جرمنی کے بارے میں کچھ اور باتیں

ذوالفقار احمد چیمہ
ذوالفقار احمد چیمہ
جرمنی میں چیمبرز آف انڈسٹری ہی فنی تربیت کے شعبے کی نگرانی کرتے ہیں‘ اور وہی اس کے معیار کو برقرار رکھنے کے ذمّہ دار ہیں۔
اگر کوئی شخص بیکری، جنرل اسٹور، حجام کی دکان یا بیوٹی پارلر کھول لے اور چیمبر کی معائنہ ٹیم ان کی کسی چیز کو یا صفائی کے معیار کو غیر معیاری قرار دیدے تو مالک کو دکان یا اسٹور فوراً بند کرنا پڑتا ہے‘ اور جرمانہ بھی ادا کرنا پڑتا ہے۔
تربیتی سسٹم کے اہم کرداروں یعنی انڈسٹری اور لیبر یونین سے ملاقاتیں اور تربیتی اداروں کے دورے مکمل کرنے کے بعد آخری روز ہماری جرمنی میںTVET کے مرکزی ادارے فیڈرل انسٹیٹیوٹ فار ووکیشنل ایجوکیشن ایند ٹریننگ (BIBB جوکہ نیوٹیک کا Counter Partہے‘)کے اعلیٰ حکّام سے ملاقات کرائی گئی۔ ہم نے پاکستان میں اس سیکٹر کی بتدریج ترّقی کے بارے میں انھیں آگاہ کیا اور اپنے چیلنجز بھی ان سے شیئر کیے۔ انھوں نے پاکستان کے اس اہم شعبے کو مضبوط بنانے اور اسے جدید خطوط پر استوار کرنے میں مکمّل تعاون کرنے کا عندیہ دیا۔ BIBBکے ہیڈکوارٹرز میں ہی ملاقات کے آخر میں ادارے کی ایک جرمن خاتون اہلکار نے اعلان کیا کہ ہم نے پاکستانی وفد کے لیے ایک اسپیشل گفٹ کا بھی انتظام کررکھا ہے۔
اب سب لوگ متجسّس نگاہوں سے دیکھنے لگے۔ تھوڑی دیر بعد ایک ٹین ایجر پاکستانی لڑکی کانفرنس روم میں داخل ہوئی۔  اس نے اَسّلامُ علیکُم کہا تو سب کے چہرے کِھل اُٹھے۔  کِنزا نے اسکارف سے اپنا سر ڈھانپا ہوا تھا اور وہ ہمارے ساتھ انگریزی اور اردو دونوں زبانوں میں باتیں کرتی رہی اس کے والد صاحب کئی سال پہلے پاکستان سے بَون آگئے‘ تھے‘ وہ یہیں‘ پیدا ہوئی اور یہیں‘ تعلیم حاصل کی۔ کِنزاکو پاکستان سے بے حد جذباتی لگاؤ تھا اس لیے وہ پاکستانی وفد مین شامل خواتین و حضرات سے ملکر بہت خوش ہوئی۔ اُس نے بتایا کہ BIBBکا ماحول بہت اچھا ہے‘ مگر اس سے پہلے ایک دو جگہوں پر اسکارف پہننے کی وجہ سے اسے ملازمت نہ مل سکی مگر وہ کسی صورت اپنی تہذیب اور اقدار چھوڑنے پر تیار نہ ہوئی۔ BIBBہیڈکوارٹر ز سے نکلتے ہی خواتین نے شاپنگ کا نعرہ لگادیااور صاف صاف بتادیا کہ ہم تو جرمنی کا نام سنکر سمجھی تھیں کہ یورپ جارہے‘ ہیں‘ جہاں سیر بھی ہوگی اور شاپنگ بھی۔ مگر اتنے دنوںسے فنی تربیت کی باتیں سن سن کر ہم مجسّم TVET  بن چکی ہیں‘ اور شک پڑنے لگا ہے‘ کہ ہمارے ہینڈ بیگوں سے تیسی، کانڈی، اسکریو، جیک اور دوسرے اوزار نکلیں گے۔ ہم نے جب دیکھا کہ لیڈیز باقاعدہ بغاوت پر آمادہ ہیں‘ تو ان کے مجموعی طرزِ عمل اور ڈسپلن پر انھیں خراجِ تحسین پیش کیا اور پھر انھیں لیڈیز کے بجائے گرلز قرار دیکر راضی کیا اور سوزینے کو اُن کے ساتھ شاپنگ کے لیے روانہ کردیا۔ اُنھوں نے اپنے اپنے ہتھیاروں یعنی پَرسوں کا جائزہ لیا اور مدیحہ رانا (جو ماشااﷲ ایم پی اے بھی ہیں‘) کی قیادت میں اسٹوروں پر یلغار کر دی۔ بعد میں حضرات بھی خواتین کے پیچھے پیچھے چل پڑے۔ جرمن دکاندار خوش اخلاق بھی ہیں‘ اور ہمدرد بھی۔ دوسرے کولیگز نے جب راقم کو کسی خاص چیز کی تلاش میںسرگرداں دیکھا تو انھیں بڑاتجسّس ہوا۔ جب ہم ایک سپر مارکیٹ میں داخل ہوئے تو میری آنکھیں ہدف کی تلاش میں گھومنے لگیں اور جب ایک کارنر میں پہنچے تو منہ سے بے ساختہ نکلا ۔  پالیا۔ پالیا۔ کچھ دیر بعد جب مظفّر بھٹو اور ظفر بٹ نے میرے ہاتھ میں دو عدد تربوز دیکھے تو کہنے لگے ” تربوز پا کر آپکے چہرے پر اتنی خوشی ہے‘ جتنی کسی رِند کو جنگل میں میخانہ نظر آنے پر مل سکتی ہے‘”۔ کئی گھنٹوں بعد جب خواتین مارکیٹوں سے نکلیں تو وہ بیگوں میں اسقدر دھنس چکی تھیں کہ ان کی شناخت کے لیے آواز دیکر پوچھنا پڑا کہ میڈم مدیحہ کہاں ہیں‘؟ امبر کونسی ہے‘؟ اور یہ میڈم سعدیہ ہیں‘ یا بیگ ہے‘؟ سامان اٹھانے میں سب حضرات نے اپنی خدمات پیش کیں مگر ظفر نبی کی بے لوث خدمات سب سے بڑھکر تھیں لہٰذا انھیں خادم ِ اعلیٰ کا خطاب ملا، مگر انھوں نے ہاتھ جوڑ دیے کہ میں نے ابھی آزاد کشمیر میں نوکری کرنی ہے‘، لہٰذا انھیں “خادم ِکارواں “کا خطاب دے دیا گیا، تمام شرکاء نے بڑی دلچسپی سے ان کے سسٹم کا مطالعہ کیا اور تینوں خواتین نے اپنے اداروں کی بہت اچھی نمایندگی کی۔ اسٹیفن بھی ہمارے ساتھ ساتھ رہا اور راقم اُس سے جرمن قوم کے مثبت اور منفی پہلوؤں پر تبادلۂ خیال کرتا رہا۔ چند روز میں ہمیں بھی اندازہ ہوچکا تھا کہ جرمن نظر اور توجّہ اپنے کام سے نہیں‘ ہٹنے دیتے، ہر کام کی منصوبہ بندی بہت پہلے سے شروع کردیتے ہیں‘، کہیں‘ سیر پر جانے کے لیے اپنے پارٹنر چھ مہینے پہلے منتخب کر لیتے ہیں‘اور کم از کم تین مہینے پہلے جہاز کی سیٹیں بک کرا لیتے ہیں۔
جرمنی کی مشہور آٹوبان (دنیا کی پہلی موٹر وے) پر اگر آپکی گاڑی کا پٹرول ختم ہو جائے تو آپکو جرمانہ ہو سکتا ہے‘ اور آپکا ڈرائیونگ لائسنس بھی ضبط کیا جاسکتا ہے۔
جرمنی یورپ کا واحد ملک ہے‘ جہاں کالج کی تعلیم بھی مفت ہے۔
غیر ملکی طلبا کو بھی یہ سہولت حاصل ہے‘، پہلے ہائر ایجوکیشن مفت نہیں‘ تھی مگر 2014ء میں سیاسی قیادت نے اعلان کیا کہ تعلیم کے لیے نوجوانوں سے فیس لینا زیادتی ہے‘ لہٰذا فیس ختم کردی گئی۔ یہاں بیروزگاری کی شرح صرف 4% ہے‘ یورپین یونین کی شرح 8% ہے۔
زیادہ تر نوجوانوں کو ملازمتیں مل جاتی ہیں‘ اور TVET سیکٹر میں تو ملازمت کا حصول کوئی مسئلہ ہی نہیں۔
جرمنی کو کسی زمانے میں شاعروں اور مفکرّوں کی سرزمین بھی کہا جاتا تھا، گوئٹے کو جرمنی کے قومی شاعر کا درجہ حاصل ہے‘، اس کے نام پر کئی یونیورسٹیاں اور یادگاریں قائم کی گئی ہیں۔
کانٹ، ہیگل اور نٹشے۔ سب جرمن فلاسفر تھے۔
جرمنی کو بہت سی ایجادات پر بجا طور پر فخر ہے‘، مثلاً بجلی کا بلب، کیلکولیٹر، دستی گھڑی، ٹیلیویژن، پٹرول اور ڈیزل انجن، موٹرسائیکل، جیٹ انجن، ایل سی ڈی اسکرین اور دیگر بے شمار ایجادات جرمنی میں ہوئیں۔ دنیا میں سب سے زیادہ کاریں جرمنی میں بنتی ہیں۔
  فوکس ویگن، بی ایم ڈبلیو اور مرسیڈیز مقبول ترین کاریں ہیں۔
جرمنی نے ہمیشہ دوسرے ممالک سے ہجرت کرکے آنے والے مہاجروں کو سہارا دینے میں بڑی فراخ دلی کا مظاہرہ کیا ہے۔
یہاں ترکی، پولینڈ اور اٹلی کے باشندے بڑی تعداد میں رہائش پذیر ہیں۔
