بدگمانستان کا فلمی میلہ

وسعت اللہ خان
وسعت اللہ خان

فلم پانامہ ختم ہوئی۔اب نیب مقدمات کے فیصلوں کے روپ میں اگلا
سیکوئل پانامہ ٹو کے نام سے کہیں جنوری تک ریلیز ہوگا۔اس بیچ
گذشتہ ہفتے ریلیز ہونے والی ایکشن تھرلر ’’ٹرمپ کا افغانستان‘‘سے
لطف اندوز ہوں۔ ابتدائی رپورٹوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ فلم نہ
صرف پلاٹینم جوبلی کرے گی بلکہ ہزار کروڑ روپے سے اوپر بزنس کرنے
والی فلموں کے کلب میں بھی ضرور شامل ہو گی۔مگر یہ اتنا آسان نہ
ہوگا کیونکہ اب اسے اس ہفتے ریلیز ہونے والی پاکستانی فلم ’’ مردم
شماری چٹھی بار‘‘کا چیلنج درپیش ہے۔

’’ ٹرمپ کا افغانستان‘‘کے برعکس ’’مردم شماری چھٹی بار‘‘ کی کہانی
کے بارے میں فلمی ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ ایک پرپیچ اور آہستہ
آہستہ کھلنے والی کہانی ہے۔ انٹرویل تک جتنی آہستہ آگے بڑھتی
ہے۔انٹرویل کے بعد اتنی ہی تیز اور دلچسپ ہو جاتی ہے۔ناقدین کی
آرا اس فلم کی ممکنہ آمدنی کے بارے میں منقسم ہیں۔کچھ کہتے ہیں
کہ یہ فلم اچھی کہانی کی بنیاد پر بزنس تو کرے گی مگر سو کروڑ کلب
کے اندر۔جب کہ بعض ناقدین کہتے ہیں کہ غالباً یہ پہلی
پاکستانی فلم ہو گی جس کے ہزار کروڑ کلب میں پہنچنے کے امکانات
نظر آ رہے ہیں۔

پاکستان میں شائد ہی کوئی مردم شماری ہو جو متنازعہ نہ رہی ہو۔اس
کا سبب گنتی میں غلطی نہیں بلکہ وہ بنیادی شک ہے جو اس مملکت کو
روزِ اول سے دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔یعنی یہ کہ ایک وفاق ہونے کے
باوجود حکمران طبقے کی سوچ ہمیشہ سے غیر وفاقی ہے۔یہ حکمران طبقہ
طرح طرح کے وفاقی رنگوں کو ایک بڑے دائرے میں کھلنے کی اجازت دینے
اور برداشت کرنے کے بجائے یکجائی اور ایک ہی طرز کی سیاسی
یونیفارم پر مسلسل زور دیتا ہے تاکہ یہ معلوم نہ ہو سکے کہ کس کا
حق کس کے پاس اور کس کا فرض کون نبھا رہا ہے۔

جب مشرقی پاکستان آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا وفاقی یونٹ تھا تو
مغربی پاکستان کی کم آبادی کے باوجود وفاق کو پیرٹی کا پاجامہ
پہنا دیا گیا یعنی یہ کہ آبادی سے قطع نظر وسائل کی تقسیم مشرقی
و مغربی پاکستان کے درمیان آدھوں آدھ ہوگی۔چلیے مان لیا کہ یہی
فارمولا بہتر تھا۔تو پھر اس فارمولے کو مشرقی پاکستان کی علیحدگی
کے بعد بھی برقرار رہناچاہیے تھا۔یعنی یہ کہ چاروں صوبوںکے درمیان
وسائل و آمدنی کی تقسیم مساویانہ یعنی پچیس پچیس فیصد کے اعتبار
سے ہو گی۔

