لالچ مستقل غلامی ہے !

وسعت اللہ خان
وسعت اللہ خان

پچھلے چار ماہ میں نواز شریف تین بار کہہ چکےکہ وہ اپنے خلاف ہونے والی سازشوں کا پردہ مناسب وقت پر فاش کریں گے، دل میں جو طوفان چھپائے بیٹھےانھیں وقت آنے پر امڈائیں گے۔’’مناسب وقت سیریز‘‘ کے تازہ بیان میں آپ نے فرمایا کہ اس ملک کے نظام میں کوئی وائرسجو کسی بھی وزیرِ اعظم کی مدتِ اقتدار پوری ن ہونے دیتا۔ہم سب کو اس خرابی کا کوئی حل ڈھونڈنا ہوگا۔

بات یہکہ ہم سب کی اوپر تلے یہ قومی عادتکہ جو بات کسی بھی وقت کرنے کی ن ہوتی وہ ہم دھڑلے سے موقع محل سے بے نیاز بنا ادھر ادھر دیکھے کر دیتےمگر جو کرنے کی باتاسے نہ کرنے کے لیے ’’مناسب وقت‘‘کی چادر اوڑھ لیتے ، اشاروں کنایوں سے کام چلاتے ۔لال رومال کی جھلک تماشائیوں کو تو دکھاتے مگر کچھ اس طرح کہ ک کوئی بیل نہ دیکھ لے۔بیل کو سینگ سے پکڑنا بھی چاہتےمگر ڈرتے بھیاور آ بیل مجھے مار کا شوق بھی ترک ن کرنا چاہتے۔

عاشق کی تو مجبوریکہ محبوب کے روبرو اس کی زبان گنگ ہو جاتی اور وہ بنا ک ، یا آدھی بات بتا کے یا گول مول استعاراتی مدعے کا سہارا لے کے یا کام کی بات کل پے ٹال کے چلا آتا ۔مگر سیاستداں اور وہ بھی صفِ اول کے سیاستداں اور وہ بھی نواز شریف جیسے تین بار منتخب عہدے سے اتارےسیاستداں کو شوبھا ن دیتا کہ اتنا کچھ بیت جانے کے بعد بھی مسلسل حمایت علی شاعر بنا ر۔

میں کچھ نہ کہوں اور یہ چاہوں کہ میری بات

خوشبو کی طرح اڑ کے تیرے دل میں اتر جائے

کھل کے بات نہ کرنے کی تین بنیادی وجوہات ہو سکتی ۔ یا آپ کو معلومکہ جن کے بارے میں آپ دل کا غبار زبان پر لانا چاہ ر ، ان کے پاس جوابی کارروائی کے لیے آپ کے بارے میں خاصا ٹھوس مواد اور ایمونیشن موجود ۔ہو سکتاآپ کی ہچکچاہٹ کا سبب یہ ہو کہ آپ کے پاس سازش کا پردہ چاک کرنے کے لیے دستاویزی کم اور زبانی ثبوت زیادہ ہوں مگر آپ کو اعتماد نہ ہو کہ جن پتوں کی گواہی پر آپ تکیہ کیے بیٹھےک وہی عین وقت پر ہوا نہ دینے لگیں۔عین ممکنآپ راز مناسب وقت پر فاش کرنے کی محض ڈگڈگی بجا ر ہوں یعنی بلف کر ر ہوں ، یا آپ کو امید ہو کہ اک واری فیر سب اچھا ہو جائے گا یا دل کی بات زبان پر نہ لانے کا یہ سبب بھی ہو سکتاکہ آپ کو کوئی ایسی نازک بات معلومجو زبان پر آئی تو اس سے آپ پڑیں نہ پڑیں دیگر بہت سے دوست و بہی خواہ مصیبت میں پڑ سکتے ۔

مگر یہ بھی آپ سوچ سکتے   کہ ہو سکتاآپ کے کھل کے بات کرنے سے یہ فائدہ ہو کہ پھر ہر ایک کو یہ کہنے کی جرات مل جائے کہ ’’ بادشاہ تو واقعی ننگا ‘‘ اور جو آج آپ کے ساتھ ن بلکہ منڈیر پر بیٹھے تماشا دیکھ روہ بھی آپ کے ہمراہ چل پڑیں۔

مگر یہ سب کہنا آسان اور کرنا مشکل ۔اس کے لیے کشتیاں جلانے کا آخری فیصلہ کرنا پڑتا، مصلحت کے تمام کمبل دریا برد کرنے پڑتے، نفع نقصان کی جمع تفریق بھلانی پڑتی، غلط یا صحیح پر ڈٹ جانا پڑتااور پھر اپنا فیصلہ تاریخ پر چھوڑنا پڑتا ۔ایسا جوا کھیلنے کے لیے محض دیوانے کا حلیہ ن منصور و سرمد مارکہ اصلی والی ذرا سی دیوانگی بھی درکار ۔

میں یہ دلیل خریدنے کو تیار ن کہ چونکہ آپ کا خمیر ہی اسٹیبلشمنٹ سے اٹھالہذا آپ دبکے و بھڑک بازی سے زیادہ کچھ ن کر سکتے۔میرا ایمانکہ انسان کی کایا کلپ ہو سکتی ۔اگر نظام الدین ڈاکو ولی بن سکتا، بھٹو جیسا فیوڈل تاریخ کے سامنے سر اونچا رکھنے کی قیمت کے طور پر انقلابی انداز میں موت کو گلے لگا سکتاتو نواز شریف کی کایاکلپ کیوں ن ہو سکتی ؟ مگر اس یقین پر یقین تب آئے گا جب آئے گا۔یہ رہا میدان اور یہ پڑا گز۔۔۔

میں پچھلے دنوں کمانڈو مشرف کا دھڑم دھکیل بی بی سی انٹرویو پڑھ رہا تھا جس میں انھوں نے آمریت کو مسائل کا حل اور جمہوریت کو مسائل کی جڑ قرار دیتے ہوئے فرمایا  کہ جب آئین اور ریاست میں انتخاب کا وقت آئے تو آئین کی کوئی حیثیت ن ہوتی۔مشرف صاحب کا مسئلہ نہ سیاستنہ پارٹی اور نہ ہی جدوجہد۔لہذا یہ سب کہنا افورڈ کر سکتے ۔ اپنی گلی میں تو بلی بھی شیر ہوتی ۔جب یقین ہو کہ کوئی عدالت میرا کچھ ن بگاڑ سکتی،کوئی سیاسی حکومت بال بیکا ن کر سکتی تو پھر مشرف چھوڑ مشتاق پلمبر بھی کسی کے بارے میں کچھ بھی کہہ سکتا ۔

مگر سیاستداں کو ایسی مشرفانہ لگژری میسر ن۔ سیاست کا کنواں کوئی اردلی ن کھودتا بلکہ خود کھودنا پڑتا ۔سیاستداں کو کسی قلعے میں ن بلکہ شہری زندگی کے درمیان رہنا پڑتا ۔اسے ڈنڈے سے ن گفتگو سے لوگوں کو رام کرنا پڑتا ۔اگر کوئی عیبتو بس یہ کہ اتنی محنت و تگ و دو کے باوجود سیاستداں اب تک اپنا منصب ن پہچانتا ( پہچان لے تو مدبر نہ کہلانے لگے )۔

سیاست کے شعبے میں صرف پاکستان ہی ن باقی دنیا میں بھی اے گریڈ لوگ مشکل سے ہی نظر آتے ۔ جنھیں سیاست میں ہونا چاہیے انھیں یا تو خاص دلچسپی ن یا پھر ان کے پاس سیڑھی ن۔اور جن کے پاس سیڑھیان میں سے اکثر اس چوکیدار کے ذہنی لیول پرجس کے پاس الہ دین کا چراغ آ گیا تو اس نے جن بابا سے چار فرمائشیں کیں، بینک میں ایک ارب روپیہ ہو، ایک بڑی سی حویلی ہو ، اس میں ایک درجن مہنگی ترین گاڑیاں کھڑی ہوں، باوردی خدام کی فوجِ ظفر موج ہو اور میں گیٹ کے باہر کھڑا ہو کر اس حویلی کی چوکیداری کروں پانچ ہزار روپے ماہوار پر۔

جانے وہ کون سا دماغ ہوتاجسے معلوم ہوتاکہ اس کے پاس صرف وزارت کا ڈمی قلمدان اور جھنڈے والی گاڑی ، فیصلوں کا اختیار کسی اور کے پاسجو ک اور بیٹھا۔پھر بھی وہ جانتے بوجھتے ڈمی بنے رہنے پر راضی ۔جانے وہ کون سا ضمیر ہوتاجسے معلوم ہو کہ خدا کا دیا سب کچھ اس کے تصرف میں ۔ پھر بھی ہل من مزید کا شیطانی چکر اسے چین سے ن بیٹھنے دیتا اور وہ نفس کی دلالی اور دوسروں کے ہاتھوں میں کھلونا بننے پر آمادہ رہتا ۔

حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول’’ لالچ مستقل غلامی ‘جس روز سیاست دان کو یہ قول اور اپنی اوقات سمجھ میں آ گئی ہو سکتا وہ واقعی آزادی کے بارے میں سوچنا شروع کر دے۔

(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.com پر کلک کیجیے)