ملک میں کرپشن اورکرکٹ میں جوئے کا کینسر (دوسری قسط)

کہتے ہوئے دل دکھتا ہے‘ مگر حقیقت یہی ہے‘ کہ رزقِ حرام کے بارے میں اﷲ اور سول اﷲؐ کے واضح احکامات جانتے ہوئے بھی ہمار امعاشرہ کرپشن کی دلدل میں اُتر چکا ہے‘، ایک آدھ استثنیٰ کے سوا ہر محکمہ اور ہر شعبہ کرپشن زدہ ہے‘     ایک غریب مظلوم کو تھانے اور کچہری سے رشوت دیے بغیرانصاف نہیں‘ مل سکتایہی حال محکمہ مال، صحت، واپڈا، گیس، تعلیم، مواصلات، خوراک، پبلک ہیلتھ، انکم ٹیکس، کسٹمز اور دوسرے محکموں کا ہے‘ جہاں اہلکاروں کے ذہنوں میں رشوت کے بغیر کسی شہری کا کام کرنے کا کوئی تصور ہی نہیں‘ ہے۔
آج ہی ایک صنعت کار دوست بتارہا تھا کہ انکم ٹیکس افسران بلاجھجک پیسے مانگتے ہیں‘ اور سڑک پر سرِعام کیش وصول کرتے ہیں‘ اور اسطرح علی الاعلان ریاستِ پاکستان کو نقصان پہنچارہے‘ ہیں۔
تجارت اور صنعت کااحوال بھی مختلف نہ ہے‘، وہ معاشرہ جہاں بچوں کے لیے دودھ اور مریض کے لیے دوائی  خالص نہ مل سکے، جہاںمقدس مہینے میں اشیاء کی قیمتیں بڑھادی جائیں اورجہاں قبرستان میں متوّفی کودفنانے کے لیے پیسے دینے پڑیں وہ اخلاقی زوال کی کن اتھاہ گہرائیوں میں گرچکا ہے‘ !!۔ اس سنگین صورتِ حال پر اربابِ بست و کشاد کی نیندیں اُڑ جانی چاہئیں۔ اس پر مہینوں ٹاک شوز اور سیمینار ہونے چاہئیں مگر اس صورتِ حال پر نہ کسی سیاسی ومذہبی راہنما کو فکر ہے‘ اور نہ میڈیا کو۔ پاکستان بنانے کی جدّوجہد کرنے والوں کے ذہن میں نئے ملک کا یقیناً ایسا ہولناک تصّور ہرگز نہیں‘ تھا۔ اپنے خوابوں کی جنت تک پہنچنے کے لیے ہندوستان سے لاکھوں افراد آگ اور خون کے دریا عبور کرکے آئے تھے۔
والدین نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے جگر گوشے کٹوا دیے ، قدم قدم پر انھیں بیٹیوں کی لُٹتی ہوئی عصمتوں اور بیٹوں کے سِینوںمیں اُترتی ہوئی برچھیوں کے نہ مندمل ہونے والے زخم سہنے پڑے وہ ایک ہی تمنا لیے پا پیادہ چلتے رہے‘ ان کے پاؤں فگار اور دل زخموں سے تار تار ہوتے مگروہ لُٹے پٹے انسان پاکستان کی سرزمین پر قدم رکھتے ہی سجدے میں گر جاتے کہ  “ہم اپنی منزل پر پہنچ گئے‘ ہیں‘  ” “اب ہم اﷲکے نام پر بنائے گئے‘ ایسے ملک میں جئیں گے جہاں ہر طرف عدل اور انصاف ہوگا۔ جہاں بے ایمانی اور بددیانتی کا کوئی تصور نہیں‘ ہوگا”۔ وہ ملک جسکا مفکر سادہ ترین زندگی گزارنے والا ایک درویش تھا اورجسکا بانی دیانت و امانت کے ہر معیار پر پورا اترنے والا بیسویں صدی کا اجلا ترین راہنما تھااُس ملک میں کرپشن کا زہر جسدِ ملّت کی ہر رگ میں اُتر چکا ہو اور ہر محکمے اور ہر شعبے میں لوٹ مار کا بازار گرم ہو یہ سوچ کر دل کَٹتا ہے‘، حکیم الاامّت علامہّ اقبالؒ ، بانیٔ پاکستان محمد علی جناحؒ ، لیاقت علی خان، عبدالرّب نشترؔ اور لاکھوں شہیدوںکی روحیں تڑپتی ہونگی۔کون ہے‘ ذمیّ دار اِن حالات کا؟ کس نے پورے معاشرے کو مالِ حرام پر لگا دیا ہے‘؟ کس نے کرپشن کی حوصلہ افزائی کی؟کس کی پالیسیوں سے اس کینسر کی افزائش ہوئی؟ کن کرپٹ حکمرانوں نے اس لعنت کو فروغ دیا؟ اور کن اہم ترین اداروں کے سربراہوں نے سرِ عام لوٹ مار دیکھتے ہوئے آنکھیں بند کرلیں اور حرام خوروں کو مسندیں عطا کیں ؟۔۔ ایسا کرنے والے سب قومی مجرم ہیں‘     قوم کو ان تمام قومی مجرموں کا احتساب کرنا ہوگا اور معاشرے کی مکمل تطہیر کے لیے دل سے عہد کرنا ہوگا اور بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا۔ زندہ قومیں بخوبی جانتی ہیں‘ کہ ریاستی ڈھانچے اور مشینری کو کرپشن سے محفوظ رکھنے کے لیے گولی اور ٹیکے سے کام نہیں‘ چل سکتا اس کے لیے بڑی سرجری کی ضرورت ہوتی ہے‘ بہت سے ممالک نے اسی لیے اس جرم کو سنگین ترین جرم قرار دیکراس کے لیے سزائے موت مقرر کی ہے‘، یورپ کی مخالفت کے باوجود چین، انڈونیشیا،ایران، تھائی لینڈ، لاؤس، ویت نام اور مراکش میں کرپشن کا جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزائے موت دی جاتی ہے۔
ملائیشیا میں کرپشن میں ملوّث ہونے کی زیادہ سے زیادہ سزا بیس سال، ترکی میں بارہ سال ، برطانیہ میں دس سال، بھارت میں دس سال سری لنکا میں سات سال اور پاکستان میںچودہ سال قید کی سزا مقرر ہے۔
دنیا کے کئی ممالک میں صدور اور وزرائے اعظم کرپشن میں ملوث ہونے پر گرفتار ہوئے اور کچھ سزا یاب بھی ہوئے۔ مصر کے صدر حسنی مبارک، تیونس کے صدر زین العابدین، نائیجیریا کے صدر ثانی اباچہ، فلپائن کے صدر فرنینڈس مارکوس، انڈونیشیا کے صدر سوہارتو،  جنوبی کوریا کے تین صدور (مس پارک جی یَن، چُن ڈو ہو اور روہ ہتائے)، برازیل کی صدر ڈلمارؤسیف، ہیٹی کے صدر جین کلاڈے، یوکرین کے وزیرِ اعظم لزارینکو، نکاراگوا کے صدر آرنلڈوایلیمان  اور چین کی انتہائی مقتدر شخصیّت سیکیوریٹی چیف ژاؤ یونگ کنگ بدعنوانی کے الزامات پر گرفتار ہوئے۔ اس لعنت سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے کس قسم کے اقدامات ضروری ہیں‘ اس پر اگلی بار تفصیلاً تحریر کرونگا (جاری ہے‘) ہمارے معاشرے میں جہاں دونوں ہاتھوں سے لوٹ مار کرنے والے دولت کے پجاری ہر طرف دندناتے پھرتے ہیں‘ وہاں یہ دھرتی دوسروں کے دکھ درد بانٹنے والوں اور خالق ِ کائنات کی خوشنودی حاصل کرنے کے خواہشمند افراد سے بھی خالی نہیں‘ ہے‘، معاشرے کے کم و سیلہ افراد کا سہارا بننے کے جذبوں سے سرشار چند حضرات نے کچھ سال پہلے گوجرانوالہ میں پاکستان ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے نام سے ایک تنظیم کا آغاز کیامقصد ایساتھا کہ کسی انسانی معاشرے میں اس سے بہتر مقصد کا تصور ممکن نہیں‘” مُلک کا ٹیلنٹ ضایع نہ ہونے دیا جائے اور وہ ذہین طلباء و طالبات جنھیں حصولِ تعلیم کی تڑپ ہے‘ مگر وسائل دستیاب نہیں‘ ہیں‘ ان کا ہاتھ تھام لیا جائے اور انھیں مالی وسائل فراہم کیے جائیں تاکہ وہ اپنی تعلیم مکمل کرسکیں”۔ مقصد اسقدر ارفٰع تھا اور اس کا بیڑہ اٹھانے والوں کا کردار اور اعتبار اتنا قوی تھا کہ آواز سنتے ہی اور بہت سے لوگ فروغِ علم کے اس قافلے میں شامل ہوتے گئے‘۔ ہر سال رمضان میں اجلاس منعقد ہوتا ہے‘ جسمیں مَیں بھی شمولیت کی سعادت حاصل کرتا ہوں۔ اِس بارفاؤنڈیشن کے جنرل سیکریٹری نے جب رپورٹ پڑھتے ہوئے بتایا کہ پاکستان ایجوکیشن فاؤنڈیشن کروڑوں کے وظائف دے چکی ہے۔
