انسانی نفسیات

انسانی نفسیات
انسانی نفسیات

(تھوڑی لمبی تحریر، مگرانسانی نفسیات کو سمجھنے اور مذہب کی ضرورت کے حوالے سے بہت کارآمد باتیں ہین، وقتتو ضرور پڑھئے گا) ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ انسانی زندگی کے ھر دور کی اپنی نفسیات ھیں انسان ان سے باھر نکل کر ن سوچ سکتا ،، یہ ایک عملی مگر تلخ حقیقت ھے ، جب ھم بیٹے ھوتے ھیں تو ھم صرف بیٹے کی نفسیات سے سوچ سکتے ھیں ، باپ کی نفسیات سے ھم آگاہ ن ھوتے اور والدین کو اپنا دشمن سمجھنا شروع کر دیتے ھیں کہ وہ ھماری خوشیوں کی راہ میں روڑے اڑاتے ھیں،، مگر جب ھم خود باپ بن جانے ھیں تو ہو بہو وھی باپ والا رویہ اپنی اولاد کے ساتھ اپناتے ھیں جس سے ھم بطورِ بیٹا نفرت کرتے، ایک بیٹی اپنی ماں کی ڈانٹ ڈپٹ اور شک شکوک کی روش کو بیشک ناپسند کرتی ھو ، مگر خود ماں بن کر وھی سب کچھ کرتی ھے اور اسے مناسب اور جائز سمجھتی ھے ،، ایک بہو ساس کے جس رویئے کی شاکی ھوتی ھے ،، ساس بن کر وھی سب کچھ اپنی بہو کے ساتھ دُھراتی ھے ،، بحیثیت، بیٹا ،بیٹی اور بہو ھم جتنی مرضی ھے قسمیں کھائیں کہ ھم اپنی اولاد یا بہو کے ساتھ اس طرح ن کریں گے مگر وقت آنے پر ھم ٹھیک وھی جائز سمجھ کر کرنا شروع کر دیتے ھیں ، یہی ایک شوھر اور بیوی کی نفسیات ھیں،، شوھر بنتے ھی کچھ نفسیاتی تبدیلیاں واقع ھو جاتی ھیں اور بیوی بنتے ھی اک احساس عدم تحفظ عورت کے اندر پیدا ھو جاتا ھے کیونکہ وہ اپنی متاع کھو دیتی ھے ،، آپ پیسے دکاندار کو دے کر چیز نہ لیں اور آگے چلے جائیں کہ واپس آ کر چیز لے لوں گا ،مگر تھوڑی دیر کے بعد اندیشے آپ کو ستانا شروع کر دیتے ھیں کہ شاید وہ بھول ھی جائے ، یا اس کی جگہ کوئی دوسرا آ جائے ،میرے پاس تو ثبوت بھی ن ،، عورت کو بھی یہی خدشہ لاحق ھو جاتا ھے کہ یہ کسی وقت بھی بھول سکتا ھے ، غریب کی اپنی نفسیات ھیں وہ امیروں کو کوستا ھے کہ وہ خزانے کے منہ کیوں ن کھولتے ،،مگر جب خود امیر ھو جاتا ھے تو ٹھیک اسی طرح سانپ بن کر بیٹھ جاتا ھے ، پیدل اور سوار کی اپنی اپنی نفسیات ھیں ،، جب ھم پیدل ھوتے ھیں تو چاھتے ھیں کہ گاڑی والا رکے یا گاڑی آئستہ کرے اور ھمیں گزرنے دے ،مگر جب ھم خود گاڑی چلا رھے ھوتے ھیں تو چاھتے ھیں کہ پیدل رکے اور ھم کو جانے دے ،، ھم جس اشارے پہ ھوتے ھیں چاھتے ھیں کہ وہ جلدی کھلے اور دیر سے بند ھو ،، ھم خود کسی کو سائڈ لائن سے اندر ن آنے دیتے اور گاڑی کے بمپر کے ساتھ بمپر جوڑ کر رکھتے ھیں ،مگر جب دوسرا کوئی ھمیں نہ گھسنے دے تو ھمیں بہت غصہ آتا ھے ،،جب ھم لفٹ کے اندر ھوں تو چاھتے ھیں کہ 17 ویں فلور سے گراؤنڈ تک وہ کسی فلور پہ نہ رکے اور اگر رکے تو روکنے والے کو گھور کر دیکھتے ھیں ،مگر جب باھر کھڑے ھوں تو لفٹ کے نہ کھڑا ھونے پہ اسے دل میں گالیاں دیتے ھیں !! اس قسم کی مریضانہ نفسیات کے ساتھ جب ھمیں حکمرانی ملتی ھے تو ھم حکمرانوں کی جن حرکتوں کی مذمت کرتے ھیں ، خود وھی حرکتیں ھم کو ٹھیک لگنا شروع ھو جاتی ھیں اور روٹین ورک بن جاتی ھیں ،، ھم دوسروں کی ڈکٹیٹرشپ کی مذمت کرتے ھیں ،مگر اقتدار ملتے ھی ھم خود بدترین ڈکٹیٹر بن جاتے ھیں ! یہ بہت ضروری تھا کہ انسانی زندگی کے ضابطے انسانوں پہ نہ چھوڑے جائیں کہ وہ اپنی اپنی نفسیات کے مطابق اپنے مفاد میں قانون سازی کریں بلکہ اس کے لئے کوئی ایسی غیر جانبدار ھستی ضروری ھے جو انسانی نفسیات سے مبرأ ھو اور تمام انسانیت کا مفاد اسے یکساں عزیز ھو اور وہ سب سے یکساں محبت کرتا ھو،، اور وہ ھستی صرف اللہ ھے ، جو سب کے مفاد کے مطابق عدل پر مبنی قانون دیتا ھے اگرچہ وہ ھمیں کتنا ناپسند ھو مگر وہ انسانیت کی بقا کے لئے نہایت ضروری ھے ،جو قانون ھمیں ظالمانہ لگتے ھیں ،جب ھماری بہو بیٹی کے ساتھ کوئی زیادتی کرے تو وھی عین رحمت لگنا شروع ھو جاتے ھیں !