’اماں میں بھی تو زینب ہوں‘

’اماں یہ ٹی وی پر بار بار میرا نام کیوں آ رہا ، میں بھی تو زینب ہوں۔‘ ٹی وی پر سرسری سی نظر ڈالتے ہوئے میری ساڑھے تین سال کی بیٹی نے مجھ سے جب یہ سوال کیا تو میرے پاس کہنے کو کچھ نہ تھا، صرف پیار سے اُسے گلے لگایا اور پرنم آنکھوں سے جب حسرت و محبت سے اُس کی جانب دیکھا تو ایک اور سوال میرا منتظر تھا، ‘اماں رو کیوں رہی ’ ایک بار پھر جب کوئی جواب نہ ملا تو صرف یہی کہا کہ ‘زینب میں آپ کے بغیر ن رہ سکتی۔’ اگر آپ صحافی تو آپ گھر پر بھی خبروں سے دور ن رہ سکتے ، اس دن نیوز چینل قصور میں کم سن بچی کے جنسی زیادتی کے بعد قتل اور اس کے بعد حالات کی کشیدگی کا احوال بیان کر ر ۔ لوگوں میں دکھ اور بے بسی نے انھیں مشتعل کر دیا تھا۔ بابا بلھے شاہ کے قصور کو آخر کس کی نظر لگ گئی؟ قصور ہی میں بار بار بچے کیوں نشانہ بن ر ؟ پولیس کہاں ؟ میں بھی یہی سب سوچ رہی تھی کہ میری بیٹی نے آ کر مجھے مخاطب کیا اور زینب کے بارے میں پوچھا۔۔ زینب کے قتل پر سیاسی پوائنٹ سکورنگ ’زینب بیٹا مجھے کبھی معاف نہ کرنا‘ اگر کسی بچے کے ساتھ زینب جیسا واقعہ پیش آئے تو والدین کیا کریں؟ پیشہ ور صحافی ہوں کبھی کوئی بم دھماکہ، کبھی کوئی اور سانحہ، ان واقعات کی رپورٹنگ کے بعد کسی حد تک تو یہ کہہ سکتی ہوں کہ میرے اعصاب قدرے مضبوطلیکن پاکستان کے شہر قصور میں ایک کم سن بچی کو جنسی زیادتی کے بعد موت کے گھاٹ اتار دینا، صرف خبر نجو بس رپورٹ ہوئی اور ختم ہو گئی۔ ایک صحافی کے ساتھ ساتھ میں ایک ماں بھی تو ہوں، اسی معاشرے میں میری زینب بھی پروان چڑھ رہی ، اُسے بھی باہر نکلنالوگوں کا سامنا کرنا، آگے بڑھنا ، اپنا دفاع کرنا ۔ قصور کے واقعے نے مجھے اندر سے ہلا کر رکھ دیا ، مختلف خدشات اور خوف دل و دماغ پر ایسے غالبکہ پیچھا ہی ن چھوڑ ر۔ قصور کی زینب کا معصوم اور مسکراتا چہرہ آنکھوں سے اوجھل ن ہو رہا ۔ میں چیخ کر رونا چاہتی ہوں۔ فریاد کرنا چاہتی ہوں، کہتےظلم حد سے بڑھتاتو عذاب آتا ، یہ سب کیا ؟ اس ملک میں چھ ماہ کے دوران سات سو سے زیادہ بچے جنسی ہوس کا نشانہ بنے۔ کسی نے کبھی سوچا کہ اُن پر کیا گزری ہو گی، اُن کے ماں باپ، بہن بھائی کس کرب میں مبتلا ہوئے ہوں گے، کیسے جنسی ہوس کی بھینٹ چڑھنے والے بچوں کا اعتماد بحال کیا جائے کہ وہ اپنی تکلیف بھول جائیں۔ زینب کا مسکراتا چہرہ سوال کر رہاکہ میرا قصور کیا ؟ اتنے واقعات ہوئے لیکن کوئی پکڑا کیوں ن گیا؟ زینب کی ماں اور مجھ جیسی مائیں تو یہ چاہتیکہ کب سفاک قاتل پکڑا جائے تو ہمیں بھی کچھ تسلی ہو، کچھ سکون ملے زخم تو بہت گہرا ، بھرتے بھرتے وقت لگے گا۔ زینب میں اس بارے ن سوچنا چاہتی کہ ہماری معاشرے میں ایسے لوگ کیوں ؟ کیوں درندگی بڑھ گئی؟ انسانیت ختم ہوتی جا رہی ۔ میں تو بس یہ جانتی ہوں کہ بچے معصوم ، انھیں ہم نے بچانا ، ہم سب نے مل کر ان کا مستقبل سنوارنا ۔ بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات تو امریکہ اور برطانیہ جیسے ترقی یافتہ معاشرے میں بھی ہوتےلیکن مجرموں کو پکڑنے کے بعد سزا ملنے سے ان واقعات کی حوصلہ شکنی ضرور ہوتیتو پھر یہاں بچوں سے زیادتی کے اتنے کیسز رپورٹ ہونے کے بعد اب تک قانون نافذ کرنے والے ادارے کیا کر ر ؟ کیا ان بچوں کو محفوظ کرنا اُن کی ترجیحات میں شامل ن ؟ اُس دن سے اب تک گا بگا بے اختیار اپنی بیٹی کو پاس بلا کر گود میں بیٹھا کر یہی سمجھا رہی ہوں کہ ‘زینب میری بات غور سے سنو! کسی اجنبی کے پاس نہ جانا، کوئی آپ کو غیر ضروری ٹچ ن کر سکتا کوئی بات ہو آ کر اماں کو بتانی ۔ بیٹا کسی سے ڈرنا نتم بہت بہادر ہو۔’ شاید یہ میرے اندر کا خوفیا شرمندگی، جس کا میں مدوا اپنی بیٹی سے بات کر کے کر رہی ہوں۔ قصور کی زینب تم تو بے گناہ ہی ماری گئی ہو، ابھی تو تم نے بہت سی بہاریں دیکھنا تھی، تم کیسے ہی بن کھلے مرجھا گئی۔ میں تم سے بہت شرمندہ ہوں مجھے معاف کر دینا، میں بہت غم زدہ ہوں۔

متعلقہ خبر یں

روزانہ خبریں اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Leave a Reply