اس کی مالی معاونت سے چالیس نوجوان ڈاکٹر اور پچیس انجینئر بن چکے ہیں‘ (جنکی تعلیم کے سارے اخراجات فاؤنڈیشن نے ادا کیے تھے‘) تو حاضرین کے چہرے مسّرت و انبساط سے کھِل اُٹھے۔ مہمانوں میں کچھ نوجوان بھی موجودتھے‘ اُن میں سے ایک نوجوان ذیشان احمد نے آگے بڑھ کر مائیک پکڑا اور پورے اعتماد سے کہنے لگا “میں نے ایف ایس سی میں 91% نمبر لیے تھے‘ اس لیے میرا کسی بھی میڈیکل کالج میں داخلہ ہوسکتا تھا، مگر میں اتنا اچھا رزلٹ آنے کے بعد خو ش ہونے کے بجائے غم میں مبتلا ہوگیا کہ میرے والدین توکالج کے اخراجات برداشت نہیں‘ کرسکتے تو میں ڈاکٹر نہیں‘ بن سکونگا؟ مجھے یہی غم کھائے جارہا تھا ،کہ کسی نے بتایا کہ پاکستان ایجوکیشن فاؤنڈیشن سے رابطہ کرو۔ میرا رابطہ ہوا تو مجھے میرے خوابوں کی تعبیر مل گئی۔ میں نے میڈیکل کالج میں داخلہ لیا اور میری تعلیم کے اخراجات فاؤنڈیشن نے ادا کیے  اب میں فورتھ ایئر میں ہوں اور ایک سال بعد انشاء اﷲڈاکٹر بن جاؤنگا  اور اپنے جیسے کم وسیلہ طالب علموں کا خود سہارا بنونگا” ۔ ہال تالیوں سے گونج اُٹھا۔ پھر ایک اور نوجوان محمد راشد نے مائیک سنبھالا “میں مظفر گڑھ کے ایک دور دراز گاؤں کا رہنے والا ہوں، گاؤں میں بجلی بھی نہیں‘ ہے‘ میں نے لالٹین کی روشنی میں پڑھکر 90%نمبر لیے مگرمیں کیسے پڑھ سکوں گا میرے ابوّکے پاس تو پیسے نہیں‘ ہیں‘ ان کے پاس تو میری بیماربہن کے علاج کے لیے بھی پیسے نہیں۔
پھر کسی طرح فاؤنڈیشن سے رابطہ ہوگیا اور پچھلے چار سال سے میرے اخراجات ایجوکیشن فاؤنڈیشن ادا کررہی ہے‘ اس پر کچھ حضرات کھڑے ہوئے جنہوں نے نوجوان کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا”بیٹا کیا ہوا جو تمہارے ابّو کے پاس پیسے نہیں‘ ہیں‘، تم ہمارے بیٹے ہو اور تم تعلیم جاری رکھو گے” راقم نے ان جذبات پر حاضرین کا شکریہ ادا کرنے کے بعد فاؤنڈیشن کو اپنی طرف سے چیک پیش کیاپھر اس کے بعد عطّیات دینے والوں کی لائن لگ گئی۔ خدائے ذوالجلال کے خاص کرم سے اس ملک میں خیر کی قوتیں اتنی توانا ہیں‘ (جنکی وجہ سے یہ قائم و دائم ہے‘) جو ملکی ٹیلنٹ کو کبھی ضایع نہیں‘ہونے دیں گی۔ مادرِ وطن کے ٹیلنٹ کے تحفّظ اور علم کے فروغ کے لیے ان کی کاوشوں کو خالقِ کون و مکاںکے دربار میں یقیناً شرفِ قبولیت حاصل ہوگا اور انھیں اس کا بے پاں اجر ملیگا ۔ عطیات دینے کے خواہشمند بیرونِ ممالک کے کچھ قارئین کے کہنے پر پاکستان ایجوکیشن فاؤنڈیشن کا اکاؤنٹ نمبر تحریر کر رہا ہوں۔ PK16BPUN1470020021520004، دی بینک آف پنجاب ، محافظ ٹاؤن برانچ گوجرانوالہ، برانچ کوڈ(0147) نوٹ:پاکستانی قوم نے اپنی ہاکی کو نظر انداز کرکے تماتر عزّت، دولت اور شہرت کرکٹرز کی جھولی میں ڈال دی، مگر پیسے کی ھَوس اورقماربازی کے کینسرمیں مبتلا ہوکر وہ اسقدرکمزور ہوگئے‘ ہیں‘ کہ قوم کو چند لمحوں کی خوشیاں دینے کی استعداد بھی کھوچکے ہیں۔
لہٰذا چھوڑیں اس ٹولے کو !  اور اپنی ہاکی کی طرف رجوع کریں اُسے زندہ کریں اورتہیّہ کرلیں کہ ہم آیندہ کبھی کرکٹ نہیں‘ دیکھیں گے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here