ایک تقریر … جس سے بہت سُبکی ہوئی

کالج کے کلاس فیلوہونے کے ناتے وزیر صاحب کبھی کبھارگپ شپ کے لیے میرے ہاں چلے آتے۔کچھ عرصہ قبل ایک تقریب کے فوراً بعد آئے تو پریشان سے ،میں نے سبب پوچھاتوکہنے لگے ’’آج تقریرن ہوسکی‘‘ میں نے کہا ’’کیامطلب؟ آپ تو تقریر کے اتنے شوقینکہ پلیّ سے کچھ دیکر بھی تقریر کرآتے حتیٰ کہ جنازوں پر بھی میتّ کوتقریر سنائے بغیردفن ن ہونے دیتے اس ضمن میں جناب نے کبھی سامعین کے مُوڈ یا تعدادکی بھی پرواہ ن کی اسلیے آج تقریر کیے بغیرکیوں چلے آئے؟۔‘‘کہنے لگے’’ آپ ٹھیک کہتے ہومگر آج کی تقریب میں جم کر تقریرن کرسکا،کیونکہ موضوع فاٹا کے ممبروں کی طرح گرفت میں ہی ن آسکا، اورسامعین کی دلچسپی اتنی ہی کم رہی جتنی حکومتی ارکان کی وزیرِاعظم کی عدم موجودگی میں اسمبلی سے ہوتی ۔سچی باتآج بہت بے عزّتی ہوئی۔‘‘ توآپ تیاری کر کے کیوں ن ، ٹوٹوں والا فارمولابھی ن چل سکا؟’’میںنے پوچھا ۔جواب میں وزیر صاحب نے پوری رام کہانی سنادی” دیکھو یار ! بات یہکہ ہمیں بے شمار تقریبات میں جاناپڑتا،اب اتناوقت تون ہوتاکہ ہر تقریب یا ہر سیمینار کے متعلقہ موضوع پر تقریر تیار کرنے بیٹھ جائیں ،اسطرح تو ہماری وزارت صرف تقریرسازی کا کام ہی کریگی ،میں نے مشورہ دیتے ہوئے کہا “اسپیچ رائٹررکھ لیں”، کہنے لگے “رکھاتھامگراُس نے تقریر نویسی کا کام ٹھیکے پر دے دیا سو اس سے جان چھڑانا پڑی۔ …”ـہاں تم نے ٹوٹوںکی بات کییہ درستکہ میں نے ،، کالج میں کچھ ادیبوں کے لکھے ہوئے چند جذباتی پیراگراف،جنھیں ٹوٹے کہا جاتا تھا، رٹ لیے ۔ہر تقریرمیں وہ ٹوٹے استعمال کرکے بڑی ٹرافیاں جیتیں۔ ایک بار وہی ٹوٹے مجھ سے پہلے آنے والے مقررّ نے ہائی جیک کر لیے تو وہ جیت گیا ۔ …وزیربن کر بھی وہ فارمولا بڑی کامیابی سے چلتا رہا۔ایک بار ادیبوں کی تقریب میں مہمانِ خصوصی کے طور پر تقریر کا آغاز بھی ایک ٹوٹے سے ہوا۔درمیان میں تھوڑا سا وقفہ دیکر مزید دو ٹوٹے فِٹ کیے اور اختتا م پھر ٹوٹے سے کیاتو لوگ واہ  واہ کر اٹھے۔ پھر ایک بار ڈاکٹرو ں کی تقریب میں مجھے مہمانِ خصوصی کے طور پر مدعوکیاگیا۔موضوع تھا ’’ماں بچے کی صحت میں مڈوائف کا کردار‘‘ بچپن میں مارننگ واک پر مضمون یادکیا تھا ۔ لہٰذاتقریر کا آغاز اُسی مضمون سے کرتے ہوئے بتایاکہ ماںاور بچے کی صحت کے لیے مارننگ واک کتنی مفید۔