مقتول ہی تو قاتل ہے

اس دنیا میں اگر کسی شے کا سب سے زیادہ ریپ ہواتو وہ دلیل اور پھر اس ریپ زدہ دلیل کے ساتھ تہذیب کا جیسا ریپ ہوا اور ہو رہااس کا کوئی توڑ کم ازکم مجھے تو ٹپائی ن دے رہا ۔حل تو خیر لاینحل ۔ بہت دور کی کوڑی لانے کی ضرورت ن۔ ہم اس المیے سے بچپن میں ہی آشنا ہو جاتےجب چشمے پر پانی پینے والے بھیڑ کے بچے اور اسے دلیل دے کر ہڑپ کر جانے والے بھیڑئیے کی کہانی سنتے ۔ اگر نازی دنیا پر قبضہ کر لیتے تو پھر ہماری نسلوں کو یہی نصابی علم عطا ہوتا کہ یہودیوں کو جرمنی سے نازیوں نے ن بلکہ خود یہودیوں نے ختم کیا۔نہ وہ سود خوری کے ذریعے جرمنوں کا خون چوستے اور نہ آریائی خون جوش میں آتا۔اگر جرمن خون آشام ہی ہوتے تو یہودیوں سے پہلے اور بعد میں کسی اور قوم پر ایسا عذاب کیوں ن آیا۔ ستم ظریفی تو یہکہ جرمنوں نے اپنی افریقی نوآبادی نمیبیا کی سیاہ فام آبادی کی بھی اسی پیمانے پر نسل کشی کی۔ مگر چونکہ بہت سے یورپی مستشرقین ایک زمانے تک کھلم کھلا اور آج دل ہی دل میں غیر سفید فاموں کو تہذیب و تمدن سے عاری نیم انسان سمجھتے لہذا نمیبیا کے سیاہ فاموں کا نوحہ کسی نے ن لکھا۔ یہی کچھ کانگو میں بلجئیم کے بادشاہ لیوپولڈ دوم کے زمانے میں انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے شروع میں ہوا۔کانگو بادشاہ کی ذاتی املاک میں شامل تھا۔ لہذا گدھے اور سیاہ فام کا فرق مٹ گیا۔ بلکہ گدھے سے زیادہ بہتر سلوک ان معنوں میں ہوا کہ وہ نسل کشی سے بچ گیا۔ اسے بھی پڑھیں:  اشرافیہ کو سات خون معاف برسلز میں لگنے والے میلوں ٹھیلوں اور نمائشوں میں ایک عرصے تک ہیومن زو بھی لگایا جاتا تھا۔اس میں کانگو سے لائےسیاہ فام نیم انسانوں سے عام شہریوں کا دل بہلایا جاتا تھا۔آج یہ سب تماشے ن ہوتے مگر ان جرائم کو نوآبادیاتی دور کی بے اعتدالیوں اور غلطیوں کا نام دے کر مہین خوشنما تہذیبی پردہ ڈال دیا جاتا ۔اب ہر کوئی اسرائیل تو ن ہوتا کہ جس سے مغربی جرمنی یہودی نسل کشی پر معافی مانگتے ہوئے پانچ ارب مارک کی ازالائی رقم بھی ادا کرے۔ کون کہتاکشمیر میں بھارت ظلم کر رہا ۔یہ تو سرحد پار سے آنے والے گھس بیٹھیے یا ان کے ہاتھوں گمراہ ہونے والے مٹھی بھر کشمیری لڑکے اور لڑکیاںجو بھارتی ایکتاکے درپے ۔وہ جان بوجھ کر سیکیورٹی دستوں کو اشتعال دلاتےتاکہ وہ کشمیریوں کے منہ پر چھرے مار کے انھیں اندھا کر دیں اور پھر پیشہ ور کشمیری ان چھرہ زدہ چہروں کو ظلم کا اشتہار بنا کر دنیا بھر میں سینہ کوبی کرتے پھریں۔اہلِ دلی کی اس دلیل میں اگر وزن نہ ہوتا تو بیشتر بھارت کا کو آمنا و صدقنا کہتا۔ نیتن یاہو کی یہ بات ماننے میں کیا عارکہ اسرائیلی فوج دنیا کی مہذب ترین فوج ۔اس نے آج تک کسی فلسطینی کو مارنے میں پہل ن کی۔کسی فلسطینی کو پتھر یا غلیل سے نشانہ ن بنایا۔لیکن جب کوئی فلسطینی بچہ یا بچی کسی اسرائیلی فوجی کو تھپڑ مارتایا ٹینک پر غلیل سے نشانہ باندھتایا مشرقِ وسطیٰ کی واحد جمہوری ریاست کو مٹانے کا نعرہ لگاتاتو کیا ریاست کو کوئی حق ن کہ وہ ایسے شرپسندوں کو اوقات میں رکھنے کے لیے ذرا سے گولے، کچھ بم اور دوچار نشانچیوں کو استعمال کر لے۔ اسے بھی پڑھیں:  ایک تقریر … جس سے بہت سُبکی ہوئی کسی نے آج تک گولڈا مائیر کے اس دعویٰ کو چیلنج کیا کہ ’’ کون سے فلسطینی ؟ جب ہم یہاں آئے تو یہ خطہ تو غیر آباد تھا۔ہم نے آ کر اسے بسایا‘اگر اسرائیل واقعی کوئی سفاک ریاستتو پھر کچھ عرب ممالک اس سے دوستی کے لیے آج مرے نہ جاتے۔ مشرقی پاکستانی اگر ایکتا کو چیلنج نہ کرتے ، وہاں بسنے والے ہندو اساتذہ اور دانشوروں کے بہکاوے میں نہ آتے اور غدار مجیب کے چھ نکاتی پھندے میں آئے بغیر وسیع تر قومی مفاد میں اپنے مغربی پاکستانی بھائیوں کے تھوڑے سے اور مطالبات مان لیتے اور اگر بھارت چند گمراہ مشرقی پاکستانیوں کی آڑ میں حالات سے فائدہ اٹھا کر فوج کشی نہ کرتا تو آج بھی ہم ہنسی خوشی رہ ر ہوتے۔یہ ، سقوطِ مشرقی پاکستان کی وہ وجوہات  جوآج سینتالیس برس بعد بھی پاکستانی نصاب میں اتنی ہی سچجتنی سینتالیس برس پہلے تھیں۔ اگر ریاستوں کا اپنا اپنا سچتو افراد اپنے اپنے سچ پر کیوں نہ قائم ر۔مثلاً اسے ماننے میں کیا قباحتکہ ملالہ نے اپنے سر پر خود گولی ماری تھی تاکہ مغرب اسے اپنی ڈارلنگ بنا کر طالبان کو بدنام کرتا پھرے۔ مشال خان نے بھلے توہینِ مذہب نہ کی ہو مگر وہ ملحدوں کے شعر تو پڑھتا تھا ، اپنے کمرے کی دیواروں پر سرخوں جیسے نعرے تو لکھتا تھا ، ایک نظریاتی ریاست میں سیکولر لبرل نظریہ مسلط کرنے کا تو حامی تھا۔اسے کس نے مارا۔وہ تو مجمع کے غیض و غضب کا شکار ہوا۔مجمع کو اس سے کوئی ذاتی دشمنی تو ن تھی۔مجمع کو کنٹرول تو ن کیا جا سکتا۔یہ تو مشال خان کو خود خیال ہونا چاہیے تھا کہ وہ آگ سے کیوں کھیل رہا؟ اسے بھی پڑھیں:  گالی ہی تہذیب مختاراں مائی نے باقاعدہ سوچ سمجھ کر خود کو ریپ کرایا تاکہ اسے بیرونِ ملک سے فنڈنگ مل سکے۔یہی حرکت سوئی میں رہنے والی ڈاکٹر شازیہ نے بھی کی تھی۔خواتین بن ٹھن کے نکلیں گی تو مٹھائی پر مکھیاں تو منڈلائیں گی۔ جموں کی آٹھ سالہ بکروال بچی آصفہ اگرچہ بن ٹھن کے ن نکلی تھی، پھر بھی انسان کے اندر بسے جہنم کی خوراک بن گئی۔بھارتیہ جنتا پارٹی کے مقامی سیاستداں جب آصفہ ریپ قتل کیس کے آٹھ مجرموں کی وکالت کرتےتو ان کے پاس بھی یہ دلیل ہوتی ہیکہ بکروال ہندوؤں کی چراگاہوں پر زبردستی قبضہ کر ر ۔ غصہ ک تو نکلنا تھا۔لہذا قصور ریپسٹ کھجوریا اور اس کے آٹھ ساتھیوں کا ن بلکہ بکروال برادری کا اپنا ۔ اسے بھی پڑھیں:  آئینہ ٹیڑھاکہ منہ؟ پنجاب کے عیسائیوں، احمدیوں اور کوئٹہ کی ہزارہ برادری کا تو دھندہ ہی یہیکہ وہ خود پر مظالم کی جھوٹی سچی داستانیں گھڑتے تاکہ مغرب میں مذہبی عقایذ کی بنا پر زیادتی کا کیس دائر کر کے پناہ حاصل کر سکیں۔اگر یہ معاشرہ اتنا ہی ظالم ہوتا تو پھر اکیس کروڑ لوگ یہاں  کیوں رہ ر ۔ جب انصاف فٹ بال بن جائے اور ریاست گول کیپر ہو تو پھر ہر دلیل وزنی ، ظالم و مظلوم ایک ہی صف میںاور پھر پہاڑی چشمے پر اوپر کی جانب کھڑا بھیڑیا  نیچے کھڑے میمنے کو بھی یہ دلیل دے کر ہڑپ کرنے میں حق بجانبکہ تم میرا پانی گدلا کیوں کر ر ہو۔ اسے بھی پڑھیں:  کیا بیٹی پیدا ہونا جرم

متعلقہ خبر یں

روزانہ خبریں اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Leave a Reply