونریزی پر بھی تیار ہو جاتا ہے‘ اور دیہات کی زندگی میں ایسا دیکھا گیا ہے‘، فصلوں کے اُجاڑنے پر نوبت خونریزی تک بھی پہنچ جاتی۔ گاؤں کی زندگی میں فتنہ و فساد کے ایسے واقعات اکثر مل جاتے ہیں‘ جو کسی مزید بدامنی کا سبب بن چکے تھے‘ ۔ ہمارے دیہات کی تاریخ ان واقعات سے بھر ی پڑی ہے‘ اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے‘ ۔دو برابر کے کھیتوں کے مالک اپنے مال مویشی کس حد تک روک سکتے ہیں‘ اور یہی مویشی انسانوںمیں فتنے و فساد برپا کرنے کا سبب بن جاتے ہیں‘ اور پھر انھی فسادوں پر کاشتکاروں کی زندگی بھر کی جمع پونجی جو انھوں نے بڑی محنت کر کے اور اپنا پیٹ کاٹ کے بچت کر کے سنبھال کر رکھی ہوتی وہ ان چھوٹے جھگڑوں سے شروع ہونے والے بڑے فسادوں کی صورت میں مقدمے بازی پر خرچ ہو جاتی ہے‘ اور جب جمع کی ہوئی رقم ختم ہو جاتی ہے‘ تو مقدمہ کی اگلی کارروائی اگلی فصل کی آمدن سے مشروط کر دی جاتی ہے‘ اور یوں یہ چھوٹی سی باتوں سے شروع ہونے والے جھگڑوں کا سلسلہ دراز ہوتا چلا جاتا ہے‘ اور بعض اوقات مویشیوں کے علاوہ انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بھی بن جاتا ہے۔
اگر آپ کا دیہی زندگی میں کسی سے واسطہ ہے‘ تو آپ کو ایسے واقعات مسلسل ملتے ہیں‘ جو اپنے زہریلے اثرات کو مزید پھیلانے کا سبب بن جاتے ہیں‘ اور ان کے مالک صبر سے کام لینا نہیں‘ جانتے اور سچ تو یہ ہے‘ کہ جس کی زندگی بھر کی محنت چند مویشیوں نے برباد کر دی ہو وہ صبر بھی کیسے کرے، سال بھر کی کمائی دو چار مویشیوں نے تباہ کر دی ہو تو پھر اس پر صبر کون کرے ۔دیہی زندگی میں ایسے واقعات پر صبر کرنا آسان نہیں‘ ہوتا، یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے۔
آج ایک کاشتکار کا کھیت ہو یا کل دوسرے کا اور ایسے تلخ ماحول میں بے چینی جاری رہتی ہے‘ اور اپنے برے نتائج پیدا کرتی رہتی ہے‘ جن سے بچ کر رہناآسان نہیں‘ ہوتا۔یہ ہماری دیہی زندگی کی جھلک ہے۔
روزانہ خبریں اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