پھر تم تو جانتے ہومیرے وزیر بننے کے بعد ترقی کی رفتار میں کتنا اضافہ ہوا ، وزارت سے پہلے میری صرف ایک بیگم تھی اب موجودہ اہلیہ ماشاء اللہ میری وائف نمبر تین،میںنے سامعین کو بتایاکہ مڈوائف کا کردار بچوں کے لیے کتنا اہم ہوتا میری مڈل والی وائف کا کردار اتنا ہی اہمجتنا اسٹیبلشمنٹ کا، یعنی میری پہلی بیگم اور بچے میری مڈل وائف کو اُسی نظر سے دیکھتے جس سے بڑی پارٹی کے لیڈر اسٹیبلشمنٹ کو دیکھتے ۔ ویسے سچ بات تو یہکہ”تیسرانکاح، نر ی ذلت وخواریاگر آدمی نے ذلیل ہی ہو نا تو بہتر پارٹی بدل لے ۔ اگر آدمی نے منہ ہی کا لا کرا ناتو تیسرانکاح کرنے سے بہترسینیٹ کے الیکشن میں ووٹ بیچ کر پیسے کما لے ۔ بہرحال،میں نے تقریر میںکچھ ذاتی واقعات،کچھ سیاسی لطیفے اور ڈاکٹروں کے ساتھ اپنے تجربات سناتے ہوئے جب سامعین کو بتایا کہ زندگی میں کئی ڈاکٹروں سے پالاپڑا ہر ڈاکٹر نے کسی نہ کسی نعمت سے محروم کرنے کی کوشش ضرور کی کِسی نے کھانے سے اور کسی نے کچھ پینے سے منع کیا مگرانکی کوششیں کبھی کامیاب ن ہو ئیں یہ الگ باتکہ منع کرنے والے تمام طبیب اللہ کو پیارے ہوچکےاور میں آپکے سامنے اپنی مڈوائف کی خوبیاں بیان کر رہا ہوں۔،اسپربھی خوب تالیاں بجیں‘ پھر ایک دفعہ ایک اسپورٹس کلب نے اپنی تقریب میں مدعوکیا،حسبِ معمول کوئی تیاری ن تھی ،پی اے نے انٹرنیٹ سے کئی مضامین نکال کر پیش کیے ،کئی اسپورٹس اسٹارز کے اسکینڈل بھی دکھائے مگر میںنے سب کو نظر انداز کیا صرف اسکینڈل زدہ لیڈی اسٹار زکی تصاویرکامعائنہ کیا اور فیصلہ سنادیاکہ فی البدیہہ تقریر کرونگا۔ کیابتاؤں میرے دوست !بھلے وقتوں کی کھائی ہوئی خوراک اور کی ہوئی محنت کتناکام آتی ، ذہن پر تھوڑا سا زور دینے سے یاد آگیاکہ کالج میں فٹ بال میچ پر ایک مضمون یاد کیا تھا،صرف میدان کا مقا م اور کھلاڑیو ں کے نام بدلنا پڑے باقی تقریباًسارا مضمون تقریرکہہ کر سنادیا۔یہ جانتے ہوئے کہ سامعین میں فٹ بال سے زیادہ کرکٹ کے شائقین ہوں گے، میں نے کرکٹ میں جوئے کے عمل دخل اور جواریوں پر جیل کے اثرات ” پربھی روشنی ڈال دی جس سے سامعین بہت متاثرہوئے ۔ ویسے وہ یورپ کی جیلوں میں ملنے والی سہولتو ں کے ذکر سے زیادہ متاثر ہوئے اور کئی حضرات علیحدگی میں مجھ سے جیل جانے کے آسان طریقے بھی پوچھتے ر ۔ مگرآج کی تقریب میںبہت سبکی ہوئی ۔ تشویشناک بات یہکہ کم علمی کا بھرم کھل گیا”۔”موضوع کیاتھا؟” میںنے پوچھا…کہنے لگے موضوع ٹیڑھا اور سا معین بے ذوق ۔ موضوع تھا “ادب اور ثقافت پر عالمی سیاست کے اثرات” اور سا معینعمر رسیدہ اور عشق گزیدہ ادیب اور شاعر۔ میرے پی اے گلزارِوفا جسکا دعویٰکہ چونکہ اس نے پانچویں جماعت میںایک بار بیت بازی کے مقابلے میں انعام حاصل کیا تھا اسلیے اسے یہ حق پہنچتا کہ وہ مجھے چٹوں پرشعر یا مصرعے لکھ کر فراہم کیا کرے اور وہ بھی، ہر تقریرسے پہلے، پھر ساتھ یہ بھی لکھ دیتا کہ،شعر کے موضوع کے ساتھ تعلق کی کوئی گارنٹی ن ۔ اس خبر کو بھی پڑھیں : ملک کے نوجوانوں کے نام موضوع میں ادب کالفظ سنتے ہی گلزارِوفا نے مجھے قبل از تقریب جو چٹ پکڑائی اُسپر لکھا تھا ع ادب پہلا قرینہمحبت کے قرینوں میں۔لہٰذامیں نے تقریر کا آغاز اسی سے کیا اور اپنی پہلی محبتّ کے چند واقعات سنا ڈالے مگر سامعین بدذوق سے نکلے کہ جن پر کوئی اثر نہ ہوا اورکسی نے ہلکی سی تالی بجانے کی بھی زحمت نہ کی ،اس کے بعد فارمولے کے مطابق ایک دو ٹوٹے چلا ئے مگر سامعین تالیوں سے اسطرح گریزاں ر جیسے تالی بجاتے ہی انھیں نیب والے اٹھا کر لے جائیں گے۔ بات بنتی نظر نہ آئی توحکومت کے کارنامے گنوانے شروع کردیے کیونکہ یہ ضروری بھیاور مجبوری بھی۔ ایک بار گونگے اور بہرے افراد کی تقریب میں ایک وزیر حکومت کے کارنامے بتانابھول گیاتو اس کی وزارت سے چھٹی ہوگئی۔ حکومتی کارکردگی پرمیری بات ذرا طویل ہوئی تو ایک صاحب بولے”حضور !لگتا راستہ بھول۔ موضوع کیجانب تشریف لائیے”میں نے انھیں تسلّی دیتے ہوئے کہافکر نہ کیجیے اُسی جانب آرہا ہوں” کہنے لگے” شارٹ کٹ لیجیے، آپ تو بائی پاس پر چڑھے ہوئے ”۔ میں جانتا تھا کہ سامعین کی دلچسپی کم ہونے لگے تو کوئی جذباتی شعر یا لطیفہ سنا کر متوجہ کیا جاسکتا۔ ،لہٰذایہ فارمولا بھی استعمال کیا ۔شعر چونکہ رومانوی تھا اسلیے پچھلی قطارمیں بیٹھے ہو ئے صرف دو نوجوانوں کی واہ سنائی دی باقی مجمعے پر آہ والاماحول ہی طار ی ر ہا۔ صرف ایک روز پہلے جس اخبار پرڈرائیور پکوڑے لایا تھااُس پکوڑہ زدہ اخبار سے پڑھے ہوئے تیل آلود لطیفوںکا جوڑا سنایا تو ایک معززّ سامع کے بازوؤںمیں حرکت پیداہوئی ، میں خوش ہوا کہ تالی بجانے لگاجس سے دوسروں کو بھی انگیخت ہو گی اور پوار ہال تالیو ں سے گونج اٹھے گا مگر موصوف کا ردِّعمل جمائی سے شروع ہوا اور انگڑائی پر ختم ہوگیا۔ سا معین ناراض زرداری کی طرح پگھلنے سے انکاری نظرآئے تو میں نے حبیب جالب کا ایک انقلابی ساشعر پڑھا۔ اس پر سامنے بیٹھے ہوئے ایک صاحب بولے ” ـحضور یہ شعر موضو ع سے اتنا ہی دورجتنا یہا ں سے ٹمبکٹو۔