مگر ہوا یوں کہ آبادی کا جو کوا مشرقی پاکستان کے ہوتے سفید قرار
پایا وہی کوا بعد از مشرقی پاکستان پھر سے کالا قرار پایا۔یعنی یہ
کہ وسائل و آمدنی کی تقسیم آبادی کے تناسب کے اعتبار سے
ہوگی۔گویا انیس سو اکہتر سے پہلے پنجاب کو جس طرح مشرقی پاکستان
درپیش تھا اسی طرح انیس سو اکہتر کے بعد باقی تین صوبوں کو پنجاب
درپیش ہوگیا۔وہی وفاق جو چھپن فیصد اور چوالیس فیصد کے مابین
آمدنی کی آدھوں آدھ تقسیم کا سب سے بڑا وکیل تھا یہی وفاق
راتوں رات آبادی کے تناسب سے آمدنی کی تقسیم کا وکیل ہوگیا۔

اس کا سب سے زیادہ نقصان سب سے زیادہ دودھ دینے والی گائے سندھ
اور سندھ کی بھی سب سے بڑی دودھیل گائے کراچی کو ہوا۔رقبے و معدنی
وسائل کے اعتبار سے سب سے امیر صوبے بلوچستان کا ذکر ہی کیا۔ وہ
نہ پہلے کسی شمار قطار میں تھا نہ اب ہے۔

اس وفاقی بدزنی اور قلابازیوں کے چٹخے شیشے میں پانی کی تقسیم کا
معاملہ ہو کہ سرکاری ملازمتوں کا کوٹہ کہ مردم شماری۔اگر سو فیصد
بھی منصفانہ تقسیم ہو تب بھی غیر منصفانہ اور دھندلا ہی نظر آئے
گا اور یہ تو آپ جانتے ہیں کہ ایک بار شیشے میں بال آ جائے تو
کہاں ختم ہوتا ہے۔بھلے کیسا ہی خوشنما چہرہ آئینے میں آن کے
کھڑا ہو جائے۔

ایسا نہیں کہ صوبوں کی مرکز سے ساری شکایات حقیقی ہیں۔ان میں سے
بہت سی شکایتوں کو کریدیں تو وہ محض بہتر سودے بازی کے لیے ایجاد
ہوئی ہیں۔مگر کچھ شکایات یقیناً حقیقی ہیں۔لیکن شکایات کے اس ڈھیر
کو باریک بینی سے الگ الگ کر کے ہر شکایت کے حقیقی وزن کو جانچنے
کے بجائے وفاق کا عمومی رویہ یہ ہوتا ہے کہ یار یہ صوبوں والے تو
اپنی سیاسی دوکان چمکانے کے لیے چیختے ہی رہتے  ہیں لہذا ان
کے واویلے کو سنجیدگی سے کیا لینا۔اس سوچ کے سبب جو محرومیاں
واقعی حقیقی مداوے کی منتظر ہیں وہ بھی سیاست و خود غرضی کے بوجھ
تلے دب گئی ہیں۔

وفاقی مرکز اور صوبوں کے مابین غلط فہمیوں کا ایک بنیادی سبب یہ
بھی ہے کہ ستر سال کے دوران بیشتر وقت یہی پتہ نہیں چلا کہ کون سی
پالیسی کے پیچھے کون سا فرد یا ادارہ ہے اور اس فرد یا ادارے کی
ڈوری کس کے ہاتھ میں ہے۔جن ممالک میں جمہوریت مسلسل ہے وہاں ہر
ایرے غیرے کو معلوم ہے کہ مرکزمیں بھلے کوئی بھی اسٹیبلشمنٹ ہو
مگر وہ اندر باہر سے سیاسی اور جانی پہچانی ہوگی۔جن ممالک میں
آمریت ہے وہاں بھی ہر ماجھا سا جھا جانتا ہے کہ اختیارات اور
پالیسی کا سرچشمہ کون سی ذاتِ شریف یا مجلسِ شرفا ہے۔اگر معاملہ
پٹانا ہے تو انھی سے پٹانا ہوگا۔مگر پاکستان میں وفاقی مرکز کے
بارے میں انگلی رکھ کے یہ کہنا ہمیشہ سے مشکل رہا ہے کہ پالیسی کس
کی چل رہی ہے اور نفاذی طاقت کونسی ہے اور جو بظاہر قوتِ نافذہ ہے
وہ اندر سے کتنی کاغذی اور کتنی ٹھوس ہے اور اس کی واسکٹ پر کس کس
مجبوری کے پیوند لگے ہوئے ہیں۔

