آٹھ سو سالہ سوگ کا عالمی ریکارڈ

وسعت اللہ خان
وسعت اللہ خان
وسطی ایشیا تک تو اموی پہنچ ہی چکے تھے۔
پہلے عباسی خلیفہ ابو عباس السفاح کے وقت چین کی تانگ بادشاہت  کی قلمرو میں ترکستان تک کا علاقہ تھا۔ جولائی سات سو اکیاون میں دریائے طلاس کے کنارے عرب افواج نے تانگ لشکر کو تبتی اتحادیوں کے تعاون سے ایک مختصر سی جنگ میں شکستِ فاش دی۔ یوں عباسی سلطنت شمال مشرقی چینی سرحد سے جا ملی۔اس جنگ میں جو چینی قیدی  ہاتھ آئے، ان میں سے کچھ کاغذ بنانے کا فن بھی جانتے تھے۔
اب تک یہ فن چین میں ایک ریاستی راز کی طرح محفوظ تھا اور افشا کرنے کی سزا موت تھی۔ ان چینی قیدیوں کی مدد سے سمرقند میں کاغذ بنانے کا پہلا کارخانہ لگایا گیا۔چینی شہتوت کے درخت کی چھال کو گودے میں تبدیل کر کے کاغذ تیار کرتے تھے۔
اس کاغذ پر برش سے ہی لکھا جا سکتا تھا۔مگر سمرقند کے کارخانے میں مسلمان کیمیا دانوں کے مشورے سے شہتوت کی چھال میں نشاستہ ملا کے جو کاغذ بنایا گیا اس پر قلم سے بھی لکھا جا سکتا تھا اور روشنائی بھی نہیں‘ پھیلتی تھی۔رفتہ رفتہ یہ ٹیکنالوجی بغداد پہنچ گئی جہاں سات سو چورانوے عیسوی کے بعد سے جدید کاغذ تھوک کے حساب سے دستیاب تھا۔ طلب میں اضافہ یوں بھی تھا کہ بغداد کے دارلترجمہ میں سیکڑوں متروک یونانی کتابوں اور عباسی سلطنت میں شامل علاقوں کے غیر عرب لٹریچر کا عربی میں تیزی سے ترجمہ ہو رہا تھا۔خود مسلمان مورخوں، منطقیوں، سائنسدانوں اور علماء کا تحقیقی کام بھی عروج پر تھا لہذا کاتبوں کی بھی چاندی تھی جو ہزاروں کی تعداد میں قرطبہ سے بغداد تک پھیلے ہوئے تھے۔
کاغذ سازی اگلے دو سو برس میں براستہ مراکش مسلم اسپین سے ہوتی باقی یورپ تک پہنچ گئی۔بغداد میں پہلا جنرل اسپتال، اس سے متصل میڈیکل کالج اور پہلی پبلک لائبریری قائم ہوئی۔مراکش کے شہر فیض میں پہلی یونیورسٹی جامعہ القروئین قائم ہوئی جو آٹھ سو انسٹھ عیسوی سے باقاعدہ تعلیمی ڈگری جاری کر رہی ہے۔
جب کہ یورپ میں پہلی یونیورسٹی جامعہ القروئین کے قیام کے ڈیڑھ سو برس بعد ایک ہزار دس عیسوی میں اطالوی شہر بولونا میں قائم ہوئی۔تب تک قاہرہ کی جامعہ الازہر کے قیام کو بھی پینتیس برس گذر چکے تھے۔
جب گیارہویں صدی میں پہلی صلیبی جنگ ( دس سو پچانوے تا دس سو ننانوے عیسوی )کے دوران مسیحی لشکر نے موجودہ لبنان میں تریپولی شہر کی اینٹ سے اینٹ بجائی تو شہر کی پبلک لائیبریری میں رکھی تین لاکھ کے لگ بھگ کتابیں اور دستاویزات بھی تلف ہو گئیں۔ جنوری بارہ سو اٹھانوے میں بارہ دن کے محاصرے کے بعد تاتاری لشکر بغداد میں داخل ہوگیا۔ہر عوامی سہولت نذرِ آتش کر دی گئی۔اس قدر جلی ہوئی کتابیں کہ دجلہ کا پانی کئی روز تک سیاہ رہا۔یوں کائنات کے راز کھولنے کی متلاشی مسلم گولڈن ایج لگ بھگ چھ سو برس جینے کے بعد درگور ہوگئی اور پندھرویں صدی میں مسلم اسپین کا بھی کریا کرم ہوگیا۔ شکست انسان پر دو طرح سے اثر انداز ہوتی ہے۔
