دنیا کا خوبصورت ترین دارالحکومت

اسلام آباد کو دنیا کا دوسرا خوبصورت ترین دارالحکومت قرار دیا جاتا ۔ اگر اسلام آباد دوسرے نمبر پرتو پہلے نمبر پر یقیناً آسٹریلیا کے دارالحکومت کینبرا کو ہونا چا۔دنیا کے بیشمار ملک دیکھنے کا موقع ملامگر اتنا خوبصورت دارالحکومت (Seat of Govt) ن دیکھا۔ برزبن سے ڈیڑھ گھنٹے کی پرواز کے بعد ہمارا جہاز کینبرا کے عین اوپر آپہنچا تو میں نے کھڑکی سے جھانک کر اپنی کولیگ مسزفرح حامد سے پوچھا’’شہر کہاں ؟‘ انھوں نے بھی حیرت سے یہی سوال دھرایا ۔کیونکہ نیچے کسی بڑے شہر کے کوئی آثار نہ ۔ ایئرپورٹ پر اترے تو نہ کوئی رش تھا نہ بھاگ دوڑ تھی،کسی دارالحکومت کے ہوائی اڈے پر ایسا سکون، خاموشی اور ٹھہراؤ شائد ہی ک دیکھا ہو۔ پاکستانی ہائی کمیشن کا ڈرائیور ہمیں ریسیو کرنے کے لیے پہنچا ہوا تھا، پڑھالکھا نوجوان تھا، اُس نے بتایا کہ کینبرا ایئرپورٹ پر صرف مقامی پروازیں ہی آتی ، بین الاقوامی پروازوں کے لیے مسافروں کو سڈنی جانا پڑتااور وہاں کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے پرواز تبدیل کرنا پڑتی ۔ ایئرپورٹ سے باہر نکلے تو پاکستان کے ڈپٹی ہائی کمشنر ڈاکٹر خالد اعجاز نے فون پر خوش آمدید کہتے ہوئے کہا ’’کچھ دیر آرام کرلیں میں سہ پہرکو آؤنگا، چند گھنٹے آپکو شہر کی سیر کرائیں گے اور رات کو آپکے لیے عشائیے کا اہتمام ہائی کمشنر میڈم نیلم چوہان صاحبہ نے گھر پرکیا‘ پندرہ منٹ میں ہم اپنے اپارٹمنٹ پہنچ ۔ ڈاکٹر صاحب کئی دن پہلے سے ہی یہ بتاکر ذہنی طور پر تیار کررکہ کینبرا کا درجہء حرارت منفی پانچ، چھ تک گرچکا ۔ سردی سے مقابلے کے لیے گرم ملبوسات لے کر آئیں۔ شہر میں داخل ہوتے ہی اندازہ ہوگیا کہ موسم برزبن کیطرح خوشگوار ن ۔ کینبرا کا موسم ٹھنڈا ضرور تھا مگر ناقابلِ برداشت ن تھا۔ ہم گرم پانی سے نہانے کے بعد تروتازہ ہو تو ڈاکٹر صاحب لینے کے لیے پہنچ ۔ ڈاکٹر خالد اعجاز فارن سروس کے انتہائی قابل اور ملک سے محبّت کرنے والے ایسے افسر ،جو ہمارے سفارتخانوں میں اب خال خال ہی نظر آتے ۔ چند سال پہلے وہ ایک عجیب و غریب قسم کے مرض کا شکار ہو، جسکے باعث ان کے لیے پاؤں پر کھڑا ہونا ناممکن ہوگیا تھا۔ اب اﷲتعالیٰ کے خاص فضل و کرم ، تھراپی اور اپنے آہنی عزمِ کی بدولت کافی حد تک بہتر ۔ ہم ان کی مکمل صحت یابی کے لیے دعا گو ایسے محبّ ِوطن افسر ملک کا قیمتی سرمایہ ۔ ڈاکٹر صاحب نے ہمیں بتایا کہ پاکستان کا دارالحکومت اسلام آباد،کینبر ا کی طرز پر تعمیر کیا گیا ۔ شہر پر نظر ڈالی تو طرزِ تعمیر میں مشابہت واضح طور پر نظر آنے لگی۔ میڈم فرح حامد نے پوچھا ڈاکٹر صاحب اتنا سکون ، خاموشی اورٹھہراؤ تو کسی دارالحکومت میں ن مل سکتا۔ ایسے لگتاوقت تھم گیا ۔ کہنے لگے حکومت نے سخت قوانین کے تحت دارالحکومت کا پھیلاؤ روکا ۔ بلند و بالا عمارات تعمیر کرنے کی اجازت ناور حکومت نے ہماری طرح بلاروک ٹوک ہاؤسنگ کالونیاں ن بننے دیں، اس لیے آج بھی اس شہر کی آبادی پانچ لاکھ سے زیادہ ن ۔ اب ہم شہر کی خوبصورت جھیل کے کنارے پر ڈرائیو کرر ، برلے گریفن نامی خوبصورت جھیل نے سارے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ۔ ڈاکٹر صاحب نے ایک پرشکوہ عمارت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا، یہ پارلیمنٹ ہاؤس ۔ بلاشبہ مہذب معاشروں میںسب سے زیادہ توقیر اور تقدّس اس ادارے کو حاصل ہوتاجو عوام کی امنگوں کا مظہر ۔چلتے چلتے بتایا گیاکہ یہ دیکھیں یہ وزیرِاعظم ہاؤس ۔ ہم ایک عام سے گھر کو دیکھ کر حیران رہجس کے باہر کوئی سیکیورٹی یا پولیس نظر نہ آئی ۔ ہم درجنوں سفارتحانوں اور سفیروں کی رہائش گاہوں کے سامنے سے گزرے ،ک کوئی سیکیورٹی گارڈ نظر ن آیا۔ دنیا میں ہم جہاں بھی ایسی صورتِ حال دیکھتےہمیں رشک آتا اور دل سے دعا نکلتیکہ اﷲ کرے ہمارے ہاں بھی امن و امان کے حالات ایسے ہی ہوجائیں۔کچھ دیر بعد ڈرائیور نے گاڑی روک لی اور ڈاکٹر صاحب کے ہونہار بیٹے سعد نے ہمیں اشارہ کرتے ہوئے کہا انکل اُدھر دیکھیں۔ ہم نے دیکھا تو بیشمار کینگرو نظر آئے۔ ہم نے زندگی میں پہلی بار اتنی تعداد میں کینگرو دیکھے ۔ ہم اُن کے ساتھ کھڑے ہوکر تصویریں بنواتے ر۔ ہم نے پوچھا’’وہ جو ہم نے بچپن میں کتابوں میں تصویریں دیکھی تھیں، کینگرو پاؤچ میں بے بی کینگرو کو اٹھائے ہوتی ۔کیا وہ بھی کنظر آجائیگی‘‘  تھوڑی دیر بعد سعد نے کہا وہ دیکھیں واقعی ایک مادہ کینگرو پاؤچ میں چھوٹے سے کینگرو کو اٹھائے ہوئے چہل قدمی کررہی تھی فرح حامد نے پوچھ لیا “ڈاکٹر صاحب یہ کینگرو کورٹس کیا ہوتی اور کورٹ کو کینگرو کے ساتھ کیوں تشبیہہ دی جاتی ”۔ ڈاکٹر صاحب کہنے لگے ـ”یہ ان عدالتوں کے بارے میں کہا جاتاجو طاقتور افراد یا اداروں کے زیرِاثر ہوتیاور وہ ان سے اپنی مرضی کے فیصلے کروالیتے“۔  پھر کچھ توقف کے بعد مسکراتے ہوئے کہنے لگے پاکستان میں زیرِسماعت کچھ معروف کیسو ں کا فیصلہ سن لیں پھر اس پر مزید بات کریں گے۔ سعد نے کہا آپ آرام سے تصویریں بنوائیں یہ بڑا پرامن اور فرینڈلی جانور ۔ ہم نے ہاتھ لگا کر دیکھا ، اس کی دم لو کی طرح مضبوط تھی کینگرو دُم کے زور پر ہی دوڑتا ۔ وہاں سے گاڑی پر تھوڑا آگےتو ڈاکٹر صاحب نے اشارے سے بتایا کہ یہوہ نرسری جہاں سے اسلام آباد کے لیے (اس کے قیام کے وقت) ایک لاکھ پودے تحفتاً بھیجے، ہمیں وہ نرسری اپنی ہی لگنے لگی، اس لیے کار سے اُتر کر اس کا دیدارکیا اور تصویریں بنوائیں۔ کینبرا اور اسلام آباد میں بہت سے پودے ایک ہی قسم کے ۔ سیر کرتے ہوئے وقت خاصا بیت چکا تھا، لہٰذا ڈاکٹر صاحب نے گاڑی ہائی کمشنر ہاؤس کیطرف موڑ دی ۔ ہائی کمشنر محترمہ نیلم چوہان صاحبہ ایک باوقار اور منجھی ہوئی سفارتکار ان کے ہاں کھانے پر آسٹریلوی معیشت، معاشرت، سیاست اور ان کے پاکستان سے تعلقات کے مختلف پہلوؤں پر بات چیت ہوتی رہی۔ میں نے کہا مجھ پر تو اس شہر نے سحر طاری کردیا ۔ اس کی خاموشی اور سکون بڑاسحرانگیز ، انھوں نے ایک کارٹون دکھایا اس کا عنوان تھا “Canberra in Rush Hours” تصویرمیں شہر کی اہم ترین سڑک پر صرف ایک گاڑی نظر آرہی تھی۔ یہ جان کر بڑی خوشی ہوئی کہ ہائی کمشنر صاحبہ فنّی تعلیم و تربیّت کے شعبے کی اہمیّت اور افادیّت کا مکمل ادراک رکھتیاور وہ اور ڈاکٹر خالد اعجاز اس اہم ترین سیکٹر میں آسٹریلوی حکّام کو پاکستان سے تعاون کرنے پر آمادہ کرنے کے لیے سرتوڑ کوشش کرر ۔کھانے کی میز پر جب میں نے اپنے تجربہ کار سفارتکاروں سے اس دور دراز جزیرے کی ترّقی کا راز پوچھا تو ان کی متفقہ رائے تھی کہ ’’ان کے اداروں میں میرٹ اور شفافیّت بدرجۂ اتم موجود ۔ ہر جگہ قانون کی حکمرانی واضح طور پر نظر آتی ‘ دوواقعات قارئین سے بھی شیئر کرتا ہوں۔ آسٹریلیا کی وزیرِصحت کسی شہر کے دورے پر گئیں انھوں نے وہاں اسپتال کا معائنہ کیا، اس سرکاری مصروفیت کے علاوہ وہ وہاں اپنے ذاتی کام کے سلسلے میں بھی کسی سے ملیں۔ بس اسی ایک ملاقات پر میڈیا نے طوفان کھڑا کردیا کہ موصوفہ اپنے ذاتی کام کے لیے اُس شہر میں جانا چاہتی تھیں اور انھوں نے اسپتال کا معائنہ محض اس لیے شامل کرلیا تھا کہ  یہ سرکاری دورہ شمار ہو اور اسی لیے ان کے لیے (ڈیڑھ لاکھ روپے کا )جہاز کا ٹکٹ سرکاری طور پر خریدا گیا۔ ہر طرف سے اعتراضات کی بوچھاڑ ہوئی کہ ذاتی کام کے لیے وزیر صاحبہ نے سرکاری خرچ پر دورہ کیوں کیا؟۔ وزیر نے فوری طور پر سرکار سے لیا گیا کرایہ واپس کردیا مگر کہا گیا کہ اتنے اعلیٰ عہدے پر فائز فرد نے ایسی بددیانتی کا مظاہر ہ کیوں کیا؟ آسٹریلیا کا شفاف سسٹم ایسی معمولی سی بددیانتی (جو ہمارے ہاں معمول ) بھی برداشت نہ کرسکا اور وزیر صاحبہ کو برخاست کردیا گیا۔ ایک روزکسی شاہراہ پر ایک تیز رفتار گاڑی کو ٹریفک سارجنٹ نے روکا ،وہ overspeeding پر جرمانہ کرنے لگا، تو تیز رفتار ڈرائیور نے اپنا تعارفی کارڈ دکھایا ، وہ ایک پولیس آفیسر (سپرنٹنڈنٹ پولیس )تھا۔ پولیس آفیسر ہونے کے ناتے اس نے سارجنٹ سے درگذر کرنے کی درخواست کی، اس پر روکنے والے پولیس آفیسر نے سپرنٹنڈنٹ پولیس کے خلاف مزید سخت کارروائی کی ۔ اس کا چالان بھی کیا اور اعلیٰ حکّام کو بھی رپورٹ بھیج دی، جس پر اسے کئی گنا زیادہ جرمانہ ہوا اور قانون سے استثنیٰ مانگنے پر اسے نوکری سے ہاتھ دھونا پڑے۔ بلاشبہ قانون کی حکمرانی ہی وہ بنیادجس پر ترّقی کے محل تعمیر کیے ، یہی وہ پہلا زینہجس پر قدم رکھ کر قومیں اوجِ کمال تک پہنچی ۔ دوسرے روز ہائی کمشنر صاحبہ نے کینبرا اِنسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کی پریزیڈنٹ کے ساتھ ہماری ملاقات کرائی، وہ اس ملاقات کے لیے خود بھی ساتھ گئیں۔ صدر صاحبہ سے ملنے کے بعد ہمیں اِ نسٹیٹیوٹ کا دورہ کرایا گیا، یہاں بھی جدید ترین ٹریننگ ورکشاپس نے بہت متّا ثر کیا، دوپہر کو ڈاکٹر خالد کی وساطت سے آسٹریلیا کی وزارتِ خارجہ و تجارت (آسٹریلیا میں تجارت کا محکمہ بھی وزراتِ خارجہ کے پاس ) کی ساؤتھ ایشیا کی ڈائریکٹر میڈم مشیل اور TAFEکے سی ای او کریگ رابرٹسن کے ساتھ بڑی کارآمد میٹنگ ہوئی۔ ہماری بھی اور پاکستانی ہائی کمیشن کی بھی خواہش تھی کہ فنّی تعلیم و تربیّت جیسے اہم شعبے میں آسٹریلیا جیسے ترقی یافتہ ملک کے ساتھ کوئی معاہدہ ہوجائے، میڈم نیلم چوہان اور ڈاکٹر خالد اعجاز نے ذاتی دلچسپی لی۔ اس سلسلے میں پاکستان میں آسٹریلیا کی ہائی کمشنر میڈم مارگریٹ ایڈمسن اور ان کی ٹیم نے بھی مکمّل تعاون کیا۔ ان تمام کوششوں کے نتیجے میں کینبرا میں پاکستانی ہائی کمیشن میں ایک باوقار تقریب میں آسٹریلیا اور پاکستان کے درمیان مفاہمتی یادداشت (MOU) پر دستخط ہوئے۔ آسٹریلیا کیطرف سے TAFEکے سی ای او کریگ رابرٹسن نے دستخط کیے اور پاکستان کیطرف سے دستخط کرنے کا اعزاز اس ناچیز کو حاصل ہوا، ہمیں پوری توقّعکہ آسٹریلیا کے تعاون سے ہمارا TVETسیکٹر مزید توانا ہوگا اور ہمارے نوجوانوں کے لیے روشن مستقبل کے مزید دروازے کھلیں گے۔

متعلقہ خبر یں

روزانہ خبریں اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Leave a Reply