ایک درمیان کا زمانہ

عبدالقادر حسن
عبدالقادر حسن
نظر بظاہر سر تا پا مغربی تہذیب کا ایک نمایندہ جس کی روز مرہ کی زبان تک مغربی یعنی انگریزی تھی اور جس کے رہن سہن میں مشرق کی کوئی جھلک دکھائی نہیں‘ دیتی تھی خالص مشرقی نمایندوں کی قیادت اس کے سپرد ہو گئی ۔ مشرق کے کروڑوں باشندوں نے اسے اپنا لیڈر تسلیم کر لیا اور اپنے لیے اس کی قیادت پر متفق ہو گئے‘ ۔ یہ تھے‘ محمد علی جناح جن کی غیر مشرقی زندگی مشرق کے کروڑوں مسلمانوں کے لیے ایک نمونہ بن گئی اور یہ مسلمان ان کی قیادت پر متفق ہوگئے‘ انھوں نے مغربی مزاج رکھنے والے اس لیڈر کو اپنا رہنما تسلیم کر لیا جب کہ ان کے سامنے ایسے علماء اور دینی علوم میں فضیلت رکھنے والے موجود تھے‘ جن کی دینی برتری اور علم کو سب تسلیم کرتے تھے‘ اور ہر دور میں ان کی علمی عظمت کو تسلیم کیا گیا لیکن ان سب کے سامنے ایک مغربی طرز زندگی رکھنے والا جو ان کی زبان بھی پوری طرح نہیں‘ جانتا تھا اور اپنی بات کو ان تک پہنچانے کے لیے اپنے ساتھ ایک معاون رکھتا تھا ان سب لوگوں کا لیڈر بن گیا جو اس کی شخصیت سے پوری طرح شناسا نہیں‘ تھے‘، بدیسی رنگ و روغن سے سجا ہوا ایک مسلمان ان کا قائد بن گیا اس طرح کہ ان سب نے اسے تسلیم کر لیا تھا۔ ایک نقطہ خاص طور پر اس کی سیاست کا مرکز بن گیا اور وہ تھا اس کی اسلامیت۔ اس نے طے کر لیا تھا کہ وہ ایک مسلمان ہے‘ اور اس کے سوا کچھ نہیں‘ ۔ جو کوئی مسلمان ہے‘ وہ اس کا ساتھی اور رفیق ہے‘ اور جو مسلمان نہیں‘ ہے‘ اس سے اس کا کوئی سیاسی تعلق نہیں‘ ہے‘ وہ مسلمانوں کا قائد ہے‘ یا مسلمانوں کا ساتھی ہے۔
برصغیر ہندوستان میں اس کے ساتھی صرف وہ ہیں‘ جو مسلمان ہیں‘ غیر مسلموں سے اس کا کوئی رشتہ نہیں‘ ہے‘ وہ ہندوستان کے کفرستان میں صرف ان کا ساتھی اور دوست ہے‘ جو ہندو اکثریت کے مقابلے میں اس کا ساتھ دیتے ہیں‘ ۔ یہ جنگ دنیا کے اس خطے میں برپا تھی اور یہ ہندو مسلم کی برتری کی جنگ تھی، دنیا کو یہ بتانا چاہتی تھی کہ اس خطے میں کون سی قوم برتر ہے‘ ۔صرف تعداد نہیں‘ بلکہ قوموں کو بنانے والے جتنے اوصاف بھی ہوتے ہیں‘ وہ کس قوم میں دوسری سے زیادہ ہیں‘ اور اس برتری کی وجہ سے وہ ایک بڑی قوم ہیں۔
بر صغیر کی یہ جنگ مدتوں برپا رہی کیونکہ اس کا فیصلہ بہت مشکل تھا اس جنگ میں اس خطے کی ایک اور قوم ملوث تھی وہ ہندو تھی اور بد قسمتی سے کتنے ہی مسلمانوں کی ہمدردی بھی رکھتی تھی۔ ہندو کو کئی برگزیدہ مسلمانوں کا تعاون حاصل تھا اس میں مولانا ابو الکلام آزاد تک کے نام بھی شامل ہیں‘ اور علاوہ ازیں مجلس احرار جیسی مسلمان جماعت بھی ان کی ہمدرد تھی اور کئی مسلمان مورخ اور سیاستدان ان کے معاون تھے‘ ۔ دوسری طرف صرف ایک جماعت مسلم لیگ تھی جسے ہندوستان کے مسلمان لیڈروں کی مکمل حمائت بھی حاصل نہیں‘ تھی اور مسلمانوں کے علماء مسلم لیگ کو ٹھوس مسلمان جماعت نہیں‘ سمجھتے تھے‘ بلکہ اسے مسلمانوں کے خلاف ایک جماعت سمجھا جاتا تھا۔ عالمی اور مذہبی جماعتوں کی ہمدردی سے محروم ہونے کی وجہ سے مسلم لیگ کو ہندوستان کے عام مسلمانوں کی جماعت کم ہی سمجھا گیا جب کہ ہندوستان کے مسلمانوں کی کوئی مستقل جماعت موجود نہیں‘ تھی اور مسلمان کئی جماعتوں اور مرکزوں میں بٹے ہوئے تھے‘ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مسلمانوں کی کوئی متفقہ جماعت تشکیل نہ پا سکی اور ہندوستان کے مسلمان کئی سیاسی گروہوں میں تقسیم رہے‘ جب کہ کئی علاقوں میں بھی جماعتیں بن گئیں خصوصاً مسلمانوں کے اندر دینی خیالات اور مذہبی رجحانات رکھنے والوں کی کئی جماعتیں بن گئیں ۔ بہرکیف یوں بھی کہہ سکتے ہیں‘ کہ کسی حد تک یہ ایک افراتفری کا دور تھا جس میں مسلمانوں کو سیاسی نقصان اٹھانا پڑا اور ان کے درمیان اتحاد پیدا نہ ہو سکا جس سے دوسری جماعتوں نے فائدہ اٹھایا ۔ اگرچہ کوئی بڑا اتحاد قائم نہ ہوسکا جو مسلمانوں کا نمایندہ ہو لیکن خود مسلمانوں کے اندر بھی اتحاد قائم نہ ہو سکا۔ مسلمانوں کی ایک جماعت مسلم لیگ تھی جو مسلمانوں میں دوسری جماعتوں سے زیادہ مقبول تھی لیکن یہ وہ زمانہ تھا جب دینی اور مذہبی رجحانات کو برتری حاصل تھی اور عام مسلمانوں کے لیے یہ فیصلہ مشکل تھا کہ وہ کس کے ساتھی ہیں‘ لیکن ایک بات حوصلہ افزا تھی کہ مسلمانوں میں مذہبی خیالات کی برتری رہی اور مذہبی جماعتیں زیادہ مقبول رہیں‘ ۔ اس کا ایک خوشگوار نتیجہ یہ نکلا کہ ہندوستان میں اسلامی خیالات زندہ رہے‘ ۔ ہندو اور دوسرے خیالات والے ہندوستانی امن کے ساتھ زندگی بسر کرتے رہے‘ حالانکہ یہ زمانہ سیاست کا زمانہ تھا جس میں برصغیر میں کئی جماعتیں سرگرم تھیں اور اپنی اپنی تنظیم کو مضبوط بنا رہی تھیں۔ مسلمانوں کی جماعت مسلم لیگ کو میدان خالی ملا اور اس نے اپنی تنظیم مضبوط کرنے کی کوشش کی اور اس خطے کی ایک نمایاں جماعت بن گئی ۔ کانگریس ہندو مزاج والوں کی جماعت تھی اگرچہ اس میں مولانا ابوالکلام آزاد جیسے کئی عالم موجود تھے‘ جو مسلم لیگ کے مقابلے میں کانگریس کا دم بھرتے تھے‘ لیکن کانگریس آخر وقت تک ہندومزاج کی پارٹی رہی اور مسلمانوں نے اسے اسلامی جماعت کا حامی تسلیم نہ کیا ۔ بہرکیف سرزمین ہند کا یہ زمانہ ہنگامہ خیز تھا جس کے اثرات قائم رہیں‘ گے اور اسے درمیان کا زمانہ بھی کہا جائے گا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here