اس دوران میں چار بار پانی پی چکا اور چھ بار پسینہ پونچھ چکا تھا۔ کئی حربے اورکئی فارمولے آزمائے مگر موضوع کراچی والے ایس ایس پی راؤ کی طرح گرفت سے باہر رہا۔پھر ذہن گھوم گیا ، دماغ میں چرچل، کینیڈی، لُوتھرکنگ کی تقریریں،مشاہیر کے فرمودات ، ڈائیلاگ، سرخیاں، حکمت ،طبِ مشرق،بہت کچھ گڈ مڈہونے لگا ۔ اب جو کچھ میرے منہ سے نکلاو ہ کچھ اسطرح تھا۔ اس خبر کو بھی پڑھیں : میں ایک مسئلے میں پھنس گیا ہوں ظالما !ذراتالی بجادے۔ چھلکے ہمیشہ باہر پھینکیں۔ ووٹر کون ووٹ کو عزتّ دو ، تخم ملنگاں نیم گرم دودھ میں ملا کر پئیں پرانی قبض دور ہوگی ۔ یہ فقر ے میں خالص مولویانہ انداز میں گاکر ادا کررہا تھا۔اس پر میں نے کہا ’’ میرے پیارے وزیر صاحب ! بات تخم ملنگاںپر ہی ختم ہونا تھی توچرچل اور مارٹن لوتھر سے شروع کرنے کی کیا ضرورت تھی ، عامرلیاقت سے شروع کر لیتے”۔کہنے لگے” پوری بات سن لو سنو! تخم ملنگاںوالی بات سنتے ہی ہال سے ایک آواز آئی ’’وزیر ذہنی توازن کھو گیا ڈاکٹر کو بلاؤ ‘‘ دوسری آواز آئی ، ’’ڈاکٹر ن ون ون ٹو ٹو والوںکو بلالاؤ ۔ اس خبر کو بھی پڑھیں : آئینہ ٹیڑھاکہ منہ؟ پھر اگلی صف میں سے ایک شاعر قسم کے حضرت بولے”حضورموضوع آپ کے ہاتھ ن آ رہا موضوع کو پکڑئیے”ابمیں بھی بیزار ہو چکا تھا جَھلّا کر کہا “بھائی صاحب !موضوعیا چور ، جسے میں پکڑوں۔ آپ کو شوقتو آپ پکڑ لیں “۔اسپر ہال میں پہلی بار قہقہہ بلند ہوا  ۔ پھر ایک محترمہ نے بیزاری سے آواز لگائی ـ”اب جان بھی چھوڑ دیں”۔میں نے جواباًکہا “جان چھڑانیتو اپنے شوہر سے چھڑائیں میں نے آپکی جان کہاں سے پکڑ رکھی ”اس پر ہال میں شور مچ گیا ۔ایک طرف سے آواز آئی “خاتون کی توہین برداشت ن کی جائے گی “دوسری طرف سے آواز آئی “آپ کو شرم آنی چایئے معافی مانگیں ،اُدھر ہوامیں اچھلتاہوا ایک جوتا نظر آیا اور ساتھ ہی نوجوانوں کی آواز کانوں میں پڑی “پکڑو اسے جانے نہ پائے”یہ سنتے ہی میں نے اسٹیج سے چھلانگ لگادی۔ ادھر میرے گن مین نے میرا بازو پکڑکر دوڑلگادی ۔اس دوران کچھ جوتابردار نوجوان ہمارے قریب پہنچ ،میرے گن مین نے دھکا دیکر مجھے گاڑی میں دھکیلا اور ڈرائیور نے گاڑی بھگادی۔تو یہآج کی روداد۔”چلو اچھاہوا عزت بچاکر آ ہو”میں نے اسے تسلّی دیتے ہوئے کہا۔کہنے لگے ’’اگر اب بھی بچ گئی تو لُٹتی کیسے؟‘‘

متعلقہ خبر یں

روزانہ خبریں اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Leave a Reply