وہ لمحات جب ملک دو لخت ہو رہا تھا

سابق سول سرونٹ مسعود مفتی صاحب کی کتاب ’’چہرے اور مہرے‘‘اُن المناک لمحوں کے تاثراتجب وطنِ عزیز کے دو ٹکڑے ہور ، یہ ایک رپورتاژجو ایک باضمیر سول سرونٹ نے سقوطِ ڈھاکا کے بارے میں لکھی ،مصنف نے صحیح لکھاکہ ’’سبھی حکومتوں کی خاموش حکمتِ عملی یہی رہیکہ قوم اس حادثے کو ایسے فراموش کردے جیسے کبھی ہواہی ن تھا۔اسی وجہ سے ہمارے درباری کلچر میں اس موضوع سے عام گریز رہا۔‘‘ مسعودمفتی صاحب دیباچے میں لکھتے’’قدرت نے 1971 میں مشرقی پاکستان کی سر زمین پر مجھے عینی شاہد ہو نے کا نادر موقع فراہم کیا،تو میں نے وہ کچھ دیکھا جو سنسر شپ کی وجہ سے مغربی پاکستان والے نہ تو جان سکتےنہ ہی اس کا تصور کرتے ۔‘‘پھرلکھتے ِ‘‘پاکستانی لیڈرو ں کے بر عکس پاکستانی قوم بہت مخلص اور محبِّ وطناور مشرقی پاکستانیوں میں یہ رنگ کچھ زیادہ ہی چوکھے کیونکہ بنگال میں مغربی پاکستان والا جاگیر داری نظام ن تھا۔میری ذاتی رائے کے مطابق سقوطِ ڈھاکا کے وقت بھی بنگالیوں کی غالب اکثریت (قریباً75فیصد )پاکستان کے ساتھ تھی ۔‘‘ پیش لفظ میں لکھتے ’’ 1971 کے دوران مغربی پاکستان کے قریباً تیس افسران مشرقی پاکستان میں تعینات ہوئے جب جنگ میں حا لات زیادہ خراب ہوئے تو 8دسمبر کو ہم سب گورنر ہاؤس میں منتقل ہو ، پھر مشرقی پاکستان پر نزع کی ھچکیاں طاری ہوئیں تو گورنر ہاؤس بھی دارلامان نہ رہ سکا چنانچہ 14دسمبر کو گورنر مشرقی پاکستان ،ان کے وزراء اور قریباًسبھی افسران کو ہوٹل انٹر کانٹی نیشنل میں پناہ لینا پڑی، جوغیر جانبدار علاقہ تھا اور  بین الاقوامی ریڈکراس کی تحویل میں تھا‘مصنف اور د و سرے لوگوں کو19دسمبر ہوٹل سے ڈھاکا چھاؤنی میں منتقل کردیاگیاجہاں وہ جنگی قیدی بن ۔ مصنف ان قیامت خیز گھڑیوں کے بارے میں لکھتے ’’ہوٹل کے کمرہ نمبر 110کی کھڑکی سے جھانکتا ہوں تو ڈھاکا شہر کی سڑکیں،بلند بالا عمارتیں اور سبز گوشے سنسان پڑے۔مگر پھر جنگ کا طبل بجتا ،  ڈھاکا کے ہر کونے سے ہوائی حملے والے سائرن پکار پکا ر کر خبر دار کر نے لگتے ،چند ہی منٹ بعد دو ہندوستانی ہوائی جہاز مشرق سے جھپٹ کر آتےاور مغرب سے میری کھڑکی کے سامنے سے گرجتے ہوئے غوطہ لگاتے ،فضاء میں بجلیاں کڑک جاتی اور ہوائی جہاز سرشار کرگسوں کی طرح اوپر کو اُٹھتے ،چند طیارہ شکن توپیں اپنی گرج سے فضاء کے پرخچے اڑاتیمگر خدانے بھی ہم سے منہ موڑلیااور ان کے وار خالی جار۔ دشمن کے ہوائی جہاز فضاء میں اس طرح اٹھکیلیاں کرتے پھرتے جیسے دریا پر بگلے ۔ہمارے ہوائی جہاز چھ دسمبر(ڈھاکا کا رن وے تباہ ہونے کے بعد)ن اُڑسکے ۔اب دشمن کے جہاز اس انداز میں ٹہلتےجیسے جاگیر دار اپنے علاقے میں گھومتا ‘ مصنف کا کہنا ،ہوٹل میں چار قسم کے چہرے ۔ پہلی قسم غیرملکی چہروں کی جونامہ نگاروں ،اخبار نویسوں اور تاجروں کا نقاب اوڑھےیہ چہرے اس چمن کی آبیاری کرنے کے روپ میں آتے ،مگر نہایت مہارت سے بیخ کنی کررھے ۔ ہوٹل میں دوسری قسم مغربی پاکستانیوں کی۔ یہ چہرے اپنی ڈوبتی ہوئی کشتی کو دل پکڑکر دیکھ ر ،ان کی مایوس نظریں دیکھ ر کہ کشتی ڈوب رہی ،سمندر مگرمچھوں اور نہنگوں سے اٹا پڑا اور ساحل بہت دور ، جہاں سے یادوں کے روشن پہر بچوں کے ننھے ننھے ہاتھ انکو بلا ر۔بیویوں کے بھیگے آنچل انھیں سہارا دینے کو بے چینمَائیں اور بہنیں بلائیں لے رہی۔مگر یہ سب’’اب کیاہوگا‘‘ کے بھنور میں غائب ہورہا ، انھی میں سے کچھ نمازوں اور دعاؤں میں ڈوبے ہوئے ، یہ انسان سے مایوس ہو کر انسان بنانے والے سے رجوع کررلیکن انسان بنانے والے نے انسانوں کے لیے کچھ ابدی اصول بنائےجوان اصولوں سے انحراف کر تا وہ وقت کی گہری لحد میں جا سوتا ۔ اس ہجوم میں چہروں کی تیسری قسم مشرقی پاکستان کے لوگوں کی ۔ان میںزیادہ تروہ لوگجنہوں نے تن،من دھن سے پاکستان کی حمایت کی اور آخروقت تک حکومت کا ساتھ دیا۔یہ وہ لوگ جو اسلام آباد کے ملاحوں پراعتماد نہ ہونے کے باوجود ڈوبتی کشتی کو بچانے کی تگ ودو میں لگے ر۔مارچ کے بعد یہ چیخ چیخ کر بہت کچھ کہتے ر مگر ان کی ایک نہ سنی گئی اس کے باوجود یہ پاکستان کی حمایت میں لڑتے ر ۔مجھے ستمبر کے مہینے میں ایک ایسے ہی انتہائی سمجھدار بنگالی سے ملاقات یاد آتیجوآنکھوں میں آنسوبھر کر کہہ رہا تھا “ہم نے اس ملک کو آئیڈیولوجیکل ملک کہااوراور سیکولر انداز میں چلایا۔بھارت نے اپنے ملک کو سیکولر کہااور آئیڈیولوجیکال انداز میں چلایا۔ منافق وہ بھی ۔مگر وہ ہم سے بہتر منافق نکلے”باہر بم برس ر ۔ اندر گریہء سحری اور آہ ِ نیم شبی کے جذبات کے ساتھ دعائیں مانگی جارہی ۔بعض چہرے پرانے فوجیوں سے ڈھاکا پر بمباری کے نتائج کے متعلق سوال کر ر۔جواب یہی ملتا کہ بمباری بذات خود کوئی چیز ن۔اگر لڑنے کی ہمّت ہو تو یہ معمولی چیز۔اور اگر ہمت جواب دے رہی ہو تویہ حوصلہ شکنی کی آخری شکل بن جاتی ۔1942 میں انگلستان پر ہفتوں بمباری ہوئی اور اتنی ہوتی تھی کہ دن کو سورج دھوئیں اور دھول میں چھپ جاتا تھا۔مگر لوگوں کی ہمت نہ ڈولی اور وہ لڑتے ر۔ ’’شہرکی لڑائی میں کیاصورت ہوسکتی؟‘‘جواب ملتا کہ یہ بھی ہمت کی بات۔پیرس جیسے بڑے شہرمیں لوگ لڑے بغیر ہتھیار ڈال دیتےکہ شہر خراب نہ ہو ۔اور اسٹالن گراڈ جیسی جگہ میں ہمت کے بل بوتے پر کئی سال گلی کوچوں میں لڑائی کرکے دشمن کو شکست دی جاتی۔ہمت کی بات آتیتو دل کو سکون پہنچتاکہ خداکے فضل سے اس چیز کی ہم میں کمی ن ۔میرے ذہن میں 1965 کی ہند و پاک جنگ کے معجزہ نما کارنامے گھومتے لگتےجوہمارے جیالے فوجیوں کی ہمت اور جذبے نے سرانجام دیے ۔انشاء اللہ اب بھی ایساہوگا۔مگر ساتھ ساتھ سیانوں کے وہ تبصرے بھی کا نوں میں گونجتے کہ جب فوج غیرفوجی قسم کے سیاسی کا موں کی عادی ہو جائے تو وہ بدل جاتی ‘‘اسی بات سے تو خوف آتا جب سنتےکہ فوج کا کوئی جرنیل سیاسی جوڑ توڑمیں ملوثتو دل کانپ اٹھتا اورذہن کے افق پر اسکابھیانک انجام نظر آنے لگتا۔ اس قیامت خیز سانحے کی رودادسناتے ہوئے مفتی صاحب لکھتے ، ’’پندرہ دسمبر کا دن بڑا اذیّت ناک ،گھڑی کی سوئیاں مدہم ،دشمن کے جہاز تیزسیکیویٹی کونسل سست، امریکا کا ساتواں بحری بیڑہ آنے کے اعلان کے باوجود ن آتا،چین مدد کا اعلان کرتامگر کچھ ن ہوتا۔ مغربی پاکستان میں چھمب کا حملہ ناکام دکھائی دیتا ۔ کراچی پر دھڑادھڑحملے ہور۔اس وقت ہوائی حملے بندمگر ان کی فلک شگاف بازگشت چہروں کے پیچھے لرزاں ۔ تازہ ترین خبر جنرل مانک شاء کا الٹی میٹمکہ کل صبح ساڑھے نو بجے تک ہتھیار ڈال دیے جائیں ۔ میں صبح کا ناشتہ کرنے جاتا ہوں تو میرے کارڈپر 16دسمبر کی تاریخ درج کردی جاتی ۔مشرقی پاکستان پر حملہ ہوئے پچیّس دن گزر ،دشمن ڈھاکا پہنچنے کو ۔میرامضطرب دل پوچھتا کہ ہم لڑنے میں اتنے برے تونہمگر پھر سو چتاہوں کہ لڑنے کی قابلیّت کاپتہ فقط لڑائی کے وقت پتہ چلتا۔ کمرے کے دروازے پر دستک ہوتیمیں اٹھ کردروازہ کھولتاہوں تو میراساتھی کہتا چلیے سب لوگوں کونیچے اکھٹاہونے کوکہاگیا ‘ ’’کیوں؟ میںنے جُراّت سے پوچھا۔’’سرنڈر ‘‘وہ ایک لفظ بولتا ۔نیچے ریڈکراس کا نمایندہ بتاتا کہ یہاں کے فوجی کمانڈر وں نے ہتھیار ڈالنے کے متعلق جنرل مانک شاء کا الٹی میٹم منظورکر لیا ۔ اب قصّہ ختم ہوچکا، اب ہم بنگلہ دیش میں بیٹھے ،خدامعلوم آزادبنگلہ دیش یاہندوستان کا ایک صوبہ۔ ہماری حِسّیا ت مفلوج ،پاؤںتلے زمین محسوس ن ہوتی سر پر چھت نظر ن آتی،دیواریں ک غائب ہوگئیجس کرسی پر بیٹھاہوں اسکالمس عجیب سامحسوس ہوتاجیسے کوئی غیر حقیقی چیز ہوجس کا کوئی وجود ن ۔یوں لگتا سب کچھ ختم ہوگیا ۔نہ جہاننہ جان ۔نہ آس رہینہ احساس،پاکستانی جھنڈے کے چاند تارے یہاں کیا ڈوبے،کائنات کے مہ وانجم ہی ٹوٹ ۔قوم پر اس سے بڑی قیامت کیا ٹوٹے گی” مسلم اُمہ کو صدیوں بعد اتنی ذلّت آمیز ہزیمت اٹھانا پڑی۔اس عظیم حادثے اور شکست کے اسباب جاننے کے لیے اعلیٰ ترین سطح کا کمیشن قائم کیا گیا۔کمیشن کی رپورٹ کے ابتدائی صفحات میں تحریر ۔ ’’جس دن لیفٹیننٹ جنرل نیازی نے یہ بڑہانکی تھی کہ دشمن کو ڈھاکا پہنچنے کے لیے اس کی لاش پر سے گزرنا پڑیگا ۔اس سے اگلے ہی روز پاکستانی قوم عالمی میڈیا سے یہ خبر سن کر دم بخواور ہکابکا رہ گئی کہ 16دسمبر کو جنرل نیازی نے شکست تسلیم کرلی اور بڑے شرمناک اور ذلت بھرے انداز میں ریس کورس میں منعقد ہ تقریب میں خودبھی ہتھیارڈال دیے اور اپنی زیرِ کمان فوجیوں سے بھی ہتھیار ڈالوادیے۔قوم یہ سمجھنے سے قاصر تھی کہ شرمناک اور ُپراسرارعجلت میں جنگ بندی منظور کرنے اور شکست تسلیم کرنے کی کیا وجہ تھی؟ چنانچہ بے ساختہ غم وغصے کے ریلے میں لوگ الزام لگانے لگے کہ یحییٰ خان کی حکومت نے غداری اور دغابازی سے قوم کوتباہ اور رسواکرنے کی سازش کیاور مطالبہ کرنے لگے کہ قصور وار مجرموں پر کھلامقدمہ چلاکر انھیں کڑی سزا دی جائے ۔یہ احتجاج اتنازور پکڑ گیاکہ اسوقت کے نامزد ڈپٹی وزیراعظم ذوالفقارعلی بھٹوکو بڑی عجلت میں نیویارک سے بلایا گیاجہاں وہ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں پاکستانی وفد کی قیادت کرراور 20دسمبر1971 کو جنرل یحییٰ اور ان کے ساتھیوں نے اقتدار ان کے حوالے کردیا۔ان حالات میں نئے صدر نے چارج سنبھالتے ہی ایک کمیشن مقرر کردیاجوحمود الرحّمان کمیشن کے نام سے یاد کیا جاتا ۔

متعلقہ خبر یں

روزانہ خبریں اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Leave a Reply