غلام اور وائی فائی خچر

وسعت اللہ خان
وسعت اللہ خان
گروہی محبت اگر انسانوں کو آپس میں جوڑے تو نعمت اور فاصلے پیدا کرنے کا سبب بن جائے تو ایک عذاب۔مگر گروہ پرستی میں خرابی بس یہ ہے‘ کہ پتہ نہیں‘ چلتا کہ کب حب الوطنی ، حب العقیدگی ، حب القوم اور حب الارض کا سادہ سا جذبہ پار کر کے ایک عقل چوس خود پرست پنجرہ بن جائے اور کسی بھی طبقے کو خود میں پوری طرح یوں بند کر لے کہ اسے پتہ بھی نہ چلے کہ وہ ایک مخصوص انفرادی و اجتماعی سوچ اور ذات کا قیدی بن چکا ہے۔
یہ پرستانہ جذبہ ایسی آگ ہے‘ جو اپنے چولہے‘ تک رہے‘ تو فائدہ مند ہے‘ ورنہ اسے گھر پھونکتے دیر نہیں‘ لگتی۔ پہلے دوسروں کا ، پھر اپنا۔ اجتماع کی یا اجتماع سے محبت کی دو اقسام ہیں۔
ایک وہ جو خود رو ہے‘ لہذا بے ضررہے۔
دوسری قسم وہ ہے‘ جو پروڈکٹ کی شکل میں کسی نظریاتی و نسلی و جغرافیائی فخر کی سوچ فیکٹری میں تیار ہوتی ہے‘ اور اسے ایک پورے طبقے اور قوم کو گھٹی میں استعمال کروایا جاتا ہے‘ اور جب یہ طبقہ اس گھٹی کا پوری طرح سے عادی ہوتا ہے‘ تو پھر اسے بطور خام قوت کوئی چالاک اقلیت اپنے مخصوص مقاصد حاصل کرنے کے لیے حسبِ ضرورت و منشا نیم سفاکی و سفاکی کے ساتھ استعمال کرتی ہے۔
اکثریت کو حواس میں نہ آنے دینے کے لیے عظیم ماضی اور سنہرے مستقبل کی فلمیں دکھائی جاتی ہیں‘ اور زمانہِ حال کو نظرانداز کرنے کا سبق رٹایا جاتا رہتا ہے۔
تمام ابلاغی وسائل کام میں لاتے ہوئے روزمرہ بنیادی مسائل کو راستے کی تکلیف اور ایک بڑے مقصد کے لیے قربانی بتایا جاتا ہے‘ اور پھر یہ عظیم مقصد بصورت ِگاجر قومی ، طبقاتی یا گروہی خچر کے آگے لٹکا دیا جاتا ہے‘ تاکہ وہ اس امید پر سواری کا بوجھ اٹھائے چلتا رہے‘ کہ گاجر کبھی تو اس کے دانتوں تک پہنچے گی۔ جب خچر ادھ موا ہوجاتا ہے‘ تو طوطا چشم سواری اسے راہ میں چھوڑ کے کسی اور تازہ مند خچر کے ماتھے‘ پر خوابوں کی وہی گاجر لٹکا دیتی ہے۔
شاباش!بس تھوڑی دیر اور۔ اب تو بہت کم فاصلہ باقی ہے۔
ارے یہ سامنے کے دو پہاڑ ہی تو اور چڑھنے ہیں۔
اس کے بعد تو سبزہ ہی سبزہ ، پانی ہی پانی ، خوشحالی ہی خوشحالی ، سکون ہی سکون۔ یہ سواری اور یہ خچر پچھلے آٹھ ہزار سال سے چلتے چلے جا رہے‘ ہیں‘ اور منزل ہے‘ کہ آنے کا نام ہی نہیں‘ لیتی۔اب تو یوں لگتا ہے‘ کہ منزل بھی صفر کے ہندسے کی طرح کا کوئی مفروضہ ہے۔
مگر صفر کے بعد کم ازکم ایک تو آتا ہے۔
جب کہ منزل کا خواب خچر کے پاس رہ جاتا ہے‘ اور تعبیر سواری کے ہاتھ آتی ہے۔
کہتے ہیں‘ غلامی ختم ہوگئی۔اب ہم سب آزاد ہیں۔
یہ ایک اور گاجر ہے‘ جس سے ہماری تواضع کی جا رہی ہے۔
غلامی تو خیر کیا ختم ہوتی غلام کا آقا اور چالاک ہو گیا ہے۔
جب دورِ غلامی تھا تو غلام کو کم ازکم یہ تو معلوم تھا کہ مالک کون ہے‘ ؟ اس نے کتنے میں کس سے خریدا ؟ پیر میں جو بیڑیاں ہیں‘ کس دھات کی ہیں‘ ؟ کھانے میں زیادہ سے زیادہ کیا ملے گا ؟ رہنے کے لیے کٹیا کا سائز کیا ہے‘ ؟ مالک کی کس سے دوستی اور کس سے دشمنی ہے‘ اور کس سے منافقانہ تعلق ہے‘ ؟ مالک کس بات پر ناراض اور کس پر خوش ہوتا ہے‘ ؟ یہ بھی تو ممکن ہے‘ کہ مالک کسی دن اسے آزاد کردے ، لاولد ہو تو جاتے جاتے کچھ دے ہی جائے ، رحم دل ہو تو اولاد کو اچھے سلوک کی وصیت کر جائے اور سفاک ہو تو کسی بھی دن غیظ و غضب میں آن کر مار ڈالے اور غلامی کی زندگی سے دائمی نجات دلا دے۔ مگر آج ہمیں ایسی کوئی سہولت و جانکاری میسر نہیں‘ جو ہمارے غلام پرکھوں کو دستیاب تھی۔کیونکہ ہمیں یقین دلا دیا گیا ہے‘ کہ ہم آزاد ہیں۔
