خون ہی سفید ہوگیا ہے

پولیس سروس کے ڈی آئی جی رینک کے افسر خالد شیخ نے پولیس اور سول
سروس کے چند دوستوں کو کھانے پر بلایا ہوا تھا،کھانے کے بعد میز
پرفروٹ رکھا گیا تو مِنی سائز کے کنّو دیکھ کر سب حیران ہوئے،
جاوید نے دیکھتے ہی کہا ’’شیخ! جتنا چھوٹا تمہارا دل ہے اُسی سائز
کے کنّو ڈھونڈ لائے ہو۔کیا بازار میں اچھے سائز کے کنّو آنا بند
ہوگئے ہیں ؟‘‘خالد کو تھوڑی سی شرمندگی ہوئی مگر چونکہ میزپر سارے
بے تکلف دوست جمع تھے اُس نے صاف بتادیا کہ’’ یہ کنّوسرگودھا سے
ایک زمیندار دوست نے بھیجے تھے، میرا خیال تھا اچھی کوالٹی کے ہوں
گے‘‘۔

شوکت نے فوراً کہا ’’جناب توتجربہ کار افسر ہیں،کیا جناب کے علم
اور تجربے میں یہ بات نہیں آئی کہ تحفے میں آنے والے کنّو کی
کوالٹی اور سائز کا تعلق افسر کی تعیناتی سے ہوتا ہے، جتنی اچھی
پوسٹنگ ہوگی اتنا اچھا کنّو ہوگا۔ پوسٹنگ ماٹھی
(unattractive)ہوگی تو کنّو بھی ماٹھا ہی ہوگا‘‘۔ کامران نے بات
آگے بڑھاتے ہوئے کہا ’’ہاں یار سرگودھا کے زمیندارکسی زمانے میں
بہت پرخلوص اور تعیناتیوں سے بے نیاز ہوتے تھے مگر اب وہ بھی
سمجھدار بلکہ دنیا دار ہوگئے ہیں، انھیں پتہ ہے خالد صاحب اب کسی
ڈویژن کے ڈی آئی جی نہیں رہے بلکہ آئی جی آفس کے کسی دفتر میں
بیٹھے پلیسیاں (Policies)  بنارہے ہیں‘‘۔

خالد ہنس پڑا اور ہنستے ہوئے یہ بھی سب کے ساتھ شیئر کیا کہ
’’کنّو لانے والے ڈرائیور نے کاغذ پر لکھا ہوا وہ ہدایت نامہ بھی
ہمارے ڈرائیور کو دکھادیا تھا۔ جس میں رانجھا صاحب (کنّو بھیجنے
والے زمیندار) نے لکھا ہے ’’بڑے کنّو موجودہ ایس ایس پی صاحب کو
بھیجنے ہیں اور کیرا (پودوں سے گرے ہوئے کنّو)  سابقہ کو دیں
آئیں‘‘۔ اس پر سب نے کہا استغفرﷲ، خون ہی سفید ہوگیا ہے لوگوں
کا۔ جاوید نے اپنا  قصہ سناتے ہوئے بتایا کہ ’’جنوبی پنجاب
کے ایک ضلعے میں  میری تعیناتی کے دوران ایس ایس پی ہاؤس کا
برآمدہ  آموں کی پیٹیوں سے بھرا رہتا تھا اور لگتا تھا کہ
یہ گھر نہیں فروٹ منڈی کی کوئی دکان ہے ،وہاں سے میری ایک اور
ضلعے میں پوسٹنگ ہوئی تو پیٹیوں کی تعداد کم ہوگئی مگر جونہی ضلع
سے اسپیشل برانچ تبادلہ ہوا  تو اس کے فوری اثرات اسطرح
مرتّب ہوئے کہ تحفے میں آنے والی آموں کی پیٹیوں کا سائز مختصر
اور تعداد کم ہوگئی ۔گھر میں علی الصبح پہنچنے والے اچھے گوشت اور
تازہ سبزیوں کی ترسیل رک گئی اور صاحبِ حیثیّت مہمانوں کی آمد کا
سلسلہ منقطع ہوگیا۔ وہاں سے ایک سال بعد پھر ضلع میں تعیناتی ہوئی
تو آموں کی پیٹیوں کا سائز اور آموں کی جسامت میں پھر اضافہ
ہوگیااور تازہ پھلوں کی ترسیل بڑھی تو بچّوں کی صحت پھر بہتر ہونے
لگی ‘‘۔

