میری جیل میری جنت

جیلیں اس لیے بنائی جاتی ہیں تاکہ قیدی نہ صرف معاشرے سے کٹ کے
اپنے جرائم کی سزا بھگتیں بلکہ ان کو دیکھ کر ممکنہ مجرموں کو بھی
نصیحت و عبرت ہو۔جیلوں میں ناکردہ جرائم میں پھنسائے جانے والے
قیدی بھی بند ہوتے ہیں اور ایک قلیل تعداد سیاسی قیدیوں کی بھی
ہوتی ہے مگر قیدیوں کی یہ قسم میرا موضوع نہیں۔میں بات کر رہا ہوں
ان کی جو چوری، ڈاکے، ریپ، کرپشن، قتل اور دہشتگردی جیسے جرم میں
مضبوط سلاخوں اور کڑے پہرے میں اس نیت سے رکھے جاتے ہیں تاکہ وہ
انسانی شرف کو اور پامال نہ کر پائیں۔لیکن کیا واقعی ایسا ہی ہے
یا پھر جیل زمین پر بدمعاشوں کی جنت ہے۔

ہم شریفوں اور سادہ دلوں کو متواتر بتایا جاتا ہے کہ جیل میں
انگریز کے زمانے کا ایک عدد تحریری ضابطہِ کار (مینوئل) ہوتا
ہے۔اس مینوئل کا نہ تو عملہ خلاف ورزی کر سکتا ہے اور کوئی قیدی،
کوشش کرے تو اسے طرح طرح کی سزاؤں سے گزرنا پڑتا ہے تاکہ دیگر
اسیروں کو کان رہیںاور یہی کان جیل عملے کی ہدایات پر دھرتے رہیں۔
جیل قیدِ تنہائی، ہتھکڑی، بیڑی، ناقص خوراک، تشدد ، بیماری،نشے
اور گنجائش سے زیادہ قیدیوں کی عقوبت ناک دنیا سمجھی جاتی ہے۔کسی
اخلاقی جرم میں جیل کی ہوا کھانا نہ صرف مجرم بلکہ اس کے خاندان
کے لیے بھی کلنک کا سماجی ٹیکہ ہے۔

کروڑوں دیگر کی طرح میرا بھی اب تک کا جیل تجربہ پنجابی فلموں کی
مشاہداتی دین ہے۔ہزار بار فلمائی گئی ایک خوفناک قیدی اور سفاک
جیلر کی کہانی۔قیدی پٹتا ہے مگر ٹوٹتا نہیں جیلر پیٹتا ہے مگر
جھکتا نہیں۔لیکن جدید جیل کا ان قصے کہانیوں سے دور دور کا واسطہ
نہیں۔آج کی جیل میں مجرم جیلر اور جیلر قیدی  اور پیسہ جیل
مینوئل ہے۔

پنجابی فلموںمیںتو خطرناک قیدی کو مزید وہشتناک دکھانے اور جیل کے
اندر اور عدالت میں سناٹا پیدا کرنے کے لیے مفت میں بیڑی ڈال دی
جاتی تھی۔مگر آج کی جیل میں بیڑی ہر ایرا غیرا نہیں پہن سکتا۔یہ
سزا نہیں زیور ہے۔اس کے پیسے لگتے ہیں۔آپ چاہیں تو اسٹیل، چاندی
حتی کہ سونے کی ذاتی بیڑی بنوا کر اس میں اپنی مرضی کی چھن چھن
چھن سنوانے کے لیے آہنی جھالر ڈلوا سکتے ہیں۔دو ہزار سترہ کی جیل
میں بیڑی سزا تھوڑی ہے دھاک بٹھانے کا طریقہ اور اسٹیٹس سمبل ہے۔

ادنیٰ طبقات جیل سے باہر بھی دھتکارے ہوئے نیم کتے ہیں اور جرم کر
کے جیل آجائیں تو وہاں بھرپور کتے ہیں۔ان قیدیوں پر نہ صرف جیل
کا ادنیٰ سپاہی بلکہ ذرا سابھی طاقتور قیدی سواری گانٹھ سکتا ہے،
غلام بنا سکتا ہے اور بندر کی طرح سدھا سکتا ہے۔ان راندہ درگاہ
انسانوں کو جرم کرنے سے پہلے بھی قانون کا بنیادی تحفظ نہ تھا اور
جیل کے اندر بھی ان کی زندگی مینوئل کے بجائے قانونی و غیر قانونی
طاقت  کی منشا و مرضی کے ضابطہِ کار  کے تحت  ہے۔
ایسے کمی کمین قیدیوں کوعلاوہ سانس ہر شے خریدنا پڑتی ہے۔

ملاقات کے پیسے، گھر سے کبھی کبھار آنے والے کپڑوں اور کھانے کے
پیسے، مار سے بچنے کے پیسے، سخت مشقت پر نہ لگائے جانے کے پیسے،
پیشی اور پھر عدالت پہنچانے کے پیسے، عدالت میں آواز پڑوانے، نہ
پڑوانے کے پیسے، اسپتال میں چیک اپ کے لیے لانے، لے جانے کے
پیسے۔ان کے لیے سب سے بڑی سہولت یہ ہے کہ کسی زیادہ بہتر قیدی کے
مشقتی بنا دیے جاویں یا پھول پودوں کی دیکھ بھال، سرکاری گاڑیوں
کی صفائی یا کچن وغیرہ میں لگا دیے جاویں۔

