میں ایک مسئلے میں پھنس گیا ہوں

مس ورلڈ
مس ورلڈ

بات یہکہ تقریبا دو سال پہلے مجھے ایک رونگ نمبر سے کال آئی تھی جو کہ لڑکی کی تھی مجھے اب یاد ن کہ اس نے کس نام سے مجھے مخاطب کیا تھا جو کہ میرا نام ن تھا خیر مجھے اسکی آواز بہت ہی پیاری لگی اور دل چاہتا تھا کہ وہ بس بولتی ر ہچکچاتے ہوئے میں نے کہہ ڈالا کہ میں نے آپ سے بعد میں ایک ضروری بات کرنی ۔ تیکھے لہجے میں اس نے پوچھا “کیا بات کرنی ،اور کیوں کرنی ” مجھ سے کوئی جواب نہ بن ہڑا تو وہ بولی کوئی ضرورت ن۔اپکا نمبر غلطی سے ڈائل ہو گیا جلدی میں۔ تو میں سے دل کڑا کہ سچ کہہ دیا کہ مجھے کوئی ضروری بات ن کرنی بس آپکی آواز اتنی پیاریکہ دل مچل گیا اب سنتا ہی رہوں،پلیز صرف ایک بار مجھ سے دوبارہ بات کر لیں۔ دوسری طرف خاموشی چھا گئی ادھر میری سانس رکی ہوئی تھی کہ پتا ن کیا فیصلہ آئے گا۔ آخر اسکی ٹھنڈی سانس سںنائی دی اور اس نے کہا کہ ٹھیکصرف ایک بار لیکن میں خود مس کال دوں گی تو آپ نے مجھے مسیج یا کال کرنی ورنہ ہرگز ن۔ میں نے جلدی سے کہا کہ ٹھیک ۔ اس نے کال کاٹ دی۔ اگلے دن میں شام تک اسکی مس کال کا انتظار کرتا رہا لیکن کوئی کال نہ آئی۔ میرے دل نے کہا کہ اس نے مجھ سے جان چھڑانے کے لیے یہ شرط رکھی ورنہ وہ کال تو کرتی شام سے رات ہوئی اور میرا دل بجھ سا گیا اچانک راتمیرا موبائل بجا۔ دل نے کہا شاید وہی ۔ اور دل کا کہا سچ نکلا اب میں یہ ن بتاؤں گا کہ ہم نے بیس پچیس منٹ تک کیا بات کی۔ لیکن یہ ضرور کہوں گا کہ اسکی پہلی گفتگو میں اسکی پیاری آواز میں احتیاط ،گھبراہٹ ،جھجھک اور کسی بات پر شرما کر چپ ہو جانا بہت ہی بھایا مجھے مجھے یقین ہو گیا کہ وہ ایک نہایت شریف گھرنے کی چشم و چراغ تھی۔ اور یہ سلسلہ چل نکلا کچھ ہفتوں بعد ہمیں ایسا لگا کہ ہم ایک دوسرے کو خود سے زیادہ جاننے لگے مجھے سمجھ ہی نہ آئی کہ کب میں نے اسے پروپوز ڈالا اور اس نے جواب دیے بغیر فون بند کر دیا اور ایک ہفتے تک موبائل بند کیے رکھا میں بتا ن سکتا کہ میری کیا حالت تھی ان چودہ دونوں میں اور پھر پندرھویں دن اسکی کال آئی اور اس نے کہا آپ نے میرے ساتھ اچھا ن کیا مجھے پتا ہی ن چلا کہ کب میں آپ کے پیار میں ڈوب گئی عادی ہو گئی اسکا مجھے تب پتا چلا جب میں نے فیصلہ کیا کہ آئندہ آپ سے فون کا چونچلہ ن کروں گی لیکن چند گھنٹے بعد ہی مجھے پتا چلا کہ آپ تو نجانے کہاں تک مجھ میں اپنی جڑیں اتار چکے ہو چند دن میں خود سے لڑتی رہی آخر کب تک حقیقت جھٹلاتی آج آپ سے ہار مان رہی ہوں یہ سب سن کر میرے مردہ دل میں جیسے شادی کا سماں بندھ گیا اور پھر ہماری لو سٹوری کی اصل شروعات ہوئی دو سال اسکی پڑھائی میں اور میری تلاش معاش میں کیسے بیتپتا کی نہ چلا ہم نے اپنے بچوں کے نام تک سوچ لیے پھر ایک دن میرے بہت اصرار پر اس نے اپنی تصویر مجھے فیس بک سے سینڈ کی اسکی تصویر اسکی آواز کمسے بلکل الٹ تھی مجھے اب وہ بالکل پسند ن اب میں کیا کروں؟؟؟؟؟ . . . . .

یہ باتیں پاس گلی میں ایک چرسی دوسرے چرسی سے کہہ رہا تھا

بجلی بند تھی تو سوچا میں بھی سن لوں…

زرداری جیسے کرپٹ انسان کے ساتھ کھڑا ن ہو سکتا، عمران خان