حال ہی میں بشارالاسد کے ظلم و ستم کا شکار ہونے والے لاکھوں شامی باشندے اپنے ملک کی حدود سے نکل بھاگے کچھ بیچارے دریاؤں اور سمندروںکے گہرے پانیوں کی نذر ہوگئے‘، جو لٹے پٹے ادھر ادھر پہنچ سکے، ان میں سے سب سے زیادہ کو ترکی نے پناہ دی اور یورپی ممالک میں سے جرمنی نے اپنا دامن پھیلادیا، اُسوقت چانسلر مِرکل نے مسلمان حکومتوں کی بے حسی پر پھبتی کستے ہوئے کہا تھا کہ “مکّہ اور مدینہ تو جرمنی کی نسبت شام سے زیادہ قریب ہیں‘، مسلمان دعویٰ کرتے ہیں‘ کہ وہ آپس میں بھائی بھائی ہیں‘ کہاں ہے‘ وہ بھائی چارہ؟ “۔ چانسلر کا طنز سو فیصد درست تھا، مسلمان حکمران اس کا کوئی جواب نہ دے سکے۔ جرمنی کی چانسلر انجیلا مرکل کئی سالوں سے دنیا کی سب سے طاقتور خاتون اور اثرو رسوخ میں دنیا کی دوسرے نمبر پر آنے والی شخصیت شمار کی جاتی ہیں۔
جرمنی کی ثقافتی زندگی میں بڑی تازگی اور توانائی ہے۔
ملک میں ساڑے چھ ہزار عجائب گھر، آٹھ سو تھیٹر اور نوہزار لائبریریاں ہیں۔
انفارمیشن ٹیکنالوجی کے انقلاب نے جرمن عوام کے کتب بینی کے ذوق کو بالکل متاثر نہیں‘ کیا، ہر سال چورانوے ہزار نئی کتابیں چھپتی ہیں۔
انٹرنیشنل فرینکفرٹ بک فیئر کی دنیا بھر میں بڑی شہرت ہے۔
کہا جاتاہے‘ کہ دنیا کا سب سے پہلا رسالہ بھی جرمنی میں ہی چھپا اور اس کے ایڈیٹر اور پبلشر جرمن شاعر جون رسٹ تھے۔
یہاں سرِ عام سگریٹ نوشی کی ممانعت ہے‘ مگر  شراب نوشی کی ممانعت نہیں‘ ہے‘ جو ناقابلِ فہم ہے۔
اور اب ترقّی یافتہ سوسائٹی کا دوسرا پہلو دیکھتے ہیں۔
  مادی ترقّی میں اوجِ کمال تک پہنچنے والا یہ معاشرہ اخلاقی زوال کا شکار نظر آتا ہے۔
شادی جیسا مقدّس رشتہ دم توڑ چکا ہے۔
اکثر جوڑے شادی اور قانونی بندھن کے بغیر سالہا سال تک اکٹھے رہتے ہیں‘ اور بچے بھی پیدا کررہے‘ ہیں‘، مرد کی مرد کے ساتھ اور عورت کی عورت کے ساتھ (غیرفطری اور غیر عقلی) شادی قانوناً جائز ہے۔
یوں لگتا ہے‘ پورا سماج رہنمائی کرنے والے اخلاقی نظام سے محروم ہے۔
طلاقوں کی شرح بہت زیادہ ہے۔
اس ترقّی یافتہ معاشرے کی جس خاتون سے بھی پوچھیں وہ طلاق یافتہ نکلتی ہے‘، سنگل پیرنٹ خواتین کی تعداد بہت زیادہ ہے۔
اور ان کی زندگی بہت کٹھن ہے‘ اورانھیں اپنی اور بچوں کی کفالت کے لیے بڑی مشقّت کرنا پڑتی ہے۔
ہم فرینکفرٹ، بون، ہائیڈل برگ اور مین ہائیم میں کوچوںاور بسوں میں سفر کرتے رہے‘ کئی ڈرائیور خواتین تھیں ایک خاتون ڈرائیور سے اس کا روزانہ کا معمول پوچھا تو کہنے لگی” علی الصبح چار بجے (سورج نکلنے سے بہت پہلے) اٹھتی ہوں ایک گھنٹہ کوچ کرائے پر چلانے کے بعد بچوں کے لیے ناشتہ بناتی ہوں پھر انھیں اسکول چھوڑ کر پھر کام پر جُت جاتی ہوں، رات گئے‘ تک یہی معمول رہتا ہے‘، رات تک تھکن سے چور ہوجاتی ہوں۔ کبھی کبھی تو اپنے آپ کو بھی مشین سمجھنے لگتی ہوں۔ اکثر عورتوں کا یہی حال ہے‘”۔ جرمن عورتیں بڑی وفادار اور Caring ہیں‘، ائیرپورٹ پر سامان بک کرانے میں بھی سوزینے مدد کرتی رہی، آخری لمحے جب اتنی ہمدرد اور خیال رکھنے والی کولیگ کا ساتھ چھوڑنے کا وقت آیا تو ہاتھ ہلاتے ہوئے تینوں خواتین کی آنکھیں بھیگ گئیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here