شوکت نے اپنے تجربات شیئر کرتے ہوئے سنایا کہ ’’میں بھی جب تک
فیلڈ میں رہا میرے گھر اور دفتر میںبڑے بڑے کاروباری اور صنعتکار
حضرات کا تانتا بندھا رہتا تھا ایک بار ایک ہفتے کے دورے پر
بیرونِ ملک جانا ہوا تو جائے تعیناتی سے ایک صنعتکار دوست کا ہر
روز امریکا میں فون آتا تھا اور ہربار طویل دورانیئے کی کال کا
اختتام اس فقرے پر ہوتا کہ ’’جلدی واپس آئیںدل اداس ہوگیا ہے اب
مجھ سے یہ جدائی برداشت نہیں ہورہی‘‘۔ مجھے وہاں سے تبدیل ہوئے
ایک سال ہوگیا ہے۔ ایک ہفتے کی جدائی برداشت نہ کرنے والے صاحب
پربارہ مہینے کی جدائی کسقدر گراں گزری ہے اس کا اندازہ اس سے
لگالیں کہ ایک سال میں موصوف کی صرف آدھے منٹ کی ایک کال آئی
تھی کہ ’’فیصل آباد میں ہمارا مال پھنسا ہوا ہے وہاں کسی پولیس
افسر کو کہہ دیں ‘‘۔ بس یار خون ہی سفید ہوگیا ہے۔ پھر سب کے منہ
سے نکلا۔

بابر نے بھی دوستوں کے ساتھ اپنے تجربات شئیر کرتے ہوئے بتایا
کہ’’ میں ایک جگہ سے تبادلے کے بعد روانگی کے لیے ایئرپورٹ پر
پہنچا تو وہاں مختلف رینکس کے پولیس افسروں کا ایک جمّ ِ غفیر
تھا۔ وہ سب مجھے بڑی عقیدت سے ملے اور پوچھتے رہے کہ ’ جناب پھر
کب تشریف لائیں گے؟‘ میں ان کے جذبات سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ
سکا۔ اس کا ذکر بیگم سے بھی کیا اور کئی دوستوں کو بھی کہا کہ
پرخلوص لوگ کم ضرور ہوئے ہیں مگر ابھی ختم نہیں ہوئے،افسراچھا ہو
تو ماتحت یادرکھتے ہیں اب دیکھیں ناں میرا تبادلہ ہونے کے بعد بھی
درجنوںپولیس افسر مجھے الوداع کہنے ایئرپورٹ پر آئے۔ انھیں تو
مجھ سے کوئی کام نہیں تھا۔

دوست بہت متاثر ہوئے اور کئی ایک نے پولیس کے بارے میں اپنے سابقہ
تاثر کو تبدیل کرنے کا عندیہ بھی دیا۔ ہفتہ دس دن کے بعد مجھے
اپنا سامان لینے کے لیے پھر اُسی شہر جانا پڑا  تو پھر ایس
ایس پی ہاؤس کے باہر مجمع لگ گیا زیادہ تر چہرے ایئرپورٹ پر آنے
والے تھے، میں ان سے پھر بہت متاثر ہوا اور انھیں مخاطب کرتے ہوئے
کہاکہ ’’آپ کے جذبات دیکھ کر میں خود جذباتی ہورہا ہوں اور آنسو
ضبط نہیں ہورہے ،آپ جیسے مخلص لوگ تو عام معاشرے میں نہیں ملتے
،پولیس میں کہاں ملیں گے،آج کے زمانے میں جانے والے کو کون یاد
کرتا ہے، مگر آپ کے طرزِعمل نے تو پولیس کے بارے میں عوام کا
تاثر بھی تبدیل کردیا ہے‘‘ ۔