یا تو وہ ہاتھ پاؤں چھوڑ کر تارک الدنیا ہو جاتا ہے۔
رسی کو بھی سانپ سمجھتا ہے‘ یا پھر انگڑائی لے کر ایک نئے ولولے کے ساتھ جو ہوا سو ہوا پر مٹی ڈالتا ہوا مستقبل کی راہ پر چل پڑتا ہے۔
تاتاریوں کے ہاتھوں تباہی کے بعد چند برس تو سکتے کی حالت میں گذرے۔پھر یہ سوچ جڑ پکڑنے لگی کہ جو بھی ہوا وہ دین کی رسی چھوڑنے کے نتیجے میں عیش و آرام کی غفلت آمیز زندگی کے سبب ہوا۔یہ دراصل وہ سزا ہے‘ جو امہ کو گناہوں کی دلدل میں دھنسنے کے سبب ملی ہے‘ اور کفارہ یہی ہے‘ کہ توبہ کرتے ہوئے اس پاپی دنیا پر لعنت بھیج کے آخرت کی فکر کی جائے۔اس سوچ کے سبب ہم مسلمان زہن کو دو ادوار میں تقسیم کر سکتے ہیں۔
دورِ یثرب سے قبل از سقوطِ بغداد تک کا مسلمان ذہن نئی دنیا کی تلاش اور کونے کونے تک نیا انقلابی پیغام پہنچانے اور بلا امتیازِ رنگ و نسل خلقِ خدا سے رابطے کی چاہ اور سیکھنے سکھانے کی پیاس بجھانے سے معمور تھا۔اس سوچ کے بطن سے فتوحات، تجارت ، دریافت ، تحقیق اور ایجاد نے جنم لیا۔ سقوطِ بغداد کے بعد یہی دنیا سازشوں کا گڑھ نظر آنے لگی۔اسلام کی بقا کا سوال باقی تمام مسائل پر کمبل ڈال گیا۔ ہر وہ شے جو اجنبی یا سمجھ سے باہر تھی دشمن قرار پائی۔ دنیا اور اس کی مادیت کو زہر سے بجھی حسینہ سمجھ لیا گیا کہ جس کا بوسہ دراصل مسلمان تہذیب و تمدن و اقدار کے لیے دراصل بوسہِ مرگ ہے۔
چنانچہ بعد از سقوطِ بغداد کی دنیا میں ہارون ، مامون ، البیرونی ، الکندی ، ابنِ سینا ، ال ادریسی، ابن الہیثم ، ابنِ خلدون، جابر بن حیان، ابنِ رشد، ابنِ فرناس کی کوئی گنجائش نہیں‘ بچی۔طے پایا کہ یہی تو وہ لوگ تھے‘ جنہوں نے ہمیں راستے سے بھٹکایا۔یہی دنیا پرست ، سیکولر ، لبرل ، ملحد ، دین سے برگشتہ لوگ ہی مسلم دنیا کی تباہی کے اصل ذمے دار ہیں۔
چنانچہ سقوطِ بغداد کے لگ بھگ دو سو برس بعد عظیم الشان سلطنتِ عثمانیہ وجود میں آئی تو اس کا نظریاتی وجود بھی اسی خمیر سے اٹھا۔یعنی توپ چاہیے مگر دوربین نہیں۔
دوربین چاہیے مگر دنیا کھوجنے کے لیے نہیں‘ دشمن کے لشکر کو آتا دیکھنے کے لیے۔ قبل از سقوطِ بغداد علم و تحقیق سماجی قدر و منزلت کا معیار تھا۔بعد از سقوط تحقیرِ تحقیق نیا معیار ٹھہرا۔سقوطِ بغداد کے ڈھائی سو برس بعد سن چودہ سو چالیس میں جرمن شہر مینز کے ایک لوہار گٹن برگ نے پہلا چھاپہ خانہ بنا لیا۔یوں انسانی تاریخ میں پہلی بار کتاب امرا کی علمی لگژری کے پائدان سے اتر کر جاننے کے متلاشی عام آدمی کے میلے ہاتھوں میں پہنچ گئی۔اگلے ساٹھ برس کے دوران یورپ کے ہر قابلِ ذکر قصبے میں ایک چھاپہ خانہ کھل گیا اور اس قلیل عرصے میں کتابوں کی دو کروڑ جلدیں شایع ہوئیں۔ سولہویں صدی کے آخر تک چھپنے والی کتاب کی تعداد بیس کروڑ تک پہنچ گئی۔اس علمی بہتات سے دماغ کھلنے لگا ،کھلے دماغ  سے صنعتی و سائنسی انقلاب پھوٹا اور پھر میڈیا نے بھی جنم لیا۔