ایسے تیتر بٹیر مکس پلیٹ مرکز کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نہ وزیرِ
اعظم کے وعدے پر اعتبار ہے کیونکہ وزیرِ اعظم کو بھی خود پر
اعتبار نہیں۔پارلیمنٹ مسلسل گومگو کے رسے پر چلتی رہتی ہے کہ فلاں
معاملہ اس کے دائرہِ کار میں ہے کہ نہیں۔فلاں معاملے میں وہ قانون
سازی کر سکتی ہے کہ عدلیہ اسے ایسا کرنے سے روک دے گی۔یا فلاں
معاملے میں اس کی قائمہ کمیٹیوں کی سفارشات پر مکمل عمل درآمد
ہوگا یا پھر ان سفارشات کو مرتب کرنے میں صرف وقت اور اسٹیشنری
ضایع ہو رہی ہے۔اسی طرح عدلیہ کو بھی یقین نہیں کہ اس کے فیصلوں
پر کون سا ادارہ یا فرد ہو بہو عمل کرے گا اور کون اس فیصلے کو
آناکانی ، تاویلات یا سست روی میں اڑا دے گا۔

اس  بے یقینی اور سیاسی عدم تحفظ کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ
جائز ناجائز قانونی و غیر قانونی سے قطع نظر جس سے جو چھینا جا
سکتا ہے چھین لو ، جسے جس طرح لوٹا جا سکتا ہے لوٹ لو، جس کو جیسے
نیچا دکھایا جا سکتا ہے دکھا دو۔جو اختیار جیسے بھی حاصل ہو سکتا
ہے کر لو۔غرض وہ لپاڈکی ہے کہ وفاق سے زیادہ وفاقی چڑیا گھر
دیکھنے کو مل رہا ہے۔

ایسی وفاقی آپا دھاپی میں کوئی بھی پالیسی کارگر نہیں ہو پا رہی
اور ہو بھی نہیں سکتی۔وفاق سے یونین کونسل تک ہر ایک اپنے آپ میں
افلاطون یعنی عقلِ کل ہے۔اس سے اندازہ لگائیے کہ باقی دنیا اس
دردِ سر میں مبتلا ہے کہ آبادی کیسے کم ہو تاکہ وسائل کا زیادہ
بہتر استعمال کر کے شہریوں کا معیارِ زندگی بہتر سے بہتر ہو
سکے۔مگر ہمارے ہاں زور اس پر ہے کہ کون اپنی آبادی کتنی بڑھا کے
دکھا سکتا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ وسائل اور آمدنی پر حق جتا
سکے۔

نتیجہ یہ نکلا ہے کہ پاکستان میں آبادی منصوبہ بندی کے سارے
منصوبے چوپٹ ہیں اور کم آبادی ایک عیب بن گئی ہے۔کہنے کو ہر شحض
باتیں بگھار رہا ہے کہ ہماری بے تحاشا آبادی ہمارے وسائل کھا رہی
ہے اور ہم ہر سال کروڑوںنئے محروم جنم دے رہے ہیں۔اس کا دباؤ
ہمارے آبی و زرعی وسائل اور ماحولیات پر پڑ رہا ہے کچھ کرنا
چاہیے۔

اب دیکھئے گا کہ اگلے پورے برس اس بات پر وفاق سے لے کر چنی گوٹھ
تک ہر شخص یہی باتیں کر رہا ہوگا کہ دیکھو ہمارے ساتھ کتنی زیادتی
ہو گئی۔فلاں صوبے کی آبادی اتنی زیادہ اور ہماری اتنی کم۔اس بحث
کو بے نتیجہ بنانے کے بعد اہلِ بدگمانستان ایک بار پھر یہ مسئلہ
بھول بھال کر نئی ریلیز ہونے والی فلم کے بارے میں سوچنے لگیں
گے۔کتنا آسان ہے ایسے لوگوں پر حکمرانی کرنا۔

Leave a Reply