وہ اثبات میں سر ہلاتے رہے، میں نے اُن سے ہاتھ ملانے کے لیے ہاتھ
بڑھایا تو انھوںنے باری باری جیبوں اور جیکٹوں سے کاغذ آگے کردیے
کہ ’جناب ہماری اے سی آر لکھتے جائیں ورنہ آپکے پیچھے آنا
پڑیگا‘ دل کو دھچکا سا لگا کہ میں جنھیں خلوص کا مرّقع سمجھ
رہاتھا وہ بھی کسی مفاد کے لیے ہی آئے تھے، خیر میں نے ان کی اے
سی آر لکھ دی تو وہ چلے گئے مگر دو اشخاص پھر بھی کھڑے رہے۔ میں
نے پوچھا توکہنے لگے ’’نہیں سر ہماری کوئی اے سی آر نہیں ہے‘‘۔

دوسرے روز میں جانے لگا تو پھر گیٹ پر وہی دو سب انسپکٹر کھڑے نظر
آئے۔ میں ان سے بے حد متاثر ہوا اور کار سے اتر کر اُن سے معانقہ
کرتے ہوئے کہا  ’’سنا تھا تھانیدار بغیر مطلب کے نہیں ملتے
مگرآپ کا خلوص کبھی نہیں بھولوں گا کبھی کوئی کام ہوتو بتانا‘‘۔
دونوں بیک زبان بول پڑے ’’حضور آپ نے معطل کیا تھا، پچھلی تاریخ
سے بحال ہی کرتے جائیں، آپکو دعائیں دیں گے، اﷲ آپکو پھر کسی
ضلعے میں تعینات کرے‘‘۔

کمشنر رینک کے افسر اے ڈی میمن نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا
’’ہاں یا ر لگتا یہی ہے کہ پورے معاشرے کا ہی خون سفید ہوگیا ہے
اور خلوص ناپید ہوگیا ہے۔ سروس میں تبدیلی کے ساتھ تحفوں میں آنے
والے والے آموں اور کنّوؤں کا سائز بھی تبدیل ہوجاتا ہے اور
ملاقاتیوں کا طرزِ عمل بھی بدل جاتا ہے۔ میں جب ایک ضلعے میں
تعینات تھا تو ایک مقامی لیڈر اکثر میرے پاس آکر کہتا تھا ’ جناب
نے جو کام اس ضعلے میں کردیے ہیں وہ نہ کوئی پہلے کرسکا ہے اور نہ
ہی کوئی آیندہ کرسکے گا۔ بس جی ہماری تو آئندہ نسلیں بھی
آپ کی زیرِ احسان رہیں گی‘۔

میں خود شرمندہ سا ہوکر سوچنے لگتا تھا کہ آخر میرے وہ کونسے
کارنامے ہیں جن سے میں خود بھی بے خبر ہوں۔ پھر میں سوچتا کہ
ہوسکتا ہے میں نے جو کام میرٹ پر کیے ہیں یہ اُن کی طرف اشارہ
کررہا ہے۔ تبادلے کے چند ماہ بعد میں نے اسے فون کرکے پوچھا ،
سنائیں کیا حالات ہیں ضلعے کے؟ میرا خیال تھا فوراً کہے گا
’’حالات اچھے نہیں ہیں اور لوگ آپکو یاد کرتے ہیں‘‘ مگر پتہ ہے
ظالم دل شکن نے کیا جواب دیا،کہنے لگا ’ بڑی بہتری آئی ہے، حالات
بڑے improve ہوئے ہیں۔