یوں بنیادی حقوق و فرائض کی بحث بھی چھڑ گئی۔ یورپ سے باہر سولہویں صدی کے آغاز پر استنبول سلطان سلیم اول کا پایہ تخت تھا۔پندرہ سو پندرہ میں مفتیِ اعظم  کے مشورے پر شاہی فرمان جاری ہوا کہ سلطنتِ عثمانیہ میں مشین پر عربی اور فارسی طباعت کی سزا موت ہوگی۔پہلی عربی کتاب پندرہ سو چودہ میں اطالوی قصبے فین کے ایک چھاپہ خانے نے شایع کی۔اسی دور میں وینس ، روم اور وی آنا میں بھی کچھ عربی فارسی کتابیں شایع ہوئیں کیونکہ بیرونی دنیا سے تجارت اور سفارت کاری کرنے والے یورپئیوں اور اورینٹلسٹس کو ایسی کتابوں کی ضرورت تھی۔ پندرہ سو ستاسی میں سلطان مراد سوم نے عربی فارسی  کتابیں امپورٹ کرنے کی اجازت دے دی۔مگر استنبول میں پہلا پرنٹنگ پریس اس اجازت کے ڈیڑھ سو برس بعد شیخ الاسلام کی رضامندی سے ابراہیم المترفقہ نے سترہ سو ستائیس میں کھولا ۔ شرط یہ تھی کہ اس پریس سے کوئی مذہبی کتاب شایع نہیں‘ ہوگی۔مذہبی کتابوں کی پرنٹنگ کی اجازت ایک سو گیارہ برس بعد اٹھارہ سو اڑتیس میں سلطان محمود دوم نے دی۔جب انیسویں صدی شروع ہوئی تو مراکش تا یمن پھیلی سلطنتِ عثمانیہ میں صرف تین سرکاری پرنٹنگ پریس تھے‘ اور وہ بھی استنبول میں۔ آپ اندازہ لگا سکتے ہیں‘ کہ ان حالات میں عظیم سلطنتِ عثمانیہ کی کروڑوں پر مشتمل رعایا تک کتاب کی کس قدر رسائی ممکن تھی۔جب تلک دماغ کا روشن دان کھلنا شروع ہوا تب تلک سائنس سے مسلح یورپ بیشتر ایشیا اور افریقہ پر قابض ہو چکا تھا۔ ایران میں پہلا چھاپہ خانہ پرنٹنگ پریس کی ایجاد کے پونے چار سو برس بعد اٹھارہ سو سترہ میں کھلا۔ہندوستان میں پرتگیزی مبلغ پندرہ سو چھپن میں ہی چھاپہ خانہ لے آئے مگر اردو میں پہلی کتاب اخلاقِ ہندی کلکتہ کے ایک یورپئین پریس سے اٹھارہ سو تین میں طبع ہوئی۔ اٹھارہ سو ستاون کی جنگِ آزادی کے بعد برصغیر کے مسلمان اسی ذہنی کیفیت میں چلے گئے‘ جیسی سقوطِ بغداد کے بعد طاری ہوئی تھی۔ایک طرف بدلی ہوئی دشمن دنیا دوسری جانب مظلوم مسلمان۔ایسے میں سر سید جیسے شخص کو تو گالیاں پڑنی ہی تھیں۔مگر یہ سر سید کا احسان ہے‘ کہ گالیوں کا برا نہیں‘ منایا۔آج مجھ جیسے چھٹ بھئیے جو اپنی لکھت پر اکڑتے ہیں۔
یہ اکڑ اسی چکنے گھڑے سر سید کی دین ہے۔
مگر سقوطِ بغداد کے آٹھ سو برس بعد بھی ’’ اسلام خطرے میں ہے‘ کہ نہیں‘ ’’کی بحث جاری ہے‘ اور اس خطرے کا توڑ کیسے کیسے نادر طریقوں سے کیا جا رہا ہے‘، یہ بھی آپ کے سامنے ہے۔
ساتھ ساتھ یہ شکوہ بھی مسلسل ہے‘ کہ اب ہمارے ہاں ابنِ خلدون،جابر بن حیان ، بو علی سینا اور ابنِ الہیثم کیوں نہیں‘ پیدا ہوتا۔ کیا کوئی اور قوم بھی ہے‘ اس کرہِ ارض پر جو آٹھ سو برس سے حالتِ سوگ میں ہو ؟ جانے گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ  سے یہ بات کیوں اب تک  اوجھل ہے۔
روزانہ خبریں اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