کیونکہ ہمارے پاؤں میں لوہے‘ کی بیڑیاں نہیں‘ ، کیونکہ ہم بشرطِ سکت آزادی سے کہیں‘ بھی آ جا سکتے ہیں۔
کیونکہ ہمیں یہ وہم عطا کیا گیا ہے‘ کہ ہم اپنے ذاتی فیصلے خود کر سکتے ہیں‘ حتیٰ کہ اپنے نمایندے اور حکمران بھی خود چن سکتے ہیں۔
گویا ہم اپنی قسمت کے مالک ہیں۔
یہ سب ہمیں اچھے سے ازبر کرا دیا گیا ہے۔
مگر جیسے کچھ راز پرانے دور کے بیڑی بند غلاموں پر نہیں‘ کھولے جاتے تھے‘ ویسے ہی کچھ رازنئے آزاد غلاموں پر بھی آشکار نہیں‘ ہو سکتے۔آشکار ہو بھی جائیں تو غلاموں کے کس کام کے۔ پرانی دنیا کی طرح نئے دور  کے آقا بھی غلاموں سے سوچ اور اس سوچ کے نتیجے میں جمع کردہ وسائل کے اعتبار سے دس ہاتھ آگے ہیں۔
نہ ہوتے تو آقا کاہے‘ کو ہوتے۔ کیا کیا نہیں‘ بتایا گیا ؟ اور بتایا بھی گیا تو کیا سمجھ میں نہیں‘ آ رہا ؟ یعنی یہ کہ دو ہزار سترہ کا غلام دو ہزار سترہ برس پہلے کے غلام کی طرح آہنی زنجیر سے نہیں‘ ریموٹ کنٹرول سے باندھا گیا ہے‘ ، اس کے سر پر موٹے کپڑے کا توبڑا نہیں‘ بلکہ ذہین پروپیگنڈے کی دھات سے بنا ٹوپا چڑھایا گیا ہے۔
اس کے کانوں میں پگھلا سیسہ نہیں‘ بلکہ سوچنے سمجھنے سے بے بہرہ کر دینے والا شور ڈال دیا گیا ہے۔
اس کی آنکھوں میں گرم سلاخیں نہیں‘ پھیری گئیں بلکہ اسے بصارت کش ٹی وی دے دیا گیا۔اب وہ کسی کٹیا میں تنہا نہیں‘ بلکہ ایک بہت بڑے پنجرے میں اپنے ہی جیسے کروڑوں کے ساتھ رہ کر خود مختاری کی چرس پی رہا ہے‘ اور راضی ہے۔
جسمانی غلامی وائی فائی ہو چکی ہے۔
میرا اختیار وائی فائی ، انصاف وائی فائی ، جان و مال کا تحفظ وائی فائی ، میرا آقا وائی فائی، میرے رشتے وائی فائی ، میری اجرت وائی فائی ، خواب ، تعبیر ، سوچ ، خوشی، دکھ، ڈیپریشن، نفرت ، محبت ، مسیحائی ، موت ، سب وائی فائی اور ہاتھ میں بس آزادی کا لالی پاپ… کیا ایسی غلامی سے چھٹکارا ممکن ہے‘؟ چھٹکارا تب ہی ممکن ہے‘ جب یہ طے ہو جائے کہ اصل میں آقا کون ہے‘ کہ جس کا گریبان پکڑا جا سکے۔یہاں تو آقا بھی الیوڑن ہے‘ ، کیا ضمانت کہ جو آقا کا کردار نبھا رہا ہے‘ وہ کوئی اداکار ہی ہو اور اس کا ڈائریکٹر کوئی اور ہو اور اس ڈائریکٹر کا فنانسر کوئی اور ہو اور اس فنانسر کا بھی کوئی مہا فنانسر ہو۔ مگر حالات اتنے تاریک بھی نہیں۔
شکر ہے‘ الیوڑن زندہ ہے۔
اگر یہ بھی مر جائے تو باقی کیا ہے‘ ؟ بس یونہی چلتے رہو ، اپنے شاندار وائی فائی ماضی کو تصور کر کے ، بے حال زمانہِ حال کو روندتے ہوئے ایک شاندار مستقبل کی طرف کہ جو وائی فائی تک نہیں۔
کیا اتنا بتانا کافی نہیں‘ کہ چند قدم اور ، بس ان دو پہاڑوں کے فوراً بعد نجات کا لہلہاتا میدان اور ہم خچروں کے لیے پیٹ بھر سبزہ…اور کیا چاہیے جینے کے لیے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here