مگر جیل کو جنت بنانے والے قیدی اور ہیں۔ بھلے وہ کسی بھی
گھناؤنے جرم میں تشریف لائے ہوں مگر ان کے لیے جیل مینوئل کی اے
بی سی کلاس کے کوئی معنی نہیں۔جو ان کی اپنی سماجی و سیاسی و
معاشی کلاس ہے وہی بیرک کی کلاس ہے۔کچن، بیڈ روم، ماربلڈ واش روم،
ملاقاتیوں کا کمرہ، ایر کنڈیشنڈ، استری شدہ کپڑے، لش پش جوتے،
پرفیوم شیمپو، سراؤنڈ ساؤنڈ ڈیک، کراکری، تازہ پھل، پھول، کیک،
بوتل، جنس، موبائل فون سروس، ملاقاتیوں کی آزادانہ آہر جاہر، ان
کے لیے باہر سے آنے والی ہر شے اور ہر شخص تلاشی سے مبرا۔ان کی
بیرک ان کا دفتر، گھر، اینکسی، مہمان خانہ سب ہی کچھ ہوتا ہے۔

جیل کے عملے کو کسی بھی طرح کے ملازمتی، اختیاراتی،یاچھوٹے بڑے
گھریلو مسائل درپیش ہوں انھیں یہی عزت مآب فائیو اسٹار قیدی سنتے
اور حل کرتے یا کرواتے ہیں۔عید بقر عید، سالگرہ، خوشی، غمی پر
کھانے، نذرانے، تحفے اپنے لیے بھی، قیدیوں کے لیے بھی اور عملے کے
لیے بھی۔جب دل گھبرایا تو ہوا خوری  کر لی۔طویل آرام کا جی
چاہا تو اسپتال کا پورا وارڈ وقف ہوگیا۔اب وہاں علاج کروائیے،چاہے
محفل سجائیے یا رنگ لگائیے۔ مملکتِ جیل میں جو بھی صاحبِ عالم کی
منشا۔

کہا جاتا ہے جو ایک بار جیل والی پولیس میں آ جائے اس کا پھر کسی
اور برانچ میں جانے کا من نہیں کرتا۔جب ایسے قیدی اور ان کے ایسے
رکھوالے ہوں تو کون اس بہشتِ من مانی سے نکلنا  چاہے گا۔

فائیو اسٹار قیدیوں کی ایک قسم وہ بھی ہوتی ہے جو سماجی، سیاسی یا
معاشی اسٹیٹس تو ساتھ نہیں لاتے مگر ٹارگٹ کلرز اور دہشتگرد ہیں۔
وہ خوف کی کرنسی سے ہی جیل عملے کو خرید لیتے ہیں اور اسے انگلیوں
پر نچاتے ہیں۔دو ہفتے قبل دن دہاڑے کراچی سینٹرل جیل کے اندر بنے
جوڈیشل کمپلیکس سے اطمینان کے ساتھ کالعدم لشکرِ جھنگوی کے دو
مبینہ دہشتگردوں کے فرار کی کہانی اس کا بین ثبوت ہے۔گزشتہ ہفتے
سندھ پولیس کے کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ کے ایس ایس پی عمر شاہد
حامد نے اعتراف کیا کہ دہشتگرد جیل کے اندر مافیا ڈان کے کرو فر
کے ساتھ رہتے ہیں اور عملہ جان کے خوف سے ان کے ساتھ تعاون پر
مجبور ہوتا ہے۔

دہشتگردوں کے فرار کے بعد چھ ہزار قیدیوں اور بیرکوں کی تلاشی
ہوئی۔ جو سامانِ زندگی و تعیش برآمد ہوا اس سے پوری دو منزلہ
سپرمارکیٹ بھری جا سکتی ہے۔اگر چھبیس برس بعد تلاشی ہو تو اتنا
سامان نکلنا تو بنتا ہے۔

بظاہر پاکستان کی کسی بھی جیل کے باہر سے گزریں تو آپ کو اونچی
اونچی دیواریں، اوپر سے نیچے تک ریت سے بھرے اضافی بورے ، دیواروں
پر بنی چوکیوں پر مستعد سنتری نظر آئیں گے۔صدر دروازے پر مسلح
سپاہی کھڑے ہوں گے۔موبائل جامرز اتنے طاقتور ہوں گے کہ آس پاس کی
آبادیوں میں بھی سگنل نہ آئے۔مگر قیدیوں کو یہ جامرز توڑنے والی
اسٹیٹ آف آرٹ ٹیکنالوجی بھی میسر ہے۔ جیل کو جنت بنانے والے
قیدیوں کے لیے یہ سب حفاظتی انتظامات کسی شاندار فلمی سیٹ سے
زیادہ اہمیت نہیں رکھتے۔

یہ تو ان بااثر، صاحبِ وسیلہ خطرناک قیدیوں کی مہربانی ہے کہ اپنی
مرضی سے جیل میں رکے ہوئے ہیں۔ نہ رہنا چاہیں تو بھلا کون روک
سکتا ہے۔اور جیل سے خامخواہ جانے کی کوئی معقول وجہ بھی تو ہو۔
سرکارکے خرچے اور تحفظ کے سائے میں کون بے وقوف طاقتور مجرم ہو گا
جو جیل چھوڑنے کا خطرہ مول لے۔ انکوائری ہوتی بھی ہے تو زیادہ سے
زیادہ اتنی تبدیلی آتی ہے جتنی ایک ہاتھ کی پانچوں انگلیوں کو
تبدیل کرنا ممکن ہے۔مولے نوں مولا نہ مارے تو مولا مر نئیں
سکدا۔یہ کوئی فلمی ڈائیلاگ نہیں حقیقت ہے۔

Leave a Reply