ڈی سی صاحب کی صورت میں قدرت نے ہمیں ایک تحفہ دیا ہے‘۔ میں نے
پوچھا اسوقت آپ کہا ںسے بول رہے ہیں؟ کہنے لگا ’ ڈی سی آفس میں
ڈی سی صاحب کے ساتھ بیٹھا ہوں‘۔ ایک پروفیسر صاحب ہمیشہ آکر کہتے
تھے ’آپ کے بعد ضلع روئے گا ‘ اب اس کا فون آیا تو کہنے لگا
’نئے صاحب بڑے زبردست افسر ہیں، انھوں نے بڑے گیپ فِل کیے ہیں
‘۔دل کو دھچکا سا لگا، دُکھی دل میں سوچا اوظالما! اُسوقت تو
تمہیں کوئی گیپ نظر نہیں آیا، وہ جو کہتا تھا ضلع روئے گا اس کی
میرے جانشین کے ساتھ جتنی بھی سیلفیاں موصول ہوئی ہیں اس میں وہ
ہنستا ہوا ہی نظر آیا ہے‘‘ ۔

جاوید نے اپنے تجربات شیئر کرتے ہوئے بتایا ’’ایک دفعہ میرے
تبادلے کی افواہ پھیل گئی تو میرے ایک مستقل ملاقاتی(جو انجمن
تاجران کے صدر بھی تھے) نے فون پرتصدیق چاہی۔ میں نے کہا ’’مجھے
معلوم نہیں‘‘جب انھوں نے دیکھا کہ افواہ کی تردید نہیں کی گئی تو
ان کی آواز سے عقیدت کا عنصرغائب ہوگیا اور آنا جانا بھی رک
گیا۔ اب وہ فون کرتے توساتھ ہی یہ بھی پوچھتے کہ آپکی جگہ نیا ڈی
پی او کون آرہا ہے؟۔

چند روز بعد جب میرے تبادلے کی افواہ مکمل طور پر دم توڑ گئی تو
موصوف تشریف لائے اور آتے ہی بآواز ِ بلند کہنے لگے ’’میں نے تو
تہیّہ کرلیا تھا کہ آپکا تبادلہ ہوا تو میں بیٹوں سمیت سڑک پر
دھرنا دونگا ۔ چاہے ہم کچلے جاتے ہم نے سڑک سے نہیں ہٹنا تھا‘‘ ۔
ان کا جُثّہ دیکھ کر میں نے کہا اچھا ہوا شیخ صاحب آپ نے سڑک پر
لیٹنے کا ارادہ منسوخ کردیا ورنہ آپکو وہاں سے ہٹانے کے لیے کرین
منگوانی پڑتی۔ تبادلہ ہوا تو سڑک چھوڑ کوئی گلی بھی بلاک نہیں
ہوئی۔

ایس اے ناصر نے اس دلچسپ بات چیت میں حصہ لیتے ہوئے بتایا کہ ایک
ایم پی اے آکر ہر بار کہا کرتا تھا ’’ڈی سی صاحب! ہمیں آپکی
افسری سے کوئی غرض نہیں ہم تو اچھے انسانوں کے عاشق ہیں، ہمیں آپ
کی ذات سے عقیدت ہے افسری سے نہیں! اب تو آپکو ہر کوئی آکر ملتا
ہے مگر ہمارے تعلق اور خلوص کا آپ کو اُسوقت پتہ چلے گا جب آپ
یہاں کے ڈپٹی کمشنر نہیں رہیں گے‘‘۔ میں نے کئی دوستوں اور افسروں
سے انھیں یہ کہہ کر ملوایا ’’ان سے ملیں یہ ہیں وہ مخلص دوست جو
عہدوں سے نہیں صرف انسانوں سے پیار کرتے ہیں‘‘۔ تبادلے کے بعد
موصوف نے ملنا بھی گورا نہ کیا کچھ دنوں بعد اُن کا کارڈ موصول
ہوا ، نئے ڈی سی کے اعزاز میں دیے جانے والے ڈنر کا کارڈ بھیجا
تھا۔ واقعی موصوف کا صحیح طور پر اُسی وقت پتہ چلا جب میں وہاں سے
تبدیل ہوا۔

Leave a Reply