’’حضرت مولانا ‘‘کے مزار پر

پروفیسر اے آر نکلسن کا کہناکہ ’’جلال الدین رومی ہرزمانے کے صوفی شعراء میں سب سے عظیم ‘ دنیائے اسلام کے شاعرِ اعظم ڈاکٹر اقبالؒ نے کئی بار کہا کہ ’’آج کی دنیا پھر ایک رومی کی محتاججو لوگوں کے دلوں میں امید کی ایک نئی شمع روشن کرے اور لوگوں کو نئے ولولوں سے سرشار کردے‘ امریکا اور یورپ میں رومی کی مقبولیت دن بدن بڑھ رہی ، اس کے پیغام کی بے پناہ پذیرائی کے باعث اس کے دعویداروں میں بھی اضافہ ہورہا ۔ ایران کا دعویٰکہ فارسی میں شعر کہنے والا رومی ہمارا ۔ افغانستان کہتارومی افغانستان میں پیدا ہوا اس لیے وہ افغانی ۔ روس کہتاچونکہ اس کی جائے پیدائش بلخ اُس وقت روس کا حصّہ تھا اس لیے رومی ہمارا بھیاور شہرِ رومی کونیا چونکہ ترکی میں اس لیے ترکی کا حق ویسے ہی فائق ۔ مولانا رومی کا نام تو جانا پہچانا تھا مگر اردو دان طبقہ ان کے مقام سے اُس وقت متعارف ہوا جب اُس کی رسائی مشرق کے بے مثل مفکّر اور شاعرحضرتِ اقبال ؒکے کلام اور پیغام تک ہوئی ۔کلامِ اقبال ؒنے بلاشبہ دلوںمیں مطالعۂ رومی کی چنگاری سلگانے میں اہم کردار ادا کیا۔ جب اقبالؒ جیسی بلند پایہ شخصیت نے رومی کو اپنا مرشد قرار دیا تو برصغیر کے خاص و عام رومی کی جانب متوجہ ہوئے۔ انھوں نے بار بار کہا کہ رومی کا پیغام آج بھی فکر و عمل کی نئی راہوں کی نشاندہی کرتااور آج بھی دنیا کے ظلمت کدوں کو فکرِ رومی کے چراغوں سے منور کیا جاسکتا ۔ شاعرِ مشرق نے کہا تھا کہ ’’اگر تیرا کوئی مرشد ن تو مثنوی مولانا روم کو اپنا مرشد بنالے۔ رومی جانتاکہ مغز کیااور چھلکا کیا ‘‘ اور جب اقبالؒ کے ایسے شعر نظر سے گزرے کہ علاج آتشِ رومی کے سوز میںترا تری خرد پہغالب فرنگیوں کا فسوں اُسی کے فیض سے میری نگاہروشن اُسی کے فیض سے میرے سبو میںجیحوں اور پھر کہا: پیرِ رومی خاک را اکسیر کرد از غبارم جلوہ ہا تعمیر کرد رومی آں عشق و محبت رادلیل تشنہ کاماں راکلامش سلسبیل اقبالؒ مشورہ دیتےکہ پیر رومی کو اپنا رفیقِ راہ بناؤ، اس طرح تمھارا دل انشاء اﷲ سوز و گداز کی لطف انگیزیوں سے شادکام ہوجائے گا: پیرِ رومی را رفیق راہ ساز تاخدا بخشد تراسوز و گداز اقبالؒ کا کہناکہ رومی مرشدِ روشن بھیاور عشق و مستی کے کارواں کا امیر بھی: پیرِ رومی مرشدِروشن ضمیر کاروان، عشق و مستی را امیر ’’رومی کا کلام وہ شرابجو ایک ہرن کو شیر کا دل عطا کرتی اور چیتے کی پُشت سے دھبے دھو ڈالتی ، میں نے رومی کی تڑپ اور سوزِ عشق سے بہت کچھ حاصل کیا۔ان کے ستارے سے میری رات دن کی طرح روشن ۔ رومی کے افکار چند اور ستاروں کے ہمنشینان کی نگاہ لا مکاں تک دیکھتی ۔ ان کا فقر ایسا فقرجس سے امیری بھی حسد کرتی‘ تو رومی کو جاننے کی جستجو پیدا ہوئی پھر رومی کے افکار سے معمولی سی شناسائی ہوئی تو ’’حضرت مولانا‘‘کے مزار پر حاضری کی تڑپ پیدا ہوئی۔ اِدھر تڑپ میں شدت پیدا ہوئی اور اُدھر ترک بھائیوں نے ترکی کے دورے کا دعوت نامہ بھیج دیا۔ ہم نے ترکی کے دورے میں عظیم صوفی شاعر کے مزار پر حاضری کی خواہش کا اظہار کیا جس پر میزبانوں نے ہمارے پروگرام کا آغاز ہی کونیا سے کیا۔ استنبول سے ہم لوگ ایک گھنٹے کی پرواز سے سیدھے کونیا پہنچے، سامان وصول کرکے ایئرپورٹ سے باہر نکلے تو ایک نوجوان راقم کے نام کی تختی اُٹھائے منتظر تھا۔ جعفر TIKA ( Turkish Coopreation and Coordination Agency) کے مرکزی دفتر میں ڈپٹی ڈائریکٹراور انقرہ سے ہمیں لینے کے لیے آیا تھا اور ایک ہفتے کے اس دورے میں رابطہ کار کے طور پر ہمارے ساتھ رہا۔ ائرپورٹ سے سیدھے ہوٹل پہنچے، طے ہوا کہ شام کو کھانے کے لیے نکلیں گے اور کل صبح مولانا روم کے مزار پر چلیں گے، مگر کونیا پہنچ کر تڑپ شدت اختیار کر گئی اور ہم نے سامان رکھتے ہی جعفر سے کہا کہ ’’ہم فوری طور پر مولانا کے مزار پر جانا چاہتے ‘ اُسے تو مہمانوں ہی کی خوشی اور خوشنودی درکار تھی، لہٰذا فوراً تیار ہوگیا اور ہم پانچوں (پاکستان کا چاررکنی وفد اور جعفر) انقرہ سے آئی ہوئی گاڑی میںمزارِ رومی کی جانب چل پڑے۔ شہر دیکھنے سے پہلے ہم سمجھتےکہ کونیا ایک قصبہیا کوئی چھوٹا سا شہر مگر یہاں آکر دیکھا تو خوشگوار حیرت ہوئی کہ یہ پچیّس لاکھ آبادی کا ایک خوبصورت اور جدید شہر ۔ عثمانی حکمرانوں سے پہلے کئی سال تک یہ سلطنت کا دارلحکومت بھی رہا ۔ اس وقت یہ شہر مذہبی اور ثقافتی سرگرمیوں کا مرکز ہوتا تھا۔ تاتاریوں کے ظلم و ستم کے خوف سے دوسرے شہروں کی طرح بلخ سے بھی بہت لوگ ہجرت کر جن میں رومی کے والد بزرگوارم بہاؤالدین بھی جو کونیا چلےاور وہاں درس و تبلیغ کا کام جاری رکھا۔ رومی 1207میں بلخ میں ہی پیدا ہوئے ۔ مزار ِ رومی سے ملحقہ احاطے کو ٹف ٹائل لگا کر ایک وسیع و عریض صحن میں بدل دیا گیا ۔گاڑی ذرا دور کھڑی کرکے پیدا جانا پڑتا ۔ مزار میں داخل ہونے والے دروازے پر جلی حروف میں لکھا’’یا حضرت مولانا‘‘ ہم سر جھکا کر اندر داخل ہوئے اند ر جاکر دیکھا کہ مولانا کی قبر پر سر کی جانب بہت بڑی پگڑی رکھی ہوئی ، پوچھنے پر معلوم ہوا کہ ترک اپنے مشاہیر کی قبروں پر نشانِ عزت کے طور پر سر کی جانب پگڑی رکھتے ۔ ہم نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تو ذہن میں رومی کے ایمان افروز اشعار عود کرآئے، پھر اقبالؒ یاد آئے اور پھر رومی اور اقبال ؒ کا کلام گڈمڈ ہوتا رہا ،دونوں امید کے پیغامبر ، دونوں کو کسی بھی صورت میں ناامیدی قابلِ قبول ن: ؎ صورت از بے صورتی آید بروں (صورت تو بے صورتی سے ہی نکلتی ) رومی کہتےمنظر بہت بدصورت ہوجائے یعنی حالات بڑے ہی دگرگوں ہوجائیں تو بھی گھبرانے یا پریشان ہونے کی ضرورت ن، حالات کی اسی بدصورتی سے ہی تو اچھی صورت اور خوشنما منظر جنم لیتا ۔ اقبال ؒ کہتے نہ ہونومیدنوَمیدی زوالِ علم و عرفاں غلامی سے بدتر بے یقینی۔ پھر صاحبِ مرقد یاد آئے ’’تو بندہ بن زمین پر ایسے چل جیسے گھوڑا چلتاجو دوسروں کو اٹھاتا ۔ جنازے کیطرح نہ چل۔ جسے دوسرے لوگ اٹھاتے ‘ پھر رومی کے بہت سے اشعار یاد آنے لگے، ایک جگہ کہتے : فیاضی میں ہم دریا کیطرح رحم میں ہم سُورج کیطرح دوسرے کے عیب چُھپانے میں ہم رات بن جاتے نفرت کرنے میں ہم مردہ ہوتے عاجزی میں ہم زمیں کی مانند راواداری اور برداشت میں ہم سمندر کی طرح پھر ایک جگہ کہا: زندگی اُن کے لیےجو مسکرانا جانتے محبت اُن کے لیےجو حاصل کرنا جانتے وفا اُن کے لیے جو بھلانا ن جانتے اور دوستی اُن کے لیےجو نبھانا جانتے رومی کے زمانے میں سب سے بڑا فتنہ فتنۂِ تاتار تھا، اس کا مقابلہ کرنے کے لیے رومی کو خدا نے ایک خاص وجدان اور بصیرت عطا کی تھی۔ رومی کے زمانے میں بھی مُلاّ ظاہر پرست رہ گیا تھا اسی پر رومی نے کہا تھا: من ز قرآن برگزیدم مفزرا استخواں پیش سگاں انداختم مزار کے احاطے میں ہی ایک ترک سے پوچھا کہ رومی کو مرشد قرار دینے والے عظیم مفکّر اور شاعر اقبالؒ کی تصوراتی قبر بھی اسی احاطے میں بنائی گئی ، وہ کہاں ؟ اُس نے رہنمائی کی اور ہم اقبالؒ کی تصوراتی قبر پر پہنچوہاں پہنچ کر دعا مانگ رکہ ملحقہ مسجد سے مغرب کی اذان گونجی (ترکی کی موجودہ حکومت نے موذّن اور امام کی ذمّے داریوں پر فائز ہونے والوں کو قرآت اور خوش الحانی کی خصوصی تربیّت دلائیاس لیے اب ترکی کے موذّن اور امام بے حد خوش الحان ) نماز ادا کرکے باہر نکلے تو ایک بار پھر مزار پر نظر ڈالی اب مزار رنگ و نور کی بارش میں بھیگ رہا تھا۔ ایک روح پرور نظارہ تھا، ہمارے قدم و جم ، پوری فضاکو ایک روحانی سحرنے جکڑ رکھا تھا، وہاں سے ہلنے کو جی ن چاہتا تھا،کافی دیر بعد جعفر نے بازو سے پکڑ کر متوّجہ کیاتو ہم اس کے ساتھ چل پڑے۔ ذہن میں بالِ جبریل میں دیےاقبالؒ اور رومی کے تصوراتی مکالمے کے شعر آتے ر جس میں مرید ہندی کہتا’’ پڑھ لیے میں نے علومِ شرق و غرب، روح میں باقیاب تک درد و کرب‘ پیر رومی جواب میں کہتا’’دست ہر نااہل بیمارت کند۔۔ سوئے مدر آکہ تیمارت کند‘‘(ہر اناڑی کا ہاتھ تجھے بیمار کردے گا تو ماں کی طرف آ تا کہ وہ تیری صحیح طور پر دیکھ بھال کرے)۔ مریدِ ہندی کہتا’’علم وحکمت کو ملے کیونکر سراغ۔کس طرح ہاتھ آئے سوز و درد و داغ‘ پیر رومی جواب دیتا’’علم و حکمت زاید از نانِ حلال۔ عشق درخت آید از نانِ حلال‘ (علم وحکمت اور عشق کی دولت رزقِ حلال ہی سے ملتی )۔ کونیا میں بہت سے اسکول، ہوٹل اور دیگر ادارے ــ’’مولانا‘‘ کے نام سے موسوم کیے۔ دوسرے روز ہم نے جناب شمس تبریز کے مزار پر حاضری دی، رومی اور شمس تبریز کے تعلق پر پھر کسی نشست میں بات ہوگی۔

متعلقہ خبر یں

روزانہ خبریں